New Age Islam
Sat Apr 10 2021, 06:31 PM

Urdu Section ( 9 Oct 2016, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Morality of Good Conduct, and Social Services بَہارِ ادب: آدابِ خدمت

 

 

 

 

 

مصباح الہدیٰ قادری، نیو ایج اسلام

(قسط :2)

تقدیم

گزشتہ تحریر میں ہم نے دین اسلام میں حسن ادب، حسن خلق، حسن معاملہ اور حسن معاشرت کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی اور اسے قرآن ، حدیث، اقوال صحابہ، اقوال ائمہ کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی۔ اور صالحین اور اکابرین امت کی زندگیوں سے اس کی چند مثالوں کا بھی ہم نے مطالعہ کیا۔ اب اس تحریر میں ہم حسن ادب، حسن خلق اور حسن معاملات کے چند گوشوں کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کریں گے اور اسے سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

آداب خدمت

یہ امر کسی سے مخفی نہیں ہے کہ مذہب، ذات، رنگ اور نسل سے قطع نظر خالصتاً لوجہ اللہ خدمت خلق جہاں ایک مہذب معاشرے کی علامت ہے وہیں یہ ایک بہت بڑی عبادت بھی ہے، اور بات اگر اسلامی نقطہ نظر (Islamic prospective) سے کی جائے تو خدمت خلق خود میں ایک اللہ کی انتہائی محبوب اور پسندیدہ عبادت ہے، یہاں تک کہ زکوٰۃ کا نظام جو کہ دین اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے اسی خدمت خلق کے تصور پر مبنی ہے اور اسلامی تعلیمات میں خدمت خلق پر اللہ کی بارگاہ میں عظیم الشان اور بے مثال انعامات کی بھی جا بجا بشارتیں وارد ہوئی ہیں۔ اس ضمن میں حضرت عبد اللہ بن مبارک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آداب خدمت یعنی خدمت کے آداب، اس کے لوازمات اور اس کے تقاضوں سے واقف ہونا اور ان کی رعایت کرنا کسی کی خدمت کرنے سے بھی زیادہ اہم اور ضروری ہے۔

 ہماری زندگی میں اکثر ایسے مواقع آتے ہیں کہ ہم اپنے معاشرے میں ایک دوسرے کی خدمت کرتے ہیں خواہ وہ ہمارے ماں باپ ہوں، بھائی بہن ہوں، ہمارے رشتہ دار ہوں یا ہمارے پڑوسی ہوں ، بیمار ضعیف ہوں یا ہمارے کوئی بڑے بزرگ ہوں ان تمام کی خدمت سے بھی زیادہ بڑا اور اعلیٰ مرتبہ ان کی خدمت کے آداب سے واقف ہونے اور ان کی خدمت میں ان آداب اور تقاضوں کی رعایت کرنے کا ہے۔ یعنی والدین کو یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ اپنی اولاد پر شفقت کرنے کا طریقہ کیا ہے، اولاد کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ والدین کا ادب و احترام اور ان کی فرمانبرداری کا طریقہ کیاہے، معاشرے کے ہر فرد کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پڑوسیوں کے ان پر کیا حقوق ہیں ان کے حقوق کو بحسن و خوبی ادا کرنے کا ادب کیا ہے، شاگرد کو یہ معلوم ہو نا چاہیے کہ استاذ کا ادب بجا لانے کا طریقہ کیا ہے، استاذ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ شاگردوں پر رحمت و شفقت کرنے اور ان کی تربیت کرنے کے آداب کیا ہیں، اللہ کے بندوں کو یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ اللہ کی بندگی کا ادب کیا ہے، اس کی بارگاہ میں سر تسلیم خم کرنے کا طریقہ کیا ہے اور اس کی رضا پر راضی رہتے ہوئے اس کی مخلوق کے ساتھ صبر و شکر اور احسان کا معاملہ کرنے کا سلیقہ اور ادب کیا ہے۔

 الغرض! ہر حق والے کو یہ معلوم ہونا انتہائی ضروری ہے کہ دوسروں کے جو حقوق اس پر ہیں ان حقوق کی ادائیگی کے آداب کیا ہیں، تبھی جا کر بندہ ان کی خدمت پر نیکوں کا حق دار ہوگا۔ ورنہ ہمارے معاشرے میں ایسے افراد بکثرت موجود ہیں جو نیکیاں تو جوش خروش کے ساتھ خوب کرتے ہیں مگر ان کے آداب سے ناواقف ہونے کی وجہ سے اپنی ان نیکیوں کو خود اپنے ہاتھوں سے تباہ و برباد کر دیتے ہیں اور اپنی قبر کو جہنم کی آگ سے بھرتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہم اکثر دوسروں کی مدد کرتے ہیں اور مصیبت کے وقت میں ان کی مدد کر کے ان پر احسان کر تے ہیں ۔ اس سلسلے میں دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔

جیسا کہ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے:

مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُنیاَ وَ مِنکُم مَن یُرِیدُ الآخرۃ(آل عمران:152)

