New Age Islam
Sat Jun 27 2026, 01:00 PM

Urdu Section ( 3 March 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Russian Invasion of Ukraine Has Lessons for Muslim Countries یوکرین پر روسی حملہ مسلم ممالک کے لیے سبق آموز ہے

پوتن خطے میں نیٹو کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو ایک سیکورٹی خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اہم نکات:

1.     امریکی قیادت میں نیٹو نے عراق، لیبیا اور افغانستان کو تباہ کیا

2.     یہ شام کو بھی تباہ کرنا چاہتا تھا

3.     اب پوتن اپنے پڑوس مشرق وسطیٰ کی خانہ جنگی کا دوبارہ آغاز دیکھ رہے ہیں

-----

 نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

28 فروری 2022

Protesters at a peace march for Ukraine in Boston on Sunday. Credit...Vanessa Leroy for The New York Times

------

یوکرین پر روسی حملے میں، جو کہ سابق سوویت یونین کا ایک صوبہ تھا، عالم اسلام کے لیے کچھ سبق ہے۔ روس نے یوکرین پر حملہ اس لیے کیا کہ اسے خدشہ تھا کہ یوکرین بھی نیٹو نامی 30 رکنی فوجی اتحاد کی رکنیت اختیار کر لے گا جس سے اس کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ روس نے یوکرین کے باضابطہ طور پر نیٹو کا رکن بننے سے پہلے وہاں کی حکومت کا تختہ پلٹ کرنا عقلمندی سمجھا۔ لہٰذا، یہ ایک پیشگی انتباہ تھا۔ جب اصل جنگ شروع ہوئی تو امریکہ اور نیٹو کے دیگر اتحادیوں نے یوکرین کو تنہا چھوڑ دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب روس نے رومانیہ کے جہازوں کو نشانہ بنایا تو بھی نیٹو نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جو کہ نیٹو کا رکن ہے اور جاپان جس کے نیٹو کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

نیٹو 30 ممالک کا ملٹری الائنس ہے جس میں سے صرف دو، ترکی اور البانیہ مسلم اکثریتی ممالک ہیں اور ان میں سے بھی صرف ترکی ہی کچھ سیاسی اثر و رسوخ ہے۔

جنگ سے پہلے امریکہ اور نیٹو کے دیگر ارکان نے یوکرین کو روس کے خلاف اکسایا لیکن جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکہ اور نیٹو کے دیگر طاقتور ممبران نے پیچھے ہٹ کر صرف روس کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرتے رہے کیونکہ روس جیسا طاقتور ملک ان کے لیے ایک چیلنج تھا۔  جب امریکا اس بنیاد پر یوکرین کو بچانے کے لیے نہیں آیا کہ وہ نیٹو کا رکن نہیں ہے تو روس نے رومانیہ اور جاپان کو نشانہ بنا کر امریکا کے سامنے ایک اور چیلنج کھڑا کردیا۔ پھر بھی امریکہ کو روس پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ یہ وہی امریکہ اور نیٹو ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر تین مسلم اکثریتی ممالک کو برباد کیا۔

امریکہ نے سب سے پہلے عراق کو تباہ کیا کیونکہ صدام حسین خطے میں امریکہ کے تجارتی اور فوجی مفادات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تھا۔ امریکہ نے کویت کو آزاد کرانے کے بہانے عراق پر حملہ کیا لیکن یوکرین کو آزاد کرانے یا تحفظ دینے پر خاموش ہے جو کہ ایک عیسائی اکثریتی ملک ہے۔ امریکہ اور نیٹو نے عراق کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور عراق کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے محفوظ کرنے کے بہانے عراق میں حکومت کا تختہ پلٹ کیا۔ امریکہ اور برطانیہ نے یہ جھوٹ پھیلایا کہ صدام حسین نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا ڈھیر لگایا ہے اور وہ دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے، حالانکہ اقوام متحدہ کی ایک معائنہ ٹیم نے اعلان کیا تھا کہ حملے کے آغاز سے عین قبل اسے ڈبلیو ایم ڈیز کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔ عراق کو ایک جھوٹ کی بنیاد پر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

اس کے بعد افغانستان کا نمبر تھا۔ امریکہ اور نیٹو نے نائن الیون کے حملوں کے بعد افغانستان پر حملہ کیا اور نیٹو کی زیر قیادت یو این مینڈیٹڈ انٹرنیشنل سیکورٹی فورس (آئی ایس اے ایف) کو افغانستان میں تعینات کیا گیا تاکہ ایسے حالات پیدا کیے جا سکیں جس کے تحت افغان حکومت پورے ملک پر  اپنے اختیارات کا استعمال کر سکے اور افغان نیشنل سیکورٹی فورسز اپنی صلاحیتوں کو بڑھا سکے، بشمول بین الاقوامی دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں۔

لیکن حیرت کی بات ہے کہ دو دہائیوں تک افغانستان میں رہنے کے بعد بھی امریکہ اور دیگر طاقتور ممالک طالبان سے لڑنے کے لیے افغان سکیورٹی فورسز کی عسکری صلاحیت نہیں بڑھا سکے۔ درحقیقت وہ خود طالبان کو ختم نہیں کر سکے اور 2020 میں ان کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا۔ انہوں نے اشرف غنی کی حکومت کو اس وقت بے یارومددگار چھوڑ دیا جب طالبان نے افغانستان کی اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اسی طرح انہوں نے یوکرین کو تنہا چھوڑ دیا تھا جب پوتن نے حملہ کیا تھا۔ امریکہ اب اسی طالبان حکومت کے ساتھ تعاون کر رہا ہے جنہیں وہ پہلے دہشت گرد سمجھتا تھا۔

امریکہ کا اگلا شکار لیبیا کے معمر قذافی تھے جو امریکی سامراج کی آنکھوں میں خار بنے ہوئے تھے۔ امریکہ اور نیٹو نے 2011 میں لیبیا میں حکومتی تبدیلی لانے کے لیے عرب بہاریہ کو ایک موقع کے طور پر لیا۔ مصر اور تیونس کے بعد جب بغاوت لیبیا تک پہنچی تو قذافی نے بغاوت کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی۔ ایک تقریر میں انہوں نے باغیوں کو دھمکی دی تھی کہ وہ مظاہرین کو ہر طرح سے دھر دبوچیں گے۔ مبینہ طور پر انہوں نے اپنے حامیوں سے بن غازی کو صاف کرنے کے لیے بھی کہا تھا۔ اس نے امریکہ اور نیٹو کو لیبیا پر حملہ کرنے اور حکومت میں تبدیلی لانے کا ایک بہانہ فراہم کیا۔ امریکہ لیبیا کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد 1973 پاس کرانے میں کامیاب ہوا اور اس قرارداد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے، کثیر ریاستی نیٹو کی قیادت والے اتحاد نے 19 مارچ 2011 کو لیبیا کے 'عوام کے تحفظ' اور قذافی کو 'انسانیت کے خلاف جرائم' کی سزا دینے کے لیے لیبیا میں فوجی مداخلت شروع کر دی۔ اگرچہ عملی طور پر امریکی وزیر دفاع کو شہریوں پر حقیقی حملوں کی کوئی تصدیق نہیں تھی۔

نیٹو کا یہ دعویٰ کہ اس نے شہریوں کی حفاظت کے لیے لیبیا پر حملہ کیا تھا، غلط ثابت ہوا کیونکہ باغیوں نے سیاہ فام لیبیائی باشندوں کو قتل کیا اور سیاہ فام لیبیائی باشندوں کے پورے گاؤں کو تباہ کر دیا اور رفیوجی کیمپوں میں سیاہ فام خواتین کی عصمت دری کی۔ باغیوں کو نیٹو کی حمایت حاصل تھی کیونکہ دونوں قذافی کو نکالنا چاہتے تھے۔ یہ آپریشن لیبیا کی مکمل تباہی اور اکتوبر میں قذافی کی ہلاکت کے ساتھ ختم ہوا۔

امریکہ کی قیادت میں نیٹو شام کو بھی تباہ کرنا چاہتا تھا کیونکہ بشار الاسد کے امریکہ کے قدیم دشمن روس کے ساتھ قریبی تجارتی اور فوجی تعلقات تھے اور روس کی مضبوط حمایت کی وجہ سے شام بچ گیا۔ امریکہ اور برطانیہ نے یہاں تک یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ شام نے باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے اور سعودی عرب کے انٹیلی جنس وزیر بندر بن سلطان نے پوتن کو غیر جانبدار رہنے پر آمادہ کرنے کے لیے پوتن سے ملاقات بھی کی تھی لیکن پوتن نے دھمکی دی تھی کہ اگر امریکا نے شام پر حملہ کیا تو میں سعودی عرب پر حملہ کر دوں گا۔ اس نے ایک سدباب کا کام کیا اور شام تباہ ہونے سے بچ گیا۔

مارچ 2003 میں عراق پر نیٹو کے حملے سے قبل فروری میں 30 لاکھ لوگوں نے جنگ کے خلاف احتجاج کیا تھا اور دنیا بھر میں 36 ملین لوگوں نے امریکی جنگی جنون کے خلاف 3000 احتجاجی مظاہرے کیے تھے لیکن امریکہ نے ایک کی بھی نہ سنی اور عراق کو تباہ کر کے صدام کو مار ڈالا۔

اب چونکہ عالمی میڈیا مغربی ممالک کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہے، پوتن پر چوطرفہ حملے شروع کرے گا اور انہیں ڈریکولا، شیطان کہے گا اور مشہور شخصیات، کھلاڑی، اداکار، سیاست دان، جو مشرق وسطیٰ میں نیٹو کے موت اور تباہی کے کھیل پر خاموش تھے، اب روسی بربریت کی مذمت کریں گے۔ اور امریکہ اور نیٹو کے ارکان کو امن کے علم بردار کے طور پر پیش کیا جائے، جنہوں نے افغانستان، عراق اور لیبیا میں لاکھوں بے گناہ لوگوں کو قتل کیا اور اس دہشت گرد تنظیم داعش کی حمایت کی جسے پوتن نے اس وقت 'جگر کھانے والے' کہا تھا جب اوباما نے بشار الاسد کے خلاف ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے پوتن سے ملاقات کی تھی۔

جنگ کی حمایت نہیں کی جا سکتی اور یوکرین میں پوتن کی فوجی مہم جوئی کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس کے نتیجے میں موت اور تباہی ہو گی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پوتن کو امریکہ اور نیٹو کو یوریشیا میں بھی موت اور تباہی کا وہی کھیل کھیلنے کی اجازت دے دینا چاہیے جو انہوں نے مشرق وسطیٰ، افغانستان اور افریقہ میں کھیلا ہے؟

English Article: Russian Invasion of Ukraine Has Lessons for Muslim Countries

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/russian-invasion-ukraine-muslim-countries/d/126496

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..