New Age Islam
Fri Aug 19 2022, 07:49 AM

Urdu Section ( 18 Apr 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Hijab: A Sartorial Manifestation Of Stockholm Syndrome حجاب: اسٹاک ہوم سنڈروم کا ایک لباسانہ مظہر

سمت پال، نیو ایج اسلام

3 اپریل 2022

اب جب کہ حجاب پر مذہبی و سیاسی ہنگامہ کچھ کم ہوا ہے، اب وقت ہے کہ پورے معاملے کا ایک حقیقت پسندانہ اور غیر متعصبانہ جائزہ لیا جائے۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ قرآن کی 6236 آیات میں کہیں بھی پردہ یا حجاب کو واضح طور پر عورتوں کے لیے لازم نہیں قرار دیا گیا ہے۔ قرآن عورت کی پارسائی اور اس کی عزت و عصمت کی تو بات کرتا ہے لیکن پردے کو لازم قرار نہیں دیتا۔

سیمیوٹکس (علم العلامات) کے بانی امبرٹو ایکو کے مطابق، یہ خاص جابرانہ 'لباس کا ٹکڑا' ایک زمانے میں صحرائے عرب کی بے بس خواتین پر مردوں نے مسلط کیا تھا اور خواتین ناچاہتے ہوئے بھی حجاب پہننے پر مجبور تھیں۔ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ لیکن 11/9 کے بعد مسلمانوں کی ذہنیت میں اجتماعی طور پر تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ وہی خواتین جو کبھی اس ناپسندیدہ اور قدیم رواج کے خلاف آواز اٹھایا کرتی تھیں، اب وہی اس حجاب کو بڑے اعتماد کے ساتھ پہن رہی ہیں اور اسے اپنی 'خودمختاری' اور شناخت کی علامت قرار دے رہی ہیں۔ جب متاثرین خود ہی غیر واضح مذہبی رسومات اور معمولات کا جواز پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں تو یہ 'اسٹاک ہوم سنڈروم کا مذہبی جواز' بن جاتا ہے۔

اس سنڈروم میں، شکار/ اسیر اپنے اسیر کنندہ/ اذیت دہنندہ کے ساتھ ہمدردی کرنے لگتا ہے۔ لہذا، اس مخصوص تناظر میں، حجاب اسٹاک ہوم سنڈروم کا تحت الشعور لباسانہ جواز/مظہر بن چکاہے۔ مسلم خواتین کا برقعہ ہو یا کروا چوتھ یا وہ تمام متعدد مذہبی روزے جو ہندو خواتین رکھتی ہیں ، ان سب میں عورت کو ہی مذہب کے نام پر تکلیف اٹھانا پڑتا ہے۔

سلمان رشدی نے درست کہا کہ برقعہ عورت کی 'پرائیویٹ جیل' ہے۔ یہ ایک چلتے ہوئے خیمے کی طرح ہے اور بی آر امبیڈکر کے حوالے سے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ 'زمین پر سب سے زیادہ گھناؤنا اور پریشان کن منظر 'گرمی کی دوپہر میں کسی مسلم عورت کو کوے کے سیاہ لباس میں اوپر سے نیچے تک چھپا ہوا دیکھنا ہے۔' ہر مذہبی عمل ایک ضرورت کے تحت وجود میں آتا ہے اور وہ ضرورت ایک مذہبی عقیدہ بن جاتی ہے۔

برقع اسلام کے ان ابتدائی دنوں میں ایک ضرورت بن گیا جب صحرائے عرب متحارب قبائل کے گھرا ہوا تھا اور وہ عورتوں کو مال غنیمت کے طور پر قبضے میں لے لیا کرتے تھے۔ ان کے چہرے برقعے سے ڈھکے ہوئے ہوتے تھے تاکہ حملہ آور انہیں دیکھ نہ سکیں۔ مزید یہ کہ اس خطے کے صحرائی طوفان اس قدر سرکش ہوتے تھے کہ مرد بھی اپنے چہرے ڈھانپ لیتے تھے اور اب بھی جب وہ چلچلاتی ہوئی صحرائی گرمی میں باہر نکلتے ہیں تو ایسا ہی کرتے ہیں۔ برقعہ کو اگرچہ 'تعلیم یافتہ' خواتین بھی جائز قرار دینے لگ جائیں ، وہ لوگ جو صنفی مساوات پر یقین رکھتے ہیں، اسے کبھی قبول نہیں کر سکتے۔ اگر پورا یورپ برقعے پر اعتراض کناں ہے تو اسے 'اسلامو فوبیا' نہیں قرار دیا جانا چاہیے۔

عیسائیت یا یہودیت کے پیروکار یورپ اسلام سے کیوں ڈرے؟ برقعے کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے کیونکہ یہ اسلام کی مذہبی شاونزم (انتہاپرستی)کی ایک صریح علامت ہے جسے مردوں نے مسلط کیا ہے۔ کیا برقع واقعی عورت کو اندر سے بدل دیتا ہے؟ کیا صرف ایک ملبوس عورت کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے؟ میں برقعہ پوش خواتین یا اسلام کی توہین کرنا نہیں چاہتا، لیکن میں نے تہران، قاہرہ، طرابلس، انقرہ اور دیگر ممالک کی سڑکوں پر برقع پوش طوائفوں کو دیکھا ہے۔ کیا خواتین اسلام نے کبھی سوچا ہے کہ نسوانی حیا کو پردے کی شکل میں علامتی نمائش کی ضرورت نہیں ہے؟ کیا انہوں نے کبھی سوچا کہ یہ سراسر دکھاوے کا عمل ہے؟

آج کل مسلم خواتین نے اپنے ہاتھ اور انگلیوں کو بھی ڈھانپنا شروع کر دیا ہے کیونکہ ان کے علما انہیں یہ بتا رہے ہیں کہ پورا جسم ڈھانپنا ضروری ہے اور انگلیاں بھی کھلی رکھناگناہ ہے!! اگر آپ اس سے باز نہیں آتے تو سیدھے جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ رہیں رہیں گے۔ اور عورتیں ان احمقانہ فتووں (فرمانوں/فیصلوں) پر عمل پیرا ہیں۔ یہ مسلم خواتین اس بات کو نہیں سمجھتی کہ وہ برقعہ پہن کر اور خیمہ لے کر داڑھی رکھنے والے اپنے مردوں کی طرح خود کو بھی سب سے الگ تھلگ کر رہی ہیں بلکہ نوم چومسکی کے الفاظ میں وہ [self-pigeonholing] میں ملوث ہیں یعنی وہ خود کو ایک خاص طبقے میں شامل کر رہی ہیں۔ اس سے ان برقعہ سے محبت کرنے والی مسلم خواتین کے ان خواتین پر احساس برتری کا بھی ثبوت ملتا ہے جو برقعہ نہیں پہنتی ہیں۔

کیا وہ عورتیں جو برقعہ نہیں پہنتی گری ہوئی ہیں؟ کسی کے مذہب، اخلاق اور عفت پاکبازی کو بدنام کیوں کیا جائے؟ نہ صرف اسلام بلکہ تمام مذاہب علامت پرستی کی تعلیم دیتے ہیں۔ ایک عیسائی اپنی صلیب لہرائے گا، کوئی ہندو جب کسی سے ملے گا تو جئے شری رام یا جئے شری کرشنا کہے گا، ایک سکھ اپنی پگڑی کی وجہ سے دور سے پہچان لیا جائے گا۔ برقع صرف ایک علامت ہے۔ یہ ایک پرزور علامت ہے جو 'اپنی آزادی' کا غلط مفہوم پیدا کرتا ہے۔ سچ پوچھیں تو لاشعوری طور پر ہر مسلمان عورت اس سے ناراض ہے لیکن وہ کرنہیں سکتی۔ اور جو لوگ اسے اپنی مرضی سے پہنتی ہیں یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی گہری مذہبی بنیادوں کو ترک نہیں کیا ہے۔ یہ دکھاوے کی پرہیزگاری ہے۔ آپ کو اپنی مذہبی شناخت ظاہر کرنے کے لیے علامت کی ضرورت نہیں ہے۔ جب چند سال قبل جب ایک ملیالی فحش خاتون مصنفہ آنجہانی کملا داس نے 73 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اور اپنا نام سوریہ رکھا تو انہوں نے حجاب پہننا شروع کر دیا۔ اب مجھے بتائیں کہ کون ایسا بدکردار ہے جو دادی اماں کو دیکھے گا؟ نہیں، اسے تو اپنی نئی مذہبی شناخت کا دکھاوا کرنا تھا۔ ایک اردو کہاوت ہے: نیا مسلمان زیادہ پیاز کھاتا ہے۔ تمام برقع پوش مسلم خواتین نو مسلم معلوم ہوتی ہیں جو اپنی آستین بلکہ اپنے چہرے پر اپنا اسلام ظاہر کرنے کے لیے بے چین ہیں!

English Article: Hijab: A Sartorial Manifestation Of Stockholm Syndrome

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/hijab-sartorial-manifestation-stockholm-syndrome/d/126819

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..