New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 06:14 AM

Urdu Section ( 23 March 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Debunking ISIS Concept That Their Fatwas and Commands Are Issued By a Recognised Legal Body – Part 3 داعش کے اس دعوے کی تردید کہ ان کے فتاوی اور احکام مستند قانونی ادارے سےجاری کیے جاتے ہیں

غلام غوث صدیقی، نیو ایج اسلام

31 دسمبر 2021

داعش کا قانونی ادارہ جس کی دیانت اور امانت داری ناقابل اعتبار ہے۔

اہم نکات:

علم صرف سرٹیفکیٹ حاصل کر کے اور مہارت کا دعوی کر کے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

اسلامی تعلیمات کا صحیح فہم حاصل کرنے کے لیے مناسب طریقوں اور اصولوں کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔

صرف انہی سے علم حاصل کیا جائے جن کی صلاحیتیں کامل ہوں، جن کی دیانت، علم و حکمت عیاں ہو، اور جنہوں نے معرفت حاصل کر لی ہو۔

داعش صرف ان سرگرمیوں میں ملوث ہونا جانتا ہے جو اسلام میں سختی سے ممنوع ہیں۔

 -----

Representational Photo/ISIS

------

موجودہ جہادی تنظیموں بالخصوص داعش کے تصورات میں تیسری اہم خامی وہ ہے جسے وہ مرکزی دھارے کے اسلامی ماہرین اور اہل علم کے جواب میں کہتے ہیں:

"چونکہ آپ کے لیے عام طور پر اہل علم سے علم حاصل کرنا عام بات ہے، اس لیے ہمارے فتوے، اعلانات، فیصلے اور احکام سبھی ایک تسلیم شدہ قانونی ادارے سے جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ ادارہ مذہبی علوم کے ماہرین اور طلباء کے ایک گروپ پر مشتمل ہے جنہوں نے ممتاز مذہبی اداروں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نامور علماء سے علم حاصل کیا ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان میں سے کچھ اسلامی قانون میں نمایاں قابلیت اور سند بھی رکھتے ہیں۔ ان وجوہات کی بناء پر ہمارے فتاویٰ اور اقوال کو صرف اس لیے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ آپ کے حالات سے متصادم ہیں۔ (خلاصہ اور عربی سے ترجمہ شدہ، شبہات تنظیم الدولۃ الاسلامیہ و انصارہ والرد علیہا، تصنیف ڈاکٹر عماد الدین خیتی، دوسرا ایڈیشن، سلسلہ اشاعت 27، اسلامک موومنٹ شام، صفحہ 27)

داعش کو جواب

صرف مشائخ اور اسلامی علوم کے ماہرین کے پاس جانا، یا صرف ان کی مجلسوں میں بیٹھنا اور ان سے کچھ علم حاصل کرنا، یا یونیورسٹیوں اور اداروں میں پڑھنا، یہ سب چیزیں انسان کو صاحب علم و فتاوٰی نہیں بنا سکتیں۔

علم صرف اساتذہ کے سامنے بیٹھنے، مختلف درسگاہوں میں جانے، متعدد کتابیں پڑھنے، اسکولوں یا کالجوں کے ہاسٹلوں میں کچھ سال گزارنے یا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے ضروری طریقوں اور صحیح فہم کے حصول اور فکری بصیرت اور روشن خیالی کو برقرار رکھنے والے مقبول اصولوں کو بروئے کار لا کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اس سلسلے میں کوئی شخص اہل علم و دانش کی صف میں اس وقت تک شامل ہونے کا مستحق نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی علمی استعداد علمائے کرام سے توثیق حاصل کر کے عزت، دیانت، سالمیت اور علمی طور پر مقبولیت حاصل نہ کر لے اور جب تک وہ اس مقام پر نہ پہنچ جائے جہاں سے اسے راہ ہدایت سے بھٹکنا ناممکن ہو جائے۔

اسی طرح، صرف اس لیے کہ ایک اسلامی عالم نے کسی طالب علم کو کچھ شعبوں میں تربیت دی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہو جاتا کہ وہ طالب علم ہر جگہ یا ہمیشہ کے لیے بے عیب ہو چکا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ وہ طالب علم جو کچھ کہہ رہا ہے وہ سب درست ہے۔ ورنہ وہ معصوم قرار پائے گا، جب کہ فرشتے اور انبیاء علیہم السلام کے علاوہ اور کوئی معصوم نہیں۔

اسلامی علماء اور مشائخ کی تربیت اور تزکیہ کے بعد، اسلام کا طالب علم اسلام کے مقبول علماء کی صف میں شامل ہونے کا اہل ہے۔ پھر اس کے قول و فعل کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر وہ حق کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہوئے تو وہ اس کی طرف سے قبول کیے جائیں گے۔ بصورت دیگر، اس کا دعویٰ، خواہ وہ کچھ بھی ہو، رد کر دیا جائے گا، خاص طور پر اگر وہ اسلامی احکام کی صحیح تشریح سے ہٹ کر ہو۔

