New Age Islam
Thu Aug 18 2022, 07:10 PM

Urdu Section ( 17 March 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Has Religion Lost Its Relevance In The Modern Society? کیا جدید معاشرے میں مذہب اپنی اہمیت کھو چکا ہے؟

'امن کے مذاہب' زمین پر شدید ترین خونریزی کا سبب بنے ہیں۔

اہم نکات:

بیسویں صدی نے خدا کے نام پر کچھ انتہائی وحشیانہ قتل عام کا مشاہدہ کیا ہے۔

سربرینیکا کا قتل عام 1992 میں ہوا تھا۔

روانڈا کی نسل کشی 1994 میں سامنے آئی تھی۔

1971 میں بنگلہ دیش میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی مذہب کے نام پر ہوئی۔

میانمار کے مسلمانوں کو 2017 میں بدھ مت کے پیروکاروں نے قتل کیا تھا۔

----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

30 نومبر 2021

زمین پر انسانی زندگی کے آغاز سے ہی مذہب انسان کے لیے بنیادی منبع رشد و ہدایت رہا ہے۔ خدا کا تصور انسان کو بقا کا روحانی ذریعہ اور زندگی کا ایک مقصد فراہم کرتا ہے۔ قدیم دور میں انسان کو ایک مخالف فطرت نے گھیر لیا تھا جس سے لڑنے کی طاقت نہیں تھی۔ اس لیے انسان کا انحصار ایک غیر مرئی قوت پر ہوا جو مخالف فطرت سے مدد اور تحفظ فراہم کرتی تھی۔ رفتہ رفتہ، انسانی معاشرہ سائنسی اور فکری طور پر ترقی کرتا گیا اور قدرت اور جنگلی جانوروں جیسی دشمن قوتوں، قدرتی آفات اور بیماریوں سے بچانے کے لیے نئے آلات اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے اپنی بقا کے لیے زیادہ سے زیادہ خود اعتماد ہوتا گیا۔ تاہم، خدا کا تصور انسان کے لیے روحانی مقاصد کے لیے اہم رہا۔ اس نے کسی کو اپنے سائنسی اور تکنیکی آلات سے زیادہ طاقتور پایا کیونکہ اکثر اوقات اس کے سائنسی اور تکنیکی آلات اور قدرت یا قدرتی آفات کو قابو نہیں کر سکتے تھے۔ اس سے اس کا ایک غیر مرئی طاقت کے وجود پر یقین مضبوط ہوا جو کائنات اور ان کی زندگیوں اور معاملات پر حکومت کرتی ہے۔ انبیاء اور مرسلین نے خدا کے تصور میں یقین کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اس لیے جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور سائنس اور ٹیکنالوجی نے ترقی کی، مذہب کی اہمیت بڑھتی گئی کیونکہ مذہب کو سماجی اور سیاسی نظم و ضبط کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ مذہب نے مادی اور سائنسی ترقی سے پیدا ہونے والے روحانی خلا کو پر کیا۔

تاہم، چونکہ کوئی بھی دو انسان کسی ایک مسئلے پر متفق نہیں تھے، اس لیے ان میں یہ اختلاف بھی تھا کہ ان کے لیے کون سا مذہبی طریقہ بہتر ہے۔ اس سے مختلف مذہبی راہیں اور نظریات سامنے آئے۔ اور ہر مذہب یا مذہبی نظریے کے پیروکار اپنے اپنے مذہبی نظریے کی سچائی کی ضمانت دیتے ہیں۔ یہ بالآخر تہذیب کے تصادم سے عقائد کے تصادم کا سبب بنا۔ اگرچہ ہر مذہب نے امن کا مذہب ہونے کا دعویٰ کیا، لیکن وہی مذہب خونریزی، قتل و غارت گری اور تباہی و بربادی کا بھی باعث بنا۔ انسانی تاریخ کے صفحات مختلف مذاہب کے پیروکاروں کی طرف سے کیے گئے قتل و غارت اور خونریزی کی تفصیلات سے بھرے پڑے ہیں۔

زیادہ پیچھے نہیں جانا کی ضرورت نہیں۔ اگر ہم خدا کے نام پر ہونے والے قتل عام کی تاریخ دیکھیں تو ہمیں دنیا کے مختلف مذاہب میں انسانوں کے قتل عام کی تفصیلات ملتی ہیں۔ روانڈا کا 1994 کا قتل عام خدا کے نام پر کیا جانے والا سب سے گھناؤنا فعل تھا جب مجرموں کا دعوٰی تھا کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔ اس نسل کشی میں 500,000 سے زائد توتسی قبیلے کے لوگوں کا قتل عام کیا گیا اور کیتھولک چرچ کو اس قتل عام کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

