New Age Islam
Fri May 20 2022, 09:32 AM

Urdu Section ( 4 Feb 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why Is Iran Afraid Of Its Women Who Fight For Human Rights Including Rights Of Women? ایران اپنے ہی ملک کی ان خواتین سے خوفزدہ کیوں ہے جو خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کے لیے لڑتی ہیں؟

بہت سے مسلم ممالک انسانی حقوق کے کارکنوں پر ظلم کرتے ہیں حالانکہ وہ جمہوری اقدار کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہیں۔

 اہم نکات :

ایران میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو ستانے کی ایک طویل تاریخ ہے۔

نرگس محمدی کو 8 سال قید اور 70 کوڑوں کی سزا سنائی گئی ہے۔

اس سے قبل وہ پانچ سال کی سزا کاٹ چکی ہیں۔

ایران میں حکام نے متعدد ایرانی انسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کرکے جیل بھیجا ہے۔

 ----

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

 29 جنوری 2022

The UN has singled out Iran for discrimination against women, so why is it elected to the main UN body dedicated to gender equality? EPA/Stefan Zaklin

-----

ایران کی ایک عدالت کی نے انسانی حقوق کی کارکن اور نوبل امن انعام یافتہ شیریں عبادی کی ساتھی نرگس محمدی کو 8 سال قید اور 70 کوڑوں کی سزا سنائی ہے جس سے ایک بار پھر ایران اور دیگر مسلم ممالک میں انسانی حقوق کے خراب ٹریک ریکارڈ کا پتہ چلتا ہے۔

نرگس محمدی کو صرف 5 منٹ کی سماعت کے بعد 8 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس سے انسانی حقوق کے مسائل سے نمٹنے میں مضحکہ خیز عدالتی عمل ظاہر ہوتا ہے۔

نرگس برسوں سے ایرانی حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی رہی ہیں کیونکہ وہ جلاوطن انسانی حقوق کی کارکن شیریں عبادی کے ساتھ کام کر رہی ہیں جن پر ایرانی حکومت نے ظلم کیا تھا۔

2016 میں، انہیں سزائے موت کے خلاف اپنے خیالات اور جیل حکام کے خلاف اپنے موقف کے اظہار کی پاداش میں 5 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ انہیں 2020 میں رہا کیا گیا تھا تاکہ انہیں دوبارہ 30 ماہ کی سزا سنائی جائے۔ اس بار انہیں نومبر 2021 کو گرفتار کیا گیا ہے۔

نرگس انسانی حقوق کے مرکز کے محافظوں کے لیے کام کرتی رہی ہیں اور ایران میں شہریوں کے انسانی حقوق اور عدالتی اصلاحات کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہیں۔

نرگس ایران کی واحد خاتون انسانی حقوق کی کارکن نہیں ہیں جنہیں انسانی حقوق اور ٹریڈ یونین کے حقوق کے حق میں بولنے یا ملک میں عدالتی اصلاحات کا مطالبہ کرنے پر ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایران میں اور بھی بہادر خواتین ہیں جنہوں نے مذہبی حکام کے خلاف کھڑے ہونے اور حکومت کی طرف سے ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج کرنے کی جرات کی ہے۔

ایسی ہی ایک اور نوجوان ایرانی انسانی حقوق کارکن صبا کورد افشاری ہیں جنہیں حجاب کے لازمی قوانین کی مخالفت کرنے اور حکومتی عہدے اور فائل میں بدعنوانی کے خلاف احتجاج کرنے پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے احتجاج کیا اور اب وہ دو الگ الگ سزاؤں میں دو سال سے زیادہ جیل میں گزار چکی ہیں۔ 2019 میں جب انہوں نے بغیر اسکارف کے اپنی ایک ویڈیو پوسٹ کی تو ان پر عوام میں جسم فروشی اور بے حیائی کو فروغ دینے کا الزام بھی لگا۔ انہیں گرفتار کر لیا گیا اور 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی جیلوں میں انسانی حقوق کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ اس سے ایران میں جیلوں کی خراب حالت کا پتہ چلتا ہے۔

حقوق نسواں کی ایک اور کارکن یاسمان آریانی ہیں جنہوں نے حجاب کے لازمی قوانین کی مخالفت کی اور خواتین کے حقوق کے لیے بات کرنے کے جرم میں دو سال جیل میں گزارے۔ انہیں دو مرتبہ حراست میں لیا گیا اور انہوں نے تقریباً دو سال جیل میں گزارے۔ وہ حجاب اور کرپشن کے خلاف احتجاج میں بھی شریک تھیں۔ انہیں 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور 2019 میں رہا کر دیا گیا تھا۔ لیکن قید و بند کی صعوبتیں بھی ان کے اندر خواتین کے حقوق کے لیے لڑنے کے عزم کو کمزور نہیں کر سکیں۔ 2019 میں، یوم حقوق نسواں کے موقع پر آریانی اور ان کی والدہ نے حجاب کے لازمی قوانین کے خلاف مزاحمت کو فروغ دینے کے لیے ایران کی میٹرو میں خواتین کو پھول پیش کیے۔ اس عمل نے انہیں اور ان کی والدہ کو حکومت کے عتاب کا شکار بنا دیا اور انہیں اور ان کی والدہ کو 16 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بعد ازاں آرین کی سزا کم کر کے نو سال چھ ماہ کر دی گئی۔ تب سے وہ جیل میں ہیں۔ یہ ایک جدید معاشرے میں ناقابل تصور ہے جہاں صرف حجاب کے قوانین کے خلاف احتجاج کرنے پر 16 سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