عالم یا اسلامی اسکالر ہونے کی وجہ سے اس کے اسلام مخالف بیانات کو قبول کرنا ضروری نہیں ہے۔ اسلامی شریعت کے مقصد کی خلاف ورزی کرنے والے کو برطرف کر دیا جائے گا۔ انتہا پسند گروہوں کے قانونی عمل، فتووں اور فیصلوں سے واقف کوئی بھی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اہل سنت کے طریقہ کار پر چلنے والا کوئی بھی مجتہد یا اسلامی اسکالر داعش کے طرز عمل کا جواز پیش نہیں کر سکتا۔

داعش کا یہ دعویٰ بھی قابلِ تردید ہے کیونکہ اس کی قانونی باڈی اور ارکان جنہوں نے اسلامی اسکالرز اور مشائخ کی سرپرستی میں یا تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی ہے، بنیادی طور پر ان مشائخ [اسلامی علوم کے ماہرین] اور ان تعلیمی اداروں، جن سے انہوں نے علم حاصل کی ہے دونوں کی مخالفت کی ہے۔ وہ مشائخ کے طریقہ کار یا فتوے سے متفق نہ ہو سکے۔ انہوں نے ان پر تہمت لگائی اور وہ طریقہ اپنا لیا جو مشائخ کو منظور نہیں تھا۔ نتیجتاً ان کے پاس اس معاملے میں کوئی جواز نہیں۔

امام شاطبی، جو ایک مشہور کلاسیکی اسلامی اسکالر ہیں، اپنی ایک شاندار تصنیف ’’الموافقات‘‘ میں لکھتے ہیں:

"عالم جو علم میں ماہر (متحقق) ہے اس کی بعض خصلتیں اور نشانیاں ہوتی ہیں جو اس کے پیشرو سے مطابقت رکھتی ہیں خواہ وہ اپنی تحقیق میں ان کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

وہ تین باتیں یہ ہیں:

"پہلا: اس نے جو علم حاصل کیا ہے اس پر عمل کرنا تاکہ اس کے قول و فعل میں مطابقت ہو جائے۔ اگر اس کے قول و فعل میں مطابقت نہیں تو وہ استاد ہونے کا اہل نہیں ہے جس سے علم حاصل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے علم کے حوالے سے اس کی پیروی کی جا سکتی ہے۔

"دوسرا: وہ ایسا عالم ہو جسے متعلقہ شعبہ میں شیوخ نے اسے تربیت دی ہو۔ اس نے ان سے علم حاصل کیا ہو اور ان کی صحبت سے فیض یاب بھی ہوا ہو۔ ایسا شخص زیادہ اہل ہے کہ وہ ان خوبیوں سے منسوب کیا جائے جو اساتذہ کے پاس ہیں۔ یہی معاملہ بزرگوں کا بھی تھا۔ اس طرح کی صحبت کی پہلی مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال سے علم حاصل کر کے اس پر پورا بھروسہ کرتے ہوئے اس پر عمل کرنے کی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی بھی شکل میں پہنچا خواہ اس کے نتائج کچھ بھی ہوں۔

"انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشا کو سمجھ لیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کیا تھی اور کیا نہیں، اس حد تک کہ وہ جان چکے تھے اور انہیں یقین تھا کہ آپ کا قول ایک ناقابل تردید سچائی ہے، ایک مسلم حکمت ہے جس کے قوانین کو توڑا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس میں کسی نقص کا کوئی امکان ہو سکتا ہے۔یہ سب کثرت صحبت اور ان کی استقامت میں شدت کا نتیجہ تھا۔ حدیبیہ میں جنگ بندی کے دوران حضرت عمر بن الخطاب  رضی اللہ عنہ کے واقعہ پر غور کریں کہ جب انہوں نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کیا ہم حق پر نہیں اور یہ لوگ باطل پر؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا کہ یقیناً۔ فرمایا: کیا یہ درست نہیں کہ ہمارے مقتول جنت میں جائیں گے اور ان کے مقتول جہنم میں جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، ’’یقیناً‘‘۔ تو حضرت عمر نے فرمایا: ”پھر ہم اپنے دین کے لیے یہ رسوائی کیوں برداشت کریں اور واپس لوٹیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اور ہمارے درمیان کوئی حکم نہیں دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن الخطاب، میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ تعالی مجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے، لیکن انہیں صبر نہ ہوا اور غصے کی حالت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کچھ ایسا ہی کہا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی جس میں فتح کا پیغام آ پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو بلوایا اور اسے پڑھ کر سنایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا پھر فتح ہمارے لیے ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خوش ہوئے اور اپنے پہلے کے موقف سے ہٹ گئے۔

