New Age Islam
Fri Aug 19 2022, 08:35 AM

Urdu Section ( 22 March 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Debunking Jihad of ISIS and Its False Theory That ‘Non-Jihadists Can’t Issue Fatwas on Jihad and Mujahid’ - Part 2 داعش کا خود ساختہ نظریہ کہ 'غیر جہادی جہاد اور مجاہد پر فتویٰ جاری نہیں کر سکتے' کی تردید

غلام غوث صدیقی، نیو ایج اسلام

حصہ 2

23 نومبر 2021

داعش کے اس اصول کی تردید کہ ’’جو شخص جہاد سے گریز کرتا ہے اس کے پاس مجاہد پر فتویٰ جاری کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے‘‘۔

اہم نکات:

1.      مسلم اکثریت کے ردعمل کے بعد جہادی تنظیموں نے جعلی اصول وضع کیے۔

2.      یہ جعلی اصول کہ "غیر جہادیوں کے پاس مجاہد پر فتویٰ دینے کا کوئی جواز نہیں ہے" اسلامی قانونی ماخذ [فقہی قوائد] سے ماخوذ نہیں ہے بلکہ یہ داعش اور دوسرے جہادیوں کا ایجاد کردہ نظریہ ہے۔

3.      مفتی ہونے کا معیار، کہ وہ جنگجو ہو، مجاہد ہو، یا سرحدی علاقوں کا باشندہ ہو، کبھی بھی اسلامی اصولیین اور فقہاء نے متعین نہیں کیا ہے۔

4.      یہ جہادی جہاد نہیں کر رہے ہیں بلکہ ظلم و زیادتی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

5.      قرآن و سنت نے اپنے پیروکاروں پر واضح کر دیا ہے کہ انہیں جہاد اور جنگ سمیت مختلف شعبوں میں زیادتی سے باز رہنا چاہیے۔

 ......

(Representational Photo/ISIS)

------

دنیا بھر کے مسلم علماء اور مفتیان کرام نے داعش کی نام نہاد "خلافت" کا نہ صرف بائیکاٹ کیا ہے بلکہ ان کے غیر قانونی رویے اور بیانیے کا اندازہ لگانے کے بعد انہیں خوارج بھی قرار دیا ہے۔ مسلم اکثریت کے ردعمل کے بعد، نہ صرف داعش بلکہ دیگر نام نہاد جہادی تنظیموں نے بھی فقہی احکام کی آڑ میں ایک جعلی اصول وضع کیا ہے، جس سے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ جو مفتی جہاد میں شریک نہیں ہے، اس کے پاس جہاد اور مجاہد پر فتویٰ دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس کے لیے انھوں نے عربی کا یہ اصول وضع کیا:

 "لا يفتي قاعد لمجاهد"

جو شخص [جہاد سے گریز کرکے ]  بیٹھا رہے وہ مجاہد پر فتویٰ دینے کا مجاز نہیں۔

اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ جو مفتی جہاد میں مشغول نہیں ہے وہ جہاد یا مجاہد کے موضوع پر فتویٰ دینے یا تبصرہ کرنے کا اہل نہیں ہے۔  اگر کوئی مفتی داعش یا اس کے کسی مجاہد کے خلاف فتویٰ جاری کرتا ہے تو داعش کے مطابق اس کا فتویٰ کالعدم تصور کیا جائے گا۔ اس اصول کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ یہ بھی لوگوں کو بتاتے ہیں کہ جہاد، مجاہد اور امت کے مستقبل کے بارے میں بات کرنے کا اختیار صرف ان کے پاس ہے۔ یہ معمول داعش اور دیگر جہادی تنظیموں کے ذہنوں میں اس قدر پیوست ہو چکا ہے کہ وہ دنیا بھر کے ماہرین اسلام کی طرف سے پیش کردہ جوابی دلائل کو سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں، تاکہ اپنی پرتشدد کارروائیوں سے باز آئیں۔

اس غلط اور بے بنیاد اصول کو اب تقریباً ہر جہادی تنظیم استعمال کر رہی ہے، اور شام، عراق اور مصر کے متعدد معروف علماء اور دانشوروں نے مختلف وجوہات کی بنا پر اس کا جواب دیا ہے۔  اس مضمون میں ہم کچھ اہم وجوہات پر بات کریں گے اور اپنے سامعین کو یاد دلائیں گے کہ داعش ایک اسلام مخالف تنظیم ہے جس کا مقصد اسلام کی شبیہ کو داغدار کرنا، مسلمانوں کا قتل عام کرنا، مسلم ممالک کو تباہ کرنا، اور مسلمانوں کو اپنے گھروں سے بھاگنے اور بھوک اور تباہی کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو غیر مسلم اکثریتی ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے مشکل کا باعث بن کر غیر مسلموں میں شکوک و شبہات کے بیج بو رہے ہیں۔