Tehran, Iran, April 2017 © Grigvovan/Women’s Rights in Iran

----

ایسی ہی حقوق نسواں کی ایک اور کارکن عتینا دائمی ہیں جنہیں ایران کے مذہبی حکام کے عتاب کا شکار ہونا پڑا جو خواتین کو شریعت کے عطا کردہ حقوق سے محروم کرتے ہیں۔ قدامت پسند مذہبی قیادت ہمیشہ ان خواتین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتی ہے جو خواتین کی ہراسانی اور ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھاتی ہے۔

عتینا بچوں کے حقوق کے لیے لڑتی ہیں اور سزائے موت کی مخالفت کرتی ہیں۔ 2014 میں انہیں قیدیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے اور قیدیوں کی حالت زار کو عام کرنے کے جرم میں، جس پر جیل حکام کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، گرفتار کر لیا گیا تھا کیونکہ ایران میں جیلوں کی حالت انتہائی خستہ ہے اور ان جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ انہیں گرفتار کر کے قید تنہائی میں رکھا گیا۔ انہیں 14 سال کی سزا سنائی گئی تھی لیکن بعد میں یہ سزا کم کر کے سات سال کر دی گئی۔ جیل حکام نے جیل میں ان پر جسمانی تشدد کیا۔ جب ان کی دو بہنوں نے عدالت میں تشدد کی شکایت کی تو انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔ دائمی نے ان کی گرفتاری کے خلاف بھوک ہڑتال کی۔ جیل میں اس کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک کیے گئے اس کی وجہ سے ان کی صحت میں سنگین مسائل پیدا ہو گئے مثلا جلد کی بیماریاں، بینائی کا جانا اور پیٹ کے مسائل پیدا ہونا۔

سپیدہ قلیان بھی ایسی ہی ایک حقوق نسواں کی کارکن ہیں جن سے ایرانی حکومت خوفزدہ ہے اور انہیں خاموش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ مزدوروں کے حقوق کے لیے لڑتی ہیں۔ وہ ایران کی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک کے بارے میں بولتی اور لکھتی ہیں۔ ان کی کتاب "Tilapia sucks the blood of Hur-al-Azim" میں جیل کے غیر انسانی حالات پیش کئے گئے ہیں۔ انہیں 2019 میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں جھوٹی خبریں شائع کرنے، قومی سلامتی کے خلاف سازشکرنے، غیر قانونی اجتماع اور ریاست کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنے کے جرم میں 19 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ بعد میں ان کی سزا کو کم کر کے پانچ سال کر دیا گیا۔ جیل میں انہوں نے جیل کی حالت پر ایک کتاب لکھی۔ جس میں انہوں نے لکھا کہ جیل کی کوٹھڑی بہت چھوٹی ہے جو کہ 5 مربع میٹر ہے جس میں ایک غلیظ قالین اور دو گندے کمبل پڑے ہیں۔ انہوں نے جیل حکام کی جانب سے جبری اقبال جرم  کے عمل کا بھی انکشاف کیا۔ انہیں اس شرط پر معافی کی پیشکش بھی کی گئی کہ وہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے معافی مانگے گی لیکن انہوں نے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ وہ جیل میں ہی رہتی ہے۔

ہانگمہ شاہدی بھی ایسی ہی ایک خاتون کارکن صحافی ہیں جنہوں نے زنا کے لیے سنگساری کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ وہ انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں اور ایران میں خواتین کے حقوق کی حمایت کرتی ہیں۔ انہیں تین بار حراست میں لیا گیا ہے اور وہ پانچ سال تک جیل کی سزا کاٹ چکی ہیں۔

یہ وہ بہادر خواتین ہیں جنہوں نے مذہبی حکام کی بالادستی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دکھایا اور خواتین کے حقوق کی حمایت کی۔ انہوں نے ملک میں جیلوں کی ابتر حالت اور جیل حکام کے غیر قانونی اور غیر اسلامی طرز عمل کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ خواتین نے لازمی حجاب کے خلاف، محنت کش طبقے کے ساتھ ناانصافی اور بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

لیکن ایرانی حکومت نے جیل اور لیبر قوانین میں اصلاحات لانے کے بجائے اسلام کی طرف سے ان کو باعزت مقام دینے کے بجائے ان خواتین کو پانچ سال سے لے کر 14 سال تک کی سزائیں دی ہے جن کا جرم لوگوں کا قتل کرنا نہیں بلکہ صرف لازمی حجاب کی مخالفت کرنا تھا۔ انہوں نے جیلوں میں اذیتوں زنا کی سزا سنگساری کی مخالفت کی۔

ایران جو حقیقی معنوں میں اسلامی ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہاں خواتین کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اسلامی حکومت عملاً افغانستان میں طالبان کی طرح برتاؤ کرتی ہے۔ ایران کی خواتین اپنے افغانی یا عربی خواتین سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور اسی لیے وہ اسلامی معاشرے میں اپنے حقوق اور مقام سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے حکام اور مذہبی قیادت کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔

صحیح معنوں میں اسلامی ملک ہونے کا دعویٰ کرنے کے لیے ایران کو خواتین کے تئیں اپنا رویہ اور پالیسی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اسے جدید اسلامی ممالک کے قوانین کے مطابق اپنے قوانین میں تبدیلی لانی چاہیے۔ اسے اپنے جیلوں کے نظام میں اصلاحات لانے اور خواتین قیدیوں پر تشدد بند کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک اسلامی ملک کے لیے غیر انسانی عمل ہیں۔

English Article: Why Is Iran Afraid Of Its Women Who Fight For Human Rights Including Rights Of Women?

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/iran-human-rights-women/d/126306

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..