New Age Islam
Fri Jul 23 2021, 10:27 PM

Urdu Section ( 9 May 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Removing Doubts Concerning Verses of Jihad in Quran: Did Hazrat Usman delete some Quranic Verses? Part 6 ازالہ شبہات در آیاتِ جہاد: کیا حضرت عثمان نے قرآن کی بعض سورتیں حذف کر دیں تھیں؟

کمال مصطفیٰ ازہری، نیو ایج اسلام

 (مضمون برائے نیو ایج اسلام )

10 مئی 2021

شبہ نمبر6: کیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جمعِ قرآن کے وقت بعض سورتیں حذف کر دیں تھیں؟!!

بعض مشککین یہ شک پیدا کرتے ہیں ( خاص طور پر وسیم رافضی اس پر بہت زور دے رہا ہے) کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے قرآن پاک سے بعض اُن سورتوں کو حذف کر دیا جو حضرت علی اورحضرت اُبي رضی اللہ عنہما کے مصحف میں تھیں اور جب قرآن سے حذف کیا جا سکتا ہے تو داخل بھی کیا جا سکتا ہے، اسلئے آیات جہاد اسی زیادتی کا نتیجہ ہیں ایسی وجہ سے جو قرآن پاک آج ہمارے سامنے ہے اس پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے ؟

اور اس شبہ کی آڑ میں اللہ پاک کے قرآن اور اسکے وعدہ حفاظت میں شک ڈالنے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں۔

آئیے اس شبہ فاسدہ کا ایسا دندان شکن جواب دیں کہ پھر باطل بغیر دانتوں کے منہ کھولنے میں شرم و عار محسوس کرے۔

اس تشکیک مشکک کا چند وجوہ سے ابطال کیا جاتا ہے۔

1. اللہ پاک نے اپنی کتاب کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے جس کی حفاظت و کتابت سرکار دو عالم ﷺ کے زمانہ اقدس میں کی گئی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں جمع کیا گیا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بغیر کسی تحریف و نقصان کے ایک کیا گیا۔

جمع کیوں اور کیسے کیا گیا ؟

سرکار دو عالم ﷺ کو تو اللہ پاک نے نسیان سے پاک فرمایا ہے { سَنُقرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰۤ ، إِلَّا مَا شَاۤءَ ٱللَّهُۚ إِنَّهُۥ یَعلَمُ ٱلجَهرَ وَمَا یَخفَىٰ } ترجمہ:  اب ہم تمہیں پڑھائیں گے کہ تم نہ بھولوگے مگر جو اللہ چاہے بے شک وہ جانتا ہے ہر کھلے اور چھپے کو’’۔

مگر آپ کے علاوہ صحابہ کرام اور اُن کے بعد کے زمانہ میں بھولنے کا امکان تھا۔

اور خود قرآن پاک نے بھی لکھنے کا اشارہ دیا ہے کیونکہ قرآن مجید کے ناموں میں سے ایک نام " الكتاب " ہے جو الكتابة سے مأخوذ ہے جس کا تقاضہ ہے کہ یہ مکتوب ہو۔

اس لئے آپ ﷺ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت اس عظیم کام کے لئے مأمور فرمائی جو لکھنا جانتے تھے تاکہ جو قرآن پاک آپ ﷺ پر نازل ہو اس کو لکھ کر محفوظ کریں۔

اور کتابت قرآن میں حد درجہ احتیاط رکھی گئ تا کہ قرآن و حدیث کا اختلاط نہ ہو سکے اسلئے آپ ﷺ نے اپنی احادیث لکھنے سے منع فرما دیا تھا : " لا تكتبوا عني و مَن كتب غير القرآن فليمحه " [صحيح مسلم : 7702] یعنی ‘‘میری احادیث نہ لکھو اور جس نے قرآن کے علاوہ لکھا ہو اسے مٹا دے’’ ( لیکن بعد میں جب یہ اختلاط نہ رہا کہ اس کو صدور و کتابت میں محفوظ کر لیا تو عموما کتابت احادیث کا آغاز ہوا اور کتابتِ احادیث کے اذن عام نہ ہونے کی وجہ بھی یہی تھی کہ کہیں غیر قرآن قرآن میں داخل نہ ہو جائے)۔

پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت آیا، جب حفاظ صحابہ کرام دنیا سے تشریف لے جانے لگے تو ْقرآن پاک محفوظ کرنے کی فکر بڑھنے لگی جس کا اندازہ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے کلام سے لگایا جا سکتا ہے، بخاری شریف میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے : آپ(حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے گزارش کی : وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ ؛ فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا أَنْ تَجْمَعُوهُ، وَإِنِّي لَأَرَى أَنْ تَجْمَعَ الْقُرْآنَ.

ترجمہ: جتنی تیزی سے قراء عظام شہید ہو رہے ہیں مجھے کثیر قرآن کے جانے کا ڈر ہے مگر یہ کہ اس کو جمع کرا دیں اور میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن عظیم کو جمع فرما دیں’’

 حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : هُوَ وَاللَّهِ، خَيْرٌ. ترجمہ: ‘‘میں وہ کوئی بھی کام کیسے کروں جو رسول اللہﷺ نے نہیں کیا، حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اللہ کی قسم وہ اچھا کام ہے۔

 فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِيهِ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ لِذَلِكَ صَدْرِي، وَرَأَيْتُ الَّذِي رَأَى عُمَرُ. قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : وَعُمَرُ عِنْدَهُ جَالِسٌ لَا يَتَكَلَّمُ.

ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابھی اپنی بات دہرائ نہیں کہ اللہ پاک نے اس معاملے میں میرے سینے کو کشادہ فرما دیا تو مجھے بھی وہی صحیح لگا جو عمر کو لگا۔حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔

 فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌّ عَاقِلٌ، وَلَا نَتَّهِمُكَ، كُنْتَ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ. فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ جَمْعِ الْقُرْآنِ.

ترجمہ: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم ذی ہوش نو جوان ہو اور ہمیں تم میں شک نہیں تم حضور اکرم ﷺ کے کاتب وحی تھے. قرآن پاک میں غور و خوض کرو اور اسے محفوظ کرو. کہتے ہیں اللہ کی قسم ! جمع قرآن کا حکم دینے کے بجائے اگر وہ مجھے پہاڑوں میں سے کوئ پہاڑ نقل کرنے کا مکلف بناتے وہ مجھ پر اتنا دشوار نہ ہوتا۔

 قُلْتُ : كَيْفَ تَفْعَلَانِ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ.

ترجمہ: میں نے عرض کیا آپ حضرات وہ کام کیسے کرینگے جو رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا ؟

فَلَمْ أَزَلْ أُرَاجِعُهُ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللَّهُ لَهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ،

ترجمہ: میں نے ابھی اپنی بات دہرائ نہیں تھی کہ جس کے لئے اللہ پاک نے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے سینوں کو کشادہ فرمایا اسی طرح میرا سینہ بھی کھول دیا۔

فَقُمْتُ، فَتَتَبَّعْتُ الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ، وَالْأَكْتَافِ، وَالْعُسُبِ ، وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتَّى وَجَدْتُ مِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ آيَتَيْنِ مَعَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهُمَا مَعَ أَحَدٍ غَيْرِهِ : { لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ }. إِلَى آخِرِهِمَا،

ترجمہ: تو میں تیار ہو گیا اور قرآن مجید کو ورقوں، کھالوں، پاک ہڈیوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کیا یہاں تک کہ سورہ توبہ کی دو آیتیں مجھے خزیمہ انصاری کے پاس ملیں اور انکے علاوہ کسی کے پاس(لکھی ہوئ) نہیں مل پائی تھیں۔

وَكَانَتِ الصُّحُفُ الَّتِي جُمِعَ فِيهَا الْقُرْآنُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ.

ترجمہ: اور جن صحیفوں میں قرآن پاک جمع کیا گیا وہ حضرت ابو بکر رضی عنہ کے پاس رہے جب تک آپ بظاہر حیات رہے اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے وصال تک رہے اور پھر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس رہے.[ بخاری شریف : 4679]

إن شاء الله المجيد، مزید تردیدِ شدید قسطِ جدید و فرید میں مع طرزِ مفید مع دلائل روشن از خورشید بر امید تقلید و تائد رسید کریں گے۔

Other Parts of the Articles:

Rebuttal of Wasim Rizvi on Doubts Concerning Verses of Jihad in Quran: Does Islam force Non-Muslims to Accept Islam? Part 1 ردِ وسیم نام نہاد در شبہاتِ آیاتِ جہاد: مذہب اسلام غیر مسلموں پر داخل اسلام ہونے کے لئے بلا وجہ جبر و اکراہ کرتا ہے ؟

Removing Doubts Concerning Verses of Jihad in Quran: Is Jizya in Islam an act of oppression? Part 2 ازالہ شبہات در آیاتِ جہاد: کیا اسلام کا جِزیہ لینا ذمیوں پر ظلم و ستم ہے ؟

Removing Doubts Concerning Verses of Jihad in Quran: Do Jihad Verses in Quran Prove that Islam likes war and fighting? Part 3 ازالہ شبہات در آیاتِ جہاد: قرآن میں متعدد بار مذکور جہاد سے معلوم کہ اسلام جنگ و قتال کو بہت زیادہ پسند کرتا ہے؟

Removing Doubts Concerning Verses of Jihad in Quran: Are Jihad-Verses not the Verses of Quran? Part 4 ازالہ شبہات در آیاتِ جہاد: کیا آیات جہاد قرآن کی آیات نہیں بلکہ اضافہ شدہ ہیں؟

Removing Doubts Concerning Verses of Jihad in Quran: Does Islam teach war without rules and regulations? Part 5 ازالہ شبہات در آیاتِ جہاد: کیا اسلام بغیر قواعد و شرائط کے جنگ کی تعلیم دیتا ہے ؟

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/removing-doubts-concerning-verses-jihad-quran-hazrat-usman-delete-some-quranic-verses-part-6-ازالہ-شبہات-در-آیاتِ-جہاد-کیا-حضرت-عثمان-نے-قرآن-کی-بعض-سورتیں-حذف-کر-دیں-تھیں؟/d/124809


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..