New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 12:55 AM

Urdu Section ( 28 Aug 2019, NewAgeIslam.Com)

War Mongering is Not Jihad--Part-1 جہاد کے نام پر دہشت گردی کا شکار نہ بنیں مسلم نوجوان

 

 

مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

28 اگست 2019

ارشاد ربانی ہے:

وَقَاتِلُوافِيسَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَيُقَاتِلُونَكُمْوَلَاتَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّالْمُعْتَدِينَ (2:190)

ترجمہ: اور اﷲ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو، بیشک اﷲ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ عرفان القرآن

تاریخی شواہد و حقائق سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ جہاد کی اجازت انتہائی ناگفتہ بہ حالات کے تحت اپنے وجود کی بقاء (Existential Survival)کے لئےدی گئی تھی ۔ اس سے قبل تقریباً پندرہ برسوں تک مٹھی بھر مسلمانوں کو مشق ستم بنایا گیا تھا۔ ان کے لئے دشمنوں نے عرصہ حیات تنگ کر دیا تھا۔ ظلم کی ایسی کون سے تصویر ہوگی جس سے ان کی خستہ حالی کی عکاسی نہ ہوتی ہو۔ لیکن اس دوران جب بھی اللہ کا کلام نازل ہوا مسلمانوں کو صبر، ثابت قدمی اور عفو و درگزر کی ہی تعلیم دی گئی اور جس حد تک ممکنتھا مسلمانوں کو جنگ و جدال سے دور ہی رکھا گیا ۔

ایک معروف سنی صوفی عالم دین پیر کرم شاہ ازہری اپنی مایہ ناز تصنیف ضیاء القرآن میں رقم طراز ہیں’’حضرت بلال کو دہکتے ہوئے انگاروں پر لٹایا گیا تھا۔ حضرت یاسر اور حضرت سمیہ کو برچھیوں سے زخمی کر دیا گیا تھا۔ غربا اور کمزوروں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اور متمول خاندان کے لوگ بھی ان کے ظلم و ستم سے محفوظ نہیں تھے۔ حضرت عثمان کے چچا آپ کو جانوروں کی جلد میں لپیٹ کر آپ پر انگارے برساتے ہوئے سورج کی تپش میں چھوڑ دیا کرتے تھے۔ جان پگھلا دینے والی سورج کی تپش اور کھال کیبدبو سے ان کا دم گھٹنے لگتا اور وہ سخت تکلیف اور اذیت کی کیفیت میں مبتلاہو جاتے۔ اسی طرح ایک مرتبہ حضرت ابو بکر پر بھی اسی طرح ظلم کی داستان دہرائی گئی تھی جس کی وجہ سے آپ کافی دیر تک بے ہوش پڑے رہے۔

 جسمانی اذیت رسانیوں کے علاوہ بات بات پر مذاق ، ہر آیت پر اعتراض، ہر حکم شریعت پر آواز کسے جاتے۔ غرضیکہ کفر کے ترکشِ جور و جفا میں جتنے تیر تھے سب چلائے گئے۔ باطل کے اسلحہ خانہ میں جس جس قسم کا اسلحہ تھا سب ہی آزمایا گیا۔ ان دل آزاریوں، ستم شعاریوں، اور مجروح دلوں پر نمک پاشیوں کا سلسلہ سال دو سال نہیں بلکہ پورے تیرہ سال شدت کے ساتھ جاری رہا۔ اس کے باوجود مظلوموں کو ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہ تھی۔ انہیں ان کے رب کا یہ حکم تھا کہ صبر اور ضبط سے کام لیں اور کسی طرح کی جوابییا انتقامی کاروائی نہ کریں۔ نبوت کے تیرہویں سال ہجرت کی اجازت ملی۔ حضور ﷺ اور صحابہ کرام مکہ سے ڈھائی تین سو میل دور ‘یثرب’ نامی ایک بستی میں جمع ہو گئے۔ لیکن کفار مکہ کی آتشِ غضب اب بھی سرد نہ ہوئی۔ یہاں بھی مسلمانوں کو چین کا سانس نہ لینے دیا۔ دس دس بیس بیس کافروں کے جتھے آتے۔ مکہ کی چراگاہوں میں اگر کسی مسلمان کے مویشی چر رہے ہوتے تو انہیں لے اڑتے۔ اکا دکا مسلمان مل جاتا تو اسے بھی قتل کرنے سے باز نہ آتے۔

چودہ پندرہ سال تک صبر و ضبط سے مظالم برداشت کرنے والوں کو آج اجازت دی جا رہی ہے کہ تم اپنی مدافعت کے لئے ہتھیار اٹھا سکتے ہو۔ کفر کے ظلم کی انتہا ہو گئی ہے۔ باطل کی جفاکشیاں حد سے بڑھ گئی ہیں۔ اب اٹھو ان سرکشوں اور مئے پندار سے مدہوش کافروں کو بتا دو کہ اسلام کا چراغ اس لئے روشن نہیں ہوا کہ تم پھونک مار کر اسے بجھا دو۔ حق کا پرچم اس لئے بلند نہیں ہوا کہ تم بڑھ کر اسے گرا دو۔ یہ چراغ اس وقت تک فروزاں رہے گا جب تک چرخ نیلوفری پر مہر و ماہ چمک رہے ہیں۔ (ضیاء القرآن ،جلد 3؛ ص ۔218)‘‘

یہ ہے وہ تاریخی پس منظر جس کی بنیاد پر مسلمانوں کو اپنے وجود کی بقاء اور اپنے بنیادی انسانی حقوق کی باز یابی کے لئے جہاد کی اجازت دی گئی تھی۔ لیکن جہادکی یہ اجازت بھی شتر بے مہار کی مانند بے لگام نہیں تھی بلکہ اس کے لئےبھی اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے حدود ، قیود اور شرائط بیان کر دئے تھے، مثلاً درج ذیل احکام و ہدایات ملاحظہ ہوں؛

(1) "کسی بھی بچے ، کسی عورت ، یا کسی بڑے یا بیمار شخص کو نہ مارو۔" (سنن ابو داؤد)

(2) "غدارییا مثلہ مت کرو۔ (مؤطا امام مالک)

(3) "گاؤں اور شہروں کو تباہ نہ کرو، کھیتوں اور باغوں کو ویران نہ کرو اور مویشیوں کو قتل نہ کرو۔" (صحیح بخاری ؛ سنن ابو داؤد)

(4) "پادریوں اور راہبوں کو نہ مارو ، اور انہیں بھی قتل نہ کرو جو عبادت گاہوں میں پناہ لیں۔ (مسند احمد بن حنبل )

(5) "پیڑ پودھوں یا پھلدار درختوں کو نہ کاٹو اور نہ ہی انہیں نذر آتش کرو۔ (المؤطا)

(6) "دشمن کے ساتھ نبردآزمائی کی خواہش نہ کرو؛ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے؛ لیکن اگر تم ان کے ساتھ لڑنے پر مجبور ہو ہی جاؤ تو صبر سے کام لو۔ "( صحیح مسلم)

(7) "آگ میں جلا کر صرف اللہ ہی سزا دے سکتا ہے۔" ( سنن ابو داؤد )۔

[ماخذ http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/refuting-the-jihadist-interpretation-of-surah-nisa---verse-89--انتہا-پسندوں-کے-ذریعے-کی-گئی-سورہ-النساء-کی-آیت-۸۹-کی-تشریح-کا-رد-بلیغ/d/115046]

 لیکن وقت کی یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ اب وہ دہشت گرد تنظیمیں جن کا کام ہی جنگ و قتال کی تجارت (war mongering)کرنا اور لوگوں کو راہ حق و ہدایت سے برگشتہ کرنا ہے، نت نئے انداز میں لوگوں کو دین امن و محبت (اسلام)سےپھیرنےاور اس روئے زمین کو شر و فساد اور قتل و غارت گری کی اماجگاہ بنانے میں سرگرداں ہیں ۔ اس لئے کہ وہ جہاد کی ایسی ایسی شکلیں اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانے کے ایسے ایسے حیلے اور بہانے تلاش کر رہے ہیں جو پوری انسانیت کے لئے خطرناک اور ہماری اس دنیا کی امن و سلامتی کو تہ و بالاکر دینے کے لئے کافی ہیں ۔ان تخریبی عناصر کی یہ دہشت گردانہ ذہنیت اس لئے انسانی بھائی چارے اور آپسی اخوت و محبت کے لئےسم قاتل ہے کہ وہ اس دہشت گردانہ جنگ کی تجارت دین اور مذہب کے نام پر کر رہے ہیں۔وہ دین کا چولا پہن کر دہشت گردی کا زہر بیچ رہے ہیں ۔ایک دہشت گرد نظریہ ساز اور طالبانی عالم یوسف العبیریاپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

 "لہذا، شریعت کے دلائل کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس کسی نے بھییہ کہا ہے کہ نیویارک اور واشنگٹن میں امریکیوں کو قتل کرنا غیر قانونی ہے وہ شریعت کی باریکیوں سے نا آشنا ہے اور اندھیرے میں تیر چلا رہا ہے۔ اس کییہ بات جہالت اور بے خبری پر مبنی ہے۔ دشمنوں کو جلا کر یا ڈبو کر مارنے اور انہیں قید کرنے کے لئے عمارتوں کو تباہ کرنے یا نقصان پہنچانے یا دشمنوں کو خوفزدہ کرنے سے اکثر علمائے اسلام اتفاق رکھتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کا بھییہی عمل رہا ہے ۔ پھر کس طرح امریکیوں کی محبت میں کوئی اندھا شخص کسی ایسے مسئلہ کو سوالات کی زد میں لا سکتا ہے جو قرآن اور حدیث سے مصدق و مؤئد ہے ۔ "( نوائے افغان جہاد، جنوری 2013)

 [ماخذ: http://www.newageislam.com/urdu-section/sultan-shahin,-founder-editor,-new-age-islam/do-not-repeat-the-mistakes-of-1989طالبان-کو-واپسی-کی-اجازت-دیکر-1989کی-غلطیاں-نہ-دہرائی-جائیں،-سلطان-شاہین-ایڈیٹر-نیو-ایج-اسلام-کی-جینوا-میں-بین-الاقوامی-برادری-سے-خطاب/d/118088]

شیخ یوسف العبیری کے ان کلمات کو دہشت گردی کا زہر میں نے اس لئے کہا کیوں کہ انہوں نے اپنے درج بالا بیان میں بے دریغ قتل کی حمایت کی ہے اور ایک ایسے قتلِ عام کی تائید اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے حوالے سے پیش کرنے کی کوشش کی ہے جسےقرآن نے فساد فی الارض اور اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ جنگ مول لینا قرا ر دیا ہے۔

ارشاد ربانی ہے؛

مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا ۚ وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم بَعْدَ ذَٰلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ (32) إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ (33) إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ ۖ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (المائدہ :34)

ترجمہ: اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر (نازل کی گئی تورات میںیہ حکم) لکھ دیا (تھا) کہ جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانےیعنی خونریزی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کی سزا) کے (بغیر ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے اسے (ناحق مرنے سے بچا کر) زندہ رکھا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو زندہ رکھا (یعنی اس نے حیاتِ انسانی کا اجتماعی نظام بچا لیا)، اور بیشک ان کے پاس ہمارے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے پھر (بھی) اس کے بعد ان میں سے اکثر لوگ یقیناً زمین میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں - بیشک جو لوگ اﷲ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں (یعنی مسلمانوں میں خونریز رہزنی اور ڈاکہ زنی وغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں) ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کئے جائیںیا پھانسی دیئے جائیںیا ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹے جائیںیا (وطن کی) زمین (میں چلنے پھرنے) سے دور (یعنی ملک بدر یاقید) کر دیئے جائیں۔ یہ (تو) ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے - مگر جن لوگوں نے، قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پا جاؤ، توبہ کرلی، سو جان لو کہ اﷲ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔عرفان القرآن

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/war-mongering-is-not-jihad--part-1--جہاد-کے-نام-پر-دہشت-گردی-کا-شکار-نہ-بنیں-مسلم-نوجوان/d/119593

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..