New Age Islam
Sat Jun 27 2026, 02:37 AM

Urdu Section ( 16 Oct 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Position Of The Quran Regarding Adoption گود لینے کے حوالے سے قرآن کا موقف

معین قاضی، نیو ایج اسلام

 13 اکتوبر 2023

علماء اسلام کی ایک بڑی اکثریت یہ کہتی ہے کہ اسلام میں گود لینے کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔ اس مضمون کا مقصد قرآن پاک کی روشنی میں اس دعوے کو جانچنا ہے۔

 پہلا:

جب ہم قرآن میں خدا کی طرف سے متعین کردہ ممنوعات پر نظر ڈالتے ہیں اور ساتھ ہی ان تمام چیزوں کا جائزہ لیتے ہیں جن سے خدا چاہتا ہے کہ ہم پرہیزکریں، تو ہم پاتے ہیں کہ ان سب کو بغیر کسی استثناء کے، سیدھے اور واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

 ذیل میں ممنوعات سمیت ان ناجائز کاموں کی مثالیں پیش کی گی ہیں جن سے خدا نے ہمیں پرہیز کرنے کی ہدایت فرمائی ہے:

 1- تم پر حرام ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیر خدا کا نام پکارا گیا۔ 5:3

 2- اور یتیموں کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر بہت اچھے طریقہ سے۔ 6:152

 3- اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے، اور بہت ہی بری راہ۔ 17:32

 4- جس جان کی اللہ نے حرمت رکھی اسے ناحق نہ مارو۔ 6:151

 5- اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود، 2:275

 6- مشرکین سے نکاح نہ کرو (2:221)

 7- کافروں کو دوست نہ بناؤ (4:144)

 8- اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈھو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ (49:12)

 9- اور گواہی نہ چھپاؤ اور جو گواہی چھپائے گا تو اندر سے اسکا دل گنہگار ہے اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے، (2:283)

 10- اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ (7:56)

 11- عورتوں سے الگ رہو حیض کے دنوں اور ان سے نزدیکی نہ کرو جب تک پاک نہ ہولیں (2:222)

 12- اور حد سے نہ بڑھو اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو۔ (2:190)

 مندرجہ بالا مثالیں صرف اس بات کی ہیں کہ کس طرح اوپر مذکور ہر ایک قرآنی ممانعت یا ہدایات یا تو لفظ "ممنوع" یا لفظ "نہ کرو" کے ساتھ ہیں۔ قرآنی ممانعت کی یہ وضاحت اس مقالے کے موضوع کے حوالے سے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اسی قسم کی وضاحت کی بنا پر اللہ تعالیٰ قرآن کو کجی و کمی سے پاک قرار دیتا ہے:

 عربی زبان کا قرآن جس میں اصلاً کجی نہیں کہ کہیں وہ ڈریں۔ 39:28

یہ ایک کتاب ہے جس کی آیتیں حکمت بھری ہیں پھر تفصیل کی گئیں حکمت والے خبردار کی طرف سے۔ 11:1

 دوسرا:

 مندرجہ ذیل کی تین آیات جن میں گود لینے کا ذکر ہے، ہماری تحقیق کا موضوع ہوں گی۔

 اللہ نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ رکھے اور تمہاری ان عورتوں کو جنہیں تم ماں کے برابر کہہ دو تمہاری ماں نہ بنایا اور نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے اور اللہ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے۔ 33:4

 انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچا زاد اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو نا دانستہ تم سے صادر ہوا ہاں وہ گناہ ہے جو دل کے قصد سے کرو اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ 33:5

 اور اے محبوب! یاد کرو جب تم فرماتے تھے اس سے جسے اللہ نے اسے نعمت دی اور تم نے اسے نعمت دی کہ اپنی بی بی اپنے پاس رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور تم اپنے دل میں رکھتے تھے وہ جسے اللہ کو ظاہر کرنا منظور تھا اور تمہیں لوگوں کے طعنہ کا اندیشہ تھا اور اللہ زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا خوف رکھو پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے اور اللہ کا حکم ہوکر رہنا۔ 33:37

 مندرجہ بالا تینوں آیات سے ایک اہم نتیجہ ہم یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ہم گود لینے کے سلسلے میں ان میں سے کسی میں بھی "ممنوع" یا "نہ کرو" کے الفاظ نہیں دیکھتے۔

 اوپر کے پہلے زمرے میں ہم نے دیکھا ہے کہ اللہ نے جن چیزوں کو ممنوع قرار دیا ہے یا ہمیں جن سے باز رہنے کا حکم دیا ہے انہیں"ممنوع" یا "نہ کرو" جیسے دو فقروں کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مندرجہ بالا آیات میں گود لینے کی واضح طور پر ممانعت وارد نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی اس کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔

 خدا لوگوں کو ان احکامات سے متعلق سوال کرے گا جو قرآن میں تفصیل سے وارد ہوئے ہیں، اور اس کے لئے ضروری ہے کہ خدا کا قانون پوشیدہ، چھپے یا مبہم الفاظ کے بجائے واضح الفاظ میں پیش کیا جائے۔

 یہ آیتیں ہیں کتاب اور روشن قرآن کی ۔ 15:1

تیسرے:

 1- ہم آیت 33:5 کے درج ذیل حصے پر غور کرتے ہیں:

 انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو۔ 33:5

 اس بنیاد پر بعض علماء اس طرف گئے کہ یہ الفاظ گود لینے سے ممانعت پر دلالت کرتے ہیں۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ البتہ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ گود لیے ہوئے بچوں کو گود لینے والے افراد اپنا نام نہ دیں، اس سے گود لینے کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا حکم کیوں دیا یہ اس سے پہلے والی آیت میں بیان کیا جا چکا ہے۔

آیت 33:4 کہتی ہے کہ "اور (اللہ) نہ تمہارے لے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا۔"

 اس کا مطلب یہ ہے کہ گود لیے ہوئے بیٹے کبھی جینیاتی بیٹے نہیں ہو سکتے، اس لیے انہیں ان کے حقیقی باپوں کے نام بتائے جائیں۔

 یہ ہدایت صرف بچے کے نام سے متعلق ہے نہ کہ گود لینے کی قانونی حیثیت سے۔

 چوتھا:

 اسی آیت میں ہم "تمہارے لے پالک بیٹے" کے الفاظ دیکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ان الفاظ کا استعمال کرنا بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ گود لینا جائز ہے، ممنوع نہیں۔

 اگر گود لینا ممنوع ہوتا تو خدا "آپ کے لے پالک بیٹے" جیسے الفاظ استعمال ہی نہ کرتا بغیر اس بات کی نشاندہی کیے کہ یہ جائز نہیں ہے۔

 پانچواں:

 خدا اس وقت کس سے مخاطب تھا جب اس نے یہ کہا کہ ’’انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو‘‘؟ واضح ہے کہ یہ الفاظ صرف ان لوگوں کے لیے ہی ہو سکتے ہیں جنہوں نے درحقیقت بچے گود لیے ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ایسے منظر نامے میں جہاں گود لینا منع ہے اور وہاں کوئی گود لیے ہوئے بچے نہیں ہیں، تو ایسے میں تمام بچوں اور یتیموں کو خود بخود انکے باپ کا ہی نام دیا جائے گا (اگر وہ معلوم ہوں)۔ اور کسی کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ انہیں اپنا نام دے، اور اس صورت میں یہ حکم بے معنی ہو جائے گا۔

 تاہم، اگر گود لینا جائز ہو، تو گود لینے والے والدین کو اختیار ہوگا کہ وہ بچے کو وہ نام دی, جسے وہ پسند کرے، اور اسی وجہ سے خدا گود لینے والے والدین کو ہدایت دے رہا ہے کہ وہ بچے کا نام حقیقی باپ کے نام پر رکھیں۔

 چھٹا:

 اس بات کا مزید ثبوت کہ گود لینا خدا کو منظور ہے، اور یہ کہ یہ کبھی ممنوع نہیں رہا، درج ذیل آیت میں پایا جاتا ہے:

ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی کہ مسلمانوں پر کچھ حرج نہ رہے ان کے لے پالکوں (منہ بولے بیٹوں) کی بیبیوں میں جب ان سے ان کا کام ختم ہوجائے۔ 33:37

 حقیقت یہ ہے کہ خدا ایک ایسا قاعدہ ترتیب دے رہا ہے جو گود لیے ہوئے بیٹوں کی سابقہ بیویوں پر لاگو ہوتا ہے، جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ گود لینا خدا کو منظور ہے۔ اگر گود لینے کی ممانعت ہوتی تو جائز "لے پالک بیٹے" اور "ان کے لے پالک بیٹوں کی بیویاں" نہیں ہوتیں۔ کیونکہ خدا ایسے لوگوں کے معاملات کو منظم کرنے کے لیے کوئی قانون نہیں بنائے گا جن کا وجود ہی ناجائز ہے۔

 ساتواں:

 جب ہم ایسے علماء کے دلائل کا بغور مطالعہ کرتے ہیں جو گود لینے کی ممانعت کے قائل ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان "مسائل" کا حوالہ دیتے ہیں جو گود لینے کی اجازت دیے جانے کی صورت میں پیدا ہونے والے ہیں۔

 جبکہ معاملہ یہ ہے اس طرح کے مسائل دوسرے جعلی قواعد و ضوابط کی پیداوار ہیں جن کا خدا کی کتاب سے کوئی تعلق نہیں ہے، لہذا آئیے ان کا جائزہ لیں:

مسئلہ 1

 بعض علماء کا دعویٰ ہے کہ گود لینا ممنوع ہے کیونکہ جب گود لیا ہوا بیٹا جوان ہو جائے گا تو اس سے مسئلہ پیدا ہو گا۔

 خاندانی ماحول میں، بیویوں اور خواتین کو گھر میں حجاب پہننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ اس وقت تک چلے گا جب گود لیا بیٹا بڑا نہیں ہوا۔ تاہم، بیٹے کے بلوغت کو پہنچنے کے بعد، ماں اور بہنوں کا اس کے سامنے بغیر حجاب کے گھر میں آنا (ان کا دعویٰ ہے) ناجائز ہوگا۔

 جیسا کہ ہم جانتے ہیں، حجاب کبھی بھی قرآن میں خدا کا نازل کردہ حکم نہیں رہا، لہٰذا، یہ نام نہاد "مسئلہ" درحقیقت ایک اور غیر قرآنی قانون سے ماخوذ ہے۔ یہ ایک جعلی قانون کا معاملہ ہے جو دوسرے جعلی اور بے بنیاد قانون کو جنم دیتا ہے۔

 مسئلہ 2

دوسرا مسئلہ جس کا وہ دعوی کرتے ہیں کہ پیدا ہو گا اگر گود لینے کی اجازت دی جائے، یہ ہے کہ گود لیے ہوئے بچوں کو قرآن میں وراثت کا حق حاصل نہیں ہے، اور اگر گود لینے کی اجازت دی جائے تو ایسے گود لیے ہوئے بچوں کو وہ حق دینا لازم آئے گا جو ان کا نہیں ہے۔

  یہ مسئلہ بھی فرضی ہے.

 یہ درست ہے کہ گود لیے ہوئے بچوں کو وراثت کا حق حاصل نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے:

 1- آیت 4:11 جود بخود وراثت کا حق 'اولادکم' (تمہارے بچوں) کو دیتی ہے۔

 2- ایت 33:4 کے الفاظ کہتے ہیں:

 نہ تمہارے لے پالکوں 'أَدۡعِيَآءَكُمۡ' کو تمہارا بیٹا بنایا۔ 33:4

 یعنی چونکہ گود لیے ہوئے بچے کبھی حقیقی بیٹے نہیں ہو سکتے، اس لیے انہیں وراثت کا حق حاصل نہیں ہوتا۔

 یہ کسی بھی طرح سے کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ خدا نے ہر شخص کو "والدین اور قریبی لوگوں" کے لئے وصیت لکھنے کی اجازت دی ہے (2:180)۔

 2:180 میں استعمال ہونے والا لفظ "الاقربین" ہے۔ یہ لفظ "ذوی القربیٰ" جیسا نہیں ہے جو قرآن میں استعمال ہوا ہے۔

 1- "الاقربین" سے مراد قریبی لوگ ہیں، وہ خاندان والے بھی ہو سکتے ہیں اور خاندان کے باہر والے بھی۔

 2- ذوی القربیٰ سے مراد خون کے رشتے ہیں۔

 اللہ نے 2:180 میں لفظ "الاقربین" استعمال کرنے میں احتیاط کا مظاہرہ کیا تاکہ ہر وصیت کرنے والے کو کسی قریبی کے لیے وصیت کرنے کی اجازت دی جا سکے، جو خون کا رشتہ، دوست اور پڑوسی وغیرہ ہو سکتا ہے۔

 یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ خدا نے ادائیگی میں وصیت کو ترجیح دی۔ جب کوئی شخص مر جاتا ہے، تو سب سے پہلے اسے ادائیگی کی جائے گی جس کے حق میں میت کی وصیت ہے اور اس کے بعد قرض ادا کیا جائے گا۔ ان کی ادائیگی کے بعد، اگر کوئی رقم باقی رہ جاتی ہے، تو اسے 4:11، 4:12 اور 4:176 کے اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔

ان آیات میں ہم یہ حکم پاتے ہیں:

 بعد اس وصیت کے جو کر گیا اور دین کے۔ 4:11

 وصیت کرنے والے کی جائیداد کے حوالے سے خدا نے کبھی بھی زیادہ سے زیادہ کی مقدار معین نہیں کہ وصیت کرنے والا اپنی وصیت میں اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔ "ایک تہائی" کی عائد کردہ پابندی غیر قرآنی اور غیر قانونی ہے۔

 قرآن تمام لوگوں کو موافق دستور وصیت لکھنے کا حکم دیتا ہے:

 وصیت موافق دستور لکھی جائے۔ 2:180

 درحقیقت، جب تک وصیت کرنے والا موافق دستور وصیت کرتا ہے، وہ اپنے مال کا جتنا بھی حصہ چاہے گود لیے ہوئے بیٹے یا بیٹی کو دینے کے لیے آزاد ہے۔

 یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ خُدا کا قانون ہمیشہ انصاف پر مبنی رہا ہے اور اس کے اطلاق میں کبھی کوئی پریشانی نہیں آتی۔ علماء کرام جن نام نہاد مسائل کی بات کرتے ہیں وہ دوسرے غیر قرآنی قوانین و ضوابط کی پیداوار ہیں جو وضع کیے گئے ہیں اور جو قرآن پاک میں بھی موجود نہیں ہیں۔

 English Article: The Position Of The Quran Regarding Adoption

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/quran-adoption/d/130909

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..