New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 12:22 AM

Urdu Section ( 16 Dec 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Taqwa Is the First and Foremost Condition of Guidance from the Quran تقویٰ ‘ ہدایت بالقرآن کی سب سے پہلی اور بنیادی شرط ہے


پروفیسر سید مسعود احمد

11 دسمبر 2020

 قرآن  مجید کی عظمت کا استحضار بھی تلاوت و مطالعۂ قرآن کی شرائط و آداب میں سے ہے۔ قرآن حکیم میں متعدد جگہ اس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ قارئین قرآن کو بار بار عظمت قرآن کی یاددہانی کرائی گئی ہے۔ مثلاً یہ فرمان خداوندی : ’’اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تُو  دیکھتا کہ خوفِ الٰہی سے وہ پست ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔‘‘ (الحشر:۲۱) اور اس کا اثر نیک لوگوں پر کیسا ہوتا ہے اس کا اندازہ اس آیت سے لگائیے کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ جس میں آپس میں ملتی جلتی اور بار با ر دہرائی گئی آیات ہیں، جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں، پھر ان کے جسم و دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف نرم پڑ جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے وہ جسے چاہتا ہے عنایت کردیتا ہے۔‘‘(الزمر: ۲۳) مزید دیکھئے سورہ بنی اسرائیل: ۱۰۷ تا ۱۰۹، سورہ انفال: ۲، اور دیگر۔

قرآن کریم کی تلاوت کا پانچواں ادب یہ ہے کہ کلام کو ترتیل یعنی ٹھہر ٹھہر کر اور مخارج کی صحیح ادائیگی کے ساتھ پڑھنا چاہئےجیسا کہ ارشاد ربانی ہے : ’’قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (اور صاف) پڑھو۔‘‘ (المزمل: ۴)  ترتیل سے پڑھنے سے معانی کا استحضار بھی آسانی سے ہوسکتا ہے اور رب کریم سے مکالمہ کے ذریعے اس سے قرب کا بھی موقع ملتا ہے۔ کیوں کہ تلاوت کے ذریعے بندہ سے اس کا رب حقیقی براہ راست مخاطب ہوتا ہے اور ترتیل سے بندۂ مومن کے قلب پر کلام اللہ کا مطلوبہ اثر پڑتا ہے اور اسی ذریعہ سے قاری قرآن کریم سے مطلوبہ استفادہ کرنے کی پوزیشن میں ہوسکتا ہے۔

چھٹا ادب قرآن مجید کے سننے سے تعلق رکھتا ہے کہ جب قرآن مجید کی تلاوت ہورہی ہو تو اس وقت بالکل خاموش رہیں اور اس کو غور سے سنیں تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (الاعراف: ۲۳) مخالفین و منکرین اسلام کا اس کے خلاف یہی تو رویہ تھاکہ وہ اس پر اندھے بہرے ہو کر گرے پڑتے تھے۔ (الفرقان:۷۳) اور کبھی شور مچایا کرتے تھے تاکہ وقتی طور پر غالب آجائیں ۔(حم السجدہ: ۲۶) کہنا یہ ہے کہ قرآن مجید کے مطالعہ و تلاوت کے دوران خشوع و خشیت سے لبریز ایک ایساماحول ہونا چاہئے کہ جس میں رحمت الٰہی متوجہ ہو کیوں کہ خشیت قلبی ہی اخلاص نیت اور تقویٰ کی علامت ہے اور تقویٰ جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا، ہدایت بالقرآن کی سب سے پہلی اور بنیادی شرط ہے نیز خشیت قلبی ہی قاری کے قلب میں عظمتِ قرآن کے استحضار کی کسوٹی ہے۔ در اصل خشیت ِ قلبی اور انصات  (خاموشی، بغور سماعت، لبیک کہنا)کے بغیر مطلوبہ استفادہ ناممکن ہے۔

قرآن مجید سے مطلوبہ استفادہ تدبر فی القرآن کے بغیر بھی ایک خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ خود قرآن مجید میں ارشاد ربانی موجود ہے کہ ’’یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف (اے محمد ﷺ) نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور و تدبر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔‘‘ (ص: ۲۹) تدبر فی ا لقرآن کے ذریعے ایک طالب علم اپنے ذہن کے دریچے اس کلام کو سمجھنے کے لئے کھولتا ہے تو اسے جستجوئے حق کی راہ میں مشقت کا ثواب ملتا ہے۔ مطالعہ قرآن سے ہمارا مقصد وحید یہی تو ہے کہ ہمارا رب جو اپنے کلام میں ہم سے مخاطب ہے اور اُس نے یہ کلام ہماری پوری ہدایت کے لئے ہی اتارا ہے تواس سے معلوم کریں کہ وہ دراصل ہم سے کیا چاہتا ہے؟ وہی رہنمائی ہم اس کے کلام سے حاصل کرنے کی پوری سنجیدگی اور اخلاص سے کوشش کریں۔ جو لوگ معانی کے استحضار کے بغیر اور بلاتدبر فی القرآن تلاوت قرآن کرتے ہیں ہماری حقیر رائے میں انہوں نے ثوابِ آخرت تو بھلے ہی کچھ جمع کرلیا ہو مگر اس کتاب سے وہ رہنمائی حاصل نہیں کی جس کے لئے اس کتاب کو نازل کیا گیا تھا۔ کیا تدبر فی القرآن اور ہدایت بالقرآن کی اصل و اہمیت سے کوئی مسلمان انکار کی جرأت کرسکتا ہے؟

طلبائے قرآن سے قرآن مجید کے سات مطالبات

مذکورہ بالا سات آداب و شرائط تو ہادیٔ برحق نے قارئین اور سامعین قرآن پر عائد کئے ہیں مگر قرآن حکیم سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کرنے کے لئے بھی رب العزت کے سات مطالبات ہیں جن کا استحضار و عمل اسی طرح ضروری ہے جیسا کہ آداب و شرائط کے بارے میں بتایا گیا۔ یہ سات نکات درج ذیل ہیں:

قرآن حکیم سے مطلوبہ فائدہ حاصل کرنے کے لئے قرآن کریم ہی کے سات مطالبات ہیں۔ ان میں پہلا مطالبہ یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کو اس سرچشمۂ علم و حکمت کا براہ راست فیض بلکہ اس کے محیط علم کا ہی ایک حصہ مانیں جس ذاتِ اعلیٰ ومقدس نے تمام کائنات کو وجود بخشا ہے۔ اور یہ بھی یقین ِ صادق رکھیں کہ اس قرآن کو نازل کرنے والا رب العالمین ہی نہیں بلکہ ا لرحمٰن والرحیم بھی ہے۔ وہ اپنے بندوں کی ہر حاجت سے ان سے زیادہ واقف ہے اور ان کی حاجات کی بہترین ادائیگی وہی کرسکتا ہے کیونکہ اس کے خزانوں کی کوئی انتہااور شمار نہیں اوروہ تو چاہتا ہی یہ ہے کہ اس کے بندے اس سے مانگیں اور خوب مانگیں۔ اُس نے اپنے اسی کلام میں فرمایا ہے:  ’’تمہارے رب نے فرمایا ہے کہ تم مجھ سے مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔‘‘ (غافر: ۶۰)

بہرحال اس نے ہماری سب سے بڑی حاجت یعنی ہدایتِ صراط مستقیم کی فطری تمنا کو الفاظ کا جامہ پہنا کر ہمیں دعا مانگنے کا سلیقہ بھی سکھایا اور اس دعا کا جواب پورے قرآن میں نازل کردیا، یہی ہمارا ایمان ہے۔ یہ یقین ہی ہماری ہدایت کی کنجی ہے۔ ہمارا یقین یہ بھی ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہمارے ہر مسئلہ کا حل بتایا ہے۔ بلکہ قیامت تک تمام انسانوں کے جملہ بنیادی مسائل کا حل اسی کتاب الٰہی میں موجود ہے۔ اس قرآن سے مطلوبہ استفادہ کیلئے سورہ الحجرات کی آیت ایک کسوٹی فراہم کرتی ہے۔اور وہ یہ کہ: ’’مومن تو در اصل وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر سچا ایمان لائے اور پھر اس میں شک نہیں کیا اور اللہ کی راہ میں اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کیا، یہی لوگ (دعویٔ ایمان میں) سچے ہیں۔‘‘ (الحجرات:۱۵) قرآن مجید سے مطلوبہ اور خاطر خواہ استفادہ کیلئے ایسا ایمان بالقرآن مطلوب ہے جس میں شک و ریب کا شائبہ تک نہ ہو۔

