امریکہ میں اسلامو فوبیا کے کسی بھی ممکنہ تباہ کن نتائج اور اقلیتی مسلم کمیونٹی کے امریکی بنانے کے عمل کے لئے پیشگی روک تھام کے لئے مساجد کی کارروائیوں / ذیلی ثقافت میں ایک مثالی تبدیلی کی ضرورت
تمام مساجد اور اسلامی مراکز کے بورڈ اور امریکہ میں مسلم کمیونٹی کے تمام رہنماؤں کے لئے سنجیدگی سے غور کے لئے 12 نقاتی ایجنڈا۔
محمد یونس، نیو ایج اسلام
(انگریزی سے ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)
(شریک مصنف (مشترکہ طور پر اشفاق اللہ سید کے ساتھ)، اسلام کا اصل پیغام ، آمنہ پبلیکیشن، یو ایس اے،2009 ۔)
زمین پر سب سے زیادہ معصومیت والی چیز یہتصور کرنا ہوگا کہ دنیا کے 3-4 ارب مشترکہ عیسائی اور مسلمان آبادی کے درمیان کوئی بریوک یا اسامہ بن لادن کے جیسا نہیں ہوگا، دوسرے عقائد کے متشدد انتہا پسندوں ، کرائے کے دہشت گردوں کو تو چھوڑ ہی دیجئے – ایک ایسی نسل جس کے بارے میں کوئی کچھ کہہ نہیں سکتا کہ اس کا وجود زیر زمین ہے یا عنقریب مستقبل میں سامنے آئے گا۔ چونکہ کوئی بھی واحد شخص (جیسا کہ ندال حسن کے ذریعہ فورٹ ہڈ میں گولی باری) - یا بمشکل ہی ان میں سے مٹھی بھر، ضروری نہیں کہ اسلامی مذہبی عقیدے کے (اوسلو میں دہشت گردانہ حملہ کرنے والا اینڈرس بریوک مسلمان نہیں ہے) دہشت گردی کے ایک چالاک لیکن شیطانی عمل کر سکتے ہیں،
مستقبل میں امریکی سرزمین پر ایک اور بڑے دہشت گردانہ حملےسےکبھی بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ لہذا، امریکی مسلمانوں کو سر پر منڈرا رہے اسلامو فوبیا کےپر آشوب بادل اور ممکنہ طور پر مہلک رد عمل کو ٹالنے کی ایک ساتھ مل کر کوشش کرنی ہوگی۔ امریکی مسلمانوں کا طبقہ بہت سے 'ممکنہ' دشمنوں (پڑوسیوں میں سے اسلام ہراسی پیدا کرنے والے) سے گھرا ہوا ہے، اس سے قبل کی بہت دیر ہو چکی ہو‑ جو کوئی بھی اس کا مبینہ طور پر مرتکب ہو‑ مسلمانوں کو خود کو خالص امریکی مسلمان طبقے کے طور پر تیار کرنا اور پیش کرنا ہے اور جن کا دہشت گردانہ حملوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہاں کچھ تجاویز پیش کی جارہی ہیں جو انہیں ایک ممکنہ جارحانہ ردعمل سے بچا سکتا ہے اور ساتھ ہی ان کے امریکی ہونے کے عمل میں معاونت بھی کر سکتا ہے۔
1 ۔ مساجد اور آپسی گفتگو میں اللہ اور گاڈ میں فرق نہیں کرنا چاہئے۔ لفظ 'گاڈ' ہر ایک امریکی ڈالر نوٹ کی پشت پر نمایا ں ہوتا ہےجسے امریکی رہنماؤں کے زریعہ باقاعدگی سے لیا جاتا ہے، اور بغیر کسی شک کے یہ خالق کا زبانی اشارہ ہے جسے عربی میں اللہ کہا جاتا ہے۔ علامتیت کے پیدا ہونے سے قبل اور ڈوم آف راک فائر (1969) (Dome of Rock Fire) اور یوم کپّرجنگ (1973) (Yom Kippur War)کےتناظر میں، اسلامی علماء کے ذریعہ قرآن کے بہت سے انگریزی ترجمہ میں اللہ تعالی کے لئے لفظ گاڈ کااستعمال کیا گیا تھا۔ لیکن بعد کے ایڈیشن میں صرف عربی لفظ کا استعمال کیا گیا، جس کا مفہوم ہے کہ خدا کے لئے عربی میں ایک اسم مفعول کا استعمال کیا جائے‑ ایک تصور جسے قرآن دعوے سے یہ کہتے ہوئےردّ کرتا ہے کہ اللہ، خدا سے مختلف نہیں ہے اور جسے عبادت کی تمام جگہوں‑ گرجے، صومعے، عبادت خانوں اور مسجدوں میں یاد کیا جاتا ہے (22:40)۔ خدا کو عربی زبان میں یاد کرنے پر اصرار اسلام کے محمد ﷺ کے ایک مسلک ہونے ، جس کا ایک عربی دیوتا ہے کے دقیانوسی تصورات کو تقویت پہنچاتا ہے اور اسلام مخلاف پروپگنڈہ و اسلامو فو بیا (اسلام ہراسی) کو جلا بخشتی ہے۔
