گریس مبشر، نیو ایج اسلام
آخری قسط
25 نومبر 2022
پیغمبر اسلام کی قائم کردہ
اسلامی ریاست ایک مطلقاً اسلامی ریاست نہیں تھی، بلکہ وہ اس وقت زمین پر اسلامی
کمیونٹی کی جمعیت تھی جس کی تقلید سب کے لیے تھی۔
-----
پیغمبر اسلام کی قائم کردہ
اسلامی ریاست ایک مطلقاً اسلامی ریاست نہیں تھی، بلکہ وہ اس وقت زمین پر اسلامی
کمیونٹی کی جمعیت تھی جس کی تقلید سب کے لیے تھی۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کی وفات کے وقت اسلامی معاشرہ تمام براعظموں میں پھیلا ہوا عالمی نہیں تھا
جیسا کہ آج ہے، بلکہ اس وقت اسلامی معاشرہ ایک محدود آبادی پر مشتمل تھا جو صرف
اسی ملک کی حدود میں آباد تھا جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں
تھا۔ اسلام وہ دین ہے جو اللہ تعالیٰ نے جو کائنات کا خالق ہے، تمام بنی نوع انسان
کے لیے قیامت تک کے لیے بھیجا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ذریعہ
پرورش پانے والے اسلامی معاشرے نے صدیوں اور براعظموں تک اس کو پھیلایا ۔
ایک قوم کے طور پر پیغمبر
کے صحابہ کا محفوظ وجود بنیادی طور پر اس نظام کی حفاظت پر منحصر تھا جس میں وہ
رہتے تھے۔ اسی وجہ سے امت مسلمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد
عرب کی سیاسی ترقی کے بعد، جس کی بنیاد رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم نے رکھی
تھی، اس وقت کے عالمی نظام کے معیار کے مطابق ملک کی سلامتی کے لیے جو کچھ بھی
کرنا تھا وہ کیا۔ ایک سلطنت کے طور پر ترقی کرنا اس وقت کی سیاسی خوشحالی کا راستہ
تھا۔ اس وقت کا عالمی سیاسی ماحول جس پر رومن ایمپائر اور فارس امپائر کا غلبہ تھا
جس نے ایک دوسرے کو فتح کرنے کی کوشش کی اور سہولت کے مطابق چھوٹے چھوٹے ممالک کو
فتح کیا۔ اگر اسلامی معاشرہ خود کو صرف عرب دنیا میں ہی محدود رکھتا تو روم یا
فارس کو جب بھی موقع ملتا اسے فتح کر لیتے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ایک اسلامی
ریاست بلکہ پورا اسلام ہی ختم ہو جاتا۔
تاریخ کا تقاضا یہ تھا کہ
اسلامی ریاست عرب کے باہر کی سامراجی قوتوں سے بھی محفوظ رہے اور عرب کے اندر کے
قبائلی خطرات سے بھی۔ اس زمانے کی مروجہ بین الاقوامی پالیسی 'ہتھیار ڈالو یا
مغلوب ہو جاؤ' تھی۔ وہ آج کی طرح بین الاقوامی برادری نہیں تھی، جہاں قوم پرستی کا
تصور، لیگ آف نیشنز اور اقوام متحدہ نے آکر ممالک کے حدود کا تعین کیا اور سرحدوں
سے باہر مداخلت کو بین الاقوامی سیاسی جرم قرار دیا۔ اس دور میں، جب صرف دو ہی
امکانات تھے: یا تو اپنی حدود کو بڑھا کر خود کو ایک سلطنت بنا لو، یا کسی دوسری
سلطنت کے توسیعی عمل میں مغلوب ہو کر مٹ جاؤ۔ جبکہ اسلامی مملکت کو ہر قیمت اس
دوسرے امکان سے خود کو محفوظ رکھنا ضروری تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
صرف اسلامی معاشرہ کی تعمیر کے لیے جدوجہد نہیں کی تھی کہ وہ آپ کی وفات کے چند
عشروں میں یہ تاریخ سے غائب ہو جائے۔
نہ روم، نہ فارس، اور نہ
ہی خود عربوں کو یہ اندازہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سیاسی وحدت
