New Age Islam
Sat Aug 13 2022, 10:26 AM

Urdu Section ( 24 Jan 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why Ordinary Hindus Should Worry About the Radicalization of their Religion کیوں عام ہندوؤں کو اپنے مذہب میں بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی کی فکر کرنی چاہیے؟

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

13 جنوری 2022

ریڈیکل اسلام کی طرح ریڈیکل ہندو ازم بھی بالآخر اپنے ہی پیروکاروں کو کھا جائے گا۔

اہم نکات:

دھرم سنسد میں مسلمانوں کی نسل کشی کی دعوت دی گئیں۔

داعش کے ذریعہ غلاموں کی تجارت کی یاد دلانے کے لیے مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی کی گئی۔

اس طرح کے مسلم مخالف تشدد بھلے ہی کوئی نئی بات نہ ہوں لیکن اس پر حکومت کا رویہ نیا ہے۔

اس ہندو بنیاد پرستی کی قیمت بالآخر عام ہندو ادا کریں گے۔

 -----

 ہندوستان میں حالیہ واقعات سے اس تبدیلی پر ایک سنجیدہ روشنی پڑتی ہے جس سے ابھی ہندوازم گزر رہا ہے۔ جو بھی اس مقدس فلسفیانہ روایت سے تعلق رکھتا ہے اسے نوٹس لینا چاہیے کہ اس کے نام پر کیا ہو رہا ہے۔ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ شاید اس ملک کی تاریخ میں بے مثال ہے۔ نام نہاد ہندو کھلے عام ہتھیاروں کے استعمال اور مسلمانوں کے قتل عام کی وکالت کر رہے ہیں اور عوام اور اس طرح کی قاتلانہ تقریر پر تالیاں بجا رہے ہیں۔ ہریدوار اور رائے پور جیسے مختلف مقامات پر منعقد ہونے والی دھرم سنسدوں میں ایک چیز مشترک ہے: اور وہ مسلمانوں کو ختم کرنے یا انہیں دوسرے درجے کا شہری بنانے کا مطالبہ ہے۔ اس ملک میں جہاں کسی کو ایسے مذاق کے لیے بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے جو اس نے کیا ہی نہیں ہے، وہاں دھرم سنسد کے منتظمین آزادانہ طور پر گھومتے پھر رہے ہیں، اور بڑے پیمانے پر اپنا زہر پھیلا رہے ہیں۔

اسی طرح کی نسل کشی کی میٹنگ کے دوران ایک آن لائن سائٹ کے ذریعے مسلم خواتین کی نیلامی کی بھی خبر آئی۔ جس طرح داعش حقیقی دنیا میں غلاموں کا سودا اور تجارت کرتا ہے، اسی طرح ہمارے نوجوان ہندوؤں کا ایک گروپ بھی جو اسی تصور کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ مسلم خواتین کے جسموں کے ساتھ ہندو انتہا پسندوں کا جنون ملک کے اندر وقتاً فوقتاً رونما ہونے والے مختلف مسلم مخالف فسادات کے دوران ظاہر ہوتا رہا ہے۔ چاہے وہ سورت ہو، ممبئی ہو یا احمد آباد، مسلم خواتین کی لاشوں پر ہندو اپنی مردانگی ثابت کر رہے تھے۔ پہلے مسلمانوں اور پھر انگریزوں کی جانب سے صدیوں تک نامرد کہلائے جانے کا مطلب یہ تھا کہ ہندو مرد مسلمان مرد کے مقابلے میں عدم تحفظ کا گہرا احساس اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اور یہ ثابت کرنے کا کہ ان کے اندر مردانگی ہے واحد طریقہ مسلم خواتین کو سبق سکھانا تھا، اور وہ بھی انتہائی گھٹیا انداز میں۔

جب بات تشدد کے ارتکاب کی ہو تو حقوق نسواں کے علمبرداروں نے اکثر خواتین کو کسی نہ کسی طرح مردوں سے کافی مختلف انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس رومانوی تصور کو اب ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم خواتین کی آن لائن نیلامی صرف مردوں کا کام نہیں تھا بلکہ ہم جانتے ہیں کہ کم از کم ایک ہندو عورت بھی اس میں برابر کی شریک تھی۔  مسلمانوں کو گڑگاؤں میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ دینے والوں میں ہندو خواتین کا ایک بڑا دستہ بھی شامل ہے جو اس نظریاتی مشن میں رضامندی سے ساتھی کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ہر بابو بجرنگی کے لیے، ہمارے پاس ہمیشہ ایک مایا کوڈنانی ہوتی تھی۔

