New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 01:48 AM

Urdu Section ( 26 Jul 2019, NewAgeIslam.Com)

Source of Divine Guidance is Quran and the Guide is Allah—Conclusion مصدر رشد و ہدایت قرآن ہے


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

25 جولائی 2019

اس سے قبل کہ گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھے ابوالبشر حضرت  سیدنا آدم علیہ السلام کے ساتھ ایک شیطانی مکر کی داستان بزبان قرآن ملاحظہ کریں ، ارشاد ربانی ہے؛

وَيَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ (19) فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِن سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ (20) وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ (21) فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ (7:22)

ترجمہ: اے آدم! تم اور تمہاری زوجہ (دونوں) جنت میں سکونت اختیار کرو سو جہاں سے تم دونوں چاہو کھایا کرو اور (بس) اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ تم دونوں حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے ہو جاؤ گے - پھر شیطان نے دونوں کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ ان کی شرم گاہیں جو ان (کی نظروں) سے پوشیدہ تھیں ان پر ظاہر کر دے اور کہنے لگا: (اے آدم و حوا!) تمہارے رب نے تمہیں اس درخت (کا پھل کھانے) سے نہیں روکا مگر (صرف اس لئے کہ اسے کھانے سے) تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے (یعنی علائقِ بشری سے پاک ہو جاؤ گے) یا تم دونوں (اس میں) ہمیشہ رہنے والے بن جاؤ گے (یعنی اس مقامِ قرب سے کبھی محروم نہیں کئے جاؤ گے)  - اور ان دونوں سے قسم کھا کر کہا کہ بیشک میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں - پس وہ فریب کے ذریعے دونوں کو (درخت کا پھل کھانے تک) اتار لایا، سو جب دونوں نے درخت (کے پھل) کو چکھ لیا تو دونوں کی شرم گاہیں ان کے لئے ظاہر ہوگئیں اور دونوں اپنے (بدن کے) اوپر جنت کے پتے چپکانے لگے، تو ان کے رب نے انہیں ندا فرمائی کہ کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت (کے قریب جانے) سے روکا نہ تھا اور تم سے یہ (نہ) فرمایا تھا کہ بیشک شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے ۔عرفان القرآن

یہ قرآن مقدس کے اندر موجود ایک ایسی تاریخی مثال ہے جو ہمارے سامنے ہمارے ازلی دشمن کو بے نقاب کرتی ہے اور اس کے پر مکر و پر فریب حربوں کو طشت از بام کر کے رکھ دیتی ہے۔ اسے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان شیطان کے رنگ برنگے حربوں کو اچھی طرح سمجھ لے اور اس کے دام مکر و فریب کا شکار ہونے سے خود کو بچا لے۔

قرآن کی مندرجہ بالا آیات سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ آدم کا معاملہ تھا اور وہ جنت کی بات تھی ، اس دنیا کی نہیں ، اور  یہ استدلال نہ کیا جائے کہ اس دنیا میں ایسے شیاطین کا کوئی وجود ہے، لہٰذا ہم اس طرح کے شیطانی فتنوں اور وسوسوں سے بالکل آزاد ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن میں اللہ کی واضح تنبیہ موجود ہے کہ جس طرح وہ تمہارے باب حضرت آدم علیہ السلام کو بہکانے میں کامیاب ہوا تھا کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں بھی اپنے حربوں کا شکار بنا لے اور تمہاری دنیا  و آخرت تباہ و برباد کر دے، لہٰذا زندگی کے ہر موڑ پر اس شیطانی قوت سے ہوشیار رہو اور اللہ کے ذکر کو حرز جان بنا لو، ارشاد ربانی ہے؛

يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا ۗ إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِينَ أَوْلِيَاءَ لِلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ (7:27)

ترجمہ: اے اولادِ آدم! (کہیں) تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈال دے جس طرح اس نے تمہارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا، ان سے ان کا لباس اتروا دیا تاکہ انہیں ان کی شرم گاہیں دکھا دے۔ بیشک وہ (خود) اور اس کا قبیلہ تمہیں (ایسی ایسی جگہوں سے) دیکھتا (رہتا) ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ بیشک ہم نے شیطانوں کو ایسے لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔ عرفان القرآن

مکر ، جھوٹ اور فریب شیطانی حملوں میں سے ایک

جب ہم شیطان اور راہ ہدایت سے برگشتہ کرنے میں اس کے حیلوں اور بہانوں کی باتیں کرتے ہیں تو نیچر (Nature) پر یقین رکھنے والوں کا ایک طبقہ ایسی باتوں کو یکسر خارج کرتا ہے  جس میں بلاشبہ مسلمانوں کا بھی ایک طبقہ شامل ہے جو شیاطین ، فرشتے اور اجنہ وغیرہ جیسی غیر مادی اور غیر مرئی حقائق کا انکار کرتے ہیں۔ اور اس جگہ میرے مخاطب ایسے ہی کلمہ گو حضرات ہیں جو قرآن کو تو اللہ کا کلام مانتے ہیں لیکن ان حقائق کا انکار کرتے ہیں جن کا واضح ذکر قرآن میں ہے۔ ان سے میری یہی گزارش ہے کہ اگر وہ منزل مقصود تک پہونچنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اس غیر مرئی مخلوق کے وجود کو تسلیم کریں جس کا کام ہی بندوں کو اللہ کے راستے سے ہٹانا اور انہیں طرح طرح کے حیلوں اور حربوں سے کفر و معصیت کے دلدل میں گرانا ہے۔  اس لئے کہ جب تک ہم برائی اس قوت کو تسلیم نہیں کرتے تب تک اس سے بچنے کے لئے کوئی تدبیر بھی نہیں کر سکتے۔  اگر برائی کی ایسی قوتیں ہمارے دائرہ ادراک اور قوت فہم سے وراء ہوں تب بھی محض اس بنیاد پر ہمیں ایسی قوتوں کو تسلیم کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے کہ خالق کائنات نے معصیت و نافرمانی پر ابھارنے والی ایسی قوتوں سے آگاہ کیا ہے۔

ارشاد ربانی ہے

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (16) إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ (17) مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ (50:18)

ترجمہ: اور بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اُن وسوسوں کو (بھی) جانتے ہیں جو اس کا نفس (اس کے دل و دماغ میں) ڈالتا ہے۔ اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں - جب دو لینے والے (فرشتے اس کے ہر قول و فعل کو تحریر میں) لے لیتے ہیں (جو) دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہوئے ہیں - وہ مُنہ سے کوئی بات نہیں کہنے پاتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لئے) تیار رہتا ہے۔عرفان القرآن

اور وہ وسوسے ڈالتا کون ہے اس آیت کریمہ میں دیکھیں؛

وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ (6:121)

ترجمہ: اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں (وسوسے) ڈالتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم ان کے کہنے پر چل پڑے (تو) تم بھی مشرک ہو جاؤ گے۔ عرفان القرآن

بلکہ اسی دنیا میں کچھ لوگ اس کی ساتھی بھی ہیں، ارشاد ربانی ہے؛

هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ (221) تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ (222) يُلْقُونَ السَّمْعَ وَأَكْثَرُهُمْ كَاذِبُونَ (26:223)  

ترجمہ: کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں - وہ ہر جھوٹے (بہتان طراز) گناہگار پر اترا کرتے ہیں - جو سنی سنائی باتیں (ان کے کانوں میں) ڈال دیتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔ عرفان  القرآن

جو اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاتے ہیں شیطان ان کا ساتھی بن جاتا ہے جو انہیں گمراہ کرتا رہتا ہے درآنحالیکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں۔

وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ (36) وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ (43:37)

ترجمہ: اور جو شخص (خدائے) رحمان کی یاد سے صرف نظر کر لے تو ہم اُس کے لئے ایک شیطان مسلّط کر دیتے ہیں جو ہر وقت اس کے ساتھ جڑا رہتا ہے - اور وہ (شیاطین) انہیں (ہدایت کے) راستہ سے روکتے ہیں اور وہ یہی گمان کئے رہتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔

شیاطین اپنے دوستوں کو ایمان والوں سے لڑنے جھگڑنے پر ورغلاتے ہیں ؛ قرآن کہتا ہے:

وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ (6:121)

ترجمہ: اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں (وسوسے) ڈالتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم ان کے کہنے پر چل پڑے (تو) تم بھی مشرک ہو جاؤ گے۔ عرفان القرآن

مذکورہ بالا آیت 43:37سے یہ امر بالکل واضح ہے کہ شیطان ان کا دوست بن جاتا ہے جو اللہ کے ذکر سے غفلت کو اپنا شعار زندگی بنا لیتے ہیں۔لہٰذا نیک بندوں کے لئے اس آیت میں یہ پیغام ہے کہ انہیں بھی شیطانی حربوں سے غافل نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ جیسا شکار ہو شکاری کی چال بھی ویسی ہی ہوتی ہے ۔ وہ اللہ کے نیک بندوں کو ابتداءً طرح طرح کے حیلوں ، بہانوں اور وسوسوں کے ذریعہ اللہ کی یاد سے غافل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جب اسے اس مشن میں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے اور وہ نیک بندے جب اللہ کی یاد سے غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں تو پھر شیطان ان کا ساتھی بن جاتا ہے ، یعنی وہ ہمیشہ ان پر مسلط رہتا ہے اور مسلسل اللہ کی یاد سے بندے کو غافل رکھنے اور معصیت و نافرمانی کے ارتکاب میں مبتلاء کرنے کے لئے نئے نئے حربے ان پر آزماتا رہتا ہے۔ اور جن کی زندگی اسی طرح غفلتوں میں بسر ہو گئی ان کے لئے اللہ کا کھلا پیغام ہے؛

وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَىٰ (124) قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِي أَعْمَىٰ وَقَدْ كُنتُ بَصِيرًا (125) قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ آيَاتُنَا فَنَسِيتَهَا ۖ وَكَذَٰلِكَ الْيَوْمَ تُنسَىٰ (126) وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِن بِآيَاتِ رَبِّهِ ۚ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَىٰ (20:127)

ترجمہ: اور جس نے میرے ذکر (یعنی میرییاد اور نصیحت) سے روگردانی کی تو اس کے لئے دنیاوی معاش (بھی) تنگ کردیا جائے گا اور ہم اسے قیامت کے دن (بھی) اندھا اٹھائیں گے - وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے (آج) اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں (دنیا میں) بینا تھا - ارشاد ہوگا: ایسا ہی (ہوا کہ دنیا میں) تیرے پاس ہماری نشانیاں آئیں پس تو نے انہیں بھلا دیا اور آج اسی طرح تو (بھی) بھلا دیا جائے گا - اور اسی طرح ہم اس شخص کو بدلہ دیتے ہیں جو (گناہوں میں) حد سے نکل جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، اور بیشک آخرت کا عذاب بڑا ہی سخت اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔عرفان القرآن

از راہ نصیحت قرآن کے یہ پیغامات بھی ملاحظہ ہوں:

يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ (6) الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ (7) فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ (82:8)

ترجمہ: اے انسان! تجھے کس چیز نے اپنے ربِ کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا جس نے (رحم مادر کے اندر ایک نطفہ میں سے) تجھے پیدا کیا، پھر اس نے تجھے (اعضا سازی کے لئے ابتداءً) درست اور سیدھا کیا، پھر وہ تیری ساخت میں متناسب تبدیلی لایا جس صورت میں بھی چاہا اس نے تجھے ترکیب دے دیا۔ عرفان القرآن

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ وَاخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِي وَالِدٌ عَن وَلَدِهِ وَلَا مَوْلُودٌ هُوَ جَازٍ عَن وَالِدِهِ شَيْئًا ۚ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَلَا يَغُرَّنَّكُم بِاللَّهِ الْغَرُورُ (31:33)

ترجمہ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہیں دے سکے گا اور نہ کوئی ایسا فرزند ہوگا جو اپنے والد کی طرف سے کچھ بھی بدلہ دینے والا ہو، بیشک اﷲ کا وعدہ سچا ہے سو دنیا کی زندگی تمہیں ہرگز دھوکہ میں نہ ڈال دے، اور نہ ہی فریب دینے والا (شیطان) تمہیں اﷲ کے بارے میں دھوکہ میں ڈال دے۔عرفان القرآن

ان آیات قرآنیہ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر ہم شیطانی وسوسوں اور حربوں سے خود کو بچا لیں اور اللہ کے ذکر کو حرز جان بنا لیں اور اس کی نصیحتوں کو  ہمیشہ یاد رکھیں تو دونوں جہانوں کی کامیابی ہمارے قدم چومے گی ورنہ سوائے ہلاکت و تباہی کے ہمارا انجام کچھ بھی نہیں۔

URL for Part-1: http://newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/source-of-divine-guidance-is-quran—part-1--مصدر-رشد-و-ہدایت-قرآن-ہے/d/119289

URL for Part-2: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/source-of-divine-guidance-is-quran-and-the-guide-is-allah—part-–2--مصدر-رشد-و-ہدایت-قرآن-ہے/d/119300

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/source-of-divine-guidance-is-quran-and-the-guide-is-allah—conclusion--مصدر-رشد-و-ہدایت-قرآن-ہے/d/119312

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..