قائم کی تھی وہ اتنی مضبوط تھی کہ اس پر ایک سلطنت کی بنیاد رکھی جا سکے۔ یہ آج
بھی تاریخ کے پراسرار ترین معجزات میں سے ایک ہے کہ قبل اس کے کہ روم اور فارس کو
عرب کی طاقت کا ادراک ہوتا، مسلم فوجیں ان دونوں سلطنتوں کی حدود میں داخل ہو گئیں
اور دنیا کے نقشے پر ایک نئی سلطنت کا نشان بنا۔ عرب جنہیں اب تک کسی بھی عالمی
جنگ کی قیادت کا تجربہ نہیں تھا، انہوں نے خلیفہ عمر کے دور میں فارس اور روم کے
قلعوں کو ہلا کر رکھ دیا اور ایک نئی عظیم سلطنت داغ بیل ڈالی جس میں جزیرہ نما
عرب کے علاوہ آج کا ایران، عراق، شام، اردن، فلسطین اور مصر بھی شامل تھے۔ ان تمام
علاقوں میں مسلمان رہنے لگے، اسلامی تعلیمات پھیلنے لگیں اور مقامی لوگوں نے
اجتماعی طور پر اسلام قبول کیا۔ خلیفہ اور ان کے ساتھیوں کو یقین تھا کہ ان کی
فوجی فتوحات جتنا اسلام کو ایک عالمی مذہب بنانے کیلئے تھیں اتنی ہی موجودہ اسلامی
معاشرے کے تحفظ کے لیے بھی تھیں۔
ان دینی وجوہات کی وجہ سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قائم کردہ قوم کی بقا اور ترقی کے لیے عسکری
کارروائیوں کو جاری رکھنے کو کئی وجوہ سے ایک بڑی فضیلت قرار دیا تھا۔ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے فراہم کردہ یہی محرکات اسلامی سلطنت کے قیام کے پیچھے در
اصل کار فرما تھے۔ اسلامی فوج کا عرب سے باہر رخ کرنا کیوں ضروری تھا اس کی وضاحت
نویں ہجری میں روم کی طرف تبوک مہم کی قیادت کر کے امت مسلمہ کو کر دی گئی تھی۔
پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہ صرف فوجی پیش قدمی کی فضیلت بیان کرتے ہوئے
اس دنیا سے رخصت ہوئے بلکہ یہ پیشین گوئی بھی کی کہ مسلمانوں کو ایسی فتوحات حاصل
ہوں گی جو سلطنت کی تعمیر کی راہ میں دنیا کو حیران کردیں گی۔ ایک ایسے وقت میں جب
اہل مدینہ کے پاس عرب کے داخلی مشرک قبائل کی طرف سے پیدا ہونے والے چیلنجوں کا
مقابلہ کرنے کے لیے بھی افرادی قوت یا ہتھیار نہیں تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے مستقبل کے بارے میں اللہ کی طرف سے دی گئی وحی کی بنیاد پر بہت سی ایسی
پیشین گوئیاں کیں جو اس وقت پوری ہونے والی تھیں جب اسلامی معاشرہ ایک سلطنت کے
حکمران بن جاتا۔ خلفائے راشدین کے زمانے میں جب یہ پیشین گوئیوں سچ ہونی شروع
ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی سچائی بھی خوب واضح ہو گئی۔ جو
لوگ مذکورہ پیشین گوئیوں کے سیاق و سباق کو سمجھتے ہیں وہ 'غزوہ ہند' کی احادیث کے
معانی و مفاہیم کو بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں۔
یہ بات مشہور ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ فارس اور روم کے شہنشاہوں کے
جاہ و جلال کے دن ختم ہونے والے ہیں اور عنقریب مسلمان اپنے خزانوں کا انتظام سنبھال
لیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں اس وقت موجود تھے جب فارس شاہ
خسرو کے دور میں اپنے عروج پر تھا۔ جب خسرو کا انتقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے زمانے میں ہوا اور اس کی ایک بیٹی ان کے بعد ملکہ بنی تو رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ قوم - فارسی - جس نے ایک عورت کو اپنا لیڈر
