New Age Islam
Sun Mar 15 2026, 11:50 PM

Urdu Section ( 13 Dec 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

No One Can Ever Provoke You If You Don't Want To Get Provoked.......Jalaluddin Rumi اگر آپ مشتعل نہیں ہونا چاہتے تو کوئی آپ کو کبھی مشتمل نہیں کر سکتا....... جلال الدین رومی

 سمت پال، نیو ایج اسلام

 23 اگست 2022

 محمد پر ہی سب سے زیادہ تنقید کیوں کی جاتی ہے؟ کیونکہ اس سے مسلمان پریشان ہوتے ہیں اور

 پرتشدد ردعمل کا اظہار کرتے ہیں، اس طرح وہ اپنی ہی بدنامی کاسبب بنتے ہیں اور اپنی ذلت اپنے ہاتھوں کماتے ہیں۔

 -----

Jalaluddin Rumi

----------

 کل رات میں رومی کی مثنوی کی تیسری جلد کا مطالعہ کر رہا تھا۔ قارئین اس بات سے واقف ہوں گے کہ رومی، ایک عظیم صوفی ہونے کے علاوہ، ایک بہترین قصہ گو بھی تھے۔ ان کی مثنوی تمثیلات سے بھری پڑی ہے۔ ان کی ایک تمثیل نے مجھے کافی متاثر کیا، حالانکہ میں نے اسے فارسی میں برسوں پہلے پڑھا تھا جب میں کافی کم عمر تھا۔

 ایک گاؤں میں ایک کافی سمجھدار آدمی رہتا تھا۔ وہ کبھی کسی سے ناراض نہیں ہوا۔ اس کا ایک بدتمیز اور بدکردار پڑوسی تھا جو اسے ہمیشہ مشتعل کرتا تھا۔ لیکن سمجھدار آدمی نے کبھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ ایک دن اس بدتمیز انسان نے اس پرسکون انسان کی ماں اور باپ کو گالیاں دی۔ اس کے باوجود وہ پرسکون رہا۔ مایوس ہو کر اس بدتمیز انسان نے اسے اکسانا ترک کر دیا اور گاؤں چھوڑ کر چلا گیا۔

 کہانی کا سبق یہ ہے: آپ جتنا زیادہ مشتعل ہوں گے، اتنی ہی زیادہ لوگ آپ کو اکسانے کی کوشش کریں گے۔

 رومی کی نصیحت پر ایک وسیع تر تناظر میں غور کریں اور اسے اپنے مذہب اور رشتہ داروں سے جوڑیں۔ چارلی ہیبڈو کے لوگ محمد کے قابل اعتراض کارٹون کیوں بناتے ہیں؟ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس سے اسلام کے بددماغ پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد مشتعل ہوتی ہے۔ محمد پر ہی سب سے زیادہ تنقید کیوں کی جاتی ہے؟ کیونکہ اس سے مسلمان پریشان ہوتے ہیں اور پرتشدد ردعمل کا اظہار کرتے ہیں، اس طرح وہ اپنی ہی بدنامی کاسبب بنتے ہیں اور اپنی ذلت اپنے ہاتھوں کماتے ہیں۔

کیا آپ نے کبھی سنا یا پڑھا ہے کہ جب کسی آتش پرست (پارسی یا زرتشتی) کے مذہب اور مقدس ہستیوں پر تنقید کی گئی اور اس پر انہوں نے ردعمل کا اظہار کیا ہو؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ، پارسی اتنے سمجھدار ہیں کہ وہ مشتعل ہوتے ہی نہیں۔ 1960 میں، ایک بے دماغ بنگالی قلمکار نے ایک معروف انگریزی روزنامے میں زرتشتی عقیدے کے بارے میں بہت اشتعال انگیز بات لکھی۔ لیکن پارسیوں نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ اس پر  وہ قلمکار کافی شرمندہ ہوا اور معافی بھی مانگی۔ بعد میں اس نے اعتراف کیا کہ میرا مقصد اس امن پسند قوم کو مشتعل کرنا تھا۔ لیکن جب اس قوم کے کسی بھی فرد نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا اور وہ بری طرح توہین کے اپنے مقصد میں ناکام ہو گیا، تو اس نے شدید شرمندگی محسوس کی۔

 عدم رد عمل کا رویہ وقت کا تقاضا ہے۔ کوئی بھی آپ کے نبی یا دیوتا کو منفی انداز میں پیش کرے۔ آپ کو کبھی بھی رد عمل ظاہر نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی مشتعل ہونا چاہیے۔

 تریپٹک، تھرواد بدھ مت میں ایک سوتر ہے۔ یہ پالی میں ہے: ورتنم ابھی وینیوگم (یعنی غیر ضروری چیزوں میں مت پڑو)۔

 اس دور میں تمام مذاہب اور ان کے دیوتا درحقیقت فضول چیزیں اور وقت کا سراسر ضیاع ہیں۔ تو، آپ کو ان چیزوں پر اپنی توانائی اور اپنا وقت کیوں ضائع کرنا چاہئے جن سے آپ کو براہ راست سروکار نہیں ہے؟

 اشتعال انگیزی میں اذیت پسندی کا عنصر ہوتا ہے۔ درحقیقت، یہ ان لوگوں کے لیے ایک sado-masochistic تفریح ہے جن کے پاس کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

 یہ خیال ایک صریح غلط فہمی ہے کہ مشتعل ہونے پر ہمیں اپنے مذہبی معتقدات کا دفاع کرنا چاہیے۔

 کسی بھی نبی یا دیوتا کی توہین کا جواب دانشمندانہ خاموشی یا باوقار مسکراہٹ سے دیا جا سکتا ہے۔ آپ کو اپنے نبی یا دیوتا کی حفاظت کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے۔ سوجھ بوجھ سے کام لیں۔

English Article: No One Can Ever Provoke You If You Don't Want To Get Provoked.......Jalaluddin Rumi

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/prophet-jalaluddin-rumi-zoroastrian-faith/d/128619

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..