یہ جعلی اصول کہ "غیر جہادیوں کے پاس مجاہد پر فتویٰ دینے کا کوئی جواز نہیں ہے" اسلامی قانونی ماخذ [فقہی قوائد] یا ان فقہی اصولوں سے ماخوذ نہیں ہے جن سے حقیقت معلوم ہوتی ہے، اور اس کی قرآن یا سنت میں قانونی کوئی بنیاد بھی نہیں ہے۔ اور فقہاء نے اسے حق اور باطل کے درمیان تمیز کے لیے کبھی بھی معیار کے طور پر استعمال نہیں کیا۔

حق اور باطل کے درمیان فرق کو جاننا، نیز فتویٰ کا صحیح ہونا، جہاد یا عبادت میں حصہ لینے کی بجائے استنباط اور اس کے طریقہ کار پر مبنی ہے۔  اہل علم نے معتبر حقائق کی بنیاد پر مفتی کی شرائط بیان کی ہیں اور ان میں سے چند شرائط درج ذیل ہیں:

•        قرآن، سنت اور متعلقہ علوم اور اصول کا علم ہونا

•        اجماع کے تمام شعبوں، عقائد، فقہی مکاتب، اور فقہا کے نقطہ نظر اور اختلاف کا علم ہونا

•        اصول فقہ کی مکمل تفہیم، اسلامی قانونی ماخذ اور اصول، شریعت کے مقاصد، اور ان علوم کاحصول جو قرآن و سنت کو سمجھنے میں معاون و مددگار ہیں، مثلا ، نحو و صرف، بلاغت اور علم بیان   و  بدیع وغیرہ

•        لوگوں کے حالات، رسوم و رواج، زمانے کے حالات، اور اس کی پیشرفت کا علم، نیز ان کی تبدیلی جو کہ ایک تسلیم شدہ رواج (عرف عام) پر مبنی ہے جو کہ نص سے متصادم نہ ہو۔

•        نص سے شرعی احکام اخذ کرنے کے لیے ضروری فقہی اہلیت کا ہونا۔

•        معاصر مسائل مثلا طبی اور معاشی مسائل کو سمجھنے کے لیے ماہرین اور تجربہ کار اہل علم افراد سے میں مشورہ کرنا۔

ایک مفتی کا یہ معیار کہ وہ جنگجو ہو، مجاہد ہو، یا سرحدی علاقوں کا باشندہ ہو، اسلامی اصولیین اور فقہاء نے کبھی بھی متعین نہیں کیا ہے۔ بلکہ انہوں نے بنیادی اصول متعین کیا ہے کہ ایک ماہر عالم کا قول قابل قبول ہے، جب کہ ایک جاہل کا قول قابل قبول نہیں ہے۔  اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس عالم یا جاہل کا تعلق کسی مخصوص علاقے، مقام یا تنظیم سے ہو یا نہ ہو۔

چار عظیم اماموں سمیت بہت سے ائمہ اور فقہا فاتحین نہیں تھے۔  اس کے باوجود جہاد کا باب، جس پر انہوں نے فتویٰ مرتب اور جاری کیا ہے، اسلامی فقہ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور ہر دور کے علماء نے اس پر اعتماد بھی کیا ہے۔

بلکہ فقیہ یا مفتی کو چاہیے کہ وہ جس مسئلہ پر فتویٰ دے رہا ہے اس کی مکمل سمجھ رکھتا ہو اور اس مہارت کو اپنے قانونی فیصلے کی بنیاد بنائے۔  اسے رسوم و رواج پر مبنی قوانین اور فیصلوں کا علم ہونا بھی ضروری ہے جو وقت اور جگہ کے ساتھ بدل سکتے ہیں، جیسا کہ مختلف مکاتب کے بڑے بڑے علماء اور فقہاء نے متعدد شعبوں، قواعد اور حالات تناظر میں پیش کیا ہے، اور مختلف شعبوں اور علاقوں کے معاصر مسائل کا حل پیش کیا ہے۔

پوری چودہ سو سالہ تاریخ کی قرآن و سنت یا کلاسیکی فقہی کتابوں میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ جہاد کا فتویٰ دینے کے لیے جہاد  بالقتال میں شامل ہونا  شرط  ہے۔  لہٰذا، یہ کہنا  بالکل درست ہے کہ یہ جہادی اصول بالکل مضحکہ خیز اور بے بنیاد ہے، کیونکہ یہ قرآن، سنت یا کسی ائمہ کے اصول فتوی پر مبنی نہیں ہے۔

اس کے علاوہ جہادیوں کا دعوی کہ وہ جہاد کر رہے ہیں ، یہ سراسر غلط ہے وہ جہاد نہیں کر رہے ہیں بلکہ ظلم و زیادتی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔  اگر آپ دنیا بھر میں دہشت گرد گروہوں کی طرف سے انجام دئے گئے تمام گھناؤنے دہشت گردانہ حملوں کا جائزہ لیں اور اللہ تعالی کی تمام واضح حدود پر غور کریں تو آپ اس ٹھوس نتیجے پر پہنچیں گے کہ جہاد اور اسلام کے نام پر مظالم ڈھانے والے دہشت گرد گروہ فاسق ہیں۔

 اسلام میں جہاد کو دو شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ایک جہاد بالقتال اور دوسرا جہاد بالنفس یعنی (باطنی روحانی جدوجہد)۔  جہاد بالنفس تقویٰ کا ایک اہم عنصر ہے جو کہیں بھی کیا جا سکتا ہے۔ جہاد بالقتال اسلامی حکومتوں کا فریضہ ہے جیسا کہ ہمیں معلوم ہے۔ صرف اسلامی حکومت ہی اس صورت حال میں اپنی سرزمین اور باشندوں بشمول مسلمانوں اور غیر مسلموں کے دفاع کے لیے اور دہشت گردی، تشدد، جبر اور دیگر قسم کے ظلم و ستم کا مقابلہ کرنے کے لیے جہاد کا اعلان کر سکتی ہے۔

ہم جدید جمہوری ممالک میں رہتے ہیں جہاں آئین کے ذریعے مذہبی آزادی اور تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے اور اسے عملی طور پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ایسے جمہوری ممالک میں قتال پر مبنی جہاد نہیں ہونا چاہیے۔ ہم یہاں جہاد بالنفس ہی کر سکتے ہیں جو کہ ذاتی برائیوں، خیالات، حرص و ہوس، غضب، جھوٹ، مکاری، دھوکہ، فریب کاری، تعصب، انتہا پسندی اور انتقامی جذبے کے خلاف ایک داخلی روحانی جدوجہد ہے۔ یقینا جہاد بالنفس ہمیں اپنے ذہنوں کو پر سکون رکھنے کے لیے روحانی طاقت فراہم کرتی ہے اور سیاسی، مذہبی یا دنیاوی تنازعات کے غیر ارادی اثرات کا سامنا کرنے پر ہمیں صبر اور برداشت کی قوت عطاء کرتی ہے۔

اسلامی جہاد کا ایک اور نظریہ اسلامی حکومت کے اعلان پر اسلامی حکومت کے جھنڈے تلے مذہبی حقوق اور جان و مال کی حفاظت کے لیے لڑنا ہے۔ اس قسم کا جہاد ظلم کے ساتھ نہیں لڑا جا سکتا۔

قرآن و سنت نے اپنے پیروکاروں پر واضح کر دیا ہے کہ انہیں جنگ سمیت مختلف شعبوں میں زیادتی سے باز رہنا چاہیے۔ آئیے اس کے چند اہم پہلوؤں پر ایک سنجیدہ نظر ڈالتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے، ’’حد سے تجاوز نہ کرو، اور اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ (2:190)۔

کلاسیکی اسلامی علماء کی اکثریت کے مطابق،  مذکورہ بالا آیت  محکم ہے نہ کہ منسوخ۔  وہ اس خدائی فرمان کو استعمال کرتے ہوئے جنگ کے مخصوص اصولوں کا جائزہ لیتے ہیں، مثلا عورتوں، بچوں، بوڑھوں، راہبوں، ہرمتیوں، دائمی طور پر بیماروں اور کسانوں کے قتل کی ممانعت۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ "حد سے نہ بڑھو" کا مفہوم یہ ہے کہ "عورتوں، بچوں، بوڑھوں، یا صلح کرنے والوں کو قتل نہ کرو اور ہاتھ روکے رکھو۔"  اگر تم نے ایسا کیا تو تم ان پر زیادتی کرو گے۔"  (جامع البیان، جلد 2، صفحہ 110-111، مطبوعہ، بیروت دارالمعارف)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی لشکر کے سپہ سالار کو روانہ کرتے تو اسے ذاتی طور پر اللہ سے ڈرنے کی تلقین کرتے اور ظلم و زیادتی، بچوں کے قتل، عصمت دری اور خیانت سے منع کرتے۔  (ترمذی، ابن ماجہ، ابوداؤد وغیرہ)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فوج کے سپاہیوں کو تلقین کرتے تھے کہ نہ کسی بچے کو قتل کرو، نہ عورت اور نہ کسی بوڑھے کو۔  درختوں کو کوئی نقصان نہ پہنچاو اور نہ ہی انہیں آگ سے جلاؤ خاص طور پر جو درخت پھلدار ہوں۔  دشمن کے ریوڑ میں سے کسی کو نہ مارو، اپنے کھانے کے لیے بچاؤ۔  ممکن ہے کہ تمہارے سامنے ایسے لوگ بھی پیش ہوں جنہوں نے اپنی زندگی خانقاہی خدمات کے لیے وقف کر رکھی ہے، انہیں چھوڑ دینا۔" (موطا امام مالک ص 466)

