New Age Islam
Sat May 02 2026, 04:03 AM

Urdu Section ( 3 Jan 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Emphasis on Politics for Secularism, Protection of the Constitution and Survival of Democracy سیکولرازم ، آئین کے تحفظ اور جمہوریت کی بقاء کیلئے سیاست پر زور

سعید احمد خان

1 جنوری 2024

ممبئی:مسلمانوں کی سیاسی بے وزنی کے اسباب اور اسے دور کرنے کا کیا کیا جاسکتا ہے؟ اس پر نمائندۂ انقلاب نےمختلف شعبوں کی اہم شخصیات عرفان انجینئر، غلام عارف اور جاوید آنند سے بات چیت کی۔ ایک ہفتہ قبل شرومنی اکالی دل کے سربراہ سکھ بیر سنگھ بادل نے سکھوں اور مسلمانوں کا تقابل پیش کیا تھا۔ یہ گفتگو اسی تناظر میں کی گئی ۔ عرفان انجینئر نےکہا کہ’’ اکالی دل کے سربراہ کی نشاندہی درست ہے مگر دیگر وجوہات بھی ہمارے پیش نظر رہیں۔ آزادی کے بعد سے بڑی چالاکی سے مسلسل یہ کوشش کی گئی کہ مسلمانوں کو سیاسی طور پر ختم کردیا جائے۔ رام راج کا جو خواب دیکھا گیا اس کی بنیادی شق یہی ہے کہ مسلمانوں کو سیاسی طور پر حاشیے پر ڈال دیا جائے، چنانچہ اس کی عملی صورت ہمارے سامنے ہے۔ میری نگاہ میں اس کا حل یہ ہے کہ ہماری سیاست سیکولرازم، آئین کے تحفظ اور جمہوریت کی بقاء کیلئے ہو اور پسماندہ طبقات کو جوڑ کر انہیں یہ باور کرایا جائے کہ اسی سے آپ کا مستقبل بھی محفوظ رہے گا۔‘‘عرفان انجینئر کے مطابق حکومتوں نے جو رویہ ہمارے ساتھ اختیار وہ تو اپنی جگہ ہماری سیاست بھی دو رخ پر جاری رہی۔ ایک طبقے نے مذہبی معاملے میں شدت اختیار کی اور اس کو بنیاد بنایا ، دوسرے طبقے نے مذہب کو بنیاد تو نہیں بنایا مگر دیگر پسماندہ طبقات کے مسائل اس کی سیاست کا حصہ نہ رہے ، چنانچہ وہ ہم سے دور ہوتے گئے اور مسلم مخالف طاقتوں نے ان کو مزید دور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ایسا لگتا ہے کہ سیکولر ازم محض مسلمانوں کی ضرورت ہے اس لئے ہمیں اپنی سیاست میں پسماندہ طبقات کے مسائل کو بھی موضوع‌ بنانا ہوگا ۔ دوسرے یہ کہ ملک میں تقریبا ۹۰؍سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمان ۲۰؍تا ۳۰؍ فیصد ہیں  بلکہ کہیں اس سے بھی زائد ہیں ، پھر بھی نقصان ہمارا ہی ہوتا ہے، اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘‘

سماجی خدمت گار جاوید آنند نے کہا کہ’’ سکھوں اور مسلمانوں میں کئی فرق ہیں پھر بھی سکھ بیر بادل کی رائے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس جمہوری ملک میں ہم نے جمہوری انداز کی سیاست نہیں اپنائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پسماندہ طبقات کو فرقہ پرست طاقتوں نے ہمارا دشمن بنا کر پیش کیا اور بار بار ہم سے بدظن کیا جس کا اثر یہ ہوا کہ پسماندہ طبقات مسلمانوں سے دور ہوتے گئے۔ موجودہ وقت میں حکمراں جماعت اور آر ایس ایس کی جانب سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ پسماندہ طبقات کو پوری طرح اپنا ہمنوا بنا لیا جائے ۔ ایسے میں ملک کے کمزور طبقات کو یہ باور کرانا ہوگا کہ ہم ان کی آواز بننے کی عملی کوشش کر رہے ہیں ۔ اسی کے ساتھ اپنی شدت پسندی اور جذباتیت سے گریز کرتے ہوئے حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور اس سلسلےمیں ماضی میں جو غلطیاں ہوئیں ان سے سبق سیکھنا ہوگا۔ یہی ہماری سیاسی بے وزنی کا حل ہے۔ اس کے علا وہ جس طرح دیگر طبقات سے مسلمانوں کو برگشتہ کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے، اس پر نگاہ رکھتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھنی ہوگی، نہ تو ہمیں مایوس ہونا ہے اور نہ ہی خوفزدہ ہونا ہے۔‘‘

 غلام عارف نے کہا کہ ’’سکھ بیر بادل نے جو کچھ کہا اس سے قطع نظر کچھ اور بھی توجہ طلب امور ہیں اور میں ۵؍نکات پر توجہ دلانا چاہتا ہوں ۔ سب سے اہم یہ کہ ہمیں جذباتیت سے گریز کرنا ہوگا۔ دوسرے یہ کہ ہمارے یہاں نظریات کی سطح پر اور نئے بیانیوں کی ترتیب پر کام بہت کم ہو رہا ہے۔ جو ہورہا ہے اس کی کوالیٹی اطمینان بخش نہیں ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ آج دنیا میں ڈیٹا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ۔ کمیونٹی کی سطح پر ڈیٹا کے حصول کیلئے ریسرچ اور اس کے موثر استعمال جیسے اہم نکتے پر ہماری کتاب بالکل کوری ہے۔ تیسرے سیاست مجموعی طور پر محض الیکشن کی سیاست ہی کا نام نہیں ہے۔ موثر غیر حکومتی اداروں اور `لابی کی سیاست پر بھی کام کی ضرورت ہے ‌ چوتھے سیاسی بے وزنی کو فوری طور پر ختم کرنے کا کوئی جادوئی حل کسی کے پاس نہیں ۔ اس کے لئے نوجوانوں میں سیاسی اور سماجی لیڈرشپ کے فروغ کے باقاعدہ تربیتی اداروں کا قیام ضروری ہے جہاں سے ہر سال مقررہ تعداد میں مسلم نوجوان مختلف سیاسی اور غیر سیاسی اداروں میں جاکر رول ادا کریں اور پانچویں آئندہ الیکشن میں ٹارگیٹ مقرر کئے جائیں ۔ مثال کے طور پر کسی علاقے کا عمومی ووٹنگ ۵۵؍فیصد ہو تو ہمارا کم از کم۷۵؍ فیصد ہونا چاہئے ۔ یہ کام محنت طلب لیکن بہت اہم ہے اور ناممکن بھی نہیں ہے۔ ‘‘

1 جنوری 2024، بشکریہ: انقلاب، ممبئی

-------------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/politics-secularism-constitution-democracy/d/131443

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..