New Age Islam
Thu Aug 18 2022, 08:35 PM

Urdu Section ( 27 Feb 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

How Madrasas Obliterate Muslim Educational Futures کیسے مدارس مسلمانوں کے تعلیمی مستقبل کو برباد کر رہے ہیں

 ارشد عالم، نیو ایج اسلام

14 فروری 2022

قوم کو یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا وہ اپنے بچوں کو قرون وسطی کی ذہنیت کی طرف لے جانا چاہتے ہیں

اہم نکات:

1. مدارس کو حق تعلیم ایکٹ 2009 سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔

2. اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں پڑھنے والے مسلم بچے عمر کے مطابق تعلیم کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔

3. مسلم ہی ایک واحد قوم ہے جس کے تقریباً 10 فیصد بچے کوئی جدید مضمون نہیں پڑھ رہے ہیں۔

4. مختلف حکومتوں کو اس کی تعلیمی خرابیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے سے کوئی فائدہ نہیں۔

----

11 فروری کو، ملک کی عدالت عظمیٰ نے ایک درخواست کو سننے سے انکار کر دیا جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ مدارس اور ویدک اسکولوں کو حق تعلیم کے قانون کے دائرے میں لایا جائے۔ اس مطالبہ میں خاص طور پر اس بات کا ذکر تھا کہ ان اداروں میں پڑھنے والے بچوں کو اس تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے جس کا تصور آر ٹی ای میں پیش کیا گیا ہے لہٰذایہ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آر ٹی ای ایکٹ 2009 میں عمر کے مطابق مخصوص تعلیم کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے لیکن 2012 میں کی گئی ترامیم کے ذریعے مدارس اور دیگر مذہبی اداروں کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ چونکہ استثنیٰ واضح ہے، اس لیے وہ درخواست ناقابل التفات ہے۔ کم از کم یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کا یہ رویہ پریشان کن ہے کیونکہ یہ مسئلہ لاکھوں بچوں کے بنیادی حقوق سے جڑا ہوا ہے۔

یقینا یہ بات درست ہے کہ یہ استثناء صرف مدرسہ جیسے مسلم مذہبی اداروں کے ساتھ ہی نہیں ہے بلکہ ویدک اسکولوں اور دیگر اقلیتی تعلیمی اداروں کے ساتھ بھی ہے۔ تاہم جیسا کہ میں نے پہلے ہی اشارہ کیا ہے کہ مدارس کی صورتحال کا دیگر مذہبی اقلیتوں کے تعلیمی اداروں سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ آریہ سماجیوں سے لے کر عیسائی مشنریوں تک، سبھی نے اپنے اسکولوں کا جال بچھا رکھا ہے لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وہ ایسے اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو جدید تعلیم دینے سے انکار نہیں کرتے۔ مدارس کی صورتحال بالکل مختلف ہے۔ یہاں حکومت کے امداد یافتہ مدارس کے علاوہ کوئی ایسی جدید تعلیم نہیں ہے جو طلبہ کو دی جارہی ہو۔ دیوبند سے منسلک جمعیت العلماء جیسی مذہبی تنظیموں کے زیر اثر مدارس کثیر تعداد میں اپنے طلباء کو کوئی بھی عصری مضمون نہیں پڑھاتے ہیں۔ اس لیے ہمیں جو بات سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ایسے مدارس میں طلباء کی تعداد حکومت کے امداد یافتہ مدرسوں میں پڑھنے والے طلباء سے بہت زیادہ ہے۔

ان مدارس کی تعلیم کا مقصد طلبہ کو "قبر سے آگے کی زندگی" کے لیے تیار کرنا ہے۔ اس قسم کی دینی تعلیم ان طلباء میں کسی معنی خیز طریقے سے وہ استعداد پیدا نہیں کرتی کہ وہ دور جدید کے معاملات سے نمٹ سکیں۔ ایسے زیادہ تر طلباء کو تاریخ، سائنس یا جغرافیہ کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ وہ فرسودہ دینی کتابوں کو تعلیم کے نام پر رٹنے کے لیے مجبور ہیں۔ کچھ لوگ اتنے خود کفیل ہیں کہ وہ اپنے مدرسے قائم لیتے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر طلباء اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ لہٰذا، مدرسہ کی تعلیم بھی کوئی بامعنی سماجی اصلاح کا باعث نہیں بنتی۔ مزید یہ کہ انہیں جو کچھ سکھایا جاتا ہے اس کی وجہ سے ان کی سوچ مزید قدامت پسند ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایسے مدارس سے فارغ التحصیل افراد سب سے پہلے اپنے خاندان کی خواتین پر زبردستی حجاب مسلط کرتے ہیں۔ وہ شاید ہی کسی ایسی چیز میں دلچسپی لیں گے جو ان کی قومی زندگی سے جڑی ہے مثلاً آئین، ہندو مذہب اور دیگر مذاہب کا علم یا ملکی ثقافتی تنوعات۔ وہ مدارس میں چیز کا مطالعہ کرتے ہیں وہ ایک عجیب و غریب اسلام ہے جس کی آج کی دنیا میں کوئی حقیقت نہیں۔ احادیث اور قرآنی تفسیریں انہیں "حقیقی اسلام" کے زمانے میں لے جاتی ہیں جو کہ ساتویں-آٹھویں صدی کا عرب ہے۔

یہ ایک ایسا اسلام ہے جو خدا کے دیگر مذاہب پر اپنی برتری کا دعویٰ کرتا ہے اور اس لیے اس کی تعلیمات ہندوستان جیسی جمہوریت کے لیے انتہائی غیر موزوں ہے۔ ملک کے تہذیبی ورثے کے بارے میں جاننے کے بجائے، وہ صرف ایک عربی اسلامی نمونہ کو نافذ کرنا جانتے ہیں اور صرف اسی کی پرواہ کرتے ہیں جسے وہ قابل تقلید سمجھتے ہیں۔ اس سے صرف ایک اجنبی زندگی مل سکتی ہے۔ اس لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ایسے مسلمان قومی برادری کی روایات اور طور طریقوں سے بالکل کٹے ہوئے ہیں۔

ان تعلیمی اداروں کو چلانے والے مسلمان اپنے بچوں کو اپنے مدرسوں میں پڑھنے کے لیے کبھی نہیں بھیجتے۔ میں نے ایسے بے شمار مدرسوں کے منتظمین سے ملاقات کی ہے جو اپنے طلباء کے بارے میں بہت کمزور رائے رکھتے ہیں۔ ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اکثر غریب اور نچلی ذات کے مسلمان ہیں جن کے لیے مدرسہ کسی بھی قسم کی تعلیم کا پہلا موقع ہوتا ہے۔ بہت سے والدین جو اپنے بچوں کو مدرسوں میں بھیجتے ہیں وہ جدید اور مذہبی تعلیم میں فرق کو بھی نہیں سمجھ سکتے۔ بہت سے لوگ اپنے بچوں کو ان جگہوں پر محض مذہبی تعلیم حاصل کرنے اور بعض اوقات صرف اچھے کھانے کے لئے بھیج دیتے ہیں۔ لہذا جو لوگ مدارس کو فنڈ دیتے ہیں اور ان کا انتظام کرتے ہیں وہ لاکھوں مسلم بچوں کے تعلیمی مستقبل پر ڈاکہ زنی کے مجرم ہیں۔

اصل مصیبت یہ ہے کہ مسلم معاشرے کے اندر مدارس کی تعلیم کے برے اثرات پر کوئی بات ہی نہیں کرتا۔ مسلمانوں کی اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ "تعلیمی طور پر پسماندہ اقلیت" بن چکے ہیں کیونکہ کسی بھی حکومت نے ان کی تعلیمی ضروریات پر توجہ نہیں دی ۔ تاہم، قوم مسلم نے خود مدارس کو اپنی مذہبی شناخت سے جوڑ دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مدارس کی اصلاح کی کوئی بھی کوشش ان کے مذہب اور ثقافت پر حملہ ہے۔ انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ جزوی طور پر یہ پسماندگی ان کی اپنی ہی کمائی ہے۔ کوئی معاشرہ کیسے ترقی کرسکتا ہے اگر اس کے تقریباً 10 فیصد بچے دور جدید کی حقیقتوں سے ناواقف ہوں؟ یہ اپنے ہاتھوں پسماندگی کا کلاسکی معاملہ ہے جس میں خود مسلمان اپنے آپ کو تعلیم اور ملازمت کے بازار سے دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن پھر بات یہی ہے کہ تاریخی غلطیوں کی خود احتسابی کے بجائے حکومت کو اس کا مورد الزام ٹھہرانا آسان کام ہے۔

اگر قوم مسلم کو ہی اپنے بچوں کے تعلیمی مستقبل کو تباہ کرنے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے تو کوئی عدالت ان کے دفاع میں کیوں آئے؟

English Article: How Madrasas Obliterate Muslim Educational Futures

Malayalam Article: How Madrasas Obliterate Muslim Educational Futures മുസ്ലീം വിദ്യാഭ്യാത്തെ മദ്രസകൾ ഭാവിയിൽ എങ്ങനെ ഇല്ലാതാക്കുന്നു

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/madrasas-muslim-educational-medievalist-mindset/d/126471

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..