اب ہم مزید کچھ ایسی آیتوں کا بھی مطالعہ کرتے ہیں خن میں اللہ نے مسلمانوں کو ظلم و زیادتی سے منع کیا ہے؛

"اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں"۔ (5:87)

"اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ، بیشک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں۔"  (7:55)

 ’’ہم یونہی مہر لگادیتے ہیں سرکشوں کے دلوں پر۔‘‘ (10:74)

"اور خدا کے غضب میں لوٹے یہ بدلہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے یہ بدلہ تھا ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کا۔" (2:61)

 ’’اور بیشک ضرور تمہیں معلوم ہے تم میں کے وہ جنہوں نے ہفتہ میں سرکشی کی تو ہم نے ان سے فرمایا کہ ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے۔‘‘ (2:65)

’’اے ایمان والوں تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی۔ تو بھلائی سے تقا ضا ہو اور اچھی طرح ادا، یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ پر ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔‘‘  (2:178)

"یہ اللہ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔" (2:229)

پوری آیت طلاق  کے مسئلے سے براہ راست تعلق رکھتی ہے، لیکن دوسری آیات کی طرح اس کا بھی ایک وسیع اطلاق ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی معاملے میں اللہ کی قائم کردہ حدود سے باہر نہیں جانا چاہیے۔

’’اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دو اور انہیں ضرر دینے کے لئے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور اللہ کی آیتوں کو ٹھٹھا نہ بنالو اور یاد کرو اللہ کا احسان جو تم پر ہے اور و ہ جو تم پر کتاب اور حکمت اتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے۔" (2:231)

"اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی کل حدوں سے بڑھ جائے اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا جس میں ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے خواری کا عذاب ہے۔" (4:14)

’’اور تمہیں کسی قوم کی عداوت کہ انہوں نے تم کو مسجد حرام سے روکا تھا، زیادتی کرنے پر نہ ابھارے اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے " (5:2)

آئیے یہاں توقف کرتے ہیں اور اس عبارت پر مزید گہرائی سے غور کرتے ہیں جو ہمیں ظلم اور دشمنی میں تعاون سے گریز کرتے ہوئے انصاف میں تعاون کرنے کی تاکید کرتی ہیں۔ اہل ایمان کو حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کے خلاف بھی زیادتی نہ کریں جو ان کے خلاف نفرت رکھتے ہیں۔

"اور ان میں تم بہتوں کو دیکھو گے کہ گناہ اور زیادتی اور حرام خوری پر دوڑتے ہیں بیشک بہت ہی برے کام کرتے ہیں۔‘‘  (5:62)

"اے ایمان والو! حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ نے تمہارے لیے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو، بیشک حد سے بڑھنے والے اللہ کو ناپسند ہیں۔"  (5:87)

"اور بیشک بہتیرے اپنی خواہشوں سے گمراہ کرتے ہیں بے جانے بیشک تیرا رب حد سے بڑھنے والوں کو خوب جانتا ہے۔"  (6:119)

’’کسی مسلمان میں نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا اور وہی سرکش ہیں۔"  (9:10)

’’اور یہ اللہ کی حدیں ہیں، اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھا بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔‘‘ (65:1)

ہم نے داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے کئی خوفناک جنگوں اور حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی اور بھاری جانی نقصان دیکھا ہے۔  یہ وہ جہاد نہیں ہے جن کا ذکر قرآن و سنت میں ہے، بلکہ وہ ظلم و زیادتیاں ہیں جن کا جواز ’’جہادی‘‘ نہیں پیش کر سکتے۔

 English Article:  Refuting ISIS Concept of Caliph and Caliphate [Khalifa and Khilafah] – Part 1

English Article: Debunking Jihad of ISIS and Its False Theory That ‘Non-Jihadists Can’t Issue Fatwas on Jihad and Mujahid’ - Part 2

Urdu Article: Refuting ISIS Concept of Caliph and Caliphate [Khalifa and Khilafah] – Part 1 خلیفہ اور خلافت پر داعش کے تصور کی تردید

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/jihad-isis-jihadist-fatwa-mujahid/d/126635

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..