New Age Islam
Mon May 23 2022, 10:43 AM

Urdu Section ( 28 Nov 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Non-Muslim Poets and Naat of the Prophet PBUH Part-1 غیر مسلم شعرا اور نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم

فاروق ارگلی

قسط۔اوّل

19 نومبر،2021

فخر موجودات ، محسن انسانیت ، پیغمبر آخر الزماں ، سید الانبیاء ، سرور عالم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے محبت اور عقیدت ہر مسلمان کا سرمایہ ایمان ہے اس ذات اقدس کی عظمت ورفعت کا کیا ٹھکانہ جس کی شان میں خود خالق کائنات اللہ رب العزت نے فرما دیا ہو کہ ’’ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘۔توحید ورسالت پر ایمان رکھنے والے ہر عورت ومرد کے لئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت جزوایمان اور دنیا وآخرت میں وسیلہ نجات ہے۔ ظہور اسلام سے ہی مسلمانوں نے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار مختلف طریقوں سے کرنا شروع کردیا تھا، شعراء نے اپنے ہادی برحق کی مدح میں شعر وسخن کے چراغ روشن کیے صحابی رسول حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے آقائے نامدار کی شان میں جو سخن آرائی کی وہ نعت گوئی کی اساس بن گئی، عربی زبان کے شعراء نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی مدحیہ قصائد تخلیق کرکے عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ جذبات کی ترجمانی کی۔اسلام کی ضیاباریوں سے جب عالم عجم روشن ہوا تو فارسی زبان میں نعت گوئی شعرائے اسلام کے لیے سب سے مقدس اور بابرکت مشغلہ بن گئی چنانچہ عربی و فارسی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت میں شاعری کا جو عظیم سرمایہ موجود ہے اس کی مثال دنیا کی کسی ترقی یافتہ زبان میں تلاش نہیں کی جاسکتی جہاں کسی قوم نے اپنے کسی مذہبی پیشوا کی تعریف و توصیف میں اس طرح والہانہ عقیدت کا اظہار کیا ہو۔

یہ تاریخی صداقت ہے کہ گزشتہ 1400 برسوں سے آفتاب توحید ورسالت کی ضیا پائیاں جس دنیا کے جس گوشے میں بھی پہنچیں محسن انسانیت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں بھی انسانی دلوں کو مسخر و منور کیا۔ معاشرہ ، تہذیبوں اور ان علاقوں کی زبان و ادب پر بھی اسلامی انقلاب کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ عشق الہٰی اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم یعنی اصناف حمد و نعت وہاں کے ادب اور شاعری کی روح بن گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر وشرک ، توہمات او رغیر انسانی طرز حیات کو امن و آشتی ، اخوت و مساوات اور شائستہ ترین انسانی اقدار میں بدل دیا، تاریکی میں بھٹکتی ہوئی انسانیت کو فلاح و سکون کی روشنی ملی تو اپنے محسن اعظم کے لئے محبتوں کے جذبات کا اُمڈنا قدرتی امر تھا۔

