New Age Islam
Wed Mar 18 2026, 02:29 PM

Urdu Section ( 3 Oct 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Hate Speech Reaches a New Low in India with Ramesh Bidhuri's Derogatory Language Against a Muslim MP In Parliament رمیش بیدھوری کا توہین آمیز زبان استعمال کرنا بتاتا ہے کہ ملک میں نفرت کی زبان کہاں پہنچ گئی ہے

نیو ایج اسلام اسٹاف رائٹر

 23 ستمبر 2023

1.      مسلمانوں کے ساتھ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ہمیشہ بدزبانی کی جاتی ہے۔

2.      انہیں معاشرے کے دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

3.      ان کی مذہبی شناخت خطرے میں ہے۔

4.      وہ اب دفاعی پوزیشن میں ہیں۔

 ------

BJP MP Ramesh Bidhuri speaks in the Lok Sabha during a special session of Parliament in New Delhi on Sept. 21 (PTI)

----

 سمر ہالرنکر کا مضمون، ایک مسلم ایم پی کنور دانش علی کے خلاف سمودھان بھون نامی جدید پارلیمنٹ بلڈنگ میں جنوبی دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ رمیش بیدھوری کے ہاتھوں تذلیل و توہین کے پس منظر میں ہندوستانی مسلمانوں کی تکلیف، اضطراب اور بے بسی کی درست عکاسی کرتا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں منتقلی کا جشن پورا ملک منا رہا ہے جس سے یہ امید تھی کہ اس سے نئی سیاسی سوچ کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ نئی عمارت میں خواتین کے لیے ریزرویشن بل کا پاس ہونا اس بات کا مثبت اشارہ تھا کہ اب ہمارا ملک صحیح سمت میں قدم اٹھا رہا ہے۔ لیکن چند دنوں کے بعد ہی ایک رکن پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے اندر اپنی بدزبانی اور بدکلامی سے ہندوستانی معاشرے کے اخلاقی اقدار تمام پارلیمانی اصولوں کو پامال کر کے پورے ملک کو شرمسار کر دیا۔ صرف ایک ہفتہ قبل، جنوبی ہند کے ایک لیڈ نے سناتن دھرم کے بارے میں تضحیک آمیز تبصرہ کیا تھا جس پر سناتن دھرم کے پیروکاروں نے صدائے احتجاج بلند کیا تھا، جس سے خود رمیش بیدھوری تعلق رکھتے ہیں، لیکن ان کی باتیں ان کی بیمار ذہنیت اور ان کے ذہن میں مذہب کی مسخ شدہ تصویر کی عکاسی کرتی ہیں۔ پارلیمنٹ میں انہوں نے نازیبا زبان استعمال کی اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں بین الاقوامی برادری میں ہندوستان کی شبیہ کی ذرا بھی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

 کنور دانش علی نے بیدھوری یا ان کی پارٹی کو گالی نہیں دی تھی بلکہ انہوں نے خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں ہندوستان کا سر فخر سے بلند کرنے پر اسرو کے سائنسدانوں کی تعریف کی تھی۔ انہوں نے سائنسدانوں کو مشترکہ اور اجتماعی طور پر مدد اور وسائل فراہم کرنے کے لیے نہرو، ابوالکلام آزاد اور موجودہ وزیر اعظم کے تعاون کی بھی تعریف کی۔ پھر بھی ان کے ساتھ بدکلامی کی گئی اور انہیں ذلیل و رسواء کیا گیا۔ دانش علی ایک ایسی قوم کی علامت بن گئے ہیں جسے مسلسل دبایا جاتا ہے اور اس کی تذلیل و توہین کی جاتی ہے۔

