New Age Islam
Sun Sep 26 2021, 08:54 PM

Urdu Section ( 26 Jul 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Ten Great books of the world of literature - Part 4 دنیائے ادب کی دس عظیم کتابیں

غلام نبی خیال

چوتھی قسط

25جولائی،2021

شیکسپیئر کا ہیملٹ

ولیم شیکسپیئر (1464تا 1616) دنیا کا عظیم ترین ڈراما نگار مانا جاتا ہے۔ اس کے 37ڈراموں میں ہیملٹ کو سب سے زیادہ شہرت نصیب ہوئی جسے اس برطانوی شاعر کے بے مثال المیہ شاہکار کا رتبہ حاصل ہوا۔

شیکشپیئر کی شخصیت دنیا میں گوناگوں کمالات کے ساتھ متعارف ہوئی۔ وہ ایک شاعر ہی نہیں تھا جس نے ڈراموں میں بھی بہترین سخن گوئی کا مظاہرہ کیا بلکہ اس کے ڈرامے کئی یقدیم ممالک کی تاریخی ،ثقافتی اور حکایاتی زندگی کا احاطہ کرتے ہیں۔

کئی نقادوں کا خیال ہے کہ اسی خداداد صلاحیت کی بنا پر اس فنکار پر غالباً سب سے زیادہ تعداد میں کتابیں اور تحقیقی اور تنقیدی مقالات لکھے گئے۔ علامہ اقبال نے اس طرح اس راز دان اسرار فطرت کو خراج تحسین پیش کیا ہے:

حفظ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا

رازداں پھر نہ کرے گی کئی پیدا یسا

شیکسپیئر کی پیدائش اگر چہ انگلستان کے شہر سٹراٹ فورڈ میں ہوئی لیکن لندن منتقل ہونے کے بعد اس کی ادبی اور فنی صلاحیتیں نکھر آئیں جب اس کی ملاقات کئی ادیبوں اور ڈرامانویسوں کے ساتھ ہوئی، جن میں ایڈمنڈ سپنسر ،تھامس گرین ، جارج چیمپین ،کرسٹو فرمارلو ،بین جانسین اور فلچر شامل تھے۔ یہاں ان فنکاروں کی وساطت سے اور ان کی صحبت میں وہ 1484ء تک ایک اچھا ڈراما نگار بن چکا تھا۔ اپنی عمر کے 23 ویں سال یعنی 1487 میں ملکہ برطانیہ الزبیتھ نے اسے دربار میں اداکاری کرنے کی دعوت دی ۔ ملکہ اس کے فن اور اس کی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں سے بے حد متاثر ہوئی اور شیکشپیئر کو مناسب انعام سے نوازا ۔ملکہ کا شکریہ شاعر نے اپنے ڈرامے ’’وسط گرما کی شب کا خواب ‘‘ میں کیا ہے۔

لندن میں 20سال گزارنے کے بعد شیکشپیئر 1607 ء میں واپس سٹراٹغ فورڈ آیا۔ اس دوران وہ دور و نزدیک مشہور ہو چکا تھا او رمالی لحاظ سے بھی آسودہ حال ہوچکاتھا۔ لندن میں اس کی صحت بگڑ گئی تھی اور پھر دنیا ئے فن و ادب کا یہ لافانی معمار 23اپریل 1616 کو خالق حقیقی سے جا ملا۔

شیسکپیئر نے کل 37 ڈرامے لکھے، جنہیں المبی ،بزمیہ ، رومانوی اور تاریخی اصناف ادب میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ البتہ ان سبھی میں اسے ہیملٹ کے لئے سب سے زیادہ پذیرائی نصیب ہوئی۔ پانچ سو سال گزرنے کے باوجود یہ ڈرامہ آج بھی دنیا بھر کے اسٹیج پر اورتھیٹروں میں کھیلا اور پسند کیا جاتاہے۔