ہندوستان میں اسلام کی آمد کے ساتھ ہی بزرگان دین اور صوفیائے کرام نے توحید ورسالت اور حقانیت و روحانیت کاپیغام عام لوگوں تک پہنچا نے کیلئے مقامی بولیوں اور زبانوں میں شعر و سخن کو وسیلہ بنانا شروع کیا تھا۔ہندوستان کی گزشتہ ایک ہزار سالہ لسانی تاریخ میں اس عہد کی عوامی بولیوں میں ان بزرگوں کی روحانی و اخلاقی تعلیمات سے لبریز شاعری کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے ، جس میں اللہ کی عظمت اور بزرگی نیز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور ان کی تعریف و توصیف کی گئی ہے۔ عربی، ایرانی ، ترکی اور ہندوستانی تہذیبوں کے اتصال و امتزاج سے اردو زبان وجود میں آئی اور چند صدیوں میں ہی یہ زبان سرزمین برصغیر میں اظہار و ابلاغ کی سب سے بڑی زبان بن گئی ۔ اردو زبان کی نشو ونما اس ملک کی گنگا جمنی یعنی ملی جلی تہذیب سے ہوا اس لیے یہ شیرینی ، جاذبیت ، قوت اثر، انسانی اور اخلاقی اقدار اور دلوں کو جوڑ نے والی خصوصیت سے آراستہ ہوئی ۔ اردو نے ہی اس ملک کی مذہبی ، سماجی، لسانی اور علاقائی کثرت کو وحدت میں تبدیل کیا، اردو کے ذریعے ہی اسلام کی انقلابی تعلیمات او راعلیٰ انسانی قدروں نے ہندوستان کو ایک نئے تصور حیات سے آشنا کیا۔ یہاں آکر بس جانے والے اور اسلام کے دامنِ رحمت میں آنے والے اور اسلام کے دامن رحمت میں آنے والے ملکی مسلمانوں نے زندگی کے ہر شعبے کی طرح علم و حکمت اور شعرو ادب کے گرانقدر خزانوں سے بھی ہندوستان کی دھرتی کو مالا مال کیا۔ مسلمان شعراء نے اپنی مذہبی جذبات کے تحت عشق الہٰی اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا والہانہ اظہار حمد ونعت کی صورت میں کیا تو محبت و یگانگت کی زبان اردو کے غیر مسلم شعراء بھی نبی رحمت کی تعلیمات اور ان کی پاکیزہ صفات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اگر اردو ادب کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو جملہ اصناف سخن اور موضوعات میں توحید و رسالت کی عظمت و حقانیت ہر جگہ نمایاں ہے اور اس تخلیقی عمل میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو و سکھ اردو علماء ، دانشور ، ادبا اور شعراء بھی رطب اللسان نظر آتے ہیں ۔ ختمی مرتبت حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و تعلیمات نے کس طرح ہندوستان کے اہل دل باشندوں کو متاثر کیا اس کی مثال عہد بابری کے عظیم صوفی اور سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرو نانک صاحب کی ’ جنم ساکھی‘ میں درج ان کا نعتیہ کلام ہے:

اٹھتے پہر بھوندا پھرے ، گھاؤن سنگڑے شول

دوزخ پوندا کیوں رہے جاں چت نہ ہوئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم

( وہ آٹھواں پہر بھٹکتا پھرے او راس کے سینے میں درد کے کانٹے چبھتے رہیں، وہ دوزخ میں کیوں نہ پڑے جب کہ اس کے دل میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت نہ ہو)

’م‘ محمد سمن توں، منّ کتاباں چار

منّ خدا ئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم توں ،سچا ایہی دربار

(تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مان اور چاروں کتابوں توریت، زبور، انجیل اورقرآن ) کو بھی مان ،تو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم (دونوں کو) مان کیونکہ خدا کا دربار سجا ہے(جنم ساکھی)

حمدو نعت کا موضوع مسلمانوں کے مذہب اور عقیدے کی جان ہے، لیکن اسے آنحضرت کی ذات اقدس کی خصوصیات اور آپ کی تعلیمات کا اعجازہی کہنا چاہئے کہ آپ کی تعریف و توصیف میں غیر مسلم ادیبوں اور شاعروں نے بھی اپنی نگارشوں کے گلستان سجائے ہیں۔ ہم اسے اردو زبان کی دل پذیری ، ہمہ گیری اور شیرینی کا کرشمہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جس نے ہندوستان میں مذہبی رواداری ، فراخ دلی اور باہمی اخوت و محبت کاایسا ماحول پیدا کیا جس میں ایک دوسرے کے جذبات کااحترام طرز زندگی بن گیا۔ خود غرض اور مفاد پرست سیاست کی پیدا کی گئی عصبیت ، فرقہ وارانہ منافرت اور اس کے نتیجے میں انسانیت کش فسادات آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل جیسی فسطائی دشمنان انسانیت دہشت گردوں کی حیوانیت اور شیطنت سے آدمیت شرمسار ہے۔ اس کے باوجود اردو زبان کا یہ قدرتی مزاج اور سیکولر کردار آج بھی زندہ و تابندہ ہے اور اردو والے خواہ مسلمان ہوں یا ہندو وہ اپنی دیرینہ روایات پر قائم ہیں۔ موجودہ وقت میں اردو کے نوجوان ہندو شعراء بھی حمد و نعت کے میدان میں محبتوں اور عقیدتوں کا اجالا پھیلا رہے ہیں۔