اس مسلم دشمنی کو موجودہ سیاسی نظام کی پیداوار سمجھنا آسان ہوگا۔ اس کی جڑیں ہماری سیاست میں پیوست ہیں۔ مسلمانوں نے سیاسی اور مذہبی میدان میں جو کچھ کیا ہے اس کے ذریعے اس مسلم دشمنی کو سمجھنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ لیکن ہندو تشدد کو ہر بار کسی اور خارجی عنصر تک محدود نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس قسم کا تجزیہ ہندو انتہا پسندوں کے بیانیے کے سوا کچھ نہیں ہے جو یہ مانتے ہیں کہ ہندو بطور ایک کمیونٹی کے فطری طور پر پرامن اور روادار ہیں۔ لہٰذا، اگر وہ تشدد اور عصبیت میں ملوث ہیں تو اس میں ضرور دوسروں کی غلطی ہوگی ورنہ انہیں ایسا کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہوگی۔ یہ غیر تاریخی تفہیم بعض ذاتوں اور بدھ مت جیسے مذاہب کے خلاف ہندو تشدد کو سراہنے میں ناکام ہے جو اپنی جائے پیدائش پر ہی ختم ہو چکا ہے۔ جس طرح مسلم تشدد کو اس کی اپنی بنیاد پر سمجھنے کی ضرورت ہے اسی طرح ہندو تشدد کو اس کی سیاست اور روایات سے نکلنے والا سمجھنا ضروری ہے۔

اگرچہ اس بات کی نشاندہی کرنا ضروری ہے کہ ہندو تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس پر حکومت کا ردعمل کافی حد تک نیا ہے۔ تشدد کا شکار ہونے والے مسلم متاثرین کو مشکل سے ہی انصاف ملا ہے چاہے وہ بھاگلپور ہو یا نیلی قتل عام۔ لیکن حکومت کے سیاسی کلچر نے اس بات کو یقینی تھا کہ ایسے واقعات کی کم از کم ریاست کے اعلیٰ ترین دفاتر سے مذمت کی جائے اور اعدادوشمار کی رسم ادا کی جاتی تھی جس کے ذریعے اظہار ندامت بھی ہو جاتا تھا۔

آج ہم اپنی سیاسی تاریخ کے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں ایسی خوبیاں بھی تقسیم کی گئی ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ملک کے اعلیٰ ترین سیاسی دفاتر خاموش ہیں، بلکہ غیر جانبدار آئینی کارکن بھی اب متعصب دکھائی دیتے ہیں۔ دھرم سنسد میں مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کی دعوت کے بعد، یہ ذمہ داری عام شہریوں کی تھی کہ وہ اس بات کی نشاندہی کرتے کہ پولیس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ازخود نوٹس لے اور مجرموں کے خلاف تادیبی کارروائی کرے۔ لیکن ابھی تک، ہم نے اس قسم کی کوئی حکومتی کارروائی نہیں دیکھی جس کی پیروی کی گئی ہو جسے کچھ لوگوں نے بجا طور پر ادھرم سنسد کہا ہے۔ اس بات کا یقین ہے کہ اس کیس پر سیاسی دباؤ کام کر رہا ہے، لیکن پھر یہ بھی یقینی ہونا چاہیے کہ اس طرح کے متعصبانہ رویے کا واحد نقصان ایک غیر جانبدار ایجنسی کے طور پر حکومت کے تصور کو ہوگا۔ اگر ریاست قانون کی حکمرانی کے بجائے صرف چند افراد کی خواہشات اور اشاروں پر چلتی رہی تو بالآخر اس کا خمیازہ ہندو اکثریت کو ہی بھگتنا پڑے گا۔

راسخ العقیدہ مسلمانوں کی طرح بننا ہندو انتہا پسندوں کی ایک دیرینہ خواہش رہی ہے۔ اسٹریٹجک ایمولیشن کے ذریعے وہ ہندو مذہب کو سیمیٹک مذہب کی کاربن کاپی بنانا چاہتے ہیں۔ ہندومت کے موروثی تنوع کو اسی وجہ سے ناپسند کیا جاتا ہے؛ کہ یہ ایک متحدہ سیاسی برادری کی تخلیق کو روکتا ہے۔ اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہندو انتہا پسند اپنے مقصد میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ ذات پات، علاقے اور مذہبی رسومات کے لحاظ سے وسیع تنوعات تک ہندو مت کا ایک مخصوص برانڈ تیار کیا جا رہا جو ایسے تمام نشانوں کو مٹا رہا ہے۔ نچلی ذاتوں اور خواتین کی بڑھتی ہوئی شراکت داری ہندومت کے اس ورژن کو ایک سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتی ہے، جس کی ایک واحد حکمت عملی مسلمانوں کو الگ کرنا اور انہیں بدنام کرنا ہے۔ ہم ایک ایسی صورتحال کا مشاہدہ کر رہے ہیں جس میں شاید ہندو معاشرہ بنیاد پرستی کے عروج پر پہنچ چکا ہے اور صرف وہ ہندو جو مختلف سوچ رکھتے ہیں وہی اسے روک سکتے ہیں۔

ہندو سماج کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مسلم بنیاد پرستی کی قیمت خود مسلمانوں نے ادا کی تھی۔ وقتی طور پر ہندو انتہا پسند مسلمانوں کو الگ تھلگ کر سکتے ہیں۔ لیکن بالآخر اس بنیاد پرستی کی قیمت عام ہندوؤں کو ہی ادا کرنا ہوگی۔

 ----

English Article: Why Ordinary Hindus Should Worry About the Radicalization of their Religion

Malayalam Article: Why Ordinary Hindus Should Worry About the Radicalization of their Religion എന്തുകൊണ്ടാണ് സാധാരണ ഹിന്ദുക്കൾ തങ്ങളുടെ മതത്തിന്റെ തീവ്രവൽക്കരണത്തെക്കുറിച്ച് വിഷമിക്കേണ്ടത്?

 URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/hindus-radicalization-religion/d/126235

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..