ایشیائی اور
افریقی شہر اس فہرست میں سب سے بدترین ہیں۔
اہم نکات:
1. ویانا دنیا کا سب سے زیادہ
قابل رہائش شہر ہے۔
2. کینڈا کے تین شہر ٹاپ ٹین
شہروں میں شامل ہیں۔
3. اس فہرست میں سوئٹزرلینڈ
کے دو شہر بھی کافی نمایاں ہیں۔
4. دمشق رہنے کے لیے دنیا کا
سب سے بدترین شہر ہے۔
5. کراچی بھی رہنے کے لیے بدترین
شہروں میں سے ایک ہے۔
------
نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر
29 جون 2022
اکانومسٹ کی ایک شاخ اکانومسٹ
انٹیلی جنس یونٹ نے 2022 کا گلوبل لوابیلٹی انڈیکس جاری کیا ہے۔ اس نے دنیا کے 173
ممالک کے سروے کا نتیجہ پیش کیا ہے اور سال کے دوران ان کی صلاحیتوں کے مطابق درجہ
بندی کی ہے۔ اس نے 30 کمیت اور کیفیت پیرامیٹروں کے تحت شہروں کو پانچ گروپوں میں تقسیم
کیا ہے، مثلاً، استحکام، حفظان صحت، ثقافت اور ماحولیات، تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ۔
سروے کے مطابق آسٹریا کا ویانا
دنیا کا سب سے زیادہ قابل رہائش شہر قرار دیا گیا اور 173 ممالک کی فہرست میں سرفہرست
ہے۔ فہرست میں دوسرے نمبر پر ڈنمارک کا کوپن ہیگن ہے۔ درحقیقت ڈنمارک کو سب سے اوپر
دس رہنے کے قابل شہروں میں چوتھا ملک ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ دیگر تین شہر وینکوور،
کیلگری اور ٹورنٹو ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کا زیورک اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ سوئٹزرلینڈ
کا ایک اور شہر جو ٹاپ ٹین میں شامل ہے، جنیوا ہے۔
173 ممالک میں سرفہرست دس شہروں کی فہرست حسب ذیل ہے۔
1. ویانا ---- آسٹریا
2. کوپن ہیگن ----- ڈنمارک
3. زیورک ----------- سوئٹزرلینڈ
4. کیلگری ----- کینیڈا
5. وینکوور ----- کینیڈا
6. جنیوا------ سوئٹزرلینڈ
7. فرینکفرٹ --- جرمنی
8. ٹورنٹو ------- ڈنمارک
9. ایمسٹرڈم ---- نیدرلینڈ
10. اوساکا ----- جاپان
ٹاپ ٹین میں ایشیا کا واحد شہر
جاپان کا اوساکا ہے۔
اب آئیے فہرست کے سب سے نیچلے یا
رہائش کے لیے دنیا کے دس بدترین شہروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ شام کا دمشق سب سے نیچلے
پائیدان پر ہے جو رہائش کے لیے دنیا کا بدترین شہر ہونے کی وجہ سے 173 ویں نمبر پر
ہے۔ دس بدترین شہر ایشیا اور افریقہ کے ہیں۔ پاکستان کا کراچی، بنگلہ دیش کا ڈھاکہ
اور ایران کا تہران رہائش کے لیے دس بدترین شہروں میں شامل ہیں۔ دس بدترین شہروں کی
فہرست درج ذیل ہے۔
1. تہران ------ ایران
2. ڈوالا ------کیمرون
3. ہرارے ------ زمبابوے
4. ڈھاکہ -------بگلدیش
5. پورٹ مورسبی ----پی این
جی
6. کراچی ------ پاکستان
7. الجیریا ----- الجزائر
8. طرابلس ------- لیبیا
9. لاگوس -------نائیجیریا
10. دمشق --- شام
گلوبل لوابیلٹی انڈیکس ایشیائی
اور افریقی ممالک کے سماجی اور اقتصادی عدم استحکام، غربت، تعلیمی پسماندگی اور ترقی
کی کمی کو ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ بدقسمتی سے تیل کی دولت سے مالا مال اور معدنیات