تلاوتِ قرآن باللسان و تلاوت بالمعانی

قرآن مجید کو معانی کے ساتھ پڑھنے والا خود بخود یہ سمجھ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تلاوت کتاب کا کیا مطلب ہے۔ مثلاً قرآن کریم میں دسیوں مقامات پر ’’اُتْلُ‘‘ کا کلمہ استعمال کیا گیا ہے اور اکثر و بیشتر جگہوں پر اس سے مراد صرف ذاتی طور پر یا تنہائی میں پڑھنا مراد نہیں ہے، بلکہ لوگوں کے سامنے کلام اللہ کی تلاوت و ا شاعت مراد ہے، یہ تلاوتِ قرآن علی الناس ہے۔ اسی لئے ہم نے اس نکتہ کو تلاوت باللسان کا عنوان دیا ہے۔ جیسے یہ ارشاد گرامی کہ اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ یعنی ’’آپ ﷺ پر کتاب میں سے جو وحی کی گئی ہے اسے پڑھ کر سنائیں۔‘‘ اس لحاظ سے دیکھیں تو حضور نبی اکرم ﷺ کے منصب نبوت کی چار بنیادی ذمہ داریوں میں سے سب سے پہلی ذمہ داری تلاوتِ کتاب تھی اور اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ تھا کہ آپؐ لوگوں کے سامنے کلام اللہ کی آیات کی تلاوت کریں یعنی قرآن مجید کو بلا کم و کاست لوگوں تک پہنچائیں۔ ہم بحیثیت افراد امت مسلمہ اسی کام کے مکلف اور ذمہ دار ہیں لہٰذاتلاوتِ قرآن کی ذمہ داری اب ہماری طرف منتقل ہوچکی ہے۔ قرآن مجید میں ت ل و کے مادہ سے باسٹھ کلمات موجود ہیں۔ ان میں بیشتر (انسٹھ) میں تلاوت کا صلہ علیٰ کے ساتھ آیا ہے یعنی لوگوں پر اس کلام کی تلاوت ہوگی۔ بد قسمتی سے امت کی اکثریت تنہائی میں کلام اللہ کے پڑھنے کو ہی تلاوت قرآن سمجھتی ہے اور اگر اس میں مزید یہ اضافہ کردیا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ طوطے کی طرح معانی کو بلا سمجھے ہوئے زبان سے چند کلمات کا نکال دینا ہی امت کے سوادِ اعظم کے نزدیک ’’تلاوتِ قرآن‘‘ ہے۔ یاد رہے کہ قرآنی کلمات کی ادائیگی ا ور آیاتِ الٰہی کی قرأت و ترتیل سے ملنے والے ثواب و برکات سے انکار تو ہمارے نزدیک بھی غلط ہے لیکن یہاں تلاوت کے مروّج اور غلط طریقہ کی نفی بھی مقصود ہے ۔ یاد رہے کہ یہاں موضوع بحث قرآن کریم سے مطلوبہ استفادہ کے آداب و شرائط ہیں۔

تَعَلَّمُ الْقُرْاٰنَ کی شعوری کوشش

اس عنوان سے مراد یہ ہے کہ قرآن مجید کا علم حاصل کرنا اور سکھانا بھی اسی کلام اللہ کا ایک اہم مطالبہ ہے۔ قرآن مجید میں حضور نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب نبوت کی چار بنیادی ذمہ داریوں کا ذکر کیا گیا اور چار بار آپ ﷺ کی اس ذمہ دار ی کا ذکر و اعادہ کیا گیا ہے وہ مقامات ہیں : البقرہ: ۱۲۹؛ ۱۵۱؛ آل عمران: ۱۶۴؛ الجمعہ:۲۔ ا ور وہ چار ذمہ داریاں اس طرح ہیں: تلاوتِ آیاتِ قرآنی، تعلیم کتابِ الٰہی، تعلیم ِ حکمت ِ قرآن اور تزکیۂ نفوس۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی بھی ہے کہ ’تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن مجید سیکھے اور سکھائے‘ لہٰذا قرآن مجید کو سیکھنے کی خصوصی کوشش کرنا امت مسلمہ کے ہر فرد کی انفرادی ذمہ داری ہے۔ تلاوتِ قرآن اور تعلّم قرآن میں ایک موٹا سا فرق یہ ہے کہ تلاوت قرآن میں معانی کے استحضار کے ساتھ کسی ترتیب سے قرآن کو پڑھنا مراد ہے جب کہ تعلّم القرآن میں کسی خاص موضوع قرآن اور اس کی آیات کو سمجھنے اور ان کی تفصیلات میں جانے سے تعلق مراد ہوتا ہے۔ مزید برآں تلاوتِ قرآن میں قرآنی آیات کا ایک سادہ سا بیانیہ (narration) پیش کیا جاتا ہے جو مخاطبین تک پہنچانا ہوتا ہے۔ دراصل وہاں مخاطب کی رعایت سے بات کی جاتی ہے کیوں کہ اُس کے پاس سننے کو زیادہ وقت نہیں ہے لہٰذا متکلم اپنی بات سادہ انداز میں بیان کردیتا ہے۔ علاوہ ازیں تلاوتِ آیات میں صرف یک طرفہ بات ہوسکتی ہے جب کہ معلّم اور متعلم کے  درمیان سوالات و جوابات کا بھرپور موقع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تلاوتِ قرآن کسی خاص سورہ و مجموعہ آیات کی ہوتی ہے۔ تعلّم قرآن میں معلّمِ قرآن زیر بحث موضوع کے مختلف پہلوؤں کو لے سکتا ہے۔ اس طرح،  تلاوتِ قرآن اور تعلیم قرآن دونوں کی الگ اور علاحدہ افادیت ہے اور دونوں کی اپنی جگہ بہت اہمیت ہے۔ (آئندہ ہفتے ملاحظہ کیجئے: حکمت قرآن کی جستجو بذریعہ تدبر قرآن) (بحوالہ:ماہنامہ زندگی نو)

11 دسمبر 2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

Part: 1- The Holy Qur'an Is The Greatest Divine Blessing Of God قرآن کریم کائنات کی عظیم ترین نعمت ِ الٰہی نیز زندہ و جاوید اور دائمی معجزۂ خداوندی ہے

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/prof-syed-masood-ahmed/taqwa-is-the-first-and-foremost-condition-of-guidance-from-the-quran-تقویٰ--ہدایت-بالقرآن-کی-سب-سے-پہلی-اور-بنیادی-شرط-ہے/d/123780


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..