New Age Islam
Wed Aug 10 2022, 01:47 PM

Urdu Section ( 20 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Idea of Book as Found In the Quran قرآن میں کتاب کا تصور

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

21 مئی،2022

قرآن میں متعدد مقامات پر آسمانی صحیفوں کو کتاب کہا گیا ہے جبکہ اس وقت موجودہ کاغذ کی ایجاد نہیں ہوئی تھی ۔قرآن کو بھی کتاب کہا گیا ہے جبکہ ساتویں صدی تک بھی کاغذ پر چھپی کتاب کا تصور نہیں تھا۔ حضرت موسی علیہ السلام کو توریت سیفائر یا نیلم کی تختیوں پر ملی تھی لیکن توریت کو بھی قرآن میں کئی مقامات پر کتا ب کہا گیا ھے۔ چند آیتیں ملاحظہ ہوں۔

" الم۔ یہ ھے وہ کتاب جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں "۔۔البقرہ۔۔1۔

"اور ھم نے دی تھی موسی کو کتاب پھر اس میں اختلاف پڑگیا۔"۔الشوری 21۔۔۔

"پوچھو کس نے اتاری وہ کتاب جو موسی لیکر آیا تھا۔"۔۔الانعام ۔91

سب تعریف اس کے لئے جس نے اتاری اپنے بندہ پر کتاب اور نہ رکھی اس میں کچھ کجی"۔الکہف۔۔5

"اتاری تجھ پر کتاب سچی تصدیق کرتی ھے اگلی کتابوں کی۔"۔۔ آل عمران 3

یہ چند آیتیں ہیں جن میں قرآن توریت اور انجیل کو اور دیگر آسمانی صحیفوں کو کتاب کہا گیا ھے۔

قبل مسیح دور سے ہی مذہبی اور تاریخی مواد کو محفوظ رکھنے کیلئے مٹی کی تختیوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ نرم مٹی کی تختیوں پر کلمس نام کے نکیلے آلے سے لکھا جاتا تھا اور پھر اس کو آگ پر یا دھوپ میں سکھا لیا جاتا تھا۔گویا یہ تختیاں قرآن کی زبان میں کتابیں تھیں۔ کتاب سے قرآن ہر وہ چیز مراد لیتا ھے جس پر کوئی تحریر محفوظ کر لی گئی ہو۔مٹی کی ان تختیوں کا رواج تیسری صدی عیسوی تک ملتا ھے۔ چوتھی صدی عیسوی میں مصر میں پیپیرس کے پودے کے تنے کو چھیل کر پیپیرس تیار کیا گیا اور اس سے کتابیں اور دیگر چیزیں تیار کی گئیں۔اسی دوران روم میں جانوروں کی کھالوں کو چھیل کر پارچمنٹ یعنی پارچے تیار کئے جانے لگے۔ان کا استعمال عام ہونے لگا کیونکہ جانوروں کی کھالوں سے بنے ہوئے پارچے پائیدار ہوتے تھے۔

آج جو کاغذ ہم استعمال کرتے ہیں اس کی ایجاد پہلی صدی عیسوی میں چین کے ایک شاہی افسر کائی لن نے کی تھی اور وہاں کاغذ بنانے کا کارخانہ بھی قائم ہوچکا تھا۔ چین میں مطبوعہ سب سے قدیم کتاب بدھ مذہب کی ڈائمنڈ سوتر دستیاب ھے جو 9ویں صدی میں چھپی تھی۔ اسلامی فتوحات کے نتیجے میں کاغذ بنانے کی تکنیک چینیوں سے عرب مسلمانوں کو ملی اور 712 عیسوی میں بغدا د میں کاغذ بنانے کی صنعت قائم ہوئی۔ اس کارخانے کا نام صنعت الورقہ تھا۔

قرآن کا جو پہلا مصحف ساتویں صدی عیسوی میں تیار ہوا وہ کاغذ پر نہیں بلکہ جانوروں کی جھلی سے تیار پارچہ پر ہوا۔ کیونکہ کاغذ کی صنعت عرب میں 8ویں صدی میں متعارف ہوئی اس سے قبل عرب میں پارچے کی صنعت رائج تھی۔ قرآن میں ایک آیت میں لفظ قرطاس کا استعمال کاغذ کے معنوں میں ہوا ھے۔سورہ الانعام کی آیت نمبر7 ملاحظہ ہو۔

۔۔" اور اگر اتاریں تجھ پر لکھا ہوا قرطاس پر پھر چھولیں اس کو اپنے ہاتھوں سے البتہ کہیں گے کافر یہ نہیں ھے مگر صریح جادو۔

اس آیت سے یہ اشارہ ملتا ھے کہ قرطاس یعنی پیپیرس یا پارچہ عرب ملکوں میں رائج تھا اور لوگ قرطاس سے واقف تھے۔ چونکہ حضرت محمد ﷺ پر وحی نازل ہوتی تھی اور وہ ان کے حافظے میں محفوظ ہوجاتی تھی اور پیغمبر اسلام ﷺ قرآن کو اپنے حافظے سے لوگوں کو سناتے تھے اس لئے کفارو مشرکین مکہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ آیتیں نعوذباللہ اپنے ذہن میں گھڑ لیتے تھے۔ اسی پر خدا کہتا ھے کہ اگر ہم قرآن کو قرطاس پر لکھا ہوا بھی اتارتے اور وہ اسے چھوکر بھی دیکھ لیتے تو بھی وہ اسے نہیں مانتے کیونکہ ان کے دلوں پر قفل پڑا ہوا ھے۔ حضرت موسی کو بھی اللہ نے توریت تختیوں کی شکل میں دی تھی لیکن منکرین ان پر ایمان نہیں لائے تھے۔اس لئے جن کے دلوزں پر قفل لگ چکا ھے وہ دین کو نہیں مانیں گے چاھے اسے قرطاس میں لکھی ہوئی شکل میں ہی کیوں نہ نازل کیا جائے۔

اس بحث سے یہ امر واضح ہوتا ھے کہ قرآن میں کتاب سے مراد ہر دور میں مختلف ھے۔ پرانے دور میں مٹی کی تختیوں پر یا پتھروں پر کندہ تحریریں کتاب کہلاتی تھیں بعد کے دور میں پودوں کی چھالوں اور جانوروں کی کھالوں سے تیار کئے گئے پارچوں پر محفوظ تحریریں کتاب کہلائیں اور اس کے بعد موجودہ کاغذ سے تیار کتابوں کا دور آیا۔ آنے والے دور میں کاغذ کا چلن بھی اٹھ جائیگا اور ای ۔۔بک کا دور آئے گا ۔ جو کاغذ سے تیار نہیں ہوگا۔ مگر پھر بھی اسی کتاب ہی کہا جائیگا۔اس لئے قرآن میں جب بھی کسی آسمانی صحیفے یا غیر مذہبی کتاب کا ذکر ہوا ھے اس سے مراد صرف کاغذ سے تیار کتاب نہیں لیا جاتا بلکہ ہر وہ تحریر جو دائمی طور پر محفوظ کر لی گئی ہو وہ کتاب ھے چاھے وہ موجودہ ڈیجیٹل فارم میں ہی کیوں نہ ہو۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/idea-book-found-quran/d/127053

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..