بنایا ہے وہ فتح یاب نہیں ہوگی۔"
ہجرت کے پانچویں سال میں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے بڑی محنت سے شہر کی حدود کے گرد
ایک بڑی خندق کھودی تاکہ شہر مدینہ کو مختلف مشرک عرب قبائل کی ایک بڑی اتحادی فوج
سے بچایا جا سکے جس نے بڑی چالاکی کے ساتھ مدینہ کو گھیر لیا تھا۔ اس خندق کو
کھودتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلہاڑی کا استعمال کرتے ہوئے راستے کے
ایک بڑے پتھر کو ہٹایا اور دعا پڑھتے پڑھتے اسے ہٹا دیا۔ چٹان کاٹنے کے بعد رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میں پتھر کاٹ رہا تھا تو اللہ تعالیٰ
مجھے فارس اور روم شہر دکھا رہا تھا۔ پھر اپنے صحابہ کی درخواست پر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی کہ وہ زمینیں اسلامی فوج کے ہاتھوں فتح ہو
جائیں۔
ان احادیث میں جو فارس
مذکور ہوا اس سے مراد آج کا ایران اور عراق ہے۔ روم سے مراد بازنطینی روم ہے؛ جو
بنیادی طور پر اس وسیع خطے کا نام ہے جو اس وقت عربی میں 'شام' کہا جاتا تھا - جس
میں آج کے شام، اردن، فلسطین اور مصر شامل ہیں۔ اس انسان کا تاریخ اور دنیا کے
بارے میں علم کی حالت زار کا اندازہ کیسے لگایا جائے جو روم و فارس کے سقوط یا
وہاں پر عرب اسلامی افواج کی فتوحات کے حوالے سے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلّم کی
پیشن گوئیوں کو اس بات کا 'ثبوت' بنا کر پیش کرتا ہے کہ مسلمانوں کی ایران، عراق،
شام، اردن، مصر اور فلسطین سے مذہبی دشمنی ہے، یا یہ کہ مسلمان مذکورہ ممالک کی
تباہی کو نیکی سمجھتے ہیں! ان مذکور ممالک میں سے کوئی بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کے زمانے میں موجود نہیں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس روم کا ذکر کیا
ہے اس کا کوئی سیاسی وجود نہیں تھا جیسا کہ فارس آج موجود ہے۔ صرف روم اور فارس ہی
نہیں بلکہ جس اسلامی سلطنت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
تھا کہ وہ ان جنگوں کی قیادت کرے گی، وہ بھی اب موجود نہیں ہے۔
سلطنتوں کا دور تاریخ کے
پردے میں چھپ چکا ہے اور ہم قومی ریاستوں کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ احادیث ایک ایسے دور کے بارے میں ہیں جو آج
تاریخ بن چکی ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلّم نے پیشین گوئی کی تھی کہ قرون
وسطیٰ میں میری قائم کردہ اسلامی مملکت، جب دنیا کی سیاسی طور پر سامراجیت کا دور
تھا، میری وفات کے بعد اس وقت کی فطری ریاستی اخلاقیات کے مطابق ایک سلطنت میں
پروان چڑھے گی۔ اور رومی اور فارسی سلطنتوں کا تختہ الٹ دیا جو اسلام اور مسلمانوں
کی دشمن تھیں۔ وہ تمام پیشین گوئیاں خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں نہایت
درستگی کے ساتھ پوری ہوئیں۔ یہیں پر معاملہ ختم ہوتا ہے۔
ان سلطنتوں کے وہ تمام
صوبے جن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ تم
جنگیں کرو گے وہ سب کے سب دشمن ممالک تھے جن میں اس وقت مسلمانوں کی کوئی موجودگی
نہیں تھی اور وہ اسلامی سلطنت کو تباہ کرنے کے درپے تھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ
علیہ وسلّم نے جن کی پیشین گوئی کی تھی ان تمام فوجی پیشرفت کے ساتھ، ان تمام
ممالک میں بڑے پیمانے پر اسلامی معاشرے قائم ہوئے اور مسلمان تاریخ کے ایک نئے دور
میں داخل ہو گئے۔ اگر کوئی واقعی یہ سمجھتا ہے کہ ان احادیث کا پیغام موجودہ
ایران، عراق، شام، فلسطین، اردن اور مصر سے جنگ کرنا ہے تو اس نے ان احادیث کو غلط
سمجھا ہے۔ انہوں نے اس وقت کی زبان کو ہی نہیں سمجھا جس میں یہ پیشین گوئیاں کی
گئیں تھیں، انہیں یہ معلوم نہیں کہ ان کی پیشین گوئیاں تاریخ میں پوری ہو چکی ہیں،
ان کی دشمنی کا آج کوئی مطلب ہی نہیں ہے، اور انہوں نے یہ دیکھا ہی نہیں کہ ان کی
سیاسی منطق کا اطلاق زمانے پر ہوتا ہے وہ ختم ہو چکا۔
ثوبان رضی اللہ عنہ کی ایک
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہندوستان کا ذکر ایک
ایسی سرزمین کے طور پر کیا جہاں روم اور فارس کی طرح اسلامی سلطنت کی فوجیں داخل
ہو ہوں گی۔ ہندوستان کا ترجمہ عربی لفظ 'الہند' سے کیا گیا ہے۔ عربی میں الہند سے
مراد پیغمبر اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلّم کے دور میں وہ ہندوستان نہیں ہے جو 15
اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا جو ہماری مادر وطن ہے۔ زیادہ تر عربوں نے سندھو
اور ہندو کا لفظ سنا تھا اور ایک تجریدی تصور کے طور پر جو دنیا کے مشرقی 'کنارے'
تک پھیلا ہوا تھا، جیسا کہ وہ سمجھتے تھے، برصغیر پاک و ہند کے علاوہباس میں
موجودہ ملیشیا اور انڈونیشیا کے کچھ حصے بھی شامل تھے۔ موجودہ قومی ریاستوں کے
لحاظ سے قرون وسطیٰ کی عربی میں الہند سے مراد وہ خطہ ارضی ہے جس میں پاکستان،
ہندوستان، بنگلہ دیش، ملیشیا اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ جیسے ہی یہ بات واضح ہو گی،
ہندوستان میں جہاد کی دعوت اب درست نہیں رہے گی، بلکہ یہ خود نبی صلی اللہ علیہ
وسلم کی تعلیمات کے خلاف ٹھہرے گی۔ کیونکہ 'غزوہ ہند' والی حدیثوں کا تعلق
سندھ/ہند کی جنگ والی احادیث سے ہے۔ ان سے پاکستان مخالف، بنگلہ دیش مخالف، ملیشیا
مخالف اور انڈونیشیا مخالف جنگوں کا تعین اسی معیار سے کیا جا سکتا ہے جو کہ بھارت
مخالف ہے۔ اسلام کے عالمی پھیلاؤ کی وجہ سے، عرب فارس اور روم سے کچھ زیادہ دور
تھا لیکن وہاں بہت سے جنگجو بادشاہوں اور غیر منظم لوگوں نے آباد تھے۔
جیسا کہ فارس اور روم کا
معاملہ ہے، وہ مرحلہ قرون وسطیٰ کی اسلامی تاریخ میں گزر چکا ہے۔ یہ حدیث ان مواقع
پر روشنی ڈالتی ہے جب ابتدائی اسلامی فوجیں 'ہند' صوبوں تک پہنچ چکی تھیں۔ اس کا
جدید ہندوستانی قوم یا ہندوستان کے جدید مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ قرون
وسطیٰ کی عربی میں لفظ 'الہند' کو کبھی کبھی 'سندھ والہند' جیسے الفاظ کے ساتھ بھی
ملا کر بولا جاتا تھا۔ یہ ایک اصطلاح تھی جس کا استعمال زمین کے وسیع خطوں کو
'الہند' کے ذریعہ سندھ کے مغرب میں سندھ اور سندھ کے مشرق میں ہند کے طور پر کیا
جاتا ہے۔ حدیث کا ہندو مت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور کبھی بھی حدیث میں ہندومت کو
اسلام کے دشمن نہیں بتایا گیا ہے۔ عربی ادب میں ہند کا استعمال جغرافیائی توسیع کو
ظاہر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
سماجی اور سیاسی حالات کو
بیان کرنے کے لیے حدیث کو استعمال کرنا بدنیتی اور خود اسلام کے خلاف ہے۔ حدیث کی
بنیاد پر جہاد کی دعوت غلط ہے اور اس کا مقابلہ فکری اور جسمانی دونوں سطح پر کیا
جانا چاہیے۔ اسی طرح، اسلامو فوب سے متاثر خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے والوں کو
ان احادیث کے استعمال سے بھی روکنا چاہیے تاکہ پرامن طور پر باہمی تعاون کا راستہ
آسان بنایا جاسکے۔
مشرق کی طرف فوجیں سندھ تک
پہنچیں اور پھر سنہرے دنوں میں جب اسلامی سلطنت کا دار الحکومت مدینہ سے دمشق
منتقل ہوا اور وہاں قائم اموی خلافت کے تحت سامراجی ترقی تیز ہوئی تو یہ دریائے
سندھ کو پار کر کے دوسری طرف چلی گئی۔ یہ ولید بن عبدالملک ابن مروان (705-715
عیسوی) کی خلافت کا دور تھا۔ عراق میں، جو پہلے ہی اسلامی سلطنت کا حصہ بن چکا
تھا، اس وقت ولید کا گورنر حجاج ابن یوسف تھا۔ سلطنت کے مشرقی صوبوں کے افسر کی
حیثیت سے، اس نے مزید مشرق کی طرف مہمات کی جس کا ہدف ہند تھا۔ جہاں تک صوبہ سندھ
کا تعلق ہے تو سب سے پہلے اموی خلیفہ معاویہ (وفات 680ء) کے دور خلافت میں ہی
اسلامی سلطنت کا قدم یہاں پر چکا تھا۔ سنان ابن سلمہ کی قیادت میں معاویہ رضی اللہ
عنہ کی کمان والی فوج نے سندھ کے قریب بحر ہند کے ساحل پر صوبہ مکران تک اپنی
سلطنت کو پھیلا دیا تھا۔ ولید کے دور حکومت میں، سندھ اور ہند کی مشہور مہمات
سلطنت کی توسیع کے ساتھ عمل میں آ چکی تھیں جب قتیبہ بن مسلم کی قیادت میں اسلامی
فوج نے حجاج ابن یوسف کی ہدایت پر چین کے قریب وسطی ایشیا کی طرف اہم پیش قدمی کی
تھی۔
اگر نبی اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم نے 'غزوۃ الہند' اور اس کی فضیلت کے بارے میں پیشین گوئی فرمائی ہوتی تو
اس پیشین گوئی کا آغاز موجودہ پاکستان کے بعض حصوں میں روم اور فارس کے بارے میں
پیشین گوئیوں کے مکمل ہونے کے بعد چند دہائیوں کے اندر ہی ہو چکا ہوتا۔ جیسا کہ مشہور
ہے کہ حضرت ابوہریرہ (603-681 عیسوی) جنہوں نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ وہ اپنی
زندگی میں غزوہ ہند میں شرکت کی امید رکھتے تھے اور انہوں نے یہ بات کہی بھی تھی
کہ اگر وہ زندہ واپس آجائیں یا اس جنگ میں شہید ہوجائیں تو کیا ہوگا۔
تقریباً 1300 سال پہلے پیش
آنے والے ایک واقعہ کے حوالے سے ایک روایت کو کہ جب اس وقت کی اسلامی ملک کے کچھ
سپاہیوں نے ایک ایسے خطے کے کچھ بادشاہوں اور سپاہیوں کے خلاف جنگ لڑی تھی جو اب
پاکستان کا حصہ ہے ایک بالکل نئی ریاست جس کا نام ہندوستان اور اس کے مسلمان شہری
ہیں، جو 15 اگست 1947 کو معرض وجود میں آئی تھی، جوڑنے کی منافقت اور حماقت ہر اس
شخص پر عیاں ہو جائے گی جس کے اندر معمولی سی بھی عقلمندی ہو۔ جو لوگ یہ سمجھتے
ہیں کہ فارس اور روم کی فتوحات جو احادیث میں مذکور ہیں وہ بہت پہلے ملت اسلامیہ
نے حاصل کی تھیں اور اس کا مفاد آج کے عراق، ایران، شام، فلسطین یا مصر سے لڑ کر