ہمارے ملک میں خود کو ترقی پسند، کمیونسٹ اور لامذہب ظاہر کرنے والے گمراہ قلم کاروں اور شاعروں سے قطع نظر شاید ہی کوئی اہل دل مسلمان یا ہندوشاعر ایسا ہو کہ جس نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا ہو۔

نمونہ کچھ نامور ہندوشاعروں کا نعتیہ کلام پیش ہے:

ابر جموہن دتا تر یہ کیفی دہلوی:

ہوشوق کیوں نہ نعت رسول دوسرا کا

مضمون ہو عیاں دل میں جو لولاک لما کا

تھی بعثت رسول خدا وند کو منظور

تھا پھل وہ بشارت کا نتیجہ تھا دعا کا

پہنچا یا ہے کس اوج سعادت پہ جہاں کو

پھر رتبہ ہوکم عرش سے کیوں غار حرا کا

معراج ہومومن کی نہ کیوں اس کی زیارت

ہے خلد بریں روضۂ پرنور کا خاکا

دے علم ویقیں کو مرے رفعت شہ عالم

نام اونچا ہے جس طرح صفا اور حرا کا

یوں روشنی ایمان کی دے دل میں کہ جیسے

بطحا سے ہوا جلوہ وفگن نور خدا کا

ہے حامی وناصر جو مراشافعِ عالم

کیفی مجھے اب خوف ہے کیا روز جزا کا

۔۔۔۔

پروفیسر جگن ناتھ آزاد:

سلام اس ذات اقدس پر سلام اس فخر دوراں پر

ہزاروں جس کے احسانات میں دنیا ئے امکاں پر

سلام اس پر جو آیا رحمۃ للعالمین بن کر

پیام دوست بن کر صادق الوعددامن بن کر

سلام ا پر جلائی شمع عرفاں جس نے سینوں میں

کیا حق کے لئے بے تاب سجدوں کو جبینوں میں

سلام اس پر بنا یا جس نے دیوانوں کو فرزانہ

نئے حکمت کاچھلکا یا جہاں میں نے جس نے پیمانہ

بڑے چھوٹے میں جس نے اک اخوت کی بنا ڈالی

زمانے سے تمیز بندہ وآقا مٹاڈالی

سلام اس پر فقیری میں نہاں تھی جس کی سلطانی

رہا زیر قدم جس کے شکوہ فرخاقانی

سلام اس پر جو ہے آسودہ زیر گنبد خضرا

زمانہ آج بھی ہے کے در پر ناصیہ فرسا

سلام اس ذات اقدس پر حیات جادوانی کا

سلام آزاد کا آزاد کی رنگین بیانی کا

۔۔۔۔۔۔۔

مہاراجہ سرکشن پرشاد شاد:

کان عرب سے لعل نکل کر تاج بنا سرداروں کا

نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنا رکھا سلطان بنا سرداروں کا

باندھ کے سرپر سبز عمامہ کاندھے پر رکھ کر کالی کملی

ساری خدائی اپنی کرلی ، مختار بنا دلداروں کا

تیرا چرچا گھر گھر ہے، وہ جلوہ دل کے اندر ہے

ذکر ترا ہے لب پر جاری دلدار بنا دلداروں کا

روپ ہے میرارتی رتی ، نور ہے تیرا پتی پتی

مہر و مہہ کو تجھ سے رونق ، نور بنا سیاروں کا

ابوبکرؓ و عمرؓ عمانؓ وعلی، چاروں تھے عناصر ملت کے

کثرت وحدت میں جیسے حال وہ تھا ان چاروں کا

کسب تجلی کرتے ہیں چاروں مہر نبوت سے

بخت رسا تھا برجِ شرف میں تیرے چاروں یاروں کا

بادہ عرفاں ملتا ہے ساقی کے میخانے سے

شاد مقدر فضل خدا سے جاگا اب میخواروں کا

۔۔۔۔۔۔

منشی درگا سہائے سرور جہاں آبادی:

دل بے تاب کو سینے سے لگالے آجا

کہ سنبھلتا نہیں کمبخت سنبھالے آجا

پاؤں ہیں طول شب غم نے نکالے آجا

خواب میںزلف کو مکھڑے سے لگا لے آجا

بے نقاب آج تو اے گیسوؤں والے آجا

نہیں خورشید کو ملتا ترے سائے کا پتہ

کہ بنا نور ازل سے ہے سراپا تیرا

اللہ اللہ تیرے چاند سے مکھڑے کی ضیا

کون ہے ماہِ عرب کون ہے محبوب خدا

اے دوعالم کے حسینوں سے نرالے آجا

دل ہی دل میں مرے ارمان کھلے جاتے ہیں

خاک پر گر کے ذرا شک رُلے جاتے ہیں

میری رسوائی سے کمبخت تلے جاتے ہیں

ہوں سیہ کار مرے عیب کھلے جاتے ہیں

کملی والے مجھے کملی میں چھپا لے آجا

ہائے داماند کی وسعت دامان صراط

المدد المدد اے خضر بیابان صراط

ہر قدم پرنگہ یاس ہے یاران صراط

دیکھتے ہیں تجھے مڑ مڑ کے ضعیفان صراط

ڈگمگا تے ہیں قدم کون سنبھالے آجا

کان میں کچھ جو ادھرعذر نزاکت نے کہا

مرحبا پڑھ کے ادھر شاہد وحدت نے کہا

آبلائیں تری لوں جو ش محبت نے کہا

پہنچا محبوب تو مشاطۂ قدرت نے کہا

خلوت راز میں اسے ناز کے پالے آجا

۔۔۔۔۔۔۔۔

ادلّو رام کوثری:

عظیم الشان ہے شان محمد صلی اللہ علیہ وسلم

خدا ہے مرتبہ دان محمد صلی اللہ علیہ وسلم

کتب خانے کیے منسوخ سارے

کتاب حق ہے قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم

شریعت اور طریقت اور حقیقت

یہ تینوں ہیں کنیزان محمد صلی اللہ علیہ وسلم

فرشتے بھی یہ کہتے ہیں کہ ہم ہیں

غلامان ِ غلامانِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

نبی کا نطق ہے نطق الہٰی

کلام حق ہے فرمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم

ابوبکرؓ وعمرؓ ، عثمانؓ وحیدرؓ

یہی ہیں چاریاران محمد صلی اللہ علیہ وسلم

علیؓ ان میں وصی مصطفی ہے

علیؓ ہے رنگ بستان محمد صلی اللہ علیہ وسلم

علیؓ فاطمہؓ شبیر و شبر

بساان سے گلستان محمد صلی اللہ علیہ وسلم

خدا کا نور ہے نور پیمبر

خدا کی شان ہے نور محمد صلی اللہ علیہ وسلم

بتاؤں کوثری کیا شغل اپنا

میں ہو ہردم ثناخوان محمد صلی اللہ علیہ وسلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پنڈت ہری چند اختر:

کس نے ذرّوں کو اٹھایا اور صحرا کردیا

کس نے قطروں کو ملایا اور دریا کردیا

آدمیّت کا غرض ساماں مہیا کردیا

اک عرب نے آدمی کابول بالا کردیا

زندہ ہوجاتے ہیں جو مرتے ہیں اس کے نام پر

اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کردیا

کس کی حکمت نے یتیموں کو کیا درّ یتیم

اور غلاموں کو زمانے بھر کامولا کردیا

سات پردو ں میں چھپا بیٹھا تھا حسن کائنات

اب کسی نے اس کو عالم آشکارا کردیا

کہہ دیا لاتقنطو ا اختر کسی نے کان میں

اور دل کو سربسر محو تمنا کردیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاوید وششٹ:

