New Age Islam
Sat Mar 14 2026, 11:36 AM

Urdu Section ( 8 Feb 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Meeting a Salafi Maulana ایک سلفی مولانا سے ملاقات

مشتاق الحق احمد سکندر، نیو ایج اسلام

 03 فروری 2023

 ایک سلفی مولانا کے ساتھ مذہبی مسائل پر گفتگو

 اہم نکات

1.      اکثر مولاناوں نے اسلام کی خدمت کرنے سے زیادہ اسے بدنام کیا ہے۔

2.      زیادہ تر سلفیوں کا یہ خیال ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے اور داڑھی منڈوانے یا تراشنے کی اسلام میں اجازت نہیں ہے۔

3.      سلفیوں نے امت کے درمیان تفرقہ کو ختم کرنے کے عظیم مقصد کے ساتھ آغاز کیا، لیکن بالآخر وہ امت کو متحد کرنے کے عمل میں خود ہی فرقہ واریت کا شکار ہو گئے۔

4.      کشمیر میں اسلام صوفیاء کی کوششوں سے پھیلا، جن کی سلفی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

 ....

 میں ہمیشہ مولاناوں سے ہوشیار رہا ہوں۔ اکثر مولاناوں نے اسلام کی خدمت کرنے سے زیادہ اسے بدنام کیا ہے۔ ایسا ہی ہوا کہ میں اپنے ایک دوست کے گھر تعزیت کے لیے گیا جس کے والد انتقال کر گئے تھے۔ وہاں میری ملاقات ایک مولانا سے ہوئی، جن کی بڑھی ہوئی داڑھی اور کٹی ہوئی مونچھیں دیکھ کر مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ سلفی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔

 یہ بات واقعی کافی دلچسپ ہے کہ داڑھی کی لمبائی سے ہی مسلمانوں کے فرقے کا پتہ چل سکتا ہے۔ زیادہ تر سلفیوں کا یہ خیال ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ہے اور داڑھی منڈوانے یا تراشنے کی اسلام میں اجازت نہیں ہے۔ اپنی نوعمری میں، میں نے مختار احمد سلفی کی ایک کتاب پڑھی جو ماہنامہ البلاغ اور اشاعتی ادارے الدارس السلفیہ کے ایڈیٹر تھے، اور کتاب کا عنوان تھا (داڑھی کے مسائل قرآن و سنت کی روشنی میں)۔

کتاب میں کی ساری دلیل اس بات پر تھی کہ تمام انبیاء کرام، ان کے صحابہ، علماء، مشائخ اور اللہ کے دوست داڑھی رکھتے تھے، اس لیے داڑھی کاٹنا گناہ اور حرام ہے۔ اس کتاب نے یقیناً میرے متاثر کن ذہن پر بہت زبردست اثر ڈالا۔ اس وقت میرا چہرہ لڑکوں جیسا تھا، لیکن میں نے پختہ عزم کر لیا تھا کہ ایک بار جب داڑھی بڑھ جائے تو اسے نہ تراشواؤنگا اور نہ ہی منڈواؤنگا۔ لہذا میں نے اپنے ہائی اسکول اور کالج کے دنوں میں لمبی داڑھی رکھی اور اب بھی میں نے کبھی کلین شیو نہیں کی ہے۔ اس کتاب کی وجہ سے میں نے ان مسلمانوں کی دینداری اور پارسائی پر سوالیہ نشان لگانا شروع کر دیا جو داڑھی نہیں رکھتے تھے، اس لیے جب بھی میں نے کسی کو اسلام کے بارے میں بات کرتے یا تبلیغ کرتے سنا تو مجھے اس بات پر غصہ آتا کہ اسے اسلام کے بارے میں بات کرنے یا تبلیغ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ کیونکہ اس کی داڑھی نہیں ہے، داڑھی میرے لیے مذہبیت کی علامت بن گئی۔

بعد میں مجھے یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ داڑھی تو فرقوں کی پہچان ہے، لمبی لمبی سلفیوں کی، چھوٹی جماعت اسلامی کی، بے ترتیب بریلویوں کی اور رنگی ہوئی داڑھی دیوبندیوں کی ہے۔ اس کے نا فرقوں نے رنگ بھی بانٹ لیے۔ بریلویوں کا سبز، دیوبندیوں کا سفید اور سلفیوں کا سیاہ۔ یہ بھی کافی دلچسپ ہے کہ۔ شیعوں میں سیاہ سیدوں کے لیے اور سفید غیر سیدوں کے لیے مخصوص ہے اور کوئی شیعہ اس تقسیم اور تفریق پر سوال نہیں اٹھا سکتا۔

اسلام کو گہرائی سے پڑھنے اور سمجھنے کے بعد، میں نے داڑھی والی شناخت کی اس ظاہری نمائش پر قابو پالیا۔ میں اس حقیقت کو سمجھ گیا کہ نجات داڑھی پر منحصر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کو ایسا کوئی پیمانہ نہیں دے گا کہ وہ داڑھی کی لمبائی ناپیں اور پھر مسلمانوں کو جنت میں داخل کریں۔ پس اسلام کسی اور شئی کا مطالبہ کرتا ہے جو کہ جنت کے وارث ہونے میں ہماری مدد کرے۔

 بعد میں جب گفتگو شروع ہوئی تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک مقامی سلفی مدرسہ میں استاد ہیں اور ایک مصنف بھی ہیں، علاوہ ازیں مقامی کشمیری زبان میں قرآن کا ترجمہ اور تفسیر بھی لکھتے ہیں۔ میں نے ان سے قرآن مجید کا کشمیری میں ترجمہ کرنے کی ضرورت کے بارے میں دریافت کیا جب کہ میر واعظ یوسف شاہ مرحوم سے منسوب ایک ترجمہ پہلے سے موجود ہے۔ اگرچہ میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ حنفی سوپوری نے قرآن کا ترجمہ کشمیری زبان میں کر کے میر واعظ کو پروف ریڈ کرنے اور نظر ثانی کرنے کے لیے دیا تھا، لیکن میر واعظ نے دھوکے اور سراسر ناانصافی سے اسے اپنے نام سے شائع کروا دیا۔ اس نے کہا نہیں، حنفی سوپوری نے نہیں بلکہ سری نگر کے مضافات میں رہنے والے نربل نامی کسی اور شخص نے وہ ترجمہ کیا اور میرواعظ کو سونپا تھا، جو ایک حنفی عالم تھا۔ جب میرواعظ کو کشمیر سے جلاوطن کیا گیا تو وہ یہ ترجمہ اپنے ساتھ لے گئے اور کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ چنانچہ اس نے اس وقت تک انتظار کیا جب تک کہ اصل عالم اور مترجم کی وفات نہ ہو جائے اور پھر اسے اپنے نام سے شائع کروایا۔ لیکن جو لوگ اس فکری سرقہ سے واقف ہیں وہ بھی کشمیریوں میں میرواعظ خاندان کے لیے عقیدت کے پیش نظر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔

 چونکہ میں سلفی منہج سے واقف ہوں، میں نے سلفی عالم سے امت کی تقسیم کے بارے میں مزید دریافت کیا۔ ہمیشہ کی طرح اس نے چار اماموں کی تقلید پر تنقید کی۔ لیکن میں نے اس طرح ان کی بات کا در کیا کہ میں نے کہا کہ سلفی یا اہل حدیث اگرچہ یکجہتی نہیں ہیں اب ایک فرقہ ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدا تو امت کے درمیان تفرقہ کو ختم کرنے کے عظیم مقصد سے کی تھی لیکن آخر کار وہ امت کو متحد کرنے کے عمل میں خود ہی فرقہ واریت کا شکار ہو گئے۔ چنانچہ بالآخر انہوں نے امت کو متحد کرنے کے بجائے مزید تقسیم کیا۔ مزید، میں نے ان سے مزارات اور عبادت گاہوں پر جانے کے بارے میں سوال کیا، کیونکہ یہ کشمیر میں ایک عام رواج ہے۔ نیز، یہ بھی کہا کہ کشمیر میں اسلام صوفیوں کی کوششوں کی وجہ سے پھیلا، جن کی سلفی سخت مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اسلام میں قبروں کی زیارت کی اجازت ہے لیکن میت سے دعا مانگنے اور دعا کرنے کی نہیں، میں نے اس فرق کے ساتھ اتفاق کیا کہ میت سے دعا مانگنا تو ہماری روزانہ کی نمازوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ میں باقاعدگی سے مزاروں پر جاتا ہوں، لیکن میں میت کمسے دعا نہیں مانگتا، بلکہ اللہ سے دعا مانگتا ہوں کہ وہ مجھے ایسی صفات حاصل کرنے کی توفیق دے جن سے میں ان جیسا نیک اور پرہیزگار مسلمان بن جاؤں۔