فتح حاصل کرنے میں نہیں ہے، وہ تمام لوگ جو یہ سمجھتے ہیں اگر محمد بن قاسم کی
تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہندوستانی جنگ کے حوالے سے حدیث بھی مختلف نہیں ہے۔
جس طرح رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے روم اور فارس کو مکمل طور پر غیر مسلم ممالک قرار دیا تھا، اور آپ
صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کو پورا کرنے والی فوجی پیش قدمی نے ان ممالک کا
رخ بدل دیا تھا، یہ بات بھی اہم ہے کہ شمالی ہند، جس میں کوئی مسلمان نہیں تھا جب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کی، محمد بن قاسم کے حملے کے بعد قرون
وسطیٰ کی کئی مسلم حکومتوں اور لاکھوں مسلمانوں کا مرکز بن چکا تھا۔ خلافت عباسیہ
کے زوال کے بعد دہلی کے سلطانوں، مغلوں اور نظاموں کا ہندوستان ہی عالم اسلام کا
سب سے نمایاں سیاسی مرکز رہا۔ آج بھی ہندوستان دنیا کی دوسری سب سے بڑی مسلم آبادی
والا ملک ہے۔
روم اور فارس کی طرح
ہندوستان بھی ان خطوں میں سے ایک ہے جہاں مسلم حکمرانوں کی فوجی پیشرفت کے ذریعے
اسلام اور مسلمان داخل ہوئے تھے اور جس نے تمام ابتدائی اسلامی مورخین کے نزدیک
اسلامی تاریخ کو ہی تبدیل کر دیا تھا۔ امام طبری کا مشہور طارق (متوفی 923) نے الہند
میں اسلام کی فتح کا ذکر کیا ہے۔ یعقوبی (متوفی 897/8) نے محمد بن قاسم کی فوجی
مہمات کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ بلازری (متوفی 892)، نے فتوح البلدان میں جو مختلف
سرزمینوں میں اسلام کی فتوحات پر ایک کتاب ہے، محمد بن قاسم کے حوالے سے ہندوستان
میں ہونے والی فتوحات کا تفصیلی بیان ہے۔ ابن الاثیر (متوفی سنہ 1160) نے بالاذری
کا تفصیل سے حوالہ دیا ہے تاکہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آباد کاری کی کہانی بیان
کی جا سکے۔ برصغیر پاک و ہند کے صوبوں میں محمد بن قاسم نے فتح کا جھنڈا لہرایا،
اور ان کے ساتھ آنے والے کئی عرب مسلمان فوجیوں کے خاندان نسل در نسل یہاں آباد
رہے۔ بعد میں ان میں سے بعض نے اپنے آباؤ اجداد کی جنگی یادوں پر مبنی ایک کتاب
عربی میں مرتب کی، جس کا فارسی میں ترجمہ 13ویں صدی میں چچ نامہ کے نام سے کیا
گیا، جو آج بھی موجود ہے۔ چچ نامہ کو ہندوستان میں ہی تحریر کردہ کتاب کے طور پر
خاص اہمیت حاصل ہے، جو ہندوستان کو ابتدائی اسلامی فتوحات کے ایک اہم باب کے طور
پر پیش کرتا ہے۔
حافظ ابن کثیر کی مشہور
کتاب البدایۃ اس کی ایک مثال ہے۔ 'الاخبار عن غزوۃ الہند' (جنگ ہند کی تاریخ) کے
عنوان کے تحت، ہندوستان کی جنگ سے متعلق احادیث نقل کرنے کے بعد، ابن کثیر اس
حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہندوستان میں جنگیں لڑی تھیں۔ ظاہر ہے
کہ اگر نبیﷺ نے غزوہ ہند کی پیشین گوئی کی تھی تو وہ محمد بن قاسم کے حملے سے پوری
ہوئی۔
کچھ مسلم علماء اور فضلاء
ایسے ہیں جن کی رائے ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جس 'ہندوستان کے خلاف
جنگ' کا ذکر کیا ہے وہ تاریخ کا ماضی کا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ قیامت سے پہلے پیش
آنے والا ہے۔ یہ حقیقت کے پیش نظر کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث میں
غزوۃ الہند کے ساتھ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے لشکر میں شامل ہونے والے
مسلمانوں کا بھی ذکر کیا ہے اور دونوں گروہوں کو یکساں اجر کی تلقین کی ہے، ان میں
سے بعض کو ایسا خیال گزر سکتا ہے، اگر وہ ان احادیث کو صحیح مانیں۔ مسلم اور
عیسائی دونوں علماء کا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت سے پہلے زمین پر
واپس آئیں گے۔ یہ ایک مروج مسلم اور عیسائی عقیدہ بھی بن چکا ہے۔
احادیث سے یہ واضح ہے کہ
یہ اس وقت کی بات ہے جب دنیا کا خاتمہ قریب آ چکا ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک
ہی حدیث میں دو فوجی پیش قدمیوں کا ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے، اس طرح یہ کہنا کہ
دونوں میں شامل ہونے والے کا اجر ایک ہی ہے، یہ ثابت نہیں کرتا کہ دونوں ایک ہی
وقت میں پیش آنے والی ہیں۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے کہ
"غزوہ ہند کے بعد واپس آنے والے عیسیٰ ابن مریم اور ان کے گروہ سے ملیں
گے" تو یقیناً یہ بات یقینی تھی کہ غزوۃ الہند مستقبل میں قیامت سے پہلے ہونے
والی ہے۔ لیکن ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ جو روایتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے بیان کی ہیں وہ ضعیف اور ناقابل اعتبار ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ لاکھوں
احادیث گڑھی گئی تھی۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر حدیث کی سند مشکوک ہو جاتی ہے خواہ
محدثین کچھ بھی کہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ حدیث کا متن اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ
غزوۃ الہند مستقبل کا واقعہ ہے، رومی/فارسی جنگوں کے برعکس، اس بات میں کوئی وزن
نہیں ہے۔
ایک اور بات جس کی طرف
اشارہ کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ بعض ابتدائی مسلم کتب میں 'غزوۃ الہند' کو آخری
زمانے کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔ یہاں ایک اہم حقیقت پر غور کرنا ضروری ہے۔ ہم
نہیں جانتے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور دنیا کے ختم ہونے کے درمیان کتنی
صدیاں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اس کی خبر نہیں دی ہے۔ کسی مسلمان عالم کے
پاس بھی اس کا کوئی علم نہیں ہے، جیسا کہ نبی کے پاس بھی اس کا علم نہیں تھا۔
پیغمبر اسلام صلی اللّٰہ علیہ وسلّم کی بعثت کو اسلامی روایت میں آخری زمانے کی
نشانی شمار کیا گیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہم اور قیامت
شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کی طرح قریب ہیں۔ یہ کہنے کا کہ نبوت ختم ہو گئی
ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا اپنے خاتمے کے بہت قریب ہے۔ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ
اس سے کتنا وقت مراد ہے۔
ہم ایک ایسی دنیا میں رہ
رہے ہیں جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو ڈیڑھ ہزار سال گزر چکے ہیں۔
ابتدائی مسلم علماء فطری طور پر یہ نہیں جانتے تھے کہ دنیا اتنے طویل عرصے تک ختم
نہیں ہو گی، جس طرح کہ ہم نہیں جانتے کہ دنیا کب تک قائم رہے گی۔ چونکہ دنیا کا
خاتمہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے، اس لیے علمائے کرام یہ سمجھ چکے ہیں کہ حضرت محمد
صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر پیشین گوئی دنیا کے خاتمے کی علامت ہے، اور اس بات
کی علامت ہے کہ ہم دنیا کے خاتمے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ روم اور فارس میں مسلمانوں
کی فتوحات فطری طور پر آخری زمانے کی نشانیاں تھیں۔ اسی طرح محمد بن قاسم کی
ہندوستان آمد کو دنیا کے خاتمے سے متعلق ایک واقعہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
یہاں صرف یہ بتانا مقصود
ہے کہ حدیث کی تشریحات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ 'ہندوستان کے خلاف جنگ' ہمارے لیے
مستقبل میں پیش آنے والا واقعہ ہے، جو قیامت سے کچھ قبل پیش آئے گا، جیسا کہ بعض
طبقوں کا دعویٰ ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ ایسی رائے کے درست ہونے کا کوئی امکان
نہیں۔ ایسے علماء بھی ہیں جن کی رائے ہے کہ رومیوں کے ساتھ مسلمانوں کی جنگ، صحابہ
کے زمانے کے علاوہ، قیامت کے بالکل قریب، حضرت عیسیٰ کی واپسی پر دوبارہ ہو گی۔
بعض احادیث میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ نظریہ کہ 'غزوۃ الہند' دنیا کے اختتام
کے قریب ہونے والی متعدد جنگوں میں سے ایک ہے ایک علمی رائے ہے جو صحیح یا غلط بھی
ہو سکتی ہے، جیسا کہ تمام موضوعات پر علمی رائے ہے، جسے بغیر کسی واضح ثبوت کے
مستند تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن واضح طور پر یہ حدیثیں برصغیر پاک و ہند کے
موجودہ سیاسی سماجی حالات کے حوالے سے نہیں ہیں۔
مسلم علما کا خیال ہے کہ
یہ (کتاب الفتن و الملاحم) کی احادیث سے واضح ہے۔
یہ کہ موجودہ دنیا یا
موجودہ سیاسی حالات قیامت کے وقت موجود نہیں ہوں گے کہ مسلم دنیا خانہ جنگیوں میں
ڈوب جائے گی اور آخر کار پوری امت مسلمہ سیاسی طور پر ایک رہنما کے تحت متحد ہو کر
ان کی اور ان کی اسلامی فوج کی مدد کرے گی، جنکا نام امام مہدی ہوگا اور جو مسلم
دنیا کے دشمنوں کا مقابلہ کریں گے۔
ایک ایسے وقت میں جب امام
مہدی اور ابن مریم کی عالمی حکومت وجود میں آئے گی، بنیاد پرست عناصر کیا سوچتے
ہیں کہ سیاسی تنازعات جو ایسے وقت میں پیش آتے ہیں کہ جب آج کے نقشے صرف تاریخی
صفحات ہیں، ان کا موجودہ ہندوستانی حالات سے کوئی تعلق ہے؟ اگر چہ اہل علم کا یہ
قیاس ہے کہ 'غزوۃ الہند' ایک مستقبل کا واقعہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام
کی واپسی کے دوران یا اس سے کچھ پہلے پیش آنے والا ہے، تب بھی ملک کے موجودہ نظام
میں اس قسم کے دلائل کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ مسلمانوں کے لیے اچھا ہو گا کہ وہ فرضی
عقائد سے باہر نکلیں اور 21ویں صدی کی عصری دنیا میں رہنا شروع کر دیں۔
-------------
URL:
New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism