New Age Islam
Wed May 25 2022, 11:01 PM

Urdu Section ( 22 Dec 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Makhdoom Mohiyuddin - A living Personality مخدومؔ محی الدین -ایک زندہ در گور شخصیت

 یاورحبیب ڈار

19 دسمبر 2021

مخدومؔ محی الدین ایک ایسی عبقری شخصیت کے مالک ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارے بیچ رہ کر بھی ہم سے اتنے دور کہ اک نظر کرنا بھی گوارا نہیں کرتے.حالاں کہ مخدوم کو فوت ہوئے ایک صدی بیت چکی ہے لیکن افسوس انہوں نے جو قابل باز پرس خدمات شاعری کے میدان میں چھوڑے ہیں انہیں شہرت عام بقائے دوام نصیب نہ ہو سکی.حیف آج کا نوجوان نسل مخدومؔ کو پڑھنے اور پرکھنے میں دکت محسوس کرتے ہیں.شاید آنکھیں دکھ جاتی ہیں کی مخدوم کو ایک نظر عنایت کرنی ہے. جہاں تک مخدومؔ محی الدین کو آج کے دور میں بھلا دینے کی بات ہے مجھے لگتا ہے ہمیں مخدومؔ کا موازنہ میؔر سے کرنا چاہیے.ہماری حالت ایسی ہو چکی ہے کی فراقؔ گورکھپوری کا قول بلکل صحیح ثابت ہو رہی ہے.فراقؔ اپنی تنقیدی تصنیف "اندازے” میں لکھتے ہیں کہ” میرے ایک نوجوان دوست ہیں جنہوں نے اردو کی ایک بھی کتاب نہیں پڑھی لیکن انگریزی کے ایم-اے ہیں”. اب ذرا دیکھیے کیا فرق ہیں.قول بلکل صحیح اور صادق ہے. مخدومؔ جن کی پیدائش 1908ء کو ہوئی اور وفات 1969ء کو ہوئی،کو اتنی جلدی بھلا دیا گیا جیتا کی کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا.

مخدومؔ محی الدین کا شمار ترقی پسند شعراءکے صنف اول میں ہوتا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کی خود ترقی پسند ہی اب مخدومؔ کا تذکرہ نہیں کرتے.وہ بھی ایک زمانہ تھا جب حیدرآباد کی آبادی کے ہونٹوں پر مخدومؔ کی منظومات اور غزلیات سر چڑھ کر بول رہے تھیں.یعنی مخدومؔ کا طوطی بھول رہا تھا.لیکن آج کا دور ہے کہ مخدومؔ کے نام سے بہت سے لوگ واقف تو ہیں لیکن ان کا نام اونگلیوں پر گن لینے والے کم و کست بھی نہیں.شاید گناہؑ کبیرہ سمجھتے ہیں.اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ مخدوم کی تخلیقات مقدار کے اعتبار سے بہت کم ہے لیکن قدر و قیمت،فکروفن کے اعتبار سے اردو کے بلند پایہ شعراء کے مقابلہ میں برابر کا درجہ رکھتی ہے.

بیشتر محقیقین حضرات لکھتے ہیں کہ مخدومؔ محی الدین تلنگانہ تحریک کے ہیرو تھے.تلنگانہ کے دیہا توں میں بغاوت بھڑک اٹھی تھی.حیدرآباد کے ہندوستان سے الحاق کے بعد یہ بغاوت دھیرے دھیرے دم توڑنے لگی.مخدوم مسلح جد و جہد جاری رکھنے کے حق میں تھے.مخدومؔ آزادی حاصل کرنے کے اشتیاق میں تھے.مخدومؔ کو مہینوں رو پوش ہونا پڑا.مخدومؔ نے 1937ء میں عثمانیہ یونیورسٹی سے ایم-اے کرنے کے بعد وہ یونیورسٹی میں اردو کے لیکچرر ہوئے.لیکن دو سال کے بعد انہوں نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور کمیونسٹ پارٹی کے سر گرم رکن بن گئے .1951ء میں مخدومؔ،راج بہادر گوڈ اور دوسرے کمیونسٹ قائدین گرفتار ہو گئے .1952ء میں لوک سبھا کے پہلے انتخابات کے پس منظر میں تلنگانہ کی بغاوت کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا.جنوری 1952ء کو مخدومؔ محی الدین قید سے رہا ہوئے اور انتخابات میں حصہ لے لیا. لیکن وہ الیکشن ہار گئے- یعنی ہمیں اس بات کا واضح جواب ملتا ہے کہ مخدومؔ پہلے پہل گہرے سیاسی کارکن تھے.1944ء میں ان کا پہلا مجموعہ کلام "سرخ سویرا”منظر عام پر آیا.جس میں مخدومؔ بحیثیت سیاسی کارکن نظر آتے ہیں.ان کی نظمیں سیاسی نوعیت کی ہیں.یہ نظمیں عوام میں مقبول ہونے لگیں اور پارٹی کے جلسوں میں گائے جانے لگیں.سیاسی نوعیت کے ساتھ ساتھ مخدومؔ کی نظمیں سامجی موضوعات کی بھی ملتی ہیں.

زندگی لطف بھی ہے زندگی آزار بھی ہے

ساز و آہنگ بھی زنجیر کی جھنکار بھی ہے

زندگی دید بھی ہے حسرت دیدار بھی ہے

زہر بھی آب حیات لب و رخسار بھی ہے

دوسرا مجموعہ کلام 1961ء کو” گل تر” کے عنوان سے منظر عام پر آیا.بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ گل تر "شرخ سویرا” سے با لکل مختلف ہے.گل تر میں رومانی کیفیات کا اظہار ملتا ہے.یعنی ایک چیز بلکل واضح ہو جاتی ہے کہ جیسے دوسرے شعراء کے یہاں انقلاب و رومان کی تصویرکشی ملتی ہے بالکل مخدومؔ کے تخلیقات میں بھی انقلاب اور رومان کا امتیزاج نظر آتا ہے.مخدومؔ نے اپنے اس مجموعہ کلام گل تر کے بارے میں خود رقمطراز ہیں کہ”ینن دیرنیہ قارین جب گل تر پڑھیں گے تو غالباً انہیں فوراً اس مختلف نوعیت کا احساس ہوگا اور اس کا ذہن نئے کلام کا "شرخ سویرا” کے جانے بوجھے اشعار سے مقابلہ بھی کرنے لگے گا”.ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ”نئےمجموعے کا کلام اپنی سج دھج اور نفس مضمون لے اعتبار سے "شرخ سویرا” کی نظموں سے مختلف ہے”.

مخدومؔ محی الدین کے ابتدائی تخلیقات میں ان کی غنائی نظمیں تلنگن،انتظار،ساگرکےکنارے،لمحہ،رخصت،وہ،آتش کدہ،جوانی،اورپشیمانی قابل ذکرہیں.ساگر کے کنارے کے بارے میں کہا جا تا ہےکہ شاعر نیند سے بیدار ہو کر ایک گاٶں کی عکاسی کرتےہیں.تلنگن میں شاعر گاٶں کی کم عمرحسینہ کی تصویرکشی کرتےہیں.مخدومؔ اس لڑکی کو ”دختر پاکیزگی“ اور”دشت کی وخوردوکلی“کہتے ہیں.آتش کدہ میں شاعر خود مرکزی حیثیت رکھتا ہے اوراس میں خودداری ہے.نظم انتظار تک آتے آتےمخدومؔ کی نظموں کا رومانی رنگ دھیما پڑ جاتا ہے.

زینت ساجدہ نے کیا خوب کہا ہے میرؔ کے کلام سے سرقہ کرنا آسان ہےلیکن ممکن ہےکسی کو پتہ نہ چلے.لیکن مخدومؔ کا آدھا شعربھی چوری کر لیجئےتو کسی کو سناۓ تو سننے والا بقیہ آدھا شعر سنا کرکہتا ہے.مخدومؔ کہتے ہیں کہ آل انڈیا ریڈیو والے خوا مخواہ اس کا کلام نشر کرنے سے بچتے ہیں.آخر مخدومؔ کو کیا نام دیں.وہ شاعر بھی ہے،شخصیت بھی ہے،جادو بھی ہےاور جاد وگر بھی ہے.نظم "بساط رقص” محبت سے منسوب ہے.اس نظم میں سر شاری اور سر مستی کی کیفیت ہے.اس کا خاص وصف ترنم ہے.لفظوں کی تکرار سے جھنکار پیدا ہوتی ہے.اس نظم کا تمام تر حسن ایمائت، اشاریت، علامت اور اختصار میں ہے.نظم کے پہلے حصے میں مخدومؔ نے تین الفاظ کا استعمال کیا ہے.یعنی روپ رنگ اور راگ اور پھر ان لفظوں کی تجسیم کی ہے.روپ اور رنگ کو چاندنی کی نرم نرم آنچ میں تپتی ہوئی اور سمندروں کے جھاگ سے بنی ہوئی جوانیو ں سےمشکٌل کیا گیا ہے.اور راگ تیسرے منظر میں مہکتے بدن،لچکتی کمر اور بہکتے قدم سے تشکیل پا رہا ہے.

مخدومؔ ایک ایسا البیلا شاعر ہے جنہوں نے سیاسی زندگی کے ساتھ ساتھ شاعری کو بھی زندہ رکھا.ہندو و پاک کا اگر کوئی شاعر اس طرح زندگی بسر کرتا تو وہ یا تو سیاسی زندگی ترک کر دیتا یا پھر شاعری.مخدوم خلافت تحریک سے بھی متاثر تھے جسکی وجہ یہ تھی کہ مخدوم کے چچا خلافت تحریک کے موید تھے اور انکی گھریلو زندگی مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ قوم پرستانہ بھی تھی.

