New Age Islam
Sat Dec 04 2021, 12:03 AM

Urdu Section ( 23 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Refutation of ISIS in the Context and Structure of the Quranic Verse ‘Kill the Mushrikin wherever you Find them’ (9:5) - Part 4 آیت ’مشرکین کو مارو جہاں پاو‘ (9:5) کے سیاق و سباق کی روشنی میں داعش کا رد - حصہ 4

غلام غوث صدیقی، نیو ایج اسلام

16 نومبر 2019

یہ اس جہادی نظریات کی تردید کا چوتھا حصہ ہے جو ‘اکیسویں صدی میں دہشت گردی کا جواز پیش کرنے کے لئے اس آیت ’’مشرکین کو مارو جہاں پاؤ‘‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ حنفی اصول ‘دلالۃ سیاق الکلام’ سے مبین و مبرہن تردید کا یہ حصہ خالصتا آیت "مشرکین کو مارو جہاں پاؤ" (9:5) کے سیاق و سباق کے تجزیہ پر مبنی ہے۔

فقہ حنفی کے اصولوں کے مطابق ان پانچ میں سے ایک صورت حال جس میں لغوی (حققی) معنی نہیں لئے جاتے ہیں ’دلالۃ سیاق الکلام‘ ہے۔

فقہ حنفی کے اصول ‘دلالۃ سیاق الکلام’ سے وہ صورتحال مراد ہے جہاں کسی بھی لفظ کا لغوی معنی کلام کے سیاق و سباق کی وجہ سے ترک کر دیا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں کچھ قرینے ایسے ہوتے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہاں لفظ کا لغوی معنی مراد نہیں ہے۔

مثال کے طور پر عربی زبان کے لفظ "رجل" کا لفظی معنی "ایک بالغ انسان مرد"۔ ہے۔ اب اگر کوئی جنگ کے دوران اپنے دشمن سے کہتا ہے، "اگر تم مرد ہو تو مجھ سے مقابلہ کرو۔" لیکن یہاں موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہاں لفظ ’مرد‘ سے اس کی جنس نہیں بلکہ اس کی بہادری مراد ہے۔ لہٰذا، یہاں اس لفظ کا لغوی معنی ‘مرد انسان’ کو ‘دلالۃ سیاق الکلام’، کی وجہ سے چھوڑ دیا گیا ہے۔

اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کی بہادری کی داستان بیان کرتے ہوئے یہ کہے کہ، “ایک آدمی جنگ میں شیر کی مانند لڑ رہا تھا۔” اب یہاں جملے کے سیاق و سباق اور محل کلام کی وجہ سے، لفظ "شیر" کا لغوی معنی نہیں لیا جائے گا۔ یعنی یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ شخص "بلی کے خاندان کا ایک بہت بڑا جنگلی جانور" تھا بلکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ آدمی شیر کی طرح بہادر تھا۔

’’دلالۃ سیاق الکلام‘‘ کے اس حنفی فقہی اصول کی روشنی میں آئیے اب ہم آیت "مشرکین کو مارو جہاں پاؤ" (9:5) میں وارد ہونے والے لفظ "مشرکین" کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

لفظ مشرکین کا لغوی معنی ہے وہ ’جو شرک کا ارتکاب کرتے ہیں‘ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ کے ساتھ اس کی ذات اور صفات میں کسی اور کو بھی برابر کا شریک مانتے ہیں۔

آیت 9:5 میں مذکور لفظ ’مشرکین‘ کا لغوی معنی اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ شرک کرنے والے تمام افراد قتل کر دئے جائیں۔ لیکن آیت 9:5 کا مکمل کا سیاق و سباق اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ صرف وہی لوگ قتل کئے جائیں جو مذہبی استحصال، امن معاہدے کی خلاف ورزی اور حالت جنگ کو بحال کرنے والے ہیں۔ لہذا ‘دلالۃ سیاق الکلام’ کے اصول کی بنیاد پر یہاں لفظ "مشرکین" کا لغوی معنی ترک کر دیا جائے گا۔

جہاں تک آیت 9:5 کے سیاق وسباق کی بات ہے تو ہم گزشتہ حصوں میں کلاسیکی علماء و مفسرین کی توضیحات و تشریحات کی روشنی میں اس پر سیر حاصل گفتگو کر آئے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین نے مکہ میں 14 یا 15سالوں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکاروں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے اللہ کے پسندیدہ دین اسلام قبول کرنے والوں پر ہر قسم کی ذلت و رسوائی مسلط کی تھی۔ انہوں نے اللہ کی نازل کردہ آیات پر بے بنیاد اعتراضات لگائے، شریعت کے احکامات کی تضحیک کی اور تیرہ سالوں تک اپنے مظالم کا سلسلہ جاری رکھا۔ ابتداء میں مسلمانوں کو صبر و ضبط سے کام لینے کا حکم تھا۔ اعلان نبوت کے تیرہویں سال ہجرت کی اجازت ملی۔ حضور ﷺ اور صحابہ کرام مکہ سے ڈھائی تین سو میل دور یثرب نامی ایک بستی میں جمع ہو گئے۔ لیکن کفار مکہ کی آتش غضب اب بھی سرد نہ ہوئی۔ یہاں بھی مسلمانوں کو چین کا سانس نہ لینے دیا۔ دس دس بیس بیس کافروں کے جتھے آتے۔ مکہ کی چراگاہوں میں اگر کسی مسلمان کے مویشی چر رہے ہوتے تو انہیں لے اڑتے۔ اکا دکا مسلمان مل جاتا تو اسے بھی قتل کرنے سے باز نہ آتے۔ جب مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ کا ظلم و تشدد اپنی ساری حدیں پار کر چکا تب اللہ نے مسلمانوں کو اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھانے کی اجازت مرحمت فرما دی۔

جہاں تک آیت 9:5 کے سیاق و سباق کی بات ہے تو ہمیں اسے آیت 9:1 کی روشنی میں سمجھنا چاہئے، جس میں اللہ نے فرمایا ہے کہ "بیزاری کا حکم سنانا ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن سے تمہارا معاہدہ تھا اور وہ قائم نہ رہے (بلکہ انہوں نے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی اور حالت جنگ کو بحال کیا) ۔ مذکورہ بالا سیاق و سباق کی روشنی میں ہم نے دیکھا ہے کہ مشرکین عرب مذہبی استحصال کرنے والے تھے جن کے ساتھ آیت 9:1 کے مطابق امن معاہدہ کیا گیا تھا لیکن جب انہوں نے اس امن معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اللہ کی جانب سے "براءت" کا اعلان کردیا گیا۔ لیکن یہاں بھی ایک استثناء ان لوگوں کا تھا جنہوں نے امن معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی تھی جیسا کہ آیت 9:4 میں اللہ کا فرمان ہے، "مگر وہ مشرک جن سے تمہارہ معاہدہ تھا پھر انہوں نے تمہارے عہد میں کچھ کمی نہیں کی اور تمہارے مقابل کسی کو مدد نہ دی تو ان کا عہد ٹھہری ہوئی مدت تک پورا کرو، بیشک اللہ پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے"۔ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے امن معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی تھی ان کے خلاف لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ اللہ کے ان تمام احکامات و فرامین کی روشنی میں آسانی سے یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ ان کے ساتھ جنگ اس لئے نہیں ہوئی کہ وہ مشرکین تھے بلکہ اس لئے کہ وہ ظالم و ستمگر تھے جنہوں نے عہد کرنے کے بعد عہد شکنی کی۔ اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے جس میں اللہ کا فرمان ہے، ’’اور اے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو کہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس لیے کہ وہ نادان لوگ ہیں‘‘۔ (9:6)

کلام الٰہی کے اس سیاق و سباق کے پیش نظر یہاں لفظ "مشرکین" سے اس کا لغوی معنی مراد نہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس کے لغوی معنی کو ترک کر دیا جائے گا اور اس کی وضاحت اس طرح کی جائے گی کہ اس آیت میں مشرکین سے مراد وہ مشرکین عرب تھے جو مذہبی استحصال اور امن معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امام بیضاوی، علامہ آلوسی، علامہ جصاص، ابن حاتم، ابن منذر اور جلال الدین السیوطی جیسے مشہور و معروف کلاسیکی علماء و مفسرین کی کتابوں میں بھی ہمیں ایسی ہی توضیحات و تشریحات ملتی ہیں۔

"امام بیضاوی کہتے ہیں کہ،" آیت 9:5 میں لفظ "مشرکین" سے مراد "ناکثین" ہیں یعنی وہ لوگ جنہوں نے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی اور جنگ کی حالت کو دوبارہ بحال کر دیا۔ (بیضاوی، "انوار التنزیل و اسرار التاویل، جلد 3، صفحہ 71، 9:5) اسی طرح علامہ آلوسی نے بھی کلام الٰہی کے سیاق و سباق کی وجہ سے لفظ مشرکین کے لغوی معنی کو ترک کر دیا اور یوں انہوں نے لفظ "مشرکین" سے "ناکثین" مراد لیا ا (آلوسی، روح المعانی، جلد 10، صفحہ 50، - 9:5(۔ امام سیوطی لکھتے ہیں، "امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو شیخ (رضی اللہ تعالی عنہم) نے حضرت محمد بن عباد بن جعفر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا "یہ مشرکین بنو خزیمہ بن عامر کے ہیں جو بنی بکر بن کنعانہ سے تعلق رکھتے ہیں، "(در منثور ، جلد 3۔ صفحہ 666)۔ علامہ ابوبکر السیوطی کے مطابق " یہ آیت (مشرکوں کو مارو جہاں پا ؤ) مشرکین عرب کے لئے خاص ہے اور اس کا اطلاق کسی اور پر نہیں کیا جا سکتا۔ (احکام القرآن للجصاص، جلد 5، صفحہ 270)

 

English Article: Refutation of ISIS In The Context and Structure of the Quranic Verse ‘Kill the Mushrikin wherever you Find them’ (9:5)- Part 4

Refutation of ISIS That Uses the Verse, ‘Kill the Mushrikin Wherever You Find Them’ To Justify Terrorism in 21st Century: Linguistic Analysis of the Word ‘Mushrikin’ Part-1 قرآنی آیت ۹:۵ اور داعش کا رد : لفظ مشرکین کا لغوی تجزیہ

Refutation of ISIS: Mushrikin In Quranic Verse 9:5? - Part 2 داعش کی تردید: آیت 9:5 میں مشرکین سے مراد کون ہیں؟

Refutation of ISIS-the Quranic verse 9:5 –Part 3 آیت 9:5 سے متعلق ظاہر اور نص کے اصول سے داعش کا رد جسے 21 ویں صدی میں تشدد کے جواز میں پیش کیا جاتا ہے

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/refutation-isis-context-structure-quranic-part-4/d/125427

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..