1971 میں مشرقی پاکستان میں مذہب کے نام پر ایک اور بڑی نسل کشی ہوئی۔ طویل عرصے سے نظر انداز اور سیاسی اور معاشی حقوق سے محروم مشرقی پاکستان کے مسلمانوں نے مغربی پاکستان سے آزادی کا اعلان کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے نام سے ایک آزاد ملک تشکیل دیا۔ پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا اور مشرقی پاکستان کے لوگوں کا قتل عام کیا۔ کہا جاتا ہے کہ تقریباً 500,000 لوگ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ یہ قتل عام انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی میں سے ایک ہے۔ پاکستانی فوج کی شکست کے بعد بنگلہ دیش میں بہاری یا اردو بولنے والے مسلمانوں کی نسل کشی انتقام کے طور پر ہوئی۔ بنگالی بولنے والے مسلمانوں نے لاکھوں اردو بولنے والے مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ مزید لاکھوں اردو بولنے والے مسلمان اب بھی بنگلہ دیش میں پاکستانی مہاجرین کے طور پر رہ رہے ہیں حالانکہ وہ مسلمان ہیں۔

مسلمانوں کی ایک اور بڑی نسل کشی میانمار میں ہوئی جہاں بدھ مت کے ماننے والوں کی اکثریت ہے۔ انہیں خدشہ تھا کہ مسلمان ایک دن ان پر غلبہ پا سکتے ہیں اور ان کے مذہب بدھ مت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے کیونکہ انہوں نے بارہویں صدی میں مسلمانوں کی آمد کے بعد ہندوستان میں بدھ مت کو تباہ کر دیا تھا۔ اس لیے انہوں نے مسلمانوں کو سیاسی اور معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی۔ 1960 کے بعد کی دہائیوں میں میانمار میں مسلمانوں کو پسماندہ کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے اور بالآخر 2017 میں میانمار کی فوج نے بدھ بھکشوؤں کی ملی بھگت سے لاکھوں روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ یہ ایک ستم ظریفی ہے کہ  انسانوں کی تو بات چھوڑیں بدھ مت کسی بھی جاندار کو مارنے سے منع کرتا ہے۔ لیکن بدھ مت کے پیروکاروں نے مسلمانوں کی نسل کشی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور سوچا کہ خدا ان کے ساتھ ہے۔

1992 میں سریبرینیکا کا قتل عام بھی عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی بنیادوں پر ہوا تھا۔ اس قتل عام میں ایک لاکھ کے قریب مسلم خواتین اور مردوں کا قتل عام کیا گیا اور ہزاروں خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ہزاروں مسلمانوں کو علاقے سے بے دخل کر دیا گیا۔ یہ قتل عام مذہبی محرکات سے انجام دئے  جانے والے قتل عام کی ایک اور مثال تھی۔ اس قتل عام کی کئی دہائیوں بعد بھی مسلمانوں اور عیسائیوں نے کوئی سبق نہیں لیا اور ان کے درمیان مذہبی بنیادوں پر دشمنی جاری ہے۔

2014 میں مشرق وسطیٰ نے مذہب کی بنیاد پر قتل عام کا ایک اور دور دیکھا۔ ایک عسکریت پسند اسلامی گروپ نے خطے میں خدا کی حکمرانی قائم کرنے کے نام پر دہشت گردی کا راج شروع کر دیا۔ انہوں نے دین اسلام کی اپنی تشریح کے مطابق لاکھوں مسلمانوں، عیسائیوں کو قتل کیا اور مذہبی عمارتوں کو تباہ کیا اور ہزاروں کو غلام بنا لیا۔ لاکھوں مسلمان اور عیسائی بے گھر ہوئے اور انہیں دوسرے ممالک میں پناہ لینا پڑی۔

ہندوستان میں اکثریتی ہندوؤں اور اقلیتی مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات میں مذہبی وابستگی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسلام اور ہندومت دونوں مذاہب کے پیروکاروں کا دعویٰ ہے کہ ان کا مذہب امن کی تعلیم دیتا ہے۔ پھر بھی، عدم تحفظ کے احساس کی بنیاد پر قوم پرست گروہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار ہوئے جس میں ہزاروں افراد کی جانیں گئیں۔ آزادی کے پچھلے 70 سالوں میں ہندوستان نے لاکھوں چھوٹے بڑے فرقہ وارانہ فسادات دیکھے ہیں جن میں لاکھوں لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

پاکستان میں آزادی کے بعد احمدیہ مخالف فسادات ہوئے جن میں ہزاروں احمدی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کا ارتکاب اسلام کے پیروکاروں نے کیا حالانکہ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کا مذہب امن کی تبلیغ کرتا ہے اور دوسروں کے مذہب کا احترام کرتا ہے اور کوئی بھی شخص دوسروں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ آج بھی پاکستان میں اقلیتی برادریوں کے افراد کو مذہب یا خدا کے نام پر اکثریتی برادری کے ہاتھوں اغوا کئے اور مارے جاتے ہیں۔

مذہبی پیروکاروں کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد نے ایک تہذیبی قوت کے طور پر مذہب کی شبیہ کو بھی داغدار کیا ہے۔ یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد تاریخ میں درج ہے اور انسانی معاشرے میں مذہب کی اہمیت پر سوالیہ نشان کھڑے کرتا ہے۔ یہودی فرقہ وارانہ بنیادوں پر آپس میں لڑتے تھے۔ تیسری سے آٹھویں صدی کے دوران عیسائیوں نے ایک دوسرے کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل کیا۔ یہ دشمنی 17ویں صدی تک جاری رہی۔