شاعری اگر انکشاف ذات ہے تو ذات سے حجابات کا اٹھنا ضروری ہے.یہی بات مخدومؔ کی شاعری کے لیےبھی ضروری ہے.مخدوم کو اپنے سادہ عاشقانہ یا جذباتی یا ذہنی تجربات کو پیش کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا.ان کا ذوق عمل،جوانی کا محدود مشاہدہ اور شوق اظہار اس شاعری کے لیےکافی تھا جن کے نمونے ساگر کے کنارے،لمحہ،رخصت،جوانی،سجدہ،یاد ہے وغیرہ میں مل جاتے ہیں.جو شاعری مخدومؔ نے 1933ء سے1939ء تک کی ان میں ایسی شعری تخلیقات ہیں جن میں تھوڑی بہت انفرادیت ہے جیسے پچھلے پہر کے چاند ستارے،انتظار،برسات اور میں.مخدومؔ کو استعاروں اور علامتوں کا بھی علم تھا اور زبان کا استعمال نئی معنویت کا حامل ہو جاتا ہے.

شیرینی، لطافت،حلاوت،موسیقیت،غنائت اورانبساطی کیفیت اس دورکی مخدومؔ کی غزل کی خصوصیات ٹھہریں .اس لیے ایسے ایسے الفاظ و علائم کا انتظام کیا کہ غزل کی فضا میں خوشبوئی بکھرگئیں اور گلوگلزارکا سماں پیدا ہو جاتے ہیں:

پھر چھڑی رات بات پھولوں کی

رات ہے یا برات پھولوں کی

یہ مہکتی ہوئی غزل مخدومؔ

جیسے صحرا میں رات پھولوں کی

جتنے شعراء آج تک صرف نظر ہو گئے ہیں ان میں مخدومؔ محی الدین کا نام شاید اس لئے اہم ہے کیونکہ انہوں نے دیگر شعراء کے برعکس بہت کم لکھا لیکن انھوں نے جتنا بھی لکھا ہے میدان شعر و سخن میں اسکی اہمیت و ضرورت اتنی ہی تھی جتنی کہ دیگر شعراء کی تخلیقات کی ہے.مخدوم سماجی و سیاسی شاعری کے لئے بھی کافی مشہور شاعر گزرے ہیں. مخدومؔ نے اپنی شاعری کی ابتداء سماجی موضوعات سے کی.مخدوم کی پہلی سیاسی نظم (جنگ) تھی. جنگ کی تخلیق کے بعد مخدوم سیاسی و سماجی موضوعات کی طرف متوجہ ہوئے. ہسپانیہ کی جنگ کے پس منظر میں مخدومؔ نے نظم (دھواں) لکھی. دھواں کے کچھ عرصہ بعد انھوں نے (اندھیرا) نام کی ایک بہترین نظم لکھی.

دوسری جنگ عظیم کے زمانہ میں روس پر جرمنی کے حملے سے پہلے مخدومؔ نے نظم (سپاھی) لکھی.ہندوستان برطانیہ حکومت کے زیر اثر تھا اور عوام کی مرضی کے خلاف ھندوستانی سپاہیوں کو عالمی جنگ میں دھکیلا جا رہا تھا. ہندوستانی نوجوانوں میں تذبذب طاری ہونے لگا تھا.مخدومؔ نے ہندوستانی سپاہیوں کو مخاطب کر کے نظم (سپاھی) لکھی:

جانے والے سپاھی سے پوچھو

وہ کہاں جا رہا ہے

مخدومؔ کی آواز کہیں کہیں فیضؔ کے بہت قریب آجاتی ہے.مخدومؔ کے بعض نظموں میں فیضؔ کی نظموں کی بازگشت سنائی دیتی ہے.دراصل دونوں شاعر نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے قریب تھے،ایک ہی ماحول میں سانس لے رہے تھے. لیکن فرق اتنا ہے کہ مخدومؔ کی زندگی کا بڑا حصہ سیاسی جد و جہد اور ٹریڈ یونین کی تنظیم و تشکیل میں گزرا.اس لئے ان کے کلام میں وہ تہ داری پیدا نہ ہو سکی جن کی تلاش ان کے نقادوں کو تھی.

(نظم چاند تاروں کا بن) مخدومؔ کی مشہور نظم ہے.آزادی سے پہلے،بعد اور آگے. اس طرح مخدومؔ نظم کو تین حصوں میں بانٹ دیتے ہیں. یہ نظم جدوجہد آزادی کی المناک داستان ہے.جس کے لئے بے شمار لوگوں نے قربانیاں دیں.آزادی مل تو گئی لیکن سارے خواب چکناچوں ہو گئے.ایک طرف جشن آزادی تھی تو دوسری طرف فرقہ وارانہ فسادات اور مذہبی جنوں .عورتیں بے آبرو ہو کر رہ گئیں.یہاں آزادی نہیں بلکہ داغ داغ اجالا تھا.

19 دسمبر 2021، بشکریہ: روز نامہ چٹان، سری نگر

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/makhdoom-mohiyuddin-personality/d/126014

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..