‘‘یہ صحبت کا فائدہ ہے، علماء کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، اور ابہام کے موقع پر صبر کا مظاہرہ کرنا یہاں تک کہ ثبوت سامنے آجائے۔ ایسے میں سہل بن حنیف نے جنگ صفین کے دوران کہا تھا کہ   ‘اے لوگو! اللہ کی قسم ابوجندل کے دن میری رائے تھی اور اگر میں اس پر قادر ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کرتا۔ انہوں نے یہ بات اس وقت کہی جب وہ کچھ ابہام کا شکار تھے، لیکن پھر الجھن کی شدت اور ترتیب کے ابہام کی وجہ سے ان کے افسردہ ہونے کے بعد سورہ فاتحہ نازل ہوئی۔ اس کے باوجود انہوں نے قرآن کے نازل ہونے تک سر تسلیم خم کر دیا اور اپنا موقف ترک کر دیا۔ ان کی الجھنیں اور دشواریاں دور ہو گئیں۔

 اس طرح کے واقعات ان کے بعد آنے والوں کے لیے ایک بنیادی اصول بن گئے۔ صحابہ کے تابعین نے صحابہ کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اختیار کیا تھا اور اسی کی بدولت وہ علوم شرعیہ میں کمال کی معراج پر فائز ہوئے۔ اس اصول کی توثیق کے لیے یہی کافی ہے کہ آپ کو کوئی ایسا عالم نہیں ملے گا جس کی تعلیمات لوگوں میں مشہور ہوئی ہو اور اس کا ایسا کوئی مثالی استاذ نہ ہو جو اپنے زمانے میں مشہور تھا۔ ہر منحرف فرقہ اور ہر سنت کی مخالفت کرنے والا اس صفت سے عاری پایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ابن حزم الظاہری کو حقیر سمجھا جاتا تھا کیونکہ وہ اساتذہ کی اطاعت اور ان کی ہدایات پر عمل کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ اس کے بالکل برعکس چاروں فقہی ائمہ اور ان سے ملتے جلتے بڑے بڑے ماہرین علوم و فنون کا نقطہ نظر تھا۔

تیسرا: ان لوگوں کی تقلید جن سے اس نے علم حاصل کیا اور ان کا طریقہ اختیار کیا۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ کے رسول صی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے تھے اور صحابہ کے تابعین صحابہ کرام کی پیروی کرتے تھے۔ ہر نسل کے لوگ ایسا ہی کرتے تھے۔ مالک اپنے جیسے لوگوں میں ممتاز ہے، یعنی اس صفت کو بڑی شدت کے ساتھ ظاہر کرنے میں، ورنہ یہ صفت باقی سب میں موجود تھی، لیکن مالک مبالغہ آرائی کی حد تک اس صفت کو اپنانے میں مشہور ہوئے۔ جب اس صفت کو چھوڑ دیا جاتا ہے تو اس سے کئی قسم کی بدعتیں جنم لیتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقلید کو ترک کرنا کسی نئی چیز کا ثبوت ہے جو اس کا ارتکاب کرنے والا شخص لے کر آیا ہے، اور اس کی بنیاد خواہشات کا حصول ہے۔ (امام شاطبی، الموافقات، جلد 1، صفحہ 46-47، گارنیٹ پبلشنگ)

لہٰذا صرف ایک ہی چیز جس پر ایک اسلامی عالم پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے صحیح علم حاصل کیا ہو، زہد و تقوی کا حامل ہو اور علم پر عمل بھی کرتا ہو۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس عہدے پر فائز ہے، اس کے کتنے پیروکار ہیں، اس نے کتنی کتابیں لکھی ہیں، یا اس کے پاس کتنی ڈگریاں ہیں۔

داعش کی طرف سے ایک اور دعویٰ یہ کیا گیا ہے کہ اس کے علماء، قائدین اور جج صاحبان نے قابل مشائخ سے تعلیم و تربیت حاصل کی ہے۔ یہ یقینی طور پر غلط ہے۔ اس کے برعکس یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر نے اپنی تعلیم کسی معروف اسلامی شیخ سے حاصل نہیں کی ہے۔

یہ بات ثابت ہے کہ ہر وہ شخص جو اسلامی علم میں مہارت کا دعویٰ کرے اسے قبول نہیں کیا جائے گا، بلکہ صرف وہی لوگ قبول کیے جائیں گے جن کے دعووں کی تائید اسلامی علوم کے ماہرین اور مستند حضرات کرتے ہیں اور وہ فتویٰ جاری کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: صرف وہی لوگ علم حاصل کر سکتے ہیں جن کی صلاحیتیں کامل ہوں، جن کی دیانت ظاہر ہو، جس کا علم و حکمت عیاں ہو، اور جنہوں نے معرفت حاصل کر لی ہو۔ "یہ دین کا علم ہے، اس لیے تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم اپنا دین کس سے حاصل کر رہے ہو،" سلف کا قول ہے، جیسا کہ امام محