New Age Islam
Sat Sep 18 2021, 06:51 AM

Urdu Section ( 3 Aug 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Ten Great books of the world of literature - Part 5 دنیائے ادب کی دس عظیم کتابیں

غلام نبی خیال

پانچویں قسط

1اگست،2021

البتہ اگر وہ کسی بھی موقعے پر وقت کی طرف مخاطب ہوکر اس سے کہے ’’ اے وقت کے خوبصورت لمحے ! ذرا ٹھہرو!‘‘ تو شیطان اسی وقت آکر اس کی روح قبض کرے گا او راسے جہنم کی گہرائیوں میں دھکیل دے گا۔ گوئٹے نے شیطان ہی کے بہکاوے سے آتش کدۂ عشق کے دہکتے انگاروں کو بجھانے کیلئے اپنی محبوبہ ماگر بیٹی کو ہوس کا شکار بنایا اور جب وہ حاملہ ہوئی تو سماج میں مطعون ہونے کے ڈر سے اس نے اپنے نوزائیدہ کا گلا گھونٹ دیا۔ اس جرم کی پاداش میں اسے جیل جانا پڑا جہاں وہ زندگی کی ویرانیوں سے تنگ آکر خود کشی کر بیٹھی ۔ دنیا کی تمام خوشیوں ، لذتوں اور مرادوں کی منزلیں طے کرنے کے بعد ایک دن گوئٹے ایک بے حد خوبصورت شام کا دلکش نظارہ دیکھ کر بے شاختہ کہہ اٹھتا ہے:

’’ اے اور بھاگتے ہوئے لمحے ،ذرا ٹھہر!‘‘

شیطان فوراً اس پر جھپٹ کر اس کی جان لینا چاہتا ہے مگر اس لمحے خدا شیطان سے یہ کہہ کر گوئٹے کو اپنے پاس بلاتا ہے کہ یہ حسین لمحہ تم نے نہیں بلکہ میں نے اسے دیا تھا اور اس طرح کی روح پر میرا ہی حق رہا۔ شیطان ! تم ہار گئے!!

مجھے لگتاہے کہ گوئٹے کے تذکرے کو ہائنے کے اس اقتباس پر ختم کیا جائے کہ ’’گوئٹے ایک آتشیں روح ہے جو ایک عقاب کی طرح اپنے پروں کو پھیلاتی ہوئی نامعلوم بلند یوں کی طرف دور دور کر اڑتی چلی جارہی ہے، اڑتی ہی چلی جارہی ہے‘‘۔

دیوان غالب

دیوان غالب اسد اللہ خاں غالب (1796ء تا1869) کو اردو شاعری کی آبرو مانا جاتا ہے ۔ اس زبان کے اولین شاعر محمد قلی قطب شاہ سے لے کر عہد جدیدتک اردو کی دنیائے سخن کی شاندار عمارت ا س کے چار ستونوں پر مستحکم ہے، جن میں میر تقی میر، مرزا غالب، علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کے نام لئے جاسکتے ہیں ۔ ان کے علاوہ اگر چہ کئی اور سینکڑوں شعراء نے سالہا سال تک اردو شاعر ی کی آبیاری کی مگر روشنی کے ان چار میناروں کے نور سے سبھی کی آنکھیں خیرہ ہوتی رہیں ۔ شہرۂ آفاق تصنیف ’’ تاریخ ادب اردو‘‘ کے مصنف ڈاکٹر رام بابو سکسینہ نے غالب کو آسمان شاعری کا سب سے درخشندہ تارا، استاد کامل اور فلسفی شاعر قرار دیا ہے۔

غالب نے اس وقت آنکھ کھولی جب ہندوستان میں مغلیہ سلطنت روبہ زوال تھی۔ان ہی دنوں اگریزوں نے مغلوں کو شکست دے کر 1857 ء کی بغاوت کے ساتھ ہی مل کر قبضہ کرلیا۔ انگریزوں نے ہندوستان کو بزور باز و اپنی نو آبادی بنانے کے لئے ہزاروں فرزندان وطن کا خون بہایا او ربڑے بے رحمی سے لوگوں کو گاجرمولی کی طرح کاٹا گیا۔غالب بھی اس شہر آشوب سے غافل نہ رہا اور اس نے اس بیرونی جارحیت کے خلاف اپنے محسوسات کو زبان دی۔

غالب کو ایک بداعمال کہلائے جانے پر فخر تھا۔ اسے ایک بار جو اکھیلنے کی پاداش میں جیل جانا پڑا ۔ مغلوں کے دربار میں اسے مرد خواتین کہا جاتاہے ۔ ایک بار جب اس کے سامنے کسی نے خدا دوست شاعر شیخ صہبائی کے کلام کی تعریف کی تو غالب بولا، ’’ صہبائی کیسے شاعر ہوسکتاہے؟ اس نے کبھی شراب کا حط نہیں اٹھایا۔ نہ ہی اس نے جو اکھیلا ، نہ ہی اسے عاشقوں نے چپلوں سے پیٹا اور نہ ہی اسے کبھی جیل جانا پڑا’۔

غالب کی وفات 15فروری 1869 ء کو دہلی میں ہوئی۔

1850 ء میں آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر نے غالب کو دبیر الملک او رنجم الدولہ کے اعزازات سے نوازا ۔مغل دربار میں غالب کو شاہی مورخ کی جگہ دی گئی۔

غالب نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کی ہے۔ اسے اگر چہ اپنی فارسی سخن گوئی پر ناز تھا مگر دنیا ئے ادب نے اسے فقط ایک عظیم اردوشاعری کی حیثیت میں جانا او رپہچانا ۔ وہ خود کہتاہے۔

فارسی بین تابہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ

بگذراز مجموعہ اردو کہ بے رنگ من است

غالب نے جس منفرد انداز میں اپنے گھر کی ، دنیا  بھر کی او رقلب و نظر کی باتوں کو خاص طور پر اپنی غزلیات کا موضوع بنایا ہے اوہ اسی کا خاصہ ہوسکتاہے۔ وہ ماحول میں رونما ہونے والے ہر واقعہ کو شدت کے ساتھ محسوس کرتاہے اور اس کے رد عمل میں روانی ، تغزل ، ترنم اور معنی آفرینی سے بھر پور اشعار تکلیق کرتاہے جو دم زدن میں ہر ایک کی زبان میں عام رائے یہ ہے کہ سننے والے قارئین اسے یاد رکھ سکیں۔ غالب کی شاعری کو یہ وصف بھر پور طریقے سے نصیب ہوا ہے کہ اس کے جتنے اشعار لوگوں کو زبانی یاد ہیں اتنی خوش بختی کسی اور اردو شاعر کو نصیب نہیں ہوئی ہے۔

غالب پر قلم اٹھایا جائے تو لاتعداد کتابیں لکھی جاسکتی ہیں اور اس کے اشعار کا انتخاب بھی مشکل ہے۔ میں یہاں اپنی پسند کے کچھ اشعار نقل کرتا ہوں جو اس تحریر کا اختتام بھی ہوگا ۔ ان اشعار کو منتخب کرتے وقت یہ خیال رکھا گیا ہے کہ ان میں خالب کی خیال آرائیوںکی کسی حد تک عکاسی کی جائے:

نیند اس کی ہے دماغ اس کا ہے راتیں اس کی ہیں

تیری زلفیں جس کے بازو پر پریشا ں ہوگئیں

تھا خواب میں خیال کو دل سے معاملہ

جب آنکھ کھل گئی تو زیاں تھا نہ سود تھا

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی

دونوں کو اک ادا میں رضا مند کر گئی

تماشا کرائے محوآئینہ داری

تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں

سب کہاں کچھ لالہ وگل میں نمایاں ہوگئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی پنہا ں ہوگئیں

قدوگیسو میں قیس وکو ہکن کی آزمائش ہے

جہاں ہم ہیں وہاں دار ورسن کی آزمائش ہے

بوئے گل ،نالہ دل ، دو د چراغ محفل

جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا

ہوا ہے شہبہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو

یہ خلش کہا ںسے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

ٹالسٹائی کا واراینڈ پیس

’’جنگ او رامن‘‘ روس کے سب سے بڑے ادیب لیوٹالسٹائی (1828 ء تا 1910ء ) کے اس افسانوی شاہکار کا نام ہے جسے دنیاکا طویل ترین ناول کہا جاتاہے۔ حالانکہ ٹالسٹائی نے خود اسے نہ تو ناول کہا ہے نہ ہی نظم او رنہ اسے تاریخ کی صنف بتایا ہے بلکہ وہ اپنے دوسرے ناول ’’ اپنا اینا کرینینا‘‘ کو اپنا صحیح ناول قرار دیتا ہے۔ اس دعویٰ کے حق میں وہ یہ دلیل دیتاہے کہ ’’روس کا بہترین ادب بھی معیار کے مطلوبہ تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ہے‘‘

’’ جنگ اور امن‘‘ کی کہانی کا تانا بانا غٹا لسٹائی نے روس پر فرانس کے حملے او رزار کی حکومت پر نپولین کے قبضے کے مابعد اثرات سے بنا ہے ۔ اس کی پوری کہانی اس طرح پھیلی ہوئی ہے کہ اسے ایک مضمون میں سمیٹنا مشکل ہے ۔’’ جنگ اور امن‘‘ ناول پہلے مکمل متن کے ساتھ 1869 میں منظر عام پر آیا۔ امریکی جریدے نے نیوز ویک نے 2009 ء میں اسے سوبہتر ین کتابوں کی فہرست میں اولین مقام پر رکھا ہے۔ یہ بھی کہا جاتاہے کہ ٹالسٹائی کی بیوی صوفیہ ٹالسٹائی نے اس کے سامت مسودوں کو نقل کرنے کا صبر آزما کا م کیا اور اس کے بعد ہی اسے قابل اشاعت قرار دیا گیا۔

ناول کا محل وقوع ٹالسٹائی سے کوئی ساٹھ سال قبل کا ہے جسے مصنف نے ’’ہمارے آباؤ اجداد کا زمانہ‘‘ کہا ہے۔ ۔ٹالسٹائی نے اس تخلیق کے لئے دستاویزی مواد جمع کرنے کی غرض سے ان لوگوں سے بات کی جو 1812ء میں روس پر فرانس کے حملے کے دوران بقید حیات تھے ۔ ناول میں اگرچہ کئی فرضی اداکاروں کا ذکر ہے البتہ ان میں سے کم از کم ایک سو ساٹھ ایسے ہیں جو درحقیقت موجود تھے۔(جاری)

1 اگست،2021 ، بشکریہ : روز نامہ چٹان، سری نگر

--------------------

Related Article:

Ten Great books of the world of literature - Part 1 دنیائے ادب کی دس عظیم کتابیں

Ten Great books of the world of literature - Part 2 دنیائے ادب کی دس عظیم کتابیں

Ten Great books of the world of literature - Part 3 دنیائے ادب کی دس عظیم کتابیں

Ten Great books of the world of literature - Part 4 دنیائے ادب کی دس عظیم کتابیں

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/great-books-world-literature-part-5/d/125172


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..