ہیملٹ مختصر اً ایک بے رحم اور خود غرض بھائی کی کہانی ہے جس نے تخت و تاج کا مالک بننے کی خاطر اپنے فرشتہ صفت بھا ئی کو قتل کیا۔ اس کی بیوی کو پھسلا کر اس کے ساتھ شادی کرلی اور پھر بادشاہت پر قبضہ جمالیا ۔ مقتول بادشاہ کی مضطرب روح اپنے بیٹے ہیملٹ کو اس جرم مؤ کا بدلہ لینے کی تاکید کرتی ہے۔ ظالم بادشاہ کو جب اس بات کی خبر ہوتی ہے تو وہ ہیملٹ کی محبوبہ اورفیلیا کے بھائی لائر ٹیز کو ہیملٹ کے خلاف ورغلا کر ان دونوں کے مابین لڑائی میں ہیملٹ زہر بھری تلوار کی ضرب سے مرجاتا ہے اور جان دیتے ہوئے اپنے بدبخت چچا کی بھی جان لیتا ہے۔

شیکسپیئر کے ڈراموں کا خام مواد یونانی، لاطینی ، برطانوی ، دیومالا اور تاریخ اور بائبل سے ماخوذ ہے سے شیکسپیئر نے اپنے فنکار انہ کمال سے نئے معنی اور نئی جہتیں عطا کی ہیں۔

گوئٹے کا فاؤسٹ

عیسوی سن کے 1749ویں سال میں 28اگست کی دو پہر ڈھل رہی تھی کہ جرمنی کے شہر فرانکفورٹ میں 18 سالہ ایلزبیتھ کے یہاں ایک بے حس سا بچہ پیدا ہوا ۔ اس کا بدن نیلا پڑ چکا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ یہ مر چکا ہے۔ بقول ٹامس مان ، ’’ یہ ایسی کیفیت تھی کہ جسے یہ تو مولود ماں کی گود سے نکل کر سیدھا زمین کی گود میں چلا جائے گا‘‘ لیکن اس کے روئی کے گالے جیسے جسم میں رفتہ رفتہ حرکت ہونے لگی۔ بعد میں ٹامس مان نے اسی بچے کے بارے میں کہا ’’ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس کی ادبی شخصیت کی بلندی اور شان کن سرحدوں چھو کر لے گی۔‘‘

یہ تھا یوبان و دلف گانگ دان گوئٹے جو وقت گزرنے کے ساتھ نہ صرف سرزمین المانیہ کا بلکہ سارے یورپ کاایک ممتاز اور عدیم المثال شاعر،ڈراما نگار ، فلسفہ دان، انشارداز اور ناول نویس بن گیا اور ان فنون لطیفہ میں اس نے اپنے فنی کمال کے موتی بکھیر ے۔ یہ ساری خصوصیات اس میں اس وجہ سے سمٹ کر آئی تھیں کہ اس کا تاریخ اورتہذیبوں کا مطالعہ وسیع تھا۔

گوئٹے کے سبھی ادبی کارناموں میں اس کا لافانی شاہکار فاؤسٹ سرفہرست ہے۔ اس تخلیق میں شاعر نے فاؤسٹ کے کردار کو نیکی اور بدی کی دیرینہ لڑائی کے حوالے سے بے حد پر اسرار انداز میں پیش کیا ہے۔

فاؤسٹ اپنی ہوسناک زندگی کے لئے ہر طرح کی سرشاریاں اور شادمانیاں حاصل کرنے کو دیوانگی کی حد تک بے قرار ہے اور اپنی ان دنیوی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے وہ شیطان کے ساتھ ایک معاہدہ کرتا ہے جس پر وہ اپنے خون سے دستخط کرتاہے۔ لیکن آخر کار فتح الوہی صداقت اور ادبی انسانیت ہی کی ہوتی ہے ۔ علامہ اقبال ان الفاظ میں اسی ڈرامے کی تعریف و تحسین کرتے ہیں، ’’ اس ڈرامے میں شاعر نے حکیم فاؤسٹ اور شیطان کے عہد و پیمان کی قدیم روایت کے پیرائے میں انسان کے امکانی نشو و نام کے تمام مدارج اس خوبی سے بتائے ہیں کہ اس سے بڑھ کر کمان فن خیال میں نہیں آسکتا۔‘‘

مولوی عبدالقیوم خان باقی بھی، جنہوں نے فاؤسٹ کا منظوم اردو ترجمہ کیا ہے، کم و بیش اقبال ہی کی تائید کرتے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ ’’ فاؤسٹ میں قدرت کی دو متضاد قوتوں کی کشمکش ہے جس کی ایک حد شیطان اور دوسری حد انسان ہے۔ اس کشمکش میں قدرت دنیا کی سب سے بڑی نیکی یعنی عشق کے ذریعے مداخلت کرتی ہیں۔‘‘

گوئٹے نے 82سال کی لمبی عمر پائی۔ فاؤسٹ کا کردار ان دوران سالہا سال تک اس کے تحت الشعور میں کروٹیں لیتا رہا ۔ جب وہ 20 سال کی عمر کو پہنچا تو اس نے اس ڈرامے کے پہلے حصے کا آغاز کیا اور اسے 51 سال کے بعد مکمل کیا۔

فاؤسٹ کی کہانی دراصل جرمنی کا ایک تخیلاتی قصہ پارنیہ ہے جو سینہ بہ سینہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔اگرچہ سالہا سال تک لوگوں کے پاس گزرتی ہوئی یہ کہانی متن اور معنی کے لحاظ سے وقتاً فوقتاً کئی تبدیلیوں سے گزرتی رہی لیکن اس کے مرکزی کردار فاؤسٹ کے ساتھ عوادم کے دلچسپی میں کسی طرح کی کمی واقع نہیں ہوئی۔ 16ویں صدی میں اسے کرسٹو فر مارلو نے انگریزی زبان میں ڈھالا جو مقامی طور پر بہت مشہور ہوا۔

گوئٹے کے نہایت دلچسپ اور تذبذب سے بھر پور ڈرامے کی کہانی کا خلاصہ کچھ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔

گوئٹے ایک مضطرب اور ذہنی طور پر بے قابو افسانوی کردار کا نام ہے جس نے تمام رائج الوقت علوم اور فنون کی مکمل آغاہی حاصل کی ہے۔ اس کے باوجود وہ تشنہ کام او رنامکمل وجود ہی رہا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس کی پیاسی روح پر جنسی وحشت کا غلبہ تھا اور وہ اس جسمانی خواہش کو ہر قیمت پر اور ہر طرح سے مسلسل پورا کرنے کے لئے ہمیشہ مضطرب رہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی دنیوی آرزؤں کی تکمیل کے لئے اس نے اپنی روح شیطان کے ہاتھ میں گروی رکھ دی۔کہانی یوں ہے:

گوئٹے اپنے کمرے میں بیٹھا ہے اور ہزار طرح کے افکار میں گھر ا ہوا ہے ۔دریں اثنا ایک روح کمرے میں داخل ہوتی ہے جس کے ساتھ گوئٹے کی تلخ کلامی کے بعد روح وہاں سے غائب ہوجاتی ہے ۔اگلے روز گوئٹے الجھنوں و پریشانیوں سے ہی تنگ آکر خود کشی کرنے پر آمادہ ہوجاتاہے۔ ابھی وہ زہر کا پیالہ ۔ہونٹوں سے لگانا ہی چاہتا ہے کہ باہر سے ایسٹر کا گھنٹہ بجنے کی آواز سنائی دیتی ہے ۔ وہ خود کشی اور ارادہ ترک کرتا ہے کہ اس کے بعد ایک کتا اس کا پیچھا کرتا ہے جو اپنی شکل بدل کر شیطان کی صورت میں گوئٹے کے سامنے کھڑا ہوجاتاہے۔ اس نے گوئٹے کی دکھتی رگ پکڑ لی ہے۔ وہ اس ہوس پرست شاعر کو ہر طرح کی لذتوں سے محفوظ کرنے کی یقین دہانی کرکے اس کے ساتھ ایک معاہدہ کرتاہے۔ معاہدہ کی رو سے گوئٹے جو چاہے وہ اسے ملے گا۔(جاری)

25 جولائی،2021 ، بشکریہ : روز نامہ چٹان، سری نگر

------------

Related Article:

Ten Great books of the world of literature - Part 1 دنیائے ادب کی دس عظیم کتابیں

Ten Great books of the world of literature - Part 2 دنیائے ادب کی دس عظیم کتابیں

Ten Great books of the world of literature - Part 3 دنیائے ادب کی دس عظیم کتابیں

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/great-books-world-literature-part-4/d/125131


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..