New Age Islam
Wed Jun 03 2026, 06:50 PM

Urdu Section ( 19 Sept 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Manto's Two Short Stories منٹو کے دو افسانوں میں سماجی مسائل

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

19 ستمبر 2022

اردو کے لیجنڈری افسانہ نگار منٹو نے اپنے افسانوں کے ذریعہ سے اپنے وقت کے سماج کی نایمواریوں کے خلاف آواز اٹھائی اور انسانوں کے غلط طرز،فکروعمل پر تازیانہ لگایا۔ ان کے زیادہ تر افسانوں میں تقسیم ہند کے بعد رونما ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران انسانوں کے درندہ بن جانے اور انسانیت سوز مظالم ڈھانے کی حقیقت پسندانہ عکاسی کی گئی ہے۔ مگر ان کے بہت سے افسانے ایسے جن میں انہوں نے سماج کے عمومی مسائل ، عوام میں پھیلی ہوئی بد عقیدگی اور روایتی طرز فکر پر بھی آواز اٹھا ئی ہے اور انسانوں میں بدعقیدگی، اور دقیانوسی فکر کے  خلاف بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس سلسلے میں ان کے دو افسانے خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ اپنے افسانے شاہ دولہ کا چوہا اور یزید میں منٹو دو مسائل کو اٹھاتے ہیں۔ ایک ہے بدعقیدگی اور دوسرا دقیانوسی فکر۔

یہ دونوں افسانے پاکستان کے تناظر میں لکھے گئے ہیں ا س لئیے یقینی طور پر یہ افسانے تقسیم کے بعد کے ہیں اور منٹو کے پاکستان ہجرت کرجانے کے بعد تخلیق ہوئے ہیں۔

شاہ دولہ کا چوہا میں منٹو مسلمانوں میں بچے کی پیدائش کے متعلق بد عقیدگی کے مسئلے کو اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کے گجرات میں شاہ دولہ کا مزار ہے جہاں لاولد عورتیں اولاد کے لئے منت مانگنے آتی ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ شاہ دولہ کے مزار پر جاکر اولاد کی منت مانگنے سے اولاد مل جاتی ہے۔ مگر اس کے لئے پہلی اولاد کو شاہ دولہ کے مزار پر چڑھا دینا پڑتا ہے۔ ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اس منت کے نتیجے میں جو اولاد پیدا ہوتی ہے اس کا سر نسبتاًچھوٹا ہوتا ہے۔ ایسے بچے بڑے ہو کر دماغی طورپر کمزور ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں گجرات میں یہ بات مشہور ہے کہ منت کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے کے سر پر مزار کے مجاور ایک لوہے کا ٹوپ پہنا دیتے ہیں جس کی وجہ سے بچے کے سر کی با لیدگی رک جاتی ہے۔ اس کا سر اس کے جسم کے تناسب میں نہیں بڑھتا۔ نتیجے میں اس کی دماغی اور ذہنی بالیدگی رک جاتی ہے۔ وہ بچہ بڑا ہوکر پاگلوں کی سی حرکتیں کرتا ہے اور تماشہ دکھانے والے لوگ ان بچوں کو مزار سے خریدلیتے ہیں اور محلے محلے گھوم کر تماشہ دکھاتے ہیں اور روزی کماتے ہیں۔

بہرحال منٹو کے افسانے میں بچوں کے سر پر ٹوپ پہنانے کی روایت کا ذکر نہیں ہے۔

افسانے میں وہ سلیمہ نام کی ایک لاولد عورت کا ذکر کرتے ہیں جو ایک عورت کے کہنے پر شاہ دولہ کے مزار پر جاتی ہے اور منت مانگتی ہے۔ اس کے بعد اسے ایک بیٹا ہوتا ہے جسے وہ مزار پر چڑھادیتی ہے ۔ وہاں وہ ایک لڑکی کو دیکھتی ہے جو صحت مند تو ہوتی ہے مگر ا س کا سر چھوٹا ہوتا ہے اور وہ مضحکہ خیز حرکتیں کرتی ہے۔ اس طرح کے بچوں کو شاہ دولہ کا چوہا کہا جاتا ہے۔۔ وہ دل پر پتھر رکھ کر اپنے بیٹے کو مزار پر چڑھا دیتی ہے۔ اس بچے کی گال پر پیدائشی طور پر گول دھبہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد سلیمہ کے کئی بچے ہوتے ہیں مگر وہ اپنے پہلے بچے کو بھول نہیں پاتی ہے۔ ایک دن اس کے محلے میں ایک تماشہ دکھانے والا آتا ہے جس کے ساتھ ایک شاہ دولہ کا چوہا ہوتا ہے۔ وہ اس لڑکے کے گال پر گول دھبہ دیکھ کر پہچان لیتی ہے۔ وہ تماشہ والے سے پانچ سو روپئے کے عوض اپنے بیٹے کو خرید لیتی ہے مگر اس کا بیٹا جوذہنی طور پر معذور ہوتا ہے اور اپنی ماں کو نہیں پہچان پاتا دیوار پھاند کر بھاگ جاتا ہے۔

اس افسانے کے ذریعہ سے منٹو نے مسلم سماج میں پھیلی ہوئی بدعقیدگی پر ضرب لگائی ہے۔ اس انسانیت سوز رسم کو کسی ولی یا صوفی سے منسوب کردینا جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ کچھ بچے فطری طور پر چھوٹے سر والے پیدا ہوتے ہیں۔ جو بچوں کی ایک بیماری ہے۔مگر اس بیماری کے متعلق ایک غلط عقیدہ گڑھ لیا گیا اور سینکڑوں بچوں کی زندگیاں برباد ہوگئیں۔بہر حال اب شاہ دولہ کے مزار پر منت کے بچوں کو نہیں چڑھایا جاتا۔ وقت کے ساتھ یہ غلط اور انسانیت سوز چلن اٹھ گیا۔

منٹو نے اس معاملے کو اپنے افسانے میں اٹھا کر ایک اہم سماجی مسئلے کیطرف عوام کی توجہ مبذول کرائی۔ لہذا، اس بدعقیدگی کے خاتمے میں ان کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

منٹو کا افسانہ یزید بھی ایک اہم افسانہ ہے۔ اس افسانے میں وہ نام سے جڑی ہوئی مسلمانوں کی دقیانوسی سوچ کو نشانہ بناتے ہیں۔۔ یہ افسانہ بھی تقسیم کے بعد کی کشیدہ صورت حال پرمبنی ہے۔ تقسیم کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ندیوں کے پانی کو لیکر کشیدگی بڑھ جاتی ہے اور جنگ کی نوبت آجاتی ہے۔ پاکستان میں یہ افواہ بھی گشت کرنے لگتی ہے کہ ہندوستان پاکستان کا پانی بند کردے گا۔ اسی دوران افسانے کے مرکزی کردار کریم داد خان عرف کمئے کی بیوی حاملہ ہو تی ہے۔ جب وہ ایک اولاد نرینہ کو جنم دیتی ہے تو کریم داد خان اس بچے کا نام یزید رکھتا ہے۔ اس پر اس کی بیوی نام پر اعتراض کرتی ہے تو کریم داد خان کہتا ہےکہ نام میں کیا ہے۔ یہاں دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا اقتباس پیش ہے۔

۔۔"کیا ہے اس میں ، نام ہی تو ہے۔"۔

جینا صرف اس قدر کہہ سکی۔۔"مگر کس کا نام۔"۔

کریم داد نے سنجیدگی سے جواب دیا۔"ضروری نہیں کہ یہ بھی وہی یزید ہو۔ ۔۔اس نے پانی بند کیا تھا۔ ۔۔یہ کھولے گا۔"۔

اس افسانے میں منٹو نام سے جڑے ہوئے روایتی تصور کو موضوع بناتے ہیں۔ اور اس تصور یا اسٹیریوٹائپ کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مسلمانوں میں کچھ نام ناپسندیدہ ہیں ان میں ایک نام یزید بھی ہے ۔اس نے کربلا میں اہل بیت پر پانی بند کیا تھا اس لئیے مسلمان یہ نام رکھنا پسند نہیں کرتے۔ چنگیز، ہلاکو اور میر جعفر بھی وہ نام ہیں جو ہندوستانی مسلمانوں میں ناپسندیدہ ہیں۔ مگر منٹو اس افسانے میں یہ موقف پیش کرتے ہیں کہ نام کسی کی شخصیت کی تشکیل نہیں کرتے بلکہ نام صرف شخصیت کی پہچان کے لئیے ہوتے ہیں۔ اکثر اچھے ناموں والے لوگ بھی برے ہوجاتے ہیں۔اس لئے نام سے کؤئی تصور جوڑ دینا غیر عقلی ہے۔

منٹو کے یہ دو افسانے ان کے دیگر افسانوں کی طرح اہم ہیں اورمسائل وموضوعات پر نئے سرے سے غور و فکر کی ترغیب دیتے ہیں۔ ۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/manto-short-stories/d/127979

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..