مسلمان 72 فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ہر فرقے کے پیروکار اپنے آپ کو سچے راستے پر گامزن سمجھتے ہیں اور باقی سب کو جہنمی اور مستحق قتل بھی قرار دیتے ہیں۔ اس عقیدے کی وجہ سے خدا کے نام پر بہت سے قتل عام اور تشدد کے واقعات ہوئے۔ ہندوستان، پاکستان، مصر، افغانستان اور دنیا کے تمام حصوں میں جہاں وہ رہتے ہیں مسلمان فرقہ وارانہ خطوط پر منقسم ہیں اور اکثر تشدد میں ملوث ہوتے ہیں۔

عسکریت پسند اور دہشت گرد تنظیموں کے ابھرنے سے صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ وہ وقتاً فوقتاً ہاؤسنگ کمپلیکس، بازاروں، ہسپتالوں اور یہاں تک کہ قبرستانوں پر بھی خودکش حملے کرتے رہتے ہیں تاکہ اس مسلمان فرقے کے افراد کو قتل کر سکیں جنہیں وہ بزعم خویش کافر سمجھتے ہیں۔

قرآن انسان کی اس کی جھگڑالو اور متشدد طبیعت کی وجہ سے سرزنش کرتا ہے۔ انسان ہمیشہ اپنا نظریہ یا اپنی فکر ان لوگوں پر مسلط کرنا چاہتا ہے جن پر اس کا غلبہ ہے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے:

’’اور آدمی ہر چیز سے بڑھ کر جھگڑالو ہے۔‘‘ (الکہف: 54)

’’(اس نے) آدمی کو ایک نِتھری بوند سے بنایا تو جبھی کھلا جھگڑالو ہے۔‘‘ (النحل:4)

خدا نے کبھی بھی انسانوں کو اپنی انا کی تسکین کے لیے دوسرے انسانوں کو قتل کرنے کے لیے نہیں کہا کیونکہ جب اس کی مخلوق میں سے کسی کو مارا جاتا ہے تو اسے خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ لیکن مذہب کی خود ساختہ اتھارٹی خدا کے نام پر تشدد اور قتل کو فروغ دیتی ہے۔

دنیا بھر میں مذہب یا مذہبی تسلط کے نام پر تشدد کے کلچر نے دور جدید میں مذہب کی اہمیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ بچوں، عورتوں اور بے سہارا اور غیر جنگجو لوگوں کو مارنے والے اس تشدد نے بہت سے انسانیت پسند لوگوں کو مذہب سے دور کر دیا ہے۔ وہ مذہب کی افادیت پر یقین کھو چکے ہیں۔ ایک ہمہ گیر اخلاقی معیار نے جنم لیا ہے جس کے مطابق لوگ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ مذہب کسی خاص مسئلے پر کیا کہتا ہے۔

زیادہ تر لوگ جو سائنس سے متاثر ہیں یا سائنسی بصیرت رکھتے ہیں وہ ایک ایسی طاقت پر یقین رکھتے ہیں جو کائنات کو چلاتی ہے لیکن وہ کسی مذہبی عقیدے کو تسلیم نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر، آئن سٹائن ایک ایسی طاقت پر یقین رکھتے تھے جو کائنات پر حکومت کرتی ہے لیکن وہ کسی خدا پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ لہذا ان کا خیال تھا کہ بدھ مت مستقبل کی دنیا کا مذہب ہے کیونکہ یہ کسی خاص خدا پر یقین نہیں رکھتا تھا۔

ترکی جیسے مسلم اکثریتی ممالک میں نوجوان نسل کے بہت سے افراد اسلام کو نہیں مانتے بلکہ کسی دین پر ہی یقین نہیں رکھتے۔ جیسے جیسے انسانی تہذیب ترقی کر رہی ہے اور بیرونی خلا کی کھوج کر رہی ہے اور دوسرے سیاروں پر کمندیں ڈال رہی ہے، کسی ذاتی خدا کے بارے میں ان کا خیال یکسر تبدیل ہو رہا ہے۔ وہ خدا کو اس طرح نہیں دیکھتے یا سمجھتے ہیں جیسا کہ قدیم دور کے لوگوں نے اسے دیکھا اور سمجھا ہے۔ اور خدا کی اس قدیم تفہیم پر اصرار کرنا ایک احمقانہ بات ہوگی۔ اس لیے جدید دور کا انسان مذہب کو ایک پابند قوت کے طور پر زیادہ اہمیت نہیں دیتا ہے بلکہ اسے صرف روحانی تسکین اور بحران اور تناؤ کے وقت میں مدد فراہم کرنے کا ذریعہ مانتا ہے۔

English Article: Has Religion Lost Its Relevance In The Modern Society?

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/religion-modern-society/d/126596

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..