سے لیس مسلم ممالک کا کوئی بھی شہر رہنے کے قابل دس بہترین شہروں میں جگہ نہیں بنا
سکا۔ اس کے برعکس تہران، ڈھاکہ، طرابلس، الجزائر، کراچی اور دمشق کو بدترین شہر قرار
دیا گیا ہے۔ دمشق، طرابلس اور الجزائر خانہ جنگی، اندرونی کشمکش اور عسکریت پسند اور
دہشت گردانہ تشدد کی وجہ سے بدترین شہر بن چکے ہیں جو وہاں برسوں یا دہائیوں سے جاری
ہے۔ لیکن ایران، پاکستان اور بنگلہ دیش بھی ایسے شہر تعمیر نہیں کر سکے جو دنیا میں
ایک نمونہ ہو۔ کراچی واقعی بندوق کلچر، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ جھگڑوں کی وجہ سے
دنیا کے بدترین شہروں میں سے ایک ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر دو جانیں جاتی ہیں اور
جس کا انفراسٹرکچر ناقص اور شہری سہولیات ندارد ہیں۔
لیکن حیرت کی بات ہے کہ برطانیہ
اور امریکہ کا کوئی بھی شہر ٹاپ ٹین میں شامل نہیں ہے۔ اس کی وجہ ان کے قدیم کردار
کی وجہ سے ان کی جمود کا شکار معیشت اور معاشرت معلوم ہوتی ہے۔ ان کی رونقیں ختم ہو
رہی ہیں اور ایسے نئے شہر جو اقتصادی اور تجارتی مواقع اور سماجی اور سیاسی استحکام
اور پائیداری پیش کرتی ہیں، لوگوں اور کاروباروں کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔
لیکن ساتھ ہی اس فہرست میں عرب
یا مشرق وسطیٰ کے کچھ ترقی پسند شہروں کی عدم موجودگی بھی ذہن کو جھنجھوڑتی ہے۔ مثال
کے طور پر، دبئی مشرق وسطیٰ کا سب سے متحرک اور ترقی یافتہ شہر ہے لیکن اسے ٹاپ ٹین
میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ گزشتہ سالوں میں بھی دبئی اس فہرست میں 72 ویں نمبر پر تھا
حالانکہ ورلڈ اٹلس کے مطابق دبئی "دنیا کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔
دبئی متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ شہر خلیج فارس کے جنوبی مشرقی ساحل
پر واقع ہے۔ اور دبئی امارات کا دارالحکومت ہے۔ دبئی دنیا کے سب سے بڑے کاسموپولیٹن
شہروں میں سے ایک ہے اور مشرق وسطیٰ کے ایک کاروباری مرکز کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ شہر
پام جزائر اور "دی ولڈ" جیسے پرجوش تعمیراتی منصوبوں کے لیے مشہور ہے، جو
دبئی کے ساحل سے دور مصنوعی جزیرے ہیں۔ دبئی کی معیشت بنیادی طور پر بین الاقوامی تجارت
پر منحصر ہے اور کچھ حد تک تیل پر بھی جو شہر کا ایک محدود وسیلہ ہے۔ سیاحت، ریئل اسٹیٹ،
ایوایشن اور مالیاتی خدمات بھی اس شہر بڑے وسائل ہیں۔ یہ شہر دنیا کا 22 واں مہنگا
ترین شہر اور خطے کا سب سے مہنگا شہر ہے۔ 2014 میں دبئی کے ہوٹلوں کے کمروں کو جنیوا
کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر رکھا گیا۔
دبئی کے بعد، ایک اور شہر
جو اپنی متحرک معیشت، سیاسی استحکام، کم جرائم کی شرح اور پائیداری کے لیے بین الاقوامی
سطح پر جانا جاتا ہے، ابوظہبی ہے۔ ورلڈ اٹلس کے مطابق امارات کا دارالحکومت ابوظہبی
متحدہ عرب امارات کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔ یہ شہر ایک جدید شہر ہے