 ہندوستان کی آزادی اور اس کی سائنسی، اقتصادی اور تکنیکی ترقی میں مسلمانوں کی خدمات اور ان کی قربانیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہی نہیں اب انہیں اس ملک کا دشمن ثابت کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حال ہی میں مظفر نگر کے ایک سات سالہ مسلم لڑکے کو خاتون ٹیچر نے اپنی نفرت بھری ذہنیت کا شکار بنایا۔ دہلی کے ایک اسکول کے ایک استاد نے مبینہ طور پر اپنے کلاس میں کہا کہ ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا کوئی کردار نہیں ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہونے کی وجہ سے آزادی کی تحریک میں سب سے آگے تھے۔ یوپی میں شاملی کی جنگ علمائے کرام نے ہی لڑی تھی۔ 1857 کی بغاوت کے لیڈر بہادر شاہ ظفر تھے اور انگریزوں کے خلاف قلم اٹھانے پر موت کی سزا پانے والے سب سے پہلے صحافی مولوی محمد باقر تھے۔

 ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے، مولانا ابوالکلام آزاد نے ہندوستان کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے ہندوستان میں آئی آئی ٹی اور دیگر سائنسی ادارے قائم کیے، سائنسدان اے پی جے عبدالکلام کو ملک کے لیے میزائل سسٹم تیار کرنے پر ہندوستان کا میزائل مین کہا جاتا ہے۔ ہندوستان کے تازہ ترین مشن چاند کی کامیابی میں بہت سے نوجوان مسلمان سائنسدانوں کا بھی اہم کردار رہا ہے۔

اس سب کے باوجود میڈیا اور سیاسی لیڈروں کا ایک طبقہ انہیں مسلسل زبانی طور پر اذیت دیتا رہتا ہے اور ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرتا رہتا ہے۔

 مرکزی دھارے کا میڈیا مسلمانوں کے خلاف مسلسل افواہیں، گمراہ کن خبریں، اور اشتعال انگیزی پھیلاتا رہتا ہے۔ Covid-19 کی وباء کے دوران میڈیا نے کورونا کا ذمہ دار انہیں ہی ٹھہرا دیا تھا۔

 ملک کے پارلیمنٹ میں پیش آنے والا افسوس ناک واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ہندوستانی معاشرہ اخلاقی طور پر زوال کی انتہا کو پہنچ گیا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار کی عکاسی سے زیادہ، بیدھوری کا یہ گھٹیا طرز عمل اس بات کی دلیل ہے کہ کس طرح اکثریت پسند سیاست نے ملک کی اخلاقی اور معنوی قدروں کو تباہ کر دیا ہے۔

 گزشتہ نو سالوں سے ملک کا میڈیا گالی کے کلچر کو فروغ دے رہا ہے اور گالی کے کلچر نے ہر گھر کو متاثر کیا ہے۔ اب یہ کلچر ایک نیا معمول بن گیا ہے۔ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ اس کلچر کو عام کیا گیا ہے۔ کئی بار اینکرز بظاہر غلطی سے نازیبا الفاظ بولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اصل میں، یہ کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر معاشرے میں فحاشی کو پھیلانے کے مقصد سے اس قسم کی غلطیوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی ٹی وی چینلوں پر اسی فحاشی کے کلچر کو عام کرنے کی نیت سے اس قسم کی غلطیاں دہرائی جاتی ہیں۔ فحاشی کے اس کلچر کے پیچھے یہ نظریہ کار فرما ہے کہ ایک بار جب کوئی قوم اپنی اخلاقی اور معنوی قدریں کھو دیتی ہے تو وہ جانوروں اور درندوں کی جماعت بن جاتی ہے۔ بے حیائی کے اس کلچر کو ریڈیو روانڈا نے فروغ دیا اور دنیا نے اس کے نتائج دیکھے۔ ٹی وی پر نازیبا الفاظ بولنے والوں کو نہ ہٹایا جانا اور نہ ہی سزا دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ فحاشی کے کلچر کو جان بوجھ کر فروغ دیا جا رہا ہے۔