اک برہمن ہند تجھے پیا رکر ے ہے

چوٹی سے ہمالہ کی نمسکار کرے ہے

جو برہم کو جانے اسے کہتے ہیں برہمن

کچھ جان کے اپنا مجھے آدھار کرے ہے

کاشی میں بھی کعبے کی زیارت اسے حاصل

تیری ہی محبت یہ چمتکار کرے ہے

ہے دھیان میں اس کے شب معراج کا منظر

وہ موند کے آنکھیں ترادید ار کرے ہے

محرم ہے ترے فیض سے توحید خدا کا

کثرت کے ہر ایک رنگ کا ستکار کرے ہے

ہے عرش بریں تیرے لیے صاحب لولاک

قرآں تری عظمت ہی کا اظہار کرے ہے

عرفانِ نظر تجھ سے ملا احمد صلی اللہ علیہ وسلم بے میم!

کثرت اسی وحدت کی ہی تکرار کرے ہے

تو صاحب یٰسین تو ہی صاحب طٰہٰ

قرآن ہے شاید کہ خدا پیار کرے ہے

بے تیغ وسناں ایک فقط کلمۂ حق سے

تو قیصر وکسریٰ کو نگوں سار کرے ہے

ہے غار حرا نور عبادت سے منور

فاراں کی سحر نور کا اقرار کرے ہے

رحمت ہے دوعالم کے لئے تیری تجلّی

تجھ پر ہی بھروسا یہ گنہگار کرے ہے

ہے او رہی عالم میں تراعاشق جاوید

تیری محبت ہے جو سرشار کرے ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محسن انسانیت رحمت عالم حضرت محمد مصطفی  صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے عشق کے ولولے میں یہ شعر کہنے والا شاعر کوئی او رنہیں اردو زبان ، ادب اور تہذیب کی نمایاں شخصیت ،عالمی شہرت یافتہ آنجہانی کنور مہندر سنگھ بیدی سحر تھے ۔ بیسویں صدی میں برصغیر ہندو پاک کے اردو منظر نامے پر بیدی صاحب کا نام ہمیشہ ممتاز و مفتخر رہے گا۔تقسیم کا ہاتھوں اُجڑی ہوئی اردو کی راجدھانی دلّی کے ایوان شعر وسخن کو پھر سے آباد کرنے اور سجانے میں ان کا تاریخ ساز کردار اردو دنیا کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ آزادی کے بعد شکستگی اور مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی اردو زبان کو اپنی سرگرم ہمہ جہت شخصیت، بے پناہ علمی و سماجی بصیرت اور شعر ادب کی بے پناہ صلاحیت کے ساتھ سنبھالا دیتے ہوئے وہ ہندوستانی اردو ادیبوں اور شاعروںکے سرداربن گئے۔ آزادی کے بعد برصغیر ہندو پاک ہی نہیں دیار غیر میں بھی اردو کی بزم آرائیاں اور پر شکوہ مشاعرے کنور صاحب کی شرکت، قیادت اور نظامت کے بغیر نا مکمل سمجھے جانے لگے۔ گزشتہ بیسویں صدی کی آخری پانچ دہائیوں میں اردو زبان ، ادب اور تہذیب کے محافظوں کی اگلی صف میں نمایا ں رہے ۔ کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کی غزلیہ شاعری اپنی برجستگی ، حسن بیان اور روایتی شائستگی و پاکیزہ خیالی آرائی کے لئے مشہور ومقبول ہے۔

