New Age Islam
Tue Nov 30 2021, 12:23 AM

Urdu Section ( 26 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Abbas Siddiqi’s Communalism Is Dangerous: Muslims in West Bengal Should Beware of His Militant Mindset عباس صدیقی کی فرقہ واریت خطرناک ہے: مغربی بنگال کے مسلمانوں کو اس کی عسکریت پسندانہ ذہنیت سے ہوشیار رہنا چاہیے

 عباس صدیقی نے کہا تھا کہ میں ان لوگوں کا گلا کاٹ دوں گا جنہوں نے بنگلہ دیش کے درگاہ پوجا پنڈال میں قرآن رکھا تھا، جس کے نتیجے میں انتہا پسند بنیاد پرستوں کی جانب سے توہین مذہب کے خلاف تشدد کا ماحول بنا، جس کے پیچھے بنیادی طور پر شیخ حسینہ حکومت مخالف اور پاکستان نواز جماعت اسلامی تھی۔ لیکن درحقیقت اس میں اقبال حسین نامی ایک ’ذہنی طور پر بیمار مسلمان‘ کا ہاتھ سامنے آیا ہے جس نے درگا پوجا پنڈال میں قرآن پاک رکھا تھا۔

اہم نکات:

1. عباس صدیقی نے کہا کہ میں قرآن کی بے حرمتی کرنے والوں کا گلا کاٹوں گا۔

2. وہ مغربی بنگال کے مسلمانوں کا لیڈر بننا چاہتا ہے۔

3. اس کے بیان نے ریاست میں ماحول کو خراب کر دیا ہے۔

4. بنگلہ دیش کے علما اور کارکنوں نے اقلیتوں پر حملوں کی مذمت کی ہے۔

 ----

 نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

 23 اکتوبر 2021

 ----

Abbas Siddiqui later released a video on Facebook and demanded strict punishment to those who attacked Durga Puja Pandals in Bangladesh. (File photo)

----

 فرفورہ شریف مزار کے پیرزادہ اور نام نہاد انڈین سیکولر فرنٹ کے سربراہ عباس صدیقی نے مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کو یہ کہہ کر خراب کر دیا ہے کہ قرآن کی بے حرمتی کرنے والوں کا سر قلم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے شمالی 24 پرگنہ میں، ایک پروگرام میں گزشتہ ہفتے درگا پوجا کے تہواروں کے دوران بنگلہ دیش کے ایک پوجا پنڈال میں قرآن کی بے حرمتی کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بیان دیا تھا۔ ان کے اس اشتعال انگیز بیان کو ریاست کے مسلم نوجوانوں کو تشدد پر اکسانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش پولیس نے 13 اکتوبر کو ایک پوجا پنڈال میں قرآن کی بے حرمتی کے معاملے کو حل کر لیا ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر اقبال حسین نامی ایک مسلمان شخص کو گرفتار کیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں حسین کو پنڈال کے اندر قرآن کا ایک نسخہ لے کر جاتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے جو ہنومان کا گدا لے کر باہر آ رہا ہے۔

اس انکشاف سے اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ معاملہ فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دے کر ملک میں بدامنی پھیلانے کی بنیاد پرست اور فرقہ پرست عناصر کی سازش تھی۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کے برسراقتدار آنے کے بعد سے ہی حزب اختلاف جماعتیں اور بالخصوص شدت پسند تنظیم حفاظت اسلام کسی نہ کسی بہانے بدامنی پھیلا رہی ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی گولڈن جبلی تقریبات کے دوران ڈھاکہ اور مختلف قصبوں میں شیخ مجیب الرحمن کے مجسموں کی تنصیب کی مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر اسلامی قرار دیکر بدامنی پھیلائی تھی۔

انہوں نے ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ بنگلہ دیش کے دوران بھی بدامنی اور تشدد کا ارتکاب کیا تھا۔ انہوں نے فرانسیسی صدر میکرون کے اس بیان پر بھی بدامنی پھیلائی تھی اور پرتشدد احتجاج کیا تھا کہ اسلام ابھی ایک بحران سے دوچار ہے۔

جب ہم کومیلا کے ایک پوجا پنڈال میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے خلاف موجودہ احتجاج کو دیکھتے ہیں تو اس کا مقصد اور سازش واضح ہو جاتی ہے۔