 پارلیمنٹ کے اندر یا باہر کنور دانش علی شاید اس رویے کا ایک واحد شکار نہیں ہیں۔ اس فرقہ واریت کے ماحول میں مسلمان ممبران پارلیمنٹ اور ایم ایل اے کا اپنی بات رکھنا اور عزت کے ساتھ جینا اور بھی مشکل ہونے والا ہے۔ ملک میں موب لنچنگ ایک نیا معمول بن گیا ہے۔ حکومتوں کا مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوز کرنا بھی ایک نیا معمول بن گیا ہے۔ لہٰذا مسلم ممبران پارلیمنٹ کو گالی دینا بھی ملک میں ایک نیا معمول بن سکتا ہے۔ مسلمانوں کو نئے ہندوستان میں مونو مانیسر، چیتن سنگھ اور بیدھوریوں کا سامنا کرنا ہو گا۔ اس ملک کے لیے ان کی خدمات اور قربانیوں کو نظر انداز کیا جائے گا۔ ان کی مساجد، مزارات اور مکانات پر ہمیشہ خطرے کی تلوار لٹکتی رہے گی۔ لیکن وہ بگڑتے ہوئے معاشرے میں تصفیہ، انصاف اور باوقار زندگی تلاش نہیں کر سکیں گے۔ انہیں بیٹھ کر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ان سے کہاں غلطی ہوئی۔

 ----

 رمیش بیدھوری اور ہندوستان کا اخلاقی زوال

 ثمر ہالارنکر

 22 ستمبر 2023

 ہندوستان کی پارلیمنٹ میں، رمیش بیدھوری جنوبی دہلی کی نمائندگی کرتے ہیں، جو ہندوستان کے سب سے خوشحال حلقوں میں سے ایک ہے، جہاں کے لوگوں کی آمدنی شاید کچھ ریاستوں اور ممالک سے زیادہ ہے۔ لیکن یہ امر کہ وہاں کے لوگوں نے بیدھوری کو منتخب کیا ان کے بارے میں اور ان کے اندرونی احساسات کے بارے میں کچھ کہتا ہے، جس کا اس تفرقہ انگیز ماحول میں کھل کر اور بے شرمی کے ساتھ اظہار کیا جا رہا ہے، جس کی سرپرستی بیدھوری کی پارٹی کر رہی ہے۔

 بیدھوری اور ان کے حلقے کے زیادہ تر لوگوں کے جذبات اس بڑھتے ہوئے تصور پر مرکوز ہیں کہ اس ملک پر سب سے پہلا - اور ممکن ہے کہ واحد حق - ہندوؤں کا ہے۔ یہاں کی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں کو، دوسرے درجے کے شہریوں کی طرح رہنا چاہیے اور انہیں ہندوؤں کے رحم و کرم پر جینا چاہیے، تا کہ وہ ان کی تذلیل و توہین کے لیے جو چاہیں کہیں اور جو چاہیں کریں۔

 2014 میں بیدھوری کے آقا کے پہلی بار اقتدار میں آنے کے بعد سے ہندوستان میں اسلامو فوبیائی ذہنیت اور تشدد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس سے نفرت انگیز زبان اور لنچنگ کا سیلاب امنڈ پڑا ہے، لیکن جب بھی ہم سوچتے ہیں کہ اب انتہا ہو گئی، بھارتیہ جنتا پارٹی یا اس کے جاننے ماننے والے ہندوؤں میں سے کوئی نہ کوئی انتہا پسند اخلاقی زوال کی ایک نئی حد تلاش کر لیتا ہے۔

 ہم نے ہندوستان کی تاریخ میں کبھی کسی رکن پارلیمنٹ کو کسی دوسرے رکن پارلیمنٹ کو صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر "دلال"، "دہشت گرد"، "کٹوا" (ختنہ شدہ)، "ملا اوگراوادی" اور "ملا آتنکوادی" (مسلم دہشت گرد) کہتے نہیں سنا۔ اس بار بیدھوری کی بدزبانی کا نشانہ بہوجن سماج پارٹی کے کنور دانش علی بنے۔

 توہین و تذلیل سے مسلمان ہار چکے ہیں، ایک مسلمان رکن پارلیمان پر محض مسلمان ہونے کی وجہ سے یہ حملہ نفرت کے ایک طویل سفر کی روداد بیان کرتا ہے – واٹس ایپ سے گلی گلی تک گلی گلی سے ٹیلی ویژن اسٹوڈیو تک اور وہاں سے پارلیمنٹ تک، جس کی نئی عمارت کا افتتاح دو دن قبل ہی ہوا تھا، جس کا مقصد ہندوستان کی خوبصورتی کو دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا۔ جب تک اسے روکا نہیں کیا جاتا، ہندوستان کا اخلاقی اور معنوی زوال یقینی ہے، اور اس بات کے کوئی آثار ظاہر نہیں ہوتے کہ ہندوستانی معاشرہ یا سیاست فی الحال اس زوال کو روکنے کے قابل ہے۔

