New Age Islam
Mon Oct 03 2022, 02:59 PM

Urdu Section ( 11 Jul 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Humans Are Violent Because Of Their Beliefs انسان اپنے عقائد کی وجہ سے متشدد ہے

 سمت پال، نیو ایج اسلام

 30 جون 2022

 کیا چیز انسانوں کو اتنا پرتشدد اور خطرناک بناتی ہے؟ جواب ہے: ان کے عقائد، خاص طور پر تمام غیر معقول چیزوں اور مظاہر میں مذہبی عقائد کی وجہ سے انسان متشدد ہو جاتا ہے ۔

 اہم نکات:

 1.  ادے پور (راجستھان) میں جو کچھ ہوا اس نے پوری 'مہذب' دنیا کو چونکا دیا ہے۔

 2. خدا اور مذہب پر اس اجتماعی عقیدے کی وجہ سے، انسان ازل سے ایک دوسرے کو قتل کرتے چلے آ رہے ہیں۔

 3. انسان کبھی بھی اپنے تمام عقائد سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکتا۔

 -------

" So long as our meaningless beliefs remain

All efforts to get rid of them will go in vain "

"یعنی جب تک ہمارے بے معنی عقائد باقی ہیں۔

ان سے جان چھڑانے کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی۔

ولیم بٹلر ییٹس، آئرش شاعر اور نوبل انعام یافتہ

 ادے پور (راجستھان) میں جو کچھ ہوا اس نے پوری 'مہذب' دنیا کو چونکا دیا ہے۔ اب تھوڑی سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگ پوچھ رہے ہیں: کیا چیز انسانوں کو اتنا متشدد اور بے رحم بنا دیتی ہے؟ جواب ہے: ان کے عقائد، خاص طور پر تمام غیر معقول چیزوں اور مظاہر میں مذہبی عقائد کی وجہ سے انسان متشدد ہو جاتا ہے۔ ایک دلچسپ کہانی آپ کو عقائد کے اس پورے کاروبار کو سمجھنے میں معاون گی۔

 ایک مذہبی سوچ رکھنے والی بوڑھی عورت موجودہ تمام مذاہب سے مطمئن نہیں تھی، اس لیے اس نے اپنا ایک الگ مذہب قائم کر لیا۔ ایک رپورٹر، جو واقعی اس کے نقطہ نظر کو سمجھنا چاہتا تھا، اس نے اس سے پوچھا، ’’کیا تم واقعی اس بات پر یقین رکھتی ہو، جیسا کہ لوگ کہتے ہیں، کہ تمہارے اور تمہاری گھریلو ملازمہ کے سوا کوئی جنت میں نہیں جائے گا؟‘‘ بوڑھی عورت نے سوال پر تھوڑا غور کیا۔ اور کہا، "ٹھیک ہے، مجھے مریم کے بارے میں اتنا یقین نہیں ہے۔"

 کوئی کتنا ہی ترقی یافتہ، آزاد خیال اور مستقبل کا نظریہ رکھنے والا کیوں نہ ہو، متعصبانہ ذہنیت اسے ہمیشہ پیچھے کی طرف دھکہ دیتی رہے گی۔ جب بھی ہم کوئی بالکل نئی اور مختلف  شئی ایجاد کرتے ہیں کرتے ہیں تو اس میں بھی ہمارے ماضی کے عقائد کے الگ الگ عناصر موجود ہوتے ہیں۔ عقائد سے کوئی رستگاری نہیں ہے۔ اعصابی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص 25 سال کی عمر میں اپنے تمام عقائد کو ترک کرنا چاہے تو اسے ان عقائد سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کرنے میں تقریباً 200 سال لگیں گے جن سے وہ الگ ہونا چاہتا تھا، اگرچہ اس میں کچھ لوگوں کا استثناء ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی میں کبھی بھی اپنے ناپسندیدہ عقائد اور تعصبات سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پائیں گے کیونکہ کسی کی عمر اتنی لمبی نہیں ہے۔ اور یہ نیورولوجیکل مشاہدہ کافی تیز ہے۔

ہم مساوات، برابری، سرمایہ داری مخالف اور مارکسزم کی بات کرتے ہیں لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنی نوکرانیوں اور گھریلو ملازموں کو اپنے بیت الخلاء کا استعمال کرنے یا اپنے قریب بیٹھنے کی اجازت دیں گے؟ یہ ہمارے اندر کا تعصب ہے کہ وہ نوکر ہیں اور کبھی ہماری سطح اور حیثیت تک نہیں پہنچ سکتے اور یہ بات ہماری اجتماعی ذہنیت کے کسی نہ کسی گوشے میں ہمیشہ موجود رہے گی۔ اپنی زندگی میں، میں نے نام نہاد غیر مؤمنوں اور ملحدوں سے ملاقات کی ہے اور دیکھا ہے کہ جب ان کے "سابقہ" عقائد کے بارے میں کوئی ناگوار بات پوچھنی جاتی ہے تو وہ برہم ہو اٹھتے ہیں۔ میں انہیں شوقیہ ملحد کہتا ہوں۔

 بظاہر تمام عقائد کو ترک کر دینا، اور اس کے باوجود ان میں سے کچھ ہر سختی کے ساتھ قائم رہنا بنی نوع انسان کا المیہ ہے۔ عقائد دقیانوسی تصورات کو جنم دیتے ہیں اور ہم سب انسانوں، اشیاء، نسلوں، ممالک اور برادریوں کے بارے میں دقیانوسی تصورات کے حامل بن جاتے ہیں۔ سقراط جیسے لوگ جو خود کو 'عالمی شہری' کہتے ہیں وہ بھی نسلی، علاقائی، لسانی اور قومی تعصب کا شکار ہیں۔

انسان خلا میں سفر کر سکتا ہے۔ وہ چاند، مریخ اور دوسرے دور دراز سیاروں تک پہنچ سکتا ہے لیکن وہ اپنے تمام عقائد سے کبھی بھی مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکتا۔ اور جب عقائد ان کے لیے ایک مذہبی حلقہ رکھتے ہیں، تو کسی کے لیے بھی انھیں مکمل طور پر ترک کرنا ناممکن ہے۔ وہ آپ کے شعور میں موجود رہتے ہیں اور کسی بھی وقت اپنا رنگ دکھا سکتے ہیں۔ کم از کم اتنا تو ضرور ہوگا کہ اس کے آثار رہ جائیں گے جو اسے اس کی حدود یاد دلائے گا۔

 خدا اور مذہب پر اس اجتماعی عقیدے کی وجہ سے زمانہ قدیم سے انسان ایک دوسرے کو قتل کرتے رہے ہیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ میں نے کہیں پڑھا تھا، "عقیدے سخت اینٹ کی طرح ہیں، جس سے انسانی فطرت کی عمارت تعمیر ہوتی ہے۔" مجھے اس قول کی گہرائی پر کوئی شک نہیں ہے۔ ایک درزی کا سر قلم کیے جانے کے اس جانکاہ حادثے نے عقائد پر میرے یقین کو اور بھی مضبوط کر دیا ہے! آج، میں بہت اداس ہوں اور اب مجھے کوئی امید نظر نہیں آتی کہ بنی نوع انسان شعوری طور پر ترقی کر سکتی ہے۔

English Article: Humans Are Violent Because Of Their Beliefs

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/humans-beliefs-udaipur-atheists/d/127461

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..