ایک جو دنیاوی نام و نمود کے لیے نیک کام کرتے ہیں۔ اور دوسروں کے ساتھ بھلائی اور ان پر احسان اس لیے کہ کرتے ہیں کہ لوگ ان کا یہ عمل دیکھ کر ان کی تعریف کریں اور پوری دنیا میں ان کی خوب واہ واہی ہو، وہ اپنے نیک اعمال کا بدلہ دنیا والوں سے اسی دنیا میں چاہتے ہیں۔ اور جب ان کا مفاد پورا نہیں ہوتا تو سرعام اپنے احسانات کو جتلانا شروع کر دیتے ہیں۔ جن پر انہوں نے مصیبت کے وقت میں احسان کیا ہے ان کی عزت نفس اور اللہ کی رضاء و خوشنودی اور آخرت کے اجر کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔

جبکہ قرآن میں اللہ کا فرمان ہے:

یااَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡالَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰیۙ کَالَّذِ یۡیُنۡفِقُ مَالَہٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَلَا یُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِؕ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ صَفْوانٍ عَلَیۡہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلْدًاؕلَایَقْدِرُوُنَ عَلٰی شَیۡءٍ مِّمَّا کَسَبُوۡاؕوَاللہُ لَایَہۡدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیۡنَ۳،البقرة:۲۶۴)

ترجمہ:

اے ایمان والو! اپنے صدقات (بعد ازاں) احسان جتا کر اور دُکھ دے کر اس شخص کی طرح برباد نہ کر لای کرو جو مال لوگوں کے دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے اور نہ اﷲ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ روزِ قارمت پر، اس کی مثال ایک ایسے چکنے پتھر کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو پھر اس پر زوردار بارش ہو تو وہ اسے (پھر وہی) سخت اور صاف (پتھر) کر کے ہی چھوڑ دے، سو اپنی کمائیوں سے ان (ریاکاروں) کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا، اور اﷲ کافر قوم کو ہدایت نہیں فرماتا۔

اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

اللہ رب العزت قیامت کے دن تین قسم لے لوگوں سے نہ تو کلام فرمائے گا اور نہ ہی ان کی طرف رحمت کی نظر فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک فرمائے گا ا ور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا:

(۱)(تکبر سے)اپنا تہبند ٹکا کر چلنے والا

(۲)احسان کر کے جتلانے والا

(۳) جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنے (تجارت کرنے) والا ۔(مسلم)

ایک اور مقام پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ رب العزت ان تین لوگوں کی نہ تو فرض عبادتیں قبول فرمائےگانہ ہی نفلی عبادتیں قبول فرمائے گا:

(۱)والدین کا نافرمان

(۲)احسان جتلانے والا

(۳)تقدیر کو جھٹلانے والا۔(السنۃ لابن ابی عاصم)۔

ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ کا فرمان ہے:

کَلّاَ بَلْ تُحِبُوْنَ العَاجِلۃَ۔(سورۃ القیامۃ)

ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ تم جلد ملنے والی (دنیا ) کو محبوب رکھتے ہو۔

اوردوسرے وہ لوگ ہیں جو خدمت خلق میں اپنا وقت محض اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لیے صَرف کرتے ہیں اور مصیبت زدہ لوگوں پر بڑے بڑے احسانات کر کے بھول جاتے ہیں اور اپنی ان نیکیوں پر صرف آخرت میں اللہ کی بارگاہ سے اجر کی امید رکھتے ہیں۔

قرآن اس کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے:

اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (الانسان:9)

ترجمہ:

" ہم تو محض اللہ کی رضا کے لئے تمہیں کھلا رہے ہیں، نہ تم سے کسی بدلہ کے خواست گار ہیں اور نہ شکرگزاری کے (خواہش مند) ہیں"۔

لہٰذا، ثابت ہوا کہ حقوق العباد کی ادائیگی اور اس دنیا میں لوگوں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرنے کے آداب کا تقاضہ یہ ہے کہ جب ہم اللہ کے بندوں کے ساتھ کوئی نیکی کریں، ان کی مدد کریں یا ان پر کوئی احسان کریں تو اس پر ہمیں اجر کی امید آخرت میں صرف اللہ سے ہی رکھنی چاہیے۔ اس لیے کہ نیکیوں کے باب میں قرآن کے اندر اللہ نے بندوں کے ذہنی رجحان اور اس کے مقابلے میں اپنی منشاء کا ذکر اس انداز میں کیا ہے:

یُرِیدُونَ عَرَضَ الدُّنیا وَ اللہُ یُرِیدُ الآخِرَۃ(الانفال:67)

ترجمہ:

تم لوگ دنیا کا مال و اسباب چاہتے ہو، اور اللہ آخرت کی (بھلائی) چاہتا ہے، اور اللہ خوب غالب حکمت والا ہے۔

یہ آیت ایک لمحہ فکریہ ہے ان لوگوں کے لیے جو نیکیاں کرتے ہیں، دوسروں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں اور خدمت خلق کر کے ایک مہذب اور تعلیم یافتہ معاشرے کے ایک فرد ہونے کا ثبوت دیتے ہیں، اس کے باوجود دنیادی نام و نمود اور لوگوں کی جانب سے تعریف و توصیف کی خواہش رکھتے ہیں۔

URL for Part 1: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/beauty-of-ethics-and-respect--(بَہارِ-ادب--حسن-ادب-اور-حسن-خلق-(قسط-1/d/108770

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/morality-of-good-conduct,-and-social-services--بَہارِ-ادب--آدابِ-خدمت/d/108806

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..