2۔ عیسائیوں اور یہودیوں کو مرکزی دھارے میں شامل عیسائی کمیونٹی کے ساتھی مومنوں کے طور پر اسلام کے تسلیم کرنے کواس طرح واضح کرنا چاہئے جو نظر آئے، اس طرح کی قرآنی آیات (درج ذیل) جو انہیں مذہبی طور پر مسلمانوں کے مساوی ہونے کی منظوری دیتی ہو انہیں مسجد کے باہری حصے میں دبیز لکھائی یا سونے سے بڑے حروف میں لکھا جانا چاہئے:
" (مسلمانو) کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری، اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسی کو عطا ہوئیں، ان پر، اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں، ان پر (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں" (2:136)
“جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست، (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے "(2:62)
جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ غمناک ہوں گے" (5 : 69)
3۔ قرآن میں بتائی گئی مثالوں کے مطابق مسلم نوجوانوں کواخلاقی طرز عمل اور رویے میں ایکسل کرنے کے لئے تیار کیا جائے جو نبی کریم ﷺ کے ورثے کو برقرار رکھ سکیں (33:21) ، اور ان میں خیر سگالی کو حاصل کرنے کے لئے برتری کی خواہش پیدا کی جانی چاہئے۔
4۔ جیسے کہ قرآن ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے خلاف کوءی پابندی عائد نہیں کرتا ہے، مغربی دنیا میں مسلم نوجوانوں کو کھیلوں، اتھلیٹکس، تیراکی، گانے، رقص کرنےاور موسیقی میں شرم و حياء اور اخلاقیات کی حد کے اندر رھ کر حصہ لینے کے لئےحوصلہ افزائی کی جانی چاہئے‑ اور بین المذاہب مکالمےمیں تعاون کرنا چاہئے جیسا کہ قرآن (49:13) میں حکم دیا گیا ہے اور ثقافتی علیحدگی سے روکنا چاہئے،
5 ۔ امریکہ / مغربی دنیا میں مسلم خواتین کو اسکارف پہننا چھوڑنے کے بارے میں درج ذیل بنیادوں پر غور کرنا چاہئے:
اس کی منفردیت مسلمانوں کی تعدا کو بڑاھا چڑھا کر پیش کرنے کا تاثّر دےسکتا ہے جو خوف کا باعث بن سکتا ہے یا نفرت کے سبب ہونے والےجرم کو دعوت دے سکتاہے۔
قرون وسطی کے پوپ کے کپڑے سے اس کے ملتے جلتے ہونے کے سبب یہ ایک سماجی رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور ایک غیر مسلم عورت (یاایک مسلمان عورت) جو اپنے سر اور کان کو بے نقاب کرکے جا رہی ہو اور ایک عورت جو وردی کی طرح کا پردہ پہن کے جا رہی ہے اس سے لاتعلقی پیدا کرے گی۔
اسلام مخالف اعلٰی سطحی تعصب کے مد نظر خالص مغربی تہذیب والے ملک میں یہ گروہ بندی کا غلط تاثر دے گا اور یہاں تک کی عوامی مقامات میں پردے والی مسلم خواتین کی بہت کم تعداد بھی وہاں کے مقامی لوگوں میں ثقافتی حملے کا خوف پیدا کرے گا ۔
یہ کچھ کام کاج کرنے والی اور ساتھ ہی ساتھ کھیلوں میں شرکت کرنے والی ، تیراکی اور اتھلیٹکس میں حصہ لینے والی خواتین کے لئے جسمانی طور پر سہولت بخش نہیں ہوگا اور یہ قدرتی طور پر سر اور کانوں کے ارد گرد ہوا کے آنے جانے کے نظم میں بھی رکاوٹ پیدا کرے گا۔
یہ اب مردوں کے قبضے والے عوامی مقامات میں خواتین کو مخصوص طور پر حفاظت فراہم کرنے کے بنیادی کام کو نہیں کر پاتا ہے۔ آج، امریکہ یا یوروپ کے کسی بھی سڑک یا گلی میں ایک مسلمان عورت شاید پردہ / ہیڈاسکارف کے مقابلے ان کےبغیر زیادہ محفوظ ہے۔
چہرے کے پردے پر الازہر یونیورسٹی اور فرانس میں عوامی مقامات سمیت کئی جہگوں پر پہلے سے ہی پابندی ہے ،اس کے علاوہ ، یہ خواتین کے چہرے کے پردے کے متعلق قرآن کی واضح ہدایت کے خلاف ہے جو خواتین کو پہچانے جانے کی بنیاد پر چہرے کو کھلا رکھنے کی ہدایت دیتا ہے (33:59) ۔ اور قرآن میں سر، کان اور ٹھوڑی کے پردہ کرنے کی کویئ ہدایت نہیں ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ، سر، کان اور ٹھوڑی کو ڈھکنے کا عمل عیسائیت سے اسلام میں " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تین سے چار نسلوں کے بعد داخل ہوا جب مسلمان یونانی عیسائیوں کی نقل کر رہے تھے [1]۔ جیسا کہ یہ فرسودہ عیسائی رواج نے اسلام کی تصویر کو مسخ کر رہا ہے اور جنسی تعصب/ جبر کی غلط تصویر پیش کر رہا ہے، مسلم خواتین اپنے نئے مغربی مسکن میں اس خالصتاً علامتی رواج سے انحراف کر اس حالت کو بہتر کر پائیں گی۔
6 مثال کے طور پر ۔ مسلمانوں کو کرسمس/ یوم کپّر (Yom Kippur) کو مناسب انداز میں تمام اسلامی مراکز اور مساجد میں منا کر عظیم پیغمبروں حضرت عیسٰی علیہ السلام اور حضرت موسٰی علیہ السلام سے اپنی عقیدت کو پیش کرنا چاہئے اور اس تقریب میں ، ہمدرد پادریوں اور راہبوں کو مدعو کرنا چاہئے‑ اس تقریب میں بڑی تعداد میں لوگوں کو شرکت کرنا چاہئے۔
7 ۔ مساجد کے کردار اور فن تعمیر کے بارے میں کچھ خیالات:
دنیا کے مختلف حصوں میں جہاں بھی اسلام پہنچا وہاں کی قدیم ترین مساجد کی طرز تعمیر مقامی خانقاہوں، مندروں اور گرجا گھروں کے جیسی تھی۔ مثال کے طور پر: مسجد آگنگ (Agung)، ڈیمارک (Demark)، جاوا کی تعمیر 1466ء میں تعمیر ہوئی تھی اور چین میں نوجی (Niujie) مسجد کی تعمیر 996ء مین ہوئی تھی جو بالکل خانقاہوں کی طرح نظر آتی تھیں۔ چیرامن (Cheraman) جمعہ مسجد، کیرلا، ہندوستان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تعمیر ہوئی تھی جس کا باہری حصہ ایک ہندو مندر کے جیسا تھا۔ تیونس کی عظیم مسجد، کیروعانہ (Kairouan) کی تعمیر 863ء اور قرطبہ کی مسجد کی تعمیر987 – 784ء میں ہوءی تھی ان کی تعمیر پر بربر، رومن اور گوتھک فن تعمیر کے زبردست اثر کی عکاسی نظر آتی ہے۔ لہذا مغربی ممالک میں مساجد کے باہری حصے کوکلاسیکی اسلامی تہذیب کے مقابلےمقامی گرجا گھروں کے جیسا ہوناچاہئے۔
نماز کے لئے اور اپنے مذہبی رول کو بہتر کرنے کے لئے اس پر عمل کر کے اسلامی مراکز فعال عمارتوں سے ہم آہنگ تعمیرات کے ذریعہ اسے بہتر کر سکتے ہیں، کمیونٹی کی خدمت کے لئے (مثلاً مفت ہیلتھ کلینک، فوڈ بینک، موجودہ دور کے تناظر میں انفارمیشن ٹکنالوجی کی مفت تربیت وغیرہ) جیسا کہ ان کے عقیدے کی ضرورت ہے اور ابتدائی اسلام میں اس پر عمل بھی ہوتا تھا‑ تاہم محدود پیمانے پر ہی صحیح کچھ لوگ اس پر عمل کرنے میںپہلے سے ہی مصروف ہیں۔ 21ویں صدی کی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک مثالی مسجد کا فن تعمیر درج ذیل لنک میں واضح طور پر پیش کیا گیا ہے:
http://en.wikipedia.org/wiki/Noor_Cultural_Centre
8۔ مغربی دنیا میں، جہاں عوامی مقام میں صنفی علٰیحدگی نہیں ہے، وہاں مساجد میں جنس کی بنیادی علیٰحدگی بےمعنی ہے، اور اسلام کی صنفی بنیادوں پرعالمگیر غیر جانبدار عقیدے کے طور پر شبیح کو کمزور کرتا ہے۔ خواتین جنہیں قرآن مردوں کا شریک سرپرست کے طور پر منصوب کرتا ہے (9:71) اسی جذبے کے ساتھ مسلم خواتین کو باجماعت نماز ادا کرنے سے نہیں روکنا چاہئے جیسا کہ روایتی طور پر پابندی ہے۔
9 ۔ اگر ایک پیشہ ور، مسجد کے امام، کی تقرری کی جاتی ہے تو اس میں مؤثر طریقے سے اپنے طبقے کی خدمت اور بین العقائد ذمہ داریوں (2:143 22:78) اور میڈیا میں اپنے عقیدے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے۔
ضروری عالمگیر تعلیم، انفارمیشن ٹکنالوجی اور انگریزی کی تحریری لیاقت ہونی چاھئے
قرآن کے واضح احکامات کا علم ہونا چاہئے جو وہ جمعہ کے خطبے کے طور پر یا نوجوانوں کو قرآن سکھانے کے پروگرام کے ذریعہ پہنچا سکتا ہے۔ (عربی میں روایتی خطبہ ایک تاریخی سیاق و سباق کے خلاف ہے کیونکہ یہ ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پرانا ہے اور جو 21 ویں صدی کے امریکہ / مغرب ممالک کے اشتباہ تاریخی سے متعلق ہے)۔
قرآن کے تاریخی طور پر مستند حوالہ جات پر مبنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم ذاتی خصوصیات کا علم رکھتا ہو اور طبقے کو آپ ﷺ کی ذاتی خصوصیات سےحوصلہ افزائی کرنے کے قابل ہو، اور قدیمی سیرت سے ان کےمخالفین کے ذریعہ کی جانے والی تنقید، غیر مہذب اور برا بھلا بنانے والی تصریحات کے خلاف دفاع کر سکے۔
امریکی تاریخ اور قانون اور قومی رہنماؤں کی ایک بنیادی علم ہو۔
واضح طور پر اسلامی مذہبی مضامین ( قدیمی اسلامی شریعت، حدیث اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت) اور قرآن کے درمیان دو نوعیت (ڈائی کو ٹومی)کا علم ہو‑ پہلا، تاریخ سے لیا گیا، باخبر، اور اسی سیاق و ثباق میں تشکیل کیا گیا اور اس وجہ سے 21ویں صدی کے مغربی دنیا / امریکہ [2] کے اشتباہ تاریخی سے متعلق ہے اور بعد کا جگہ اور وقت کی حدود اور تمام اوقات اور تاریخی تناظر میں لاگو ہونے کے لائق اور عالمگیرہے۔
گیت، رقص اور موسیقی کا بھی کچھ ہنر ہونا چاہئے جسے پیغمبر ﷺ خود تہوار کے موقع پر اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ [3] دیکھا کرتے تھے، جو آج کی مغربی دنیا میں بہت مقبول ہے اور اس لئے بین المذاہب مکالمےکے لئے ایک مثالی موقع کے طور پر کام کرتا ہے، جیسا کی قرآن (49:13) میں نصیحت کی گٗئی ہے اور جس کا ذکر مندرجہ بالا 4 میں کیا گیا ہے۔
10۔ مسلم رہنما، ترجمان، علماء کرام اور امام حضرات تمام عقائد اور مذہبی طبقوں کا احترام کریں، اور اسے ہی بتاےٗ جو قرآن میں سب سے بہتر ہے کیونکہ اس کا حکم (39:18، 39:55) دیا گیا ہے، کوئی بھی ایسا بیان نہیں دینا چاہئے جس کی منشاء دوسروں کے عقائد کو کمزور کرنے کے لئے، نفرت کو فروغ دینے، مذہبی تعصب کی بنیاد پر انتہا پسندی، صنفی اور نسلی امتیاز، ثقافتی الگائو اور دیگرعیوب جن سے آج اسلام اور مسلمان دوچار ہیں۔
11 ۔ مسلمانوں کو کس کا دین کامل ہے اس پر بحث کرنے کے بجائے نیک اور جائزکاموں کو کرنے اور اپنے عقیدے کی ہدایت کے طور پر دوسرے عالمگیر فضائل (انصاف، معافی، رواداری، پڑوسی کے ساتھ خوشنما تعلقات وغیرہ) کی ترغیب دینی چاہئے۔
12 ۔ مسلمانوں کو اپنے دین میں دوسروں کو داخل کرانا بند کرنا چاہئے کیونکہ آج مسلمانوں کے لئے دیگر عقائد کے لوگوں کا احترام اور تعریف حاصل کرنا زیادہ اہم ہے جس کے سبب ابتدائی صدیوں میں دین میں بہت سے لوگ داخل ہوئےاس کے بجائے دوسروں سے اصرار کی جگہ انہیں حقیر سمجھنا اور غیر اہم بنانا۔ اس کے علاوہ، ان کی نماز، رسومات اور علامتوں پر ایک طرفہ زور دینے سے، دین میں داخل ہونے والاایک ممکنہ شخص سےقرآن کے عظیم فضائل حاصل کرنے کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے جیسا کہ ان کی ابتدائی ہم منصب مسلم طبقے کے ساتھ اپنی وابستگی سے حاصل کر لیا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات پر عمل کر کے (2:143) آج، یہ ایک مسلمان کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ قرآن کی تعلیمات کا مثالی نمونہ بنے، اس کے بجائے اسلام میں عیسائیوں یا دیگر عقائد سے جڑے لوگوں کو داخل کرائے‑ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ طرز عمل اور رویے اور خدا کی سمجھ کے معاملے میں ان سے بہتر ہو؛ اور طبقے کے رہنمائوں کو اس کی تقریروں اور فکر کو اس طرح بنائیں تاکہ ممکنہ دشمنوں میں سے دوستوں کو حاصل کیا جا سکے۔
نوٹ:
1۔ کیرن آرمسٹرانگ، اسلام، اسلام، ایک مختصر تاریخ، نیو یارک 2002، صفحہ نمبر 16۔
2۔ تفصیلات کے لئے مندرجہ ذیل مضامین ملاحظہ کریں:
حدیث سائنس کا ارتقاء اور احادیث کے معاملے میں ایک نئی انقلابی فکر کی ضرورت اور مدرسہ تعلیم کی گنجائش
قدیمی زمانے کی سیرت کے سیٹینک ورسیز واقعہ کو تسلیم کرنا کفر اور شرک ہے۔
قدیم اسلامی قانون اللہ کے الفاظ نہیں ہیں
3 ۔ افضل الرحمن، رول آف وومن ان سوسائٹی، لندن 1986، صفحہ نمبر381‑374۔
محمد یونس نے آئی آئی ٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے اور کارپوریٹ اکزی کیوٹیو کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں اور90کی دہائی سے قرآن کے عمیق مطالعہ اور اس کے حقیقی پیغام کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کی کتاب اسلام کا اصل پیغام کو 2002میں الاظہر الشریف،قاہرہ کی منظوری حاصل ہو گئی تھی اور یو سی ایل اے کے ڈاکٹر خالد ابو الفضل کی حمایت اور توثیق بھی حاصل ہے اور محمد یونس کی کتاب اسلام کا اصل پیغام آمنہ پبلیکیسن،میری لینڈ ،امریکہ نے،2009میں شائع کیا۔
URL for English article:
URL for this article:
https://newageislam.com/urdu-section/islamophobia-america-/d/6858