شیخ حسینہ کی حکومت کی مخالف، انتہا پسند تنظیمیں حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہرے کے لیے ہمیشہ کسی معاملے یا موقع کی تلاش میں رہتی ہیں۔ چونکہ انہیں اس کا کوئی موقع ہاتھ نہیں لگ رہا تھا تو انہوں نے ایک شخص کو قرآن کا ایک نسخہ دیکر بھیجا اور اسے ایک پوجا پنڈال میں رکھوا دیا جس سے ان کے ہاتھ ایک نیا موقع لگ گیا۔ اور پھر انہوں نے حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہرے شروع کر دیے اور ہندوؤں کے مندروں اور ان کی دکانوں اور گھروں پر حملے شروع کر دیے۔

اس انکشاف نے عباس صدیقی کا منھ کالا کر دیا ہے کیونکہ اس نے غیر مسلموں کے خلاف فرقہ وارانہ بیان دیا تھا۔ اقبال کی والدہ آمنہ کے مطابق اقبال حسین جو کہ تیس برس کا ہے، ذہنی طور پر مریض اور منشیات کا عادی ہے اور کچھ چوٹوں کی وجہ سے پچھلے دس سالوں سے نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔ پولیس کے مطابق کومیلا کے پنڈال میں داخل ہونے سے پہلے اس نے ایک اور پوجا پنڈال میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔

یاد رہے کہ عباس صدیقی نے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس اور بائیں بازو جماعتوں کے ساتھ مل کر انڈین سیکولر فرنٹ تشکیل دیا تھا۔ اتحاد بری طرح ناکام ہوا اور عباس صدیقی کا مغربی بنگال کا اویسی بننے کا خواب بھی ٹوٹ گیا۔ لہذا، وہ ایک مناسب موقعہ اور معالہ کے انتظار میں تھا کہ طوفان کھڑا ہو اور وہ سیاست کے مرکز میں آ جائے۔

بدقسمتی سے اسے بنگلہ دیش کے ایک پوجا پنڈال میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کا موقعہ ہاتھ لگ گیا۔ موقع پاتے ہی وہ حرکت میں آ گیا اور قرآن کی بے حرمتی کرنے والے کا گلا کاٹنے کی دھمکی دے ڈالی۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش حکومت نے بنگلہ دیش میں ہندو مندروں پر حملہ کرنے یا پوجا پنڈالوں میں توڑ پھوڑ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ شیخ حسینہ کی حکومت نے حملوں میں ملوث ہونے پر اپنی ہی سیاسی جماعت کے کارکنوں کو بھی معطل کر دیا ہے۔

بنگلہ دیش کی سول سوسائٹی کے ارکان، جن میں مسلم اور ہندو دانشور، شاعر اور ادیب ہر طبقہ کے لوگوں شامل ہیں، انہوں نے مل کر اقلیتوں پر حملوں کی مذمت کی ہے۔ ہندوستان کے اندر مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر غیر مسلموں اور ان کے مندروں اور دکانوں پر حملوں کی مذمت کی۔ کولکاتہ میں 21 اکتوبر کو مختلف تنظیموں کی جانب سے ایک احتجاجی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔

بنگلہ دیش کے اعتدال پسند علماء مثلا ابوالکلام آزاد بشار نے رام کرشنا مشن کی مندر سمیت اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی مذمت کی ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد بشر نے قرآن مجید کی آیت "و لا تزرو وازرۃ وزرا اخرا" کا حوالہ دیا (کہ کوئی بھی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا)۔ قرآن کہتا ہے کہ کسی کو دوسروں کی غلطیوں کی سزا نہیں دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ غلطی کرنے والوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے اور انہیں سزا ملنی چاہیے لیکن اقلیتوں کے خلاف آوارہ بھیڑ کا تشدد غیر اسلامی ہے۔

مشرف بن مرتضیٰ جو بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور عوامی لیگ کے رکن پارلیمنٹ ہیں، انہوں نے ٹوئٹر پر اقلیتوں کے اوپر حملوں پر اپنے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا، “میں نے کل دو شکستوں کا مشاہدہ کیا۔ ایک بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کی تھی جس سے مجھے تکلیف ہوئی، جبکہ دوسری پوری قوم کی شکست تھی جس نے میرے دل کو پارہ پارہ کر دیا۔

لیکن دوسری طرف خود ساختہ صوفی عباس صدیقی جو بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں فرفورا شریف میں واقع ایک صوفی بزرگ کی درگاہ سے منسلک ہیں، انہوں نے ایک ایسا بیان دیا جو خطرناک تھا اور جس سے ریاست کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خطرہ تھا۔ ظاہر ہے کہ اس نے مسلم نوجوانوں کو غیر مسلموں کے خلاف تشدد پر بھڑکا کر ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔

عباس صدیقی توحہ صدیقی کے بھتیجے ہیں جو کہ خود ایک ٹی ایم سی لیڈر ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ وہ ریاست میں مسلمانوں کے سیاسی رہنما بننے کے اپنے عزائم کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ عباس اسد الدین اویسی کی پالیسی پر عمل پیرا دکھائی دے رہے ہیں جو پولرائزیشن یا ہندو مسلم تقسیم کی سیاست پر انحصار کرتے ہیں جس سے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ایک خود ساختہ صوفی سچائی کے سامنے آنے کا انتظار کیے بغیر اس طرح کے جارحانہ بیانات جاری کر دیتا ہے۔

صوفی معاشرے کے تمام طبقوں کے لیے اپنے رواداری، سب کو گلے لگانے اور معاف کرنے والے رویے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ لیکن عباس صدیقی قرآن کی بے حرمتی کے لیے غیر مسلموں کو قتل کرنے کی بات کرتے ہیں حالانکہ وہی قرآن جس کے لیے وہ مرنے اور مارنے کی قسم کھاتے ہیں، اللہ، فرشتوں اور خدا کے نبیوں کی توہین کرنے پر کوئی سزا تجویز نہیں کرتا۔

قرآن مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہے کہ بے عزتی اور توہین مذہب کے معاملے میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور اس معاملے کو خدا پر چھوڑ دیا جائے تاکہ قیامت کے دن اس کا فیصلہ کیا جا سکے۔ عباس صدیقی کے بیانات قرآنی احکامات اور اسلام کی روح کے خلاف ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مسٹر صدیقی سماجی اور فرقہ وارانہ مسائل پر قرآن کے احکام سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ وہ پیرزادہ کے طور پر اپنے عہدے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان کی شبیہ مسلمانوں کے رہنما کے طور پر تیار ہو سکے۔ چونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایک مذہبی شخصیت کی شبیہ کے ساتھ وہ بڑے پیمانے پر معاشرے کا اعتماد نہیں جیت سکتے، اس لیے انہوں نے خود کو مسلم عوام کا مسیحا بننے اور اسد الدین اویسی کی سیاست کی راہ پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ ریاست میں ہندو مسلم ہم آہنگی کی قیمت پر مسلمانوں کے رہنما بننا چاہتے ہیں۔

فرقہ وارانہ بیانات جاری کر کے عباس صدیقی صرف ملک میں فرقہ پرست عناصر کے ہاتھوں کی کٹھپتلی بن رہے ہیں اور ان کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ اب جبکہ اصل مجرم جو مسلمان ہے گرفتار کر لیا گیا ہے، بنگلہ دیش کی انتہا پسند مسلم تنظیموں کو اپنی کارستانیوں کا جواب دینا ہوگا۔ قرآن کہتا ہے کہ جب کوئی تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی سچائی کی تصدیق کرو تاکہ گمراہ نہ ہو اور مصیبت میں نہ پڑو۔ مذہبی تنظیموں اور افراد نے اس قرآنی حکم کو بھی نظر انداز کیا اور ان بے گناہ ہندوؤں کے خلاف تشدد کا ارتکاب کیا ہے جنہوں نے امن کے ساتھ رہ کر مسلمانوں کے ساتھ بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ لڑی ہے اور اپنے مادر وطن کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

English Article: Abbas Siddiqi's Communalism Is Dangerous: Muslims in West Bengal Should Beware Of His Militant Mindset, Throw Him Out Of Furfura Sharif Shrine Management; He Is No Sufi

 URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/abbas-siddiqi-militant-bengal-furfura/d/125656

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..