New Age Islam
Sat May 25 2024, 11:41 AM

Urdu Section ( 12 Jul 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Refuting Islamophobic Claims That Jihadists Represent Traditional and Mainstream Interpretations of Islam: Part 8 On Killing Mushrikin and Kuffar اسلاموفوبک دعوے کا رد کہ جہادیت ہی اسلام کی روایتی تشریحات کا ترجمان ہے، قسط ۸ کفار ومشرکین کے قتل پرمشرکین کے قتل کا حکم دینے والی آیت 9:5 کا انطباق دور حاضر میں نہیں کیا جا سکتا

اہم نکات

1.     جہادیوں کا موجودہ دور کے مشرکین کے قتل کے جواز میں آیت 9:5 پیش کرنا قرآن کی خلاف ورزی اور اسلام کی روایتی تشریح سے بغاوت ہے

2.     مشرکین مکہ اور دور حاضر کے مشرکین کے معمولات ومعتقدات کے مابین فرق

3.     روایتی اسلامی فقہ کے تشریحی اصول اور آیت 9:5

4.     آیت 9:5 میں مذکور لفظ مشرکین کا لسانیاتی تجزیہ

5.     ظاہر اور نص کا فقہی اصول اور آیت 9:5 کی تشریح

6.     ‘دلالۃ  سیاق الکلام’ کا اصول اور آیت 9:5

7.     آیت 9:5 میں مشرکین سے مراد خاص طور پر مکہ کے مذہبی استحصال کرنے اور امن معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے مشرکین ہیں

8.     آیت 9:5 کا شان نزول

9.     آیت 9:5 کا انطباق دور حاضر کے شہریوں پر نہیں کیا جا سکتا

10. مسلمانوں اور غیر مسلموں کو اسلام فوبز اور جہادیوں سے یکساں طور پر محتاط رہنا چاہئے

………………

خصوصی نمائندہ نیو ایج اسلام

1 جولائی 2021

اسلاموفوبز اور جہادیوں کا اپنا اپنا ایجنڈہ ہے ۔ اسلاموفوبز (لوگوں کے دلوں میں اسلام کی دہشت پیدا کرنے  والے لوگ)  غیر مسلموں کو مسلمانوں کے خلاف بر انگیختہ کرنے پر مصر ہیں تو دوسری طرف جہادسٹس (جہاد کو بلا شرعی شرائط  کی تکمیل اور ممنوعہ کاموں کے لیے  استعمال کرنے والے لوگ) مسلمانوں کو کفار و مشرکین کی اصطلاحات کے تحت مسلمانوں کو عام غیر مسلم شہریوں کے خلاف مشتعل کرنے پر کمر بستہ ہیں۔اس تناظر میں اسلاموفوبز اور جہادیوں  نے  ایک  دلیل  جو عوام میں پھیلائی اس میں  وہ  قرآن کریم کے سورہ توبہ کی آیت نمبر پانچ کا حوالہ دیتے ہیں  جس میں اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے کہ ‘‘مشرکوں کو جہاں پاو قتل کر دو۔۔’’۔اس قسط میں ہم اسی آیت کریمہ پر مسلمہ اصول و قواعد کی روشنی میں ایک عمدہ تحقیق پیش کریں گے جس سے حق  خود بخود ثابت ہو جائے گا اور یہ کہ  اسلاموفوبز اور جہادیوں  کے درمیان اس قدر ہم آہنگی ہے کہ دونوں کا کارنامہ اسلام اور انسان دشمنی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔  

دونوں گروہوں کے درمیان یہی وہ آہنگی ہے جس کی طرف ہم نے اس سے  قبل بھی اشارہ کیا ہے ۔دونوں عوام اور سادہ لوح شہریوں کو انتہا پسندی کی راہ اختیار کرنے کی حوصلہ  افزائی کرتے ہیں۔عام شہریوں پر مشتمل کفار و مشرکین کے قتل کا جواز پیش کرنے کے لیے جہادسٹس  مذکورہ آیت حوالہ دیتے ہیں جبکہ اسلاموفوبز اس آیت کے تحت یہ ثابت کرنے کی چاہ رکھتے ہیں کہ جہادسٹس در حقیقت  اسلام کی روایات اور کلاسیکی تشریحات کی نمائندگی کرتے ہیں  تاکہ یہ ظاہر ہو سکے کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے غیر مسلم اپنی طاقت مضبوط کریں ۔دونوں ہی گروہیں در اصل نقض امن ، قتل و غارت گری اور زمینی فساد برپا کرنے  سے باز رہنے کے لیے تیار نہیں حالانکہ قرآن کریم نے سخت لہجہ میں نقض امن اور اس طرح کے فساد سے بھی باز  رہنے کا حکم دیا ہے ۔ 

عسکریت پسند جہادی اپنی ناجائز اور غیر اسلامی حرکتوں کا جواز پیش کرنے کے لئے اکثر قرآنی آیت 9:5 کا حوالہ پیش کرتے ہیں۔ داعش کے جہادیوں نے اپنے رسالے "دابق" میں اپنے اس دعوے کو کہ "اسلام تلوار کا مذہب ہے امن پسندی کا نہیں" جائز ٹھہرانے کے لئے اس آیت کا حوالہ دیا ہے (دابق، ساتواں شمارہ ، صفحہ 20)۔ اس رسالہ میں تفسیر ابن کثیر کے حوالہ سے لکھا گیا ہے کہ:

"'ابن ابی طالب (رضی اللہ تعالی عنہ) فرماتے ہیں کہ " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم چار تلوارں کے ساتھ مبعوث کئے گئے ہیں: ایک تلوار مشرکین کے لئے {پھر جب حرمت والے مہینے نکل جائیں تو مشرکوں کو مارو جہاں پا ؤ} [التوبہ:5] ، ایک تلوار اہل کتاب کے لئے }لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور قیامت پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ اور اس کے رسول نے اور سچے دین کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر} [التوبہ: 29]، ایک تلوار منافقین کے لئے }اے غیب کی خبریں دینے والے (نبی) جہاد فرماؤ کافروں اور منافقوں پر} [التوبہ:73]، اور ایک تلوار بغات (سرکشی اور زیادتی کرنے والوں) کے لئے {زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے} [الحجرات:9] ”[تفسیر ابن کثیر]۔ (اقتباس از داعش میگزین دابق، 7واں شمارہ، ص 20)

دورِ جدید کے تقریبا تمام جہادیوں کا یہ ماننا ہے کہ بالخصوص "صوفی-سنی اور شیعہ مسلمانوں" سمیت دیگر کفار ومشرکین کے قتل پر مبنی جہادیت  کا جواز پیش کرنے کے لئے اس آیت کا حوالہ پیش کرنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں وہ اس آیت کی کلاسیکی تفسیر کی بھی غلط تشریح کرتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ اسلاموفوبیا کے شکار لوگوں نے یہ جہادی طریقہ اپنا لیا ہے تاکہ مسلمان بمقابلہ غیر مسلموں کے نام پر انتہا پسندی کے دو راستے تعمیر کر سکیں۔ اس مضمون میں قرآن وسنت کی تعبیر وتشریح  کے مسلمہ  فقہی اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم مذکورہ بالا قرآنی آیت کی کلاسی تفسیر پیش کریں گے۔ اس حصے میں تردیدی استدلالات جناب غلام غوث صدیقی کی تحریروں سے ماخوذ ہوں گے جو اسی عنوان پر 5 حصوں میں انگریزی زبان میں نیو ایج اسلام ویب سائٹ newageislam.com پر شائع ہو چکے ہیں۔

روایتی کتبِ تفاسیر کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیت 9:5 ایک مخصوص سیاق و سباق کی حامل ہے کیوں کہ یہ جنگی حالات میں نازل ہوئی ہے۔ اس طرح انہوں نے یہ رائے پیش کی ہے کہ اس آیت کا اطلاق عمومی حالات میں نہیں کیا جا سکتا ۔ ہم اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس آیت کو موجودہ دور میں ہمارے حالات پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں تک جہادیوں کا بے دریغ قتل و غارت گری، خود کش حملوں، عوامی مقامات کی تباہی و بربادی اور نام نہاد ’استشہادی‘ آپریشن کا جواز پیش کرنے کے لئے اس آیت کو استعمال کرنے کا تعلق ہے تو وہ ایسا کر کے محض اللہ کی سرزمین پر فسادِ عظیم برپا کر رہے ہیں [و اللہ اعلم بالصواب]۔ روئے زمین سے فساد مٹانا ہی اسلامی تعلیمات کا مقصد اولین ہے لیکن یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم اس پیغام کو دل و جان سے سمجھیں اور تسلیم کریں۔ قرآن مجید کی تشریح کے لئے فقہی قوانین کے روایتی اصولوں کو بنیاد بنا کر جنگ و امن سے متعلق تمام آیات کا مطالعہ کرنے کے بعد ہم کامل وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جہادی اسلام اور جنگ سے متعلق اسلامی بیانیے کا اپنے مذموم مقاصد کے لئے غلط استعمال کر رہے ہیں۔ جیسا کہ یہ اسلام دشمنوں کا خفیہ ایجنڈا رہا ہے تاکہ لوگوں کا اسلام سے اعتماد اٹھ جائے یا دنیا کو اسلام کی حقیقت سے محروم رکھا جائے۔

روایتی اسلامی فقہ کے تشریحی اصول اور آیت 9:5

ہر دور کے روایتی فقہا نے اسلامی فقہ کے تشریحی اصول میں متفقہ طور پر یہ مانا ہے کہ قرآن و سنت کے ظاہری الفاظ بعض اوقات مخصوص سیاق و سباق کے حامل ہوتے ہیں اور ان کی مزید تعبیر و تشریح کا امکان موجود ہوتا ہے۔ اس فقہی اصول کے مطابق آیت 9:5 میں مذکور لفظ مشرکین اگرچہ ایک ظاہری لفظ ہے لیکن یہ کسی گروہ یا مشرکین کے کچھ افراد کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس آیت کو اس دلیل کا قطعی ثبوت نہیں بنایا جا سکتا کہ قرآن مجید میں مذکور لفظ "مشرکین" سے دنیا کے تمام مشرکین یا ہر دور کے مشرکین مراد ہیں۔ "اس کے برعکس، ہمیں یہاں نہ صرف یہ کہ اس کی مزید تاویل و تشریح یا تخصیص کا امکان میسر ہے بلکہ اس کے مضبوط شواہد بھی موجود ہیں [......] جو ہمیں یہ قبول کرنے کے قابل بناتے ہیں  کہ آیت 9:5 میں مذکور لفظ 'مشرکین' سے خاص مشرکین مکہ اور وہ افراد مراد ہیں جو مذہب کی بنیاد  پر  جبر و تشدد کرتے تھے  اور مسلمانوں کے ساتھ حالت جنگ میں تھے۔

مشرکین مکہ اور موجودہ دور کے مشرکین کے مابین فرق

آیت قرآنی 9:5 میں مذکور مشرکین مکہ کے عقائد و اعمال موجودہ دور کے مشرکین سے مختلف ہیں۔ جناب غلام غوث صدیقی کے مضمون سے مندرجہ ذیل اقتباسات میں مشرکین مکہ کے عقائد و اعمال پر گفتگو کی گئی ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ یہ آیت 9:5 ایک مخصوص سیاق و سباق کے ساتھ ہے اور موجودہ حالات میں اس کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔

"ان کے عقائد کے بارے میں مختصر یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے تشبیہ کا عقیدہ گڑھ لیا تھا اور اپنے عقیدے میں تحریف کا شکار ہو چکے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں اور خدا میں انسانی صفات موجود ہوتی ہیں۔ جب وہ علم اور قوتِ سماعت و بصارت جیسی اللہ کی اصل صفات نہیں سمجھ سکے تو انہوں نے ان صفات الٰہیہ کا فیصلہ اپنے علم اور سماعت و بصارت کی صلاحیت کے تناظر میں کرنا شروع کردیا۔ اس طرح وہ اللہ کے لئے مادیت و جسمانیت مان کر گمراہ ہو گئے۔ شاہ ولی اللہ کے الفاظ میں تحریف کی روداد یہ ہے کہ "حضرت اسماعیل کی اولاد طویل عرصے تک ابراہیمی دین (ملت ابراہیمی) پر قائم رہی یہاں تک کہ عمرو بن لحی نامی ایک ملعون شخص پیدا ہوا اس نے بت تراشی کی اور ان کی عبادت کو لازم قرار دیا۔ اسی نے بحیرہ، وسیلہ، سائبہ، حام، الاقتسام بالازلام  اور ان جیسی دیگر توہم پرستیاں قائم کیں۔ یہ تبدیلی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے تین سو سال قبل رونما ہوئی۔ ان مذموم معمولات کے علاوہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی روایات پر قائم رہے اور اس آباء پرستی کو اپنے حق میں فیصلہ کن دلیل سمجھ لیا۔ اگر چہ گزشتہ انبیاء علیہم السلام نے بھی قیامت اور حشر و نشر کا عقیدہ لوگوں کو دیا تھا لیکن انہوں اسے اتنی وضاحت اور تفصیل سے بیان نہیں کیا تھا جس طرح قرآن نے بیان کیا ہے۔ چونکہ مشرکین عرب کو موت کے بعد کی زندگی کے مفصل احوال نہیں دیے گیے تھے اسی لئے وہ قیامت کے واقعات کو ناممکن اور بعید از حقیقت تصور کرتے تھے۔ اگرچہ مشرکین عرب ابراہیم ، اسماعیل اور حضرت موسی علیہم السلام کی نبوت کو مانتے تھے لیکن وہ ان انبیاء میں انسانی صفات کے وجود کے بارے میں مغالطہ میں پڑ گئے، جو کہ ان کی نبوت کے جمال کا ایک حجاب اور پردہ ہوتا تھا اور اس طرح ان کے بارے میں شک و شبہ کا شکار ہو گئے... انسانی شکل میں انبیاء کے وجود کو انہوں نے ناممکن اور ناقابل یقین امر سمجھا "(شاہ ولی اللہ ، الفوز الکبیر)۔

"مشرکینِ مکہ اور دور حاضر کے مشرکین کے درمیان ایک دوسرا فرق یہ بھی ہے کہ" مشرکین عرب خود کو "احناف" (حق کے متلاش) قرار دیتے تھے اور یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ ملت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہیں۔ در حقیقت حنیف  وہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت پر قائم رہے اور آپ کے ہی بیان کردہ معمولات بجا لاتا ہو۔ ملت ابراہیمی کے شعائر و شرائع میں بعض یہ ہیں:  میں حج بیت اللہ کرنا،  دوران نماز استقبال قبلہ کرنا ، غسل جنابت کرنا اور تمام فطری عادات مثلا  ختنہ کرنا، بغل کے بال کٹوانا ، ذبح و نحر دونوں طرح کی قربانی کرنا ، زیر ناف بال کٹوانا  وغیرہ بھی شامل ہیں...... مشرکین عرب نے ملت  ابراہیمی کو ترک کردیا تھا اور وہ "ناجائز قتل، چوری، زنا، سود خوری اور ظلم و جبر و تشدد جیسے برے کاموں میں ملوث ہو چکے تھے۔ " حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی ملت کے اعتقادی مسائل میں  ان مشرکین نے "عمومی طور پر شکوک و شبہات پیدا کر دیے تھے اور  انہیں بعید از قیاس مانتے تھے اور انہیں سمجھنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ شرک، تشبیہ کا عقیدہ ، صحیفہ ابراہیمی میں ترمیم، آخرت سے انکار اور ہمارے نبی ﷺ کے رسالتی مشن کو ناقابل یقین قرار دینا وغیرہ ایسے مسائل ہیں جن  کو اپنا کر جمہور مشرکین نے ملت ابراہیمی سے منحرف ہونے کا ثبوت دیا ۔ں۔ اس کے علاوہ وہ ظلم و ناانصافی اور فتنہ و فساد جیسے شرمناک کاموں میں ملوث ہو چکے تھے اور انہوں نے اللہ کی عبادت کی ہر علامت کو مٹا کر رکھ دیا تھا ۔ [شاہ ولی اللہ، الفوز الکبیر۔ ص 3-4]

“قرآن مجید کی متعدد آیات کے مطابق شرک ایک ناقابل معافی گناہ ہے اور اس گناہ کے مرتکب کو قیامت کے دن عذاب الٰہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم، قرآنی آیتیں مومنین کو اس اکیسویں صدی میں امن و ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارنے سے نہیں روکتیں جہاں انسانوں نے امن اور ہم آہنگی کے قانون کے تحت زندگی گزارنے کا عہد لیا ہے۔ جہاں تک آیت 9:5 کی بات ہے، حالانکہ اس میں لفظ ’مشرکین‘ کا ذکر ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان سے شرک یا عقیدے کی بنیاد پر جنگیں کی گئی تھیں۔ بلکہ ان سے جنگیں اس لئے کی گئی تھیں کیونکہ وہ مذہب کی بنیاد پر ظلم و ستم کیا کرتے تھے۔ بہ الفاظ دیگر، ان کی پر تشدد کاروائیوں کی وجہ سے ان سے جنگیں کی گئیں۔

آیت قرآنیہ 9:5 میں مذکور مشرکین کے اعمال

"جہاں تک قرآن میں مذکور مشرکین کے اعمال کی بات ہے تو مشرکین نے مکہ میں 14 یا 15سالوں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکاروں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے اللہ کے پسندیدہ دین اسلام قبول کرنے والوں پر ہر قسم کی ذلت و رسوائی مسلط کی تھی۔ انہوں نے اللہ کی نازل کردہ آیات پر بے بنیاد اعتراضات لگائے، شریعت کے احکامات کی تضحیک کی اور تیرہ سالوں تک اپنے مظالم کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ مسلمانوں کو  دو بہ دوانتقامی کاروائیاں کرنے کی اجازت مل گئی۔

نبوت کے تیرہویں سال ہجرت کی اجازت ملی۔ حضور ﷺ اور صحابہ کرام مکہ سے ڈھائی تین سو میل دور یثرب نامی ایک بستی میں جمع ہو گئے۔ لیکن کفار مکہ کی آتش غضب اب بھی سرد نہ ہوئی۔ یہاں بھی مسلمانوں کو چین کا سانس نہ لینے دیا۔ دس دس بیس بیس کافروں کے جتھے آتے۔ مکہ کی چراگاہوں میں اگر کسی مسلمان کے مویشی چر رہے ہوتے تو انہیں لے اڑتے۔ اکا دکا مسلمان مل جاتا تو اسے بھی قتل کرنے سے باز نہ آتے۔

چودہ پندرہ سال تک صبر و ضبط سے مظالم برداشت کرنے والوں کو آج اجازت دی جا رہی ہے کہ تم اپنی مدافعت کے لئے ہتھیار اٹھا سکتے ہو۔ کفر کے ظل کی انتہا ہو گئی ہے۔ باطل کی جفاکشیاں حد سے بڑھ گئی ہیں۔ اب اٹھو ان سرکشوں اور مئے پندار سے مدہوش کافروں کو بتا دو کہ اسلام کا چراغ اس لئے روشن نہیں ہوا کہ تم پھونک مار کر اسے بجھا دو۔ حق کا پرچم اس لئے بلند نہیں ہوا کہ تم بڑھ کر اسے گرا دو۔ یہ چراغ اس وقت تک فروزاں رہے گا جب تک چرخ نیلوفری پر مہر و ماہ چمک رہے ہیں۔ (ضیاء القرآن ،جلد 3؛ ص ۔218)

ابتدا میں مسلمانوں کو دفاع میں بھی لڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ بعد ازاں دفاع میں لڑنے کی اجازت دی گئی اور ایک ایسی صورتحال پیدا ہوگئی کہ آیت "مشرکین کو جہاں کہیں بھی [جنگ کی حالت میں] پاؤ قتل کرو" نازل ہوئی۔

"'مشرکین'' سے امن معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر جنگ ہوئی اس لئے نہیں کہ انہوں نے شرک کا ارتکاب کیا تھا

شان نزول سے یہ بات مشہور و معروف ہے کہ انہیں ان مشرکین مکہ کے خلاف لڑنے کی اجازت دی گئی تھی جو مذہبی بنیاد پر ظلم و ستم کرتے تھے اور امن معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد انہوں نے اس کی خلاف ورزی کی تھی۔ آیت 9:5 سے یہ قیاس کرنا صحیح نہیں ہوگا کہ شرک کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے ان سے جنگ کی گئی۔ کلاسیکی علماء کی مندرجہ ذیل تشریحات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

 امام بیضاوی (متوفی 685 ھ) اپنی کتاب "انوار التنزیل و اسرار التاویل کی جلد 3، صفحہ 71، 9:5- عربی)" جو کہ کلاسیکی تفسیر کی کتاب ہے اور برصغیر ہند کے مدرسوں میں شامل نصاب بھی ہے، اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں "فاقتلوا المشرکین (ای) الناکثین" جس کا مطلب یہ ہے کہ آیت 9:5 میں بیان کردہ مشرکین سے مراد  ناکثین  ہیں۔ ناکثین ان لوگوں کو کہا جاتا ہے  وہ لوگ جو  مسلمانوں پر حملہ کرکے  امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔

علامہ آلوسی (متوفی 1270ھ) اپنی کتاب "روح المعانی" (جلد 10، صفحہ 50، - 9:5، عربی) میں  مذکورہ آیت کی تفسیر میں  لکھتے ہیں:

على هذا فالمراد بالمشركين في قوله سبحانه: (فاقتلوا المشركين) الناكثون

ترجمہ: لہٰذا ، اللہ عز و جل کے قول "مشرکوں کو مارو" میں مشرکین سے مراد ناکثین یعنی وہ لوگ ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کر کے امن معاہدوں کی خلاف ورزی کی۔

ماہر دینیات  علامہ ابو بکر الجصاص (المتوفی 370 ھ) لکھتے ہیں،

"صار قوله تعالى: {فَاقْتُلُوا المُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ} خاصّاً في مشركي العرب دون غيرهم"

ترجمہ: "آیت (مشرکوں کو قتل کرو جہاں کہیں انہیں پاؤ) میں خاص طور پر عرب کے مشرکین مراد ہیں اور اس کا اطلاق کسی اور پر نہیں ہوتا" (احکام القرآن للجصاص، جلد 5، صفحہ، 270)

امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں:

"قرآن کریم کی مندرجہ بالا آیت 9:5 پر اپنی تفسیر میں امام ابن حاتم نے حضرت ابن عباس (رضي اللہ تعالی عنہ جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے) سے یہ روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں: ‘‘اس آیت میں مذکور مشرکین سے مراد قریش کے وہ مشرکین ہیں جن کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے [صلح] کا معاہدہ کیا تھا (در منثور،جلد۔3، صفحہ 666)

وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ "امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو شیخ (رضی اللہ تعالی عنہم) نے حضرت محمد بن عباد بن جعفر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا "یہ مشرکین بنو خزیمہ بن عامر کے ہیں جو بنی بکر بن کنعانہ سے تعلق رکھتے ہیں،"(در منثور ، جلد 3۔ صفحہ 666)

دیگر علماء اسلام کے مطابق ایسی تفسیروں کی تصدیق قرآن کے اس فرمان سے ہوتی ہے جو اسی سورہ کی آیت 13 میں موجود ہے،

‘‘کیا اس قوم سے نہ لڑو گے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں اور رسول کے نکالنے کا ارادہ کیا حالانکہ انہیں کی طرف سے پہلی ہوتی ہے، کیا ان سے ڈرتے ہو تو اللہ کا زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو اگر ایمان رکھتے ہو’’(9:13) ۔

اور سورہ توبہ کی آیت نمبر 36 بھی اس کی تائید کرتی ہے

‘‘اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے’’۔ (9:36)

ان دو آیتوں (9:13) اور (9:36) اور مندرجہ بالا کلاسیکی فقہاء کے تبصروں کا حاصل یہ ہے کہ آیت 9:5 میں بیان کردہ مشرکین سے تمام مشرکین نہیں ہیں بلکہ وہ مشرکین مراد ہیں جنہوں نے اوائل مسلمان کے خلاف اعلان جنگ کر کے امن معاہدوں کی خلاف ورزی کی تھی۔ لہذا، یہ کہنا غلط ہوگا کہ مشرکین مکہ سے جنگ شرک کی وجہ سے کی گئی تھی۔

ہمیں یہاں دو باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اول: اگر شرک کا عمل ہی جنگ کا سبب ہوتا تو رسول اللہ ﷺ اور مشرکین مکہ کے مابین امن معاہدہ نہ ہوا ہوتا۔ ثانیاً: اگر یہ مشرکین مذہب کی بنیاد پر ظلم و ستم نہ کرتے یا امن معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرتے تو جنگیں بھی نہ ہوئی  ہوتیں۔ یہ بات ان احادیث سے بھی سمجھی جاسکتی ہے (جو آئندہ حصوں میں پیش کئے جائیں گے) جن مین مشرکین میں سے عورتوں، بچوں، معذوروں یا بوڑھوں کو مارنے سے ممانعت وارد ہوئی ہے۔

اسلامی اصول فقہ میں ظاہر اور نص کا اصول بہت مشہور ہے، جناب غلام غوث صدیقی اپنے مضمون کے تیسرے حصے میں لکھتے ہیں:لغت میں ظاہر کا معنی روشن، کھلا ہوا، عیاں ہے۔ اصطلاح میں اصولیین کے مطابق ظاہر ہر وہ کلام ہے جس کی مراد سامع کو بلا غور و فکر محض کلام سنتے ہی معلوم ہو جائے،یا امام بزدوی کے الفاظ میں "ظاہر ہر اس کلام کا نام ہے  جس کا مقصد سننے والوں کو اس کے الفاظ سے ظاہر ہو جاتا ہے"، جبکہ امام سرخسی ظاہر کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ "ظاہر وہ ہے جو خالص سماعت سے ، غور و فکر کیے بغیر ہی سمجھ میں آ سکے.."

 ظاہر کا معنی واضح ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اس میں گنجائش ہوتی ہے کہ وہ ایک متبادل تشریح بھی قبول کر سکے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کا ظاہری معنی ہمیشہ اس سیاق و سباق کے ساتھ ہم آہنگ نہیں جس میں اس کا نزول ہوا ہے ، دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ کبھی کبھی ظاہر اور نص میں تضاد ہو تا ہے ۔نص اس چیز کو کہتے ہیں جس کے لیے کلام کو لایا گیا ہو یعنی کلام کو لانے کا جو مقصود ہو اسے نص کہا جاتا ہے ۔۔ نص ایک واضح عبارت کی نشاندہی کرتا ہے جس سے کلام  کے وارد ہونے کا سبب واضح ہوتا ہے۔ نص سے قائل کا مقصد ظاہر ہوتا ہے جبکہ ظاہر کا معنی قائل کا مقصود نہیں ہوتا۔

اب ہم آیت 9:5 ’’مشرکوں کو مارو جہاں پا ؤ‘‘ سے متعلق ظاہر اور نص پر غور کرتے ہیں۔ یہ آیت مومنین کو مشرکین جہاں کہیں بھی پائے جائیں مار ڈالنے کا حکم دینے میں ظاہر ہے جبکہ یہ آیت جنگ کی حالت میں مذہبی استحصال کرنے والوں اور صلح کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف لڑنے کا حکم دینے میں نص ہے۔ اس آیت کے نزول کا مقصد جنگ کی حالت میں مذہبی استحصال کرنے والوں اور عسکریت پسندوں کے قتل کی اجازت دینا ہے۔ کیونکہ وہ "مرو یا مار ڈالو" کی سی صورتحال تھی۔ اگر جنگ سے متعلق تمام آیتوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو اس مقصد کو آسانی کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے، مثلا آیت “اور اے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو کہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس لیے کہ وہ نادان لوگ ہیں"(9:6) ،"اور اللہ کی راہ میں لڑو ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو"(2:190)۔

"اس طرح ہمیں معلوم ہوا کہ آیت 9:5 ایک ایسا  نص ہے جس میں متعدد نکات شامل ہیں، مثلاً۔ 1) لڑائی مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں ظلم و ستم کی بنیاد پر ہونی چاہئے، 2) جنگ امن معاہدہ ختم ہونے اور اعلان جنگ کے بعد ہی لڑی جانی چاہئے ، 3) قتل  جنگ کی حالت میں ہی ہونی چاہئے۔ اس آیت کے نزول کا بنیادی مقصد یہ تین نکات تھے۔ اس کے برعکس، اس آیت کا ظاہر یہ مطالبہ کرتا ہے کہ چونکہ اس آیت میں لفظ مشرکین مذکور ہے اور وہ جمع ہے لفظ مشرک کا، لہذا اس کے تمام افراد جہاں پائے جائیں انہیں قتل کردیا جائے۔ تاہم ، نص (اس آیت کے نزول کا مقصد) اس آیت کے ظاہر کے خلاف ہے۔ اور یہ ایک مشہور و معروف اصول ہے جو مدارس اسلامیہ کے نصاب میں بھی پڑھائی جاتی ہے کہ جب نص اور ظاہر میں تعارض ہو جائے ہے تو ہمیشہ نص کو ہی ترجیح دی جائے گی۔

’’بہ الفاظ دیگر، میں پھر یہی بات کہتا ہوں کہ مشرکین عرب کے خلاف لڑنے کا حکم اس لئے نازل ہوا تھا کہ انہوں نے مسلمانوں پر ظلم ڈھائے تھے اور امن معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی، نہ کہ اس وجہ سے کہ انہوں نے شرک یا کفر کا ارتکاب کیا تھا۔ اور اسی معنی میں یہ آیت نص ہے۔ جہاں تک اس آیت کے ظاہر کا معاملہ ہے تو یہ اس آیت کے نص کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے اور علمائے سلف میں اس پر اتفاق رائے ہے کہ جب نص اور ظاہر میں تعارض ہو جائے ہے تو ہمیشہ نص کو ہی ترجیح دی جائے گی۔ تاکہ قرآن ک بہتر تفہیم حاصل ہو۔

آیت قرآنی 9:5 پر ظاہر اور نص کے اصول کو نافذ کرنے کے بعد ہمارا یہ ماننا ہے کہ "موجودہ حالات میں عام مشرکین کے قتل" کو جائز ٹھہرانا غلط ہے، ذیل میں اس کی دیگر وجوہات بھی بیان کی جا رہی ہیں۔

فقہ حنفی کے اصول ‘ دلالۃ سیاق الکلام’ سے وہ صورتحال مراد ہے جہاں کسی بھی لفظ کا لغوی معنی کلام کے سیاق و سباق کی وجہ سے ترک کر دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل اقتباسات دیکھیں:

"امام بیضاوی کہتے ہیں کہ،" آیت 9:5 میں لفظ "مشرکین" سے مراد "ناکثین" ہیں یعنی وہ لوگ جنہوں نے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی اور جنگ کی حالت کو دوبارہ بحال کر دیا۔ (بیضاوی، "انوار التنزیل و اسرار التاویل، جلد 3 ، صفحہ 71، 9:5) اسی طرح علامہ آلوسی نے بھی کلام الٰہی کے سیاق و سباق کی وجہ سے لفظ مشرکین کے لغوی معنی کو ترک کر دیا اور یوں انہوں نے لفظ "مشرکین" سے  "ناکثین" مراد لیا ا (آلوسی، روح المعانی، جلد 10، صفحہ 50، - 9:5(۔ امام سیوطی لکھتے ہیں، "امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو شیخ (رضی اللہ تعالی عنہم) نے حضرت محمد بن عباد بن جعفر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا "یہ مشرکین بنو خزیمہ بن عامر کے ہیں جو بنی بکر بن کنعانہ سے تعلق رکھتے ہیں، "(در منثور ، جلد 3۔ صفحہ 666)۔ علامہ ابوبکر السیوطی کے مطابق " یہ آیت (مشرکوں کو مارو جہاں پا ؤ) مشرکین عرب کے لئے خاص ہے اور اس کا اطلاق کسی اور پر نہیں کیا جا سکتا۔ (احکام القرآن للجصاص، جلد 5، صفحہ 270)

جہادیوں اور اسلامو فوبیا کے شکار لوگوں کی ایک دوسری دلیل یہ ہے کہ اس آیت نے امن سے متعلق آیتوں کو منسوخ کردیا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ موجودہ حالات پر بھی اس کا اطلاق کیا جائے۔ یہ دلیل محض ناسخ کے معنی اور اس کے اطلاق کے بارے میں ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ جناب غلام غوث صدیقی نے اپنے انگریزی  مضمون کے پانچویں حصے میں اس موضوع پر کچھ تفصیل سے خامہ فرسائی کی ہے۔ ذیل میں ان کے مضمون کے کچھ اقتباسات  کا ترجمہ ملاحظہ کریں:

“متاخرین کلاسیکی فقہاء کے مطابق جنہوں نے لفظ ''ناسخ'' کی ایک انتہائی محدود تعریف کی ہے، جنگ سے متعلق آیتوں نے امن و رواداری والی آیات کو منسوخ نہیں کیا ہے۔ امام جلال الدین سیوطی اور زرکشی وغیرہ نے علوم قرآن پر اپنی عمدہ تصنیفات میں اس نظریہ کو واضح کیا۔

امام جلال الدین سیوطی اپنی کتاب ‘‘الاتقان فی علوم القرآن’’ میں جسے علوم القرآن میں ایک عظیم شاہکار تسلیم کیا جا تا ہے، یہ واضح کیا ہے کہ چند فقہاء کی رائے کے خلاف یہ آیت 9:5 تنسیخ کا نہیں بلکہ سیاق و سباق کا موضوع ہے۔ بعض مخصوص حالات میں صبر اور عفو و در گزر والی آیت پر عمل کیا جاتا ہے جبکہ بعض مخصوص حالات میں جنگ ضروری ہو جاتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ قرآن کی کوئی بھی آیت کسی دوسری آیت سے مکمل طور پر منسوخ نہیں ہوئی بلکہ ہر آیت کا ایک مخصوص سیاق و سباق اور محل انطباق ہے۔ چونکہ امام سیوطی نے فقہائے متقدمین کے خلاف نسخ کی ایک محدود تعریف کی ہے لہٰذا انہوں نے سیاق و سباق یا عارضی نسخ کے لئے لفظ ’نسخ‘ کا استعمال نہیں کیا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ امام سیوطی کا یہ نظریہ فقہائے متقدمین سے مختلف نہیں ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ فقہائے متقدمین نے لفظ ’نسخ‘ کے عمومی معنیٰ میں ’’سیاق و سباق یا عارضی نسخ‘‘ کا معنی شامل کر دیا تھا۔

امام سیوطی نے علامہ مکی کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ ‘‘فقہاء کا ایک طبقہ یہ مانتا ہے کہ آیت ‘‘انہیں معاف کر دو اور ان سے درگزرو بیشک احسان والے الله کو محبوب ہیں’’ (5:13)، محکم اور غیر منسوخ ہے اس لئے کہ اس قسم کا حکم الٰہی سیاق و سباق اور محل انطباق کا موضوع ہے’’ (الاتقان فی علوم القرآن ، جلد 2 ، صفحہ 71-70)۔ اس سے قبل ہم یہ جان چکے ہیں فقہائے متقدمین نے سیاق و سباق اور محل انطباق کے معاملے کو لفظ ’نسخ‘ کے عمومی معنیٰ کے ساتھ ظاہر کیا ہے۔

بالکل اسی نظریہ کی تائید  امام زرکشی نے بھی علوم قرآنی می اپنی ایک مایہ ناز تصنیف ‘‘البرہان فی علوم القرآن’’ میں کی ہے۔ متعدد مفسرین کا حوالہ پیش کرتے ہوئے امام زرکشی یہ رائے پیش کرتے ہیں کہ کئی مفسرین کو یہ مغالطہ ہوا کہ آیت السیف نے صبر اور عفو و درگزر والی آیتوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ "نسخ" کسی قانونی حکم کے اس طرح مکمل خاتمہ کا تقاضا کرتا ہے کہ پھر دوبارہ کبھی اسے نافذ نہ کیا جائے۔ جبکہ اس طرح کی آیات کے ساتھ  یہ معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ ان میں سے ہر آیت کا ایک خاص معنی ہے جو کہ ایک مخصوص سیاق و سباق کے ساتھ خاص ہے۔ حالات کے بدلنے پر مختلف آیات کا نفاذ لازم ہو جاتا ہے۔ نسخ کا صحیح معنی یہ ہے کہ کوئی حکم ہمیشہ کے لئے ختم نہیں کیا گیا ہے۔ امام زرکشی نے اپنے دلائل کو پختہ کرنے کے لئے امام شافعی کے "الرسالہ" سے بھی ایک مثال پیش کیا ہے جسے محولہ بالا کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے۔

’’یہاں امام زرکشی کی مراد یہ ہے کہ جنگ اور امن سے متعلق آیتوں کا انطباق حالات اور سیاق و سباق کے موافق کیا جائے گا، لہٰذا انہیں ناسخ یا منسوخ نہیں کہا جا سکتا۔

علوم قرآنیہ کے مندرجہ بالا دو عظیم اماموں علامہ  زرکشی اور علامہ سیوطی کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ آیت 9:5 نے کسی بھی صورت میں امن و عفو و درگزر والی آیتوں کو منسوخ نہیں کیا ہے بلکہ ہر آیت کو اس کے مناسب سیاق و سباق میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ آیت 9:5 کا حکم مخصوص سیاق و سباق کا معاملہ ہے نہ کہ ’نسخ‘ کا جیسا کہ فقہائے متاخرین نے اس کا تعین کر دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مرکزی دھارے کے مسلمانوں میں مقبول و مشہور کلاسیکی علمائے اسلام مثلاً امام بیضاوی، علامہ آلوسی، امام ابوبکر جصاص اور دیگر متعدد ائمہ کرام  نے مشرکین کی تعبیر "ناکثین‘‘ سے کی ہے یعنی مسلمانوں کے خلاف علم جنگ بلند کر کے امن معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے والے"۔ جیسا کہ اوپر ہم نے مطالعہ کیا۔

ایک صوفی کلاسیکی علم دین مولانا بدر الدجیٰ مصباحی، پرنسپل مدرسہ عربیہ اشرفیہ ضیاء العلوم خیرآباد، مؤ، یوپی (انڈیا)، اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

’’مذکورہ تفصیل سے یہ مبرہن ہوگیا کہ آیت نمبر 5 میں جن مشرکین کو اشہر حرم کے بعد مارنے یا ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس سے عام کفار و مشرکین مراد نہیں ہیں بلکہ اس کا تعلق ان مشرکینِ عرب سے ہے جنھوں نے مسلمانوں سے نہ صرف یہ کہ عہد شکنی کی بلکہ دعوت اسلام کی پامالی کے لیے اپنی ناپاک مساعی صرف کردیں جیسا کہ "فاقتلوا المشرکین" کی تفسیر میں صاحب تفسیر ابی سعود فرماتے ہیں : " الناکثین خاصۃ فلایکون قتال الباقین مفھوما من عبارۃ النص بل من دلالتہ" [ تفسیر ابی سعود ج: 4، ص: 43] (یعنی اس سے صرف وہ مشرکین مراد ہیں جنہوں نے عہد شکنی کی ۔رہی بات باقی مشرکین کی تو ان سے قتال کرنا مراد نہیں جیسا کہ نص کی عبارت سے واضح ہے بلکہ دلالۃ النص سے بھی واضح ہے ۔)‘‘

’’ان مستند اور معتبر تفسیرات سے یہ عیاں ہو گیا کہ سورۂ توبہ کی اس آیت مبارکہ میں جو مشرکین و کفار کو قتل کرنے اور وہ جہاں ملیں وہاں انھیں مارنے اور دھر پکڑ کا جو حکم دیا گیا ہے اس سے عام کفار و مشرکین اور برادران وطن مراد نہیں ہیں جیسا کہ وسیم رضوی اور اسلام دشمن عناصر پروپیگنڈہ کر رہے ہیں بلکہ اس سے خاص عہد رفتہ کے وہ مشرکین مکہ اور قبائل عرب مراد ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ قتل و غارت گری، دھوکہ دھڑی اور عہد شکنی جیسے بھیانک جرائم کا ارتکاب کیا قرآن ہرگز اس امر کا داعی نہیں ہے کہ بلا وجہ چلتے پھرتے بے قصور یا دیگر لوگوں پر کلاشنکوف سے گولیاں برسائی جائیں اور سیکڑوں بچوں کو یتیم اور عورتوں کے سروں سے سہاگ کی ردائیں چھین لی جائیں قرآن تو اس کا داعی ہے کہ اگر ایک انسان نے بلا وجہ کسی بھی انسان کی جان لے لی خواہ وہ کسی بھی مذہب کا متبع ہو تو گویا کہ وہ روئے زمین کے تمام انسانوں کا قاتل ہے اور اگر کسی نے کسی بھی مظلوم و مقہور کمزور اور ناتواں انسان کی جان بچائی تو گویا کہ اس نے روئے زمین کے تمام انسانوں کی جان بچانے کا کام کیا قرآن فرماتا ہے:مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًاۚ(المائدہ آیت: 32)‘۔

’’ اور ایک اور مقام پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں " مَنْ قَتَلَ نفسا مُعَاهَدۃ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لیوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ خمسمائۃ عام ‏"‏‏.‏(جمع الجوامع للسیوطی، ج: 9، ص: 721، دار السعادۃ،) جس شخص نے کسی معاہد کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو نہیں پاسکے گا باوجودیکہ جنت کی خوشبو پانچ سو برس کی مسافت سے سونگھی جاتی ہے۔

 اور عہد و پیمان کے بعد اسے توڑ دینے والے کی سرزنش حضور علیہ الصلوۃ والسلام اس انداز میں کر رہے ہیں: " اِن الغادِر یُنصب لہ لواء یوم القیامۃ فیقول ھذہ غدرۃ فلان بن فلان" ( جمع الجوامع للسیوطی، ج: 8، ص: 370، دار السعادۃ،) بے شک عہد شکن کے لیے قیامت کے روز نشان کھڑا کیا جائے گا اور کہا جائے گا اس نے فلاں بن فلاں سے غدر کیا۔

 اور ایک مسلمان قاتل سے مقتول ذمی کے وارثین کے خوں بہا قبول کر لینے کی تصدیق کے بعد قاتل کو آزاد کرتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: "من کان لہ ذمتنا فدمہ کدمنا و دیتہ کدیتنا" جو ہمارا ذمی ہوا اس کا خون ہمارے خون اور اس کی دیت ہماری دیت کی طرح ہے۔ [السنن الکبری للبیہقی، ج: 8، ص: 63، کتاب الجراح الحدیث: 15934 دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان]

مذکورہ بالا گفتگو سے یہ نقطہ نظر نہایت واضح طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ جہادی اپنے مذموم ایجنڈے کے حصول کے لئے آیت قرآنی 9:5 کی غلط تشریح کر رہے ہیں۔ اور اس طرح اسلامو فوبیا کے شکار لوگوں کے اس دعویٰ کی بھی تردید ہو گئی کہ جہادی بیانیے اسلام کی کلاسیکی تعبیر و تشریح پر مبنی ہیں۔ تمام عام شہریوں کو خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، اسلامو فوبز اور جہادیوں سے یکساں طور پر محتاط رہنا چاہئے اور انہیں اس آیت قرآنی 9:5 کی روایتی اور مرکزی دھارے کی تاویل و تشریح قبول کرنا چاہئے کہ اس آیت میں مشرکین سے مراد اسلام کے ابتدائی دور میں رہنے والے مکہ کے وہ مخصوص لوگ ہیں جنہوں نے مذہبی استحصال اور نقص امن کا ارتکاب کیا تھا لہٰذا اس آیت کا انطباق عہد حاضر کے عام  مشرکین  پر نہیں کیا جا سکتا جو آئین  و قوانین کے تحت امن و سلامتی   کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ۔  واللہ اعلم بالصواب

Related Article:

Refuting Islamophobic Claims That Jihadists Represent Traditional and Mainstream Interpretations of Islam: Part 8 On Killing Mushrikin and Kuffar

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/refuting-islamophobic-claims-jihadists-part-8/d/125076

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..