 علی نے اسپیکر، اوم برلا کو لکھا کہ ’’یہ حقیقت کہ یہ افسوسناک واقعہ آپ کی قیادت میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت میں پیش آیا، میرے لیے اس عظیم ملک کے اقلیتی رکن اور ایک رکن پارلیمنٹ کے طور پر دل دہلا دینے والا تجربہ ہے، جنہوں نے بیدھوری کو دوبارہ ایسا کرنے پر "سخت ایکشن" کا محض ’’انتباہ‘‘ کیا۔

 صحافی فاطمہ خان نے ایکس پر کہا کہ "لوگ کہا کرتے ہیں اب ہمیں کسی بات سے حیرانی نہیں ہوتی" اور اس کے باوجود یہ ملک اور اس کے رہنما ہر وقت کچھ نہ کچھ ایسا کرتے رہتے ہیں، جو ایک زوردار طمانچہ ثابت ہوتا ہے۔ بہت سے مسلمانوں کی طرح وہ بھی بالکل مایوسی ہو چکی ہیں۔ ’’یہ ملک مسلم سیاست دانوں، مسلم کارکنوں یا مسلم شہریوں کا نہیں ہے۔ یہ ملک مسلمانوں کا نہیں ہے"۔

 وہ برلا – جو حزب اختلاف کے ارکان پارلیمان کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر اور یہاں تک کہ محض اپنا مائیکروفون بند کر دینے پر انہیں معطل کرنے کے لیے مشہور ہیں – ان کا بیدھوری کو پیار بھرے انداز میں صرف نصیحت کر کے چھوڑ دینا نہ صرف ان کے متعصبانہ رویے کی عکاسی ہے بلکہ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہندو معاشرے میں اسلامو فوبیائی بدکرداری اور تشدد کس طرح رچ بس چکا ہے۔

 حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیداروں میں مسلم مخالف جذبات کی بآسان مقبولیت اس وقت جگ ظاہر ہوگئی جب بی جے پی کے سابق مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد اور بی جے پی کے سابق مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن کو بیدھوری کی باتوں پر بے ساختہ مسکراتے ہوئے دیکھا گیا۔ ظاہر ہے کہ انہیں اس میں کچھ غلط نظر نہیں آیا۔ کیونکہ مسلمانوں کو طعنے دینا اب ایک قومی کھیل ہے۔

 بیدھوری کا لہجہ کوئی منفرد لہجہ نہیں تھا۔ اسی طرح کی زبان ان کی پارٹی کے لوگ اور ان کے ہم خیال افراد اکثر استعمال کرتے رہتے ہیں جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ اسی ہفتے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے بڑی ہی بے شرمی کے ساتھ یہ کہہ دیا کہ کانگریس سربراہ سونیا گاندھی کے گھر کو "جلا دیا جائے"۔ کانگریس نے آسام میں سرما کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی ہے، لیکن پولیس سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ بسوا کے خلاف فوری طور پر یا کبھی بھی کوئی کارروائی کرے، اس کے برعکس جس تیزی سے وہ ان مسلم کارکنوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں جنہوں نے احتجاج کے دوران امن کی بات کی تھی۔

اگر بیدھوری جیسے لوگوں کا مقابلہ کرنا ہے تو جنگ کا آغاز ان کے سیاسی مخالفین کو ہی کرنا ہوگا۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس طرح کی بد اخلاقی کے خلاف کھڑے ہیں، جیسا کہ ترنمول ایم پی مہوا موئترا نے کیا، جنہوں نے سب سے پہلے سوشل میڈیا پر بیدھوری کی گالی گلوچ والا ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔

 موئترا نے بجا طور پر کہا تھا کہ "اب زیادہ تر لوگوں کو اس میں کچھ غلط نظر نہیں آتا"۔ انہوں نے وزیر اعظم پر یہ الزام لگایا کہ "انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی ہی سرزمین میں خوف و ہراس کے عالم میں جینے پر مجبور کر دیا جس کے لیے وہ سب کچھ برداشت کرتے ہیں"، موئترا نے کہا، "معاف کیجئے گا لیکن میں اس کے خلاف بولونگی، کیونکہ ما کالی میری مدد گار ہے۔"

 زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بیدھوری کی بیہودگیوں کا رد کرنا چاہیے، خاص طور پر کانگریس پارٹی، ہندوستان کی سرکردہ اپوزیشن پارٹیوں کو، جنہیں حالیہ دنوں میں اقلیتوں کے خلاف ظلم و تشدد پر اکثر خاموشی اختیار کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

 کرناٹک میں، جہاں اب کانگریس کی حکومت ہے، ایک بہت بڑے اسلامو فوب پرمود متھالک – جس پر ایک مرتبہ بی جے پی حکومت نے گوا میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی تھی – نے بڑی دریدہ ذہنی کے ساتھ ایک مسجد میں گنیش کی مورتی نصب کرنے کی دھمکی دی، ’’اگر ہندو سماج کو اکسایا گیا‘‘۔ کانگریس کو مجرمانہ مقدمات درج کرنے اور متالک جیسے لوگوں کو گرفتار کرنے سے کوئی چیز نہیں روکتی، وہ ایسے کچھ قوانین کا استعمال کر سکتی ہے جنہیں بی جے پی حکومتیں ہمیشہ اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرتی ہیں۔

 بیدھوری کے پارلیمنٹ میں علی پر زبان طعن دراز کرنے سے ایک دن قبل، اقلیتی مسائل پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے فرنینڈ ڈی ویرنس نے یو ایس کمیشن آن انٹرنیشنل رلیجیس فریڈم ہیئرنگ کو بتایا کہ انہوں نے اور یوپی کے متعدد خصوصی کارکنوں نے "بھارت میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے"۔

ویرنس نے کہا: "ہم نے، پچھلی دہائی میں، متعدد پریس ریلیز جاری کی ہیں... 2011 سے لیکر اب تک کے مواصلاتی جائزے سے، بنیادی حقوق، خاص طور پر مذہبی اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کا مارا جانا ظاہر ہوتا ہے" ۔ "2022 تک، ان میں سے تقریباً سبھی پر بنیادی حقوق کے مارنے اور خاص طور پر مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے سنگین الزامات ہیں۔"

 "میں پھر سے یہ کہتا ہوں: ہندوستان عدم استحکام، مظالم اور تشدد کا دنیا کا سب سے بڑا سوداگر بننے کے خطرے سے دوچار ہے، کیونکہ وہاں بڑے پیمانے پر مذہبی اور دیگر اقلیتوں مثلاً مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں وغیرہ کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اور ان سب کا دائرہ صرف انفرادی یا مقامی سطح تک محدود نہیں، بلکہ یہ منظم اور مذہبی قوم پرستی کا عکاس ہے۔

 علی پر بیدھوری کا حملہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ نفرت انگیز زبان کے خلاف مصلحت کوش سیاسی خاموشی کا وقت گزر چکا ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈروں اور ان کے چاہنے ماننے والوں کی بد زبانی حد پار کر چکی ہے، جیسا کہ سونیا گاندھی کے گھر جلانے والی سرما کی بات سے ظاہر ہے۔ اگر کانگریس ہمیشہ کی طرح اب بھی ان سب باتوں کو نظر انداز کرتی رہتی ہے اور ہندو انتہا پسند مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ کرتے ہیں اور کہتے ہیں، اگر اس کے خلاف کھڑی نہیں ہوتی، تو ملک میں انتخاب لڑنے کے لیے بہت زیادہ کچھ باقی نہیں بچے گا۔

 -----

 ماخذ:Ramesh Bidhuri and The Descent of India

----------------

 English Article: Hate Speech Reaches a New Low in India with Ramesh Bidhuri's Derogatory Language Against a Muslim MP In Parliament

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/hate-speech-india-bidhuri-derogatory-language-muslim-mp/d/130812

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..