اور خطے کا ایک بڑا سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور تجارتی مرکز ہے۔ ابوظہبی متحدہ عرب
امارات کی معیشت کا تقریباً 2/3 حصہ ہے۔ دبئی کی طرح ابوظہبی میں بھی ایک کثیر ثقافتی
اور متنوع معاشرہ ہے۔
شارجہ متحدہ عرب امارات کا تیسرا
سب سے بڑا شہر ہے اور خلیج فارس کے جنوبی ساحل سے لگے جزیرہ نما عرب پر واقع ہے۔ یہ
شارجہ کی امارت کا دارالحکومت ہے۔ متحدہ عرب امارات کے کل جی ڈی پی میں اس شہر کی حصے
داعی 7.4 فیصد ہے اور یہ خطے میں صنعت اور
ثقافت کا ایک بڑا مرکز ہے۔ اس شہر کو ڈبلیو ایچ او صحت مند شہر کے طور پر نامزد کیا
گیا ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ
اس طرح کے سروے عالمی کاروباری اداروں اور تجارت اور سرمایہ کاری کے اسٹیک ہولڈروں
کی توجہ مخصوص شہروں یا ممالک کی طرف مبذول کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ سروے میں ثقافتی
اور علاقائی تعصب کا بھی کچھ کردار ہو سکتا ہے۔
تاہم یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ
ایشیائی اور افریقی خطوں میں زیادہ تر مسلم اکثریتی ممالک دہشت گردی، عسکری قوم پرستی
اور جھگڑوں سے گزر رہے ہیں۔ جن کی وجہ سے وہاں غربت، عدم استحکام، عدم تحفظ، معاشی
و تعلیمی پسماندگی اور سیاسی عدم استحکام کا راج ہے۔
ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی
اور ہندوستان کے اقتصادی دارالحکومت ممبئی کو بھی اسی وجہ سے فہرست میں بالترتیب
112 اور 117 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران ہندوستان کے اندر سیاسی
عدم استحکام، مذہبی جنونیت اور لاقانونیت میں اضافہ ہوا ہے اور اسی لیے ہندوستان کے
شہر بھی گلوبل لوابیلٹی انڈیکس میں کوئی باعزت مقام حاصل نہیں کر سکے۔ دو سال قبل،
سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرمنٹ، نئی دہلی نے شہریوں کے ادراک، پائیداری اور اقتصادی
صلاحیت کے مطابق ہندوستانی شہروں کا سروے کیا تھا۔ اس فہرست میں دہلی چھٹے اور ممبئی
پانچویں نمبر پر تھا۔ لیکن دونوں شہر جی ایل آئی میں ٹاپ ٹین میں جگہ نہیں بنا سکے۔
اس کی وجہ ہندوستان میں سماجی اور فرقہ وارانہ جھگڑے، بے روزگاری اور تشدد کا کلچر
ہے۔ کرن مزومدار شا نے حکومت کی توجہ اس تلخ حقیقت کی طرف مبذول کرائی تھی۔
اکنامک انٹیلی جنس یونٹ کا
سروے بعض حوالوں سے متعصب ہو سکتا ہے لیکن ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ ایشیائی
اور افریقی ممالک مذہبی، فرقہ وارانہ اور نسلی تعصب سے بالاتر ہو کر ایک قابل رہائش
معاشرے کی تشکیل نہیں کر سکے۔ یہ سروے مسلم معاشرے کے لیے چشم کشا ہے جو اپنی تمام
تر دولت اور قدرتی وسائل کے باوجود ایک مثالی اور قابل رہائش معاشرہ نہیں بنا سکا ہے۔
English Article: No City in the Islamic World Features Among the Top
Ten Most Liveable Cities
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism