New Age Islam
Thu Jul 25 2024, 10:10 PM

Urdu Section ( 11 Jun 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Existential Dimension and Forgiveness Overtones of the Quranic Verses on Amputation Punishment Offer a Ground to Waive This Mode of Punishment in Islamic Criminal Law ہاتھ پیر کاٹنے سے متعلق قرآنی آیات میں مضمر وجودی پہلو اور معافی کے اشارے سے اسلامی حدود کے اس طریقہ سزا کو معاف کرنے کا جواز ملتا ہے

محمد یونس، نیو ایج اسلام

8 فروری 2021

(محمد یونس، مشترکہ مصنف اشفاق اللہ سید) ،اسلام کا بنیادی پیغام، آمنہ پبلیکیشن، امریکہ ۲۰۰۹

اس مضمون کا  مقصد مندرجہ ذیل آیات کے وجودی اور معافی کے پہلو پر مزید روشنی ڈالنا ہے۔

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيۡنَ يُحَارِبُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَسۡعَوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ يُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ يُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ يُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ​ ذٰ لِكَ لَهُمۡ خِزۡىٌ فِى الدُّنۡيَا​وَلَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ۔ اِلَّا الَّذِيۡنَ تَابُوۡا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَقۡدِرُوۡا عَلَيۡهِمۡ​ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ (سورہ المائدہ، آیت نمبر ۳۳ و ۳۴)

جناب یوسف علی صاحب نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے۔

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ کرنے والوں اور طاقت کے ساتھ زمین میں فساد مچانے والوں کی سزا:  قتل یا پھانسی، یا ہاتھ ایک جانب سے اور پیر دوسری جانب سے کاٹ دینا یا زمین سے جلاوطن کرنا ہے۔یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے آپ کے قبضہ میں آنے سے پہلے توبہ کرلی، جان لو اس صورت میں اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقۡطَعُوۡۤا اَيۡدِيَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَـكَالًا مِّنَ اللّٰه وَاللّٰهُ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ۔ فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِ ظُلۡمِهٖ وَاَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوۡبُ عَلَيۡهِ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ۔ ( سورہ المائدہ، آیت نمبر ۳۸ و ۳۹)

جہاں تک چوری کرنے والے مرد اورچوری کرنے والی عورت کا تعلق ہے تو ان کے ہاتھ کاٹ دیا کرو، ان کو جرموں کے بدلہ  اللہ کی طرف سے مقرر کی گئی مثالی سزا  یہی ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔ لیکن اگر چور اپنے جرم کے بعد توبہ کرتا ہے اور اپنا چال چلن ٹھیک کر لیتا ہے تو اللہ اس پر رجوع فرمائے گا بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

قابل غور بات یہ ہے کہ دونوں ہی عبارتوں میں ہاتھ پیر کاٹنے کی سزا کے اعلان کے فورا بعد معافی کا ذکر ہے، دونوں ہی عبارتوں میں اختتام اللہ تعالی کی معافی اور رحمت کے اعلان پر ہوتا ہے۔

کلاسیکی اسلامی قانون یعنی شریعت میں ہاتھ پیر کاٹنے کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ  حدود کا حصہ ہیں اور حدود اللہ سے تجاوز کی سزا مذکورہ بالا آیتوں میں یہی بیان کی گئی ہے۔ تاہم ان کا اطلاق جرم کی شدت اور نوعیت  کے ساتھ مشروط ہے۔

اللہ کے رسول ﷺ سے بھی روایت ہے کہ وہ چوری کے معمولی واقعات کو در گزر فرما دیا کرتے تھے۔  ( صحیح البخاری، جلد نمبر ۸، حدیث نمبر، ۷۸۰، ۷۸۱، ۷۸۳، ۷۸۵، ۷۸۶، ۷۸۷، ۷۸۸۔ )

سورہ المائدہ کی آیت نمبر ۳۳ اور ۳۵ کا تاریخی پس منظر

قدیم زمانے سے لے کر اسلام کے آغاز تک، عرب قبائلی ماحول میں رہتے تھے، ہر قبیلہ کا ایک سردار ہوتا تھا، طاقت اوراقتدار کی کوئی درجہ بندی نہیں تھی۔ ساختیاتی اعتبار سے قبائل خود مختا ر ہوتے تھے۔ کوئی مرکزی انتظامیہ نہیں تھا۔ کوئی قبائلی پولیس نہیں تھی، کوئی قانونی عدالت نہیں تھی، جرم کے مقدمے کی سماعت نہیں ہوتی تھی، کوئی جیل نہیں تھا، اور مجرم کو سزا دینے کے لئے کوئی ادارہ بھی نہیں تھا۔ لہذا مجرموں کو تقریبا لامحدود اقتدار حاصل تھا۔ درحقیقت اس دور کے قبائلی ماحول میں کسی انفرادی احتساب یا جرائم کی انفرادی سزا کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔ جرم کا الزام پورے قبیلہ پر لگتا تھا۔ قبیلہ کا اگر کوئی ایک فرد جرم کا ارتکاب کرتا تو اسی قبیلہ کے کسی معصوم فرد کو بھی اس کی سزا مل سکتی تھی۔ قبائلی  سماجی ماحول قرآن میں بیان کردہ انصاف کے آفاقی اصول سے بالکل نا آشنا تھا۔ لہذا  اس کے لئے قرآن کو سخت لہجہ اپنانا پڑا، کیونکہ عرب  آفاقی عدل کے تصورسے  بالکل نا آشنا تھے اور یہ تصور ان کے قبائلی قیادت کے مفاد کے خلاف بھی جاتا تھا۔

جوں جوں وحی کا سلسلہ اپنے تکمیل کو پہونچ رہا تھا، لوگوں کے جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے اور اسلامی امہ کے ارتقا کے ساتھ  ہی قبائلی نظم بھی ختم ہو رہا تھا۔اب وقت آگیاتھا کہ قرآن پولیس کا رول ادا کرتا، اور ہر طرح کے مروجہ جرائم کا انفرادی احتساب کرتا  اورانفرادی  سزا نافذ کرتا۔ ماضی کی تاریخ میں اس طرح کی مثالیں موجود تھیں کہ پچھلے حکمرانوں نے قتل و غارت گری اور لوٹ مار کرنے والوں اور بغاوت کرنے والوں کو ان کے ہاتھ پیرکاٹ کر سزائیں دی تھیں۔ قرآن مذکورہ آیات میں اپنے قارئین کو اس طرح کی سزاؤں کی دھمکی دیتا ہے۔  تاہم،  سزا کے ذکر کے فورا بعد معافی کے ذکر، خدائی رحمت و مغفرت پر آیات کے اختتام  اور حضور ﷺ کے ذریعہ معمولی جرائم کے لئےمقررہ حدود کو معاف کئے جانے والی روایات سے واضح طور پر یہ اشارہ ملتا ہے کہ قرآن ہاتھ پیر کاٹنے جیسی سزا کواصولی طور پرلازم قرار نہیں دیتا ہے۔

مذکورہ بالا بحث کی روشنی میں، حدود کی سزا کو اگردائمی مانیں تو اس کا مطلب یہ  ہوگا کہ قرآن کا تعزیراتی عدل صرف اپنے دور تک محدود تھا۔

چونکہ قرون وسطی سے اب تک جسمانی سزاسے متعلق انسانی خیالات میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ قرآنی سزا جو اسوقت کے حالات کو سامنے رکھ کر بنائی گئی تھی، آج وحشیانہ اور سفاکانہ معلوم پڑتی ہے۔ اس سے اسلام کی امن اور رحمت والی شبیہ خراب ہوتی ہے اور مسلم دہشت گرد تنظیموں کو وحشیانہ جرائم کے ارتکاب کا لائسنس بھی مل جاتا ہے۔ لہذا اسلامی قانون کے ماہرین کو شاید حدود کے متبادل طریقوں پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا،جیسا کہ آئینی قانون کے تحت متعدد مسلم اکثریتی ممالک نے کیا ہے۔

یہ کوئی انوکھی سوچ نہیں ہے۔ اس دور کے سب سے بڑے عالم اور ممتاز اسکالرمحمد اسد نے مذکورہ آیات کے تفصیلی تجزیہ کا خاتمہ کچھ اس اندازسے کیا ہے:

مفسرین نے مذکورہ بالا آیت کی تفسیربطورقانونی حکم بیان کرنے کی کوشش کی ہے، اسے پوری طرح مسترد کیا جانا چاہئے،چاہے وہ مفسرکتنا ہی بڑا کیوں ہو(نوٹ ۵۴، سورہ المائدہ، قرآن کا پیغام، محمد  اسد، صفحہ نمبر۲۱۷)

جب عرب میں قحط پڑا تھا تو حضرت عمررضی اللہ عنہ نے چوری کی حد یعنی ہاتھ کاٹے جانے کو معاف کر دیا تھا۔ اور اس طرح اس حکم کے اطلاق کو اس وقت کے موجودہ سماجی تحفظ اسکیم کے تناظر میں محدود کر دیا تھا۔

قرآن نے قتل یا پھانسی یا مخالف جانب سے ہاتھ پیر کاٹ کر فرعون کے منہ میں ڈالنے(سورہ الاعراف، ۱۲۴، سورہ طہ آیت نمبر۷۱، سورہ الشعراء، آیت نمبر ۴۹) جیسی سزاوں کو برائی کا مظہرکہا ہے۔ لہذا اگر ہرزمانے میں مجرموں کے لئے ایک ہی طرح کی سزا مقرر ہو جائے، تو پھر خدا کی رحمت اور عظمت کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا۔ دراصل، کسی بھی تمدن میں جرائم کی شکلیں زمان و مکان کے اعتبار سے بدلتی رہتی ہیں۔ یہی حال جرم کی شدت کی تعریف، ( جو ایک خطے یا عہد میں شدید ہے وہ کسی دوسرے خطے یا عہد میں معمولی ہو سکتا ہے) ، مجرم کی شناخت، جرم کے الزامات کو ثابت کرنے اور سزا کی نوعیت کا بھی ہے۔ لہذا، انسانیت کے اس  ہمہ وقت بدلتے رہنے والے اور وسعت پذیرپہلو کا احاطہ کرنا قرآن کے لئے ناممکن تھا۔ دوسرے لفظوں میں، انسانی تہذیب کےہر زمان و مکان کے سماجی ماحول میں ہونے والے لامحدود نوعیت کے جرئم کے لئے سزا کا ایک ہی طریقہ بیان کرنا قرآن کے لئےمادی حیثیت سے ناممکن تھا۔ شاید اسی وجہ سے قرآن نے اپنے قوانین کی تشریح کا کام اس شعبے کے ماہرین کے سر چھوڑ دیا۔

من قوم موسى أمة يهدون بالحق وبه يعدلون ( سورہ الاعراف، آیت نمبر ۱۵۹)

ترجمہ: اور موسٰی (علیہ السلام) کی قوم میں سے ایک جماعت (ایسے لوگوں کی بھی) ہے جو حق کی راہ بتاتے ہیں اور اسی کے مطابق عدل (پر مبنی فیصلے) کرتے ہیں

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ (سورہ الاعراف، آیت نمبر ۱۸۱)

ترجمہ:

ہماری مخلوق میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو دین حق کی ہدایت کرتے ہیں اور حق کے ساتھ ہی عدل کرتے ہیں۔

 اس مضمون کو لکھ کر مضمون نگار 'خدا کے حقوق' سے انکار کے کسی بھی الزام یا تجویزسے اپنے کو بری کرتا ہے، کیونکہ مصنف کو بخوبی پتہ ہے کہ اللہ کے حق کی حفاظت بڑے جرائم پر حدود نافذ کرنے سے اتنی نہیں ہوتی ہے جتنی کہ ایک ایسی  جامع فوجداری نظام کی تشکیل سے ہوگی، جس میں یہ انسانی صواب دید پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ اسے تمدن کیارتقاء کے ساتھترقی دیتا رہے۔

محمد یونس صاحب نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ ایگزیکٹو کے عہدے سے سبکدوش ہو کر ۹۰ کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے بنیادی پیغام کو سمجھنے میں لگے ہیں۔ اسلام کا بینادی پیغام نامی کتاب کے مشترکہ مصنف ہیں، اس کتاب کو ۲۰۰۲ میں  الازہر الشریف،قاہرہ کی منظوری ملی بعد میں اس کتاب کے تنقیح شدہ نسخے کویو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہوئی اس کتاب کو آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ،امریکہ نے، ۲۰۰۹میں شائع کیا۔

Related Article:

The Existential Dimension and Forgiveness Overtones of the Quranic Verses on Amputation Punishment Offer a Ground to Waive This Mode of Punishment in Islamic Criminal Law

URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/punishment-islamic-criminal-law/d/124962

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..