 پھر یہ سوال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف منتقل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم صحابہ سے سوال نہیں کر سکتے اور میں اس سے متفق نہیں ہوں کیونکہ صحابہ یک سنگی نہیں ہوتے۔ ان میں کئی قسمیں ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں ان میں سے صرف کچھ ہی راہ راست پر رہ گئے تھے۔ میں نے خلیفہ رسول حضرت علی رضی اللہ عنہ اور باغی سردار امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جنگ صفین کے بارے میں پوچھا۔ وہ میرے معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی کہنے پر ناراض ہو گئے، حالانکہ متعدد احادیث میں ان کے مسلمانوں اور اہل بیت کے خلاف جرائم کی تصریح موجود ہے۔ بچنے کے لیے اس نے عبداللہ بن صباح کا فتنہ نقل کیا۔ میرے نزدیک یہ بچنے کا حیلہ اور مضحکہ خیز بات ہے۔ اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ ہیں کہ ایک شخص یا اس کا نیٹ ورک صحابہ کرام اور تابعین کی پوری جماعت کو سبوتاژ کرنے کے لیے کافی تھا تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کی تربیت میں کچھ کمی ضرور تھی اور وہ اتنے صالح نہیں تھے جتنے کہ سلفی اور دوسرے فرقے کے لوگ انہیں پیش کرتے ہیں۔ جب ہم ان سب کو بے گناہ ہیں اور معصوم سمجھنا چھوڑیں گے تب ہی ہم مسلمانوں کو درپیش اصل مصائب کو سمجھ سکیں گے۔ سلفی یہ کہہ کر اپنا پلک جھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں صحابہ کے درمیان مشاجرات پر تنقید نہیں کرنی چاہیے، لیکن صرف ایک گروہ حق پر ہے اور وہ خلیفہ رسول امام علی رضی اللہ عنہ کا ہے، کسی اور کا نہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صحابہ سے زیادہ اپنے خاندان (اہل بیت) کی تعظیم کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن سلفی اہل بیت کو مجروح کرتے ہیں اور کچھ باغی صحابہ مثلاً معاویہ رضی اللہ عنہ کی حیثیت کو امام علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ ناصبی کے زمرے میں داخل ہو جاتے ہیں۔

 یہ رجحان اس لیے ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد ان کی اولاد نے اپنی جابرانہ حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے رقم، مال اور انسانوں کو غلط حدیثیں گڑھنے اور پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔ یہاں تک کہ اب بھی عرب ڈکٹیٹر اور بادشاہ پیٹرو ڈالر کے ذریعے معاویہ رضی اللہ عنہ کی تعظیم کے اس افسانے کو قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ان کی آمرانہ حکومت کو جواز پیدا کیا جا سکے کیونکہ معاویہ رضی اللہ عنہ اسلام کے پہلے بادشاہ اور آمر تھے۔ چنانچہ سلفی مولانا اموی حکومت اور اس کے بانی کے اہل بیت کے خلاف جرائم کے بارے میں میری بات کا جواب دینے یا اسے رد کرنے میں ناکام رہے۔ سلفیت کا مطلب مسلمانوں میں بادشاہت، آمریت اور اسلام کی یک سنگی تعلیم کو پھیلانا ہے اور یہ ناکام ہو چکا ہے۔

 ----------

English Article: Meeting a Salafi Maulana

 URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/meeting-salafi-maulana-islam-prophet-muhammad/d/129053

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..