کنور صاحب کا نسبی تعلق حضرت بابا گرونانک سے ہے۔ ان کا جنم غیر منقسم پنجاب کے شہر مننگمری(اب ساہیسوال) میں 9 مارچ 1901 ء کو ہوا ۔ انہوں نے 1926 ء کو گورنمنٹ کالج سے بی اے کی سند حاصل کی۔ ان کا خاندان مذہبی، سماجی، اقتصادی طور پر پورے پنجاب میں مؤقر اور معزز تھا۔اس زمانہ کے دستور کے مطابق ان کی بنیادی تعلیم اردو و فارسی میںہی ہوئی۔ مطالعہ کا شوق بچپن میں تھا۔ کالج کے زمانہ سے ہی شاعری کا شوق ہوگیا 1923ء میں جب وہ فرسٹ ایئر میں تھے پہلی غزل کہی۔ اس کے بعد مشق سخن کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ مشاعرہ میں وہ کسی کے شاگرد نہیں بنے البتہ 1934 ء میں سرکاری ملازمت میں بطورمجسٹریٹ آنے کے بعد وہ دہلی کے قریب سونی پت میں تعینات ہوئے تو دہلی سے رشتہ استوار ہوا نواب سائل دہلوی، بیخود دہلوی، امرناتھ ساحر دہلوی، جوش ملیح آبادی ، پنڈت ہری چند اختر اور جگر مرادآبادی جیسے عظیم المرتبت شاعروں سے نزدیکیاں بڑھیں تو ان کی شاعری اور فکر کوبھرپور روشنی ملی۔ ان کی غزلیہ شاعری میں جگر مرادآبادی اور حسرت موہانی وغیرہ کا رنگ و آہنگ ہے۔ شخصی طور پر کنور صاحب انتہائی کشادہ دل ،بامروّت ، خوش مزاج او راعلیٰ انسانی قدروں میں یقین وایمان رکھنے والے انسان تھے مذہبی تنگ نظری سے وہ بہت دور تھے۔ انہوں نے 1947ء کی قیامت صغریٰ میں جب دہلی اور مشرقی پنجاب میں ان کی ہی قوم نے مسلمانوں کے ساتھ سب سے زیادہ مظالم ڈھائے تھے، کنور صاحب اپنے اعلیٰ سرکاری عہد ے کی مدد سے پوری قوت کے ساتھ مسلمانوں کی حفاظت میں لگے رہے۔انہوں نے پنجاب اور خاص طور پر دہلی میں ہزاروں مسلمانوں کی جانیں بچائیں۔ کنور صاحب نے زندگی کے ہر موڑ پر عملی طور پر ثابت کیا کہ وہ مشترکہ گنگا جمنی تہذیب اور اردو زبان و ادب کی شاندار اقدار وروایات کے امین و علمبردار ہیں۔ کنور صاحب نے اسلامی تاریخ اور دینی علوم کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ پیغمبر انسانیت حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ سے بے حد متاثر تھے، اپنے اس احساس کو شعر کے قالب میں ڈھالنے کے لیے انہوں نے حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی عقیدت و محبت سے لبریز متعدد ونعتوں کی تخلیق کی ۔ انہوں نے سرکار دوعالم  صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بے پناہ عقیدت کے اظہار میں جو مسدس کہی تھی اس کا یہ بند پوری دنیائے اردو میں پڑھنے والوں کے دلوں کو چھوگیا ، فرماتے ہیں:

ہم کسی دین کے ہوں ، صاحب کردار تو ہوں

ہم شناخوانِ شہہ حیدر کردار تو ہیں

نام لیوا نہ ہو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پرستارتو ہیں

لیکن مجبور پئے احمد مختار تو ہیں

عشق ہوجائے کسی سے کوئی چارہ تو نہیں

صرف مسلم کا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ اجارہ تو نہیں

کنور صاحب کی یہ نعت آج بھی ہزاروں گھروں میں عقیدت و محبت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے:

تکمیل معرفت ہے محبت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی

ہے بندگی خدا کی امانت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی

تسکین دل ہے سرور کون و مکاں کی یاد

سرمایہ حیات ہے الفت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی

انسانیت محبت باہم شعور فکر

جو چیز بھی ہے سب سے عنایت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی

ہے مرتبہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کا بالائے فہم وعقل

معلوم ہے خدا کو ہی عزت  رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی

ترتیب دی گئی شب اسریٰ کی خلوتیں

صلی علیٰ یہ شان یہ عظمت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی

اتنی سی آرزو ہے بس اے رب  دو جہاں

دل میں رہے سحر کے محبت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کی

(جاری)

19 نومبر،2021 ، بشکریہ: روز نامہ چٹان ، سری نگر

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/non-muslim-poets-prophet-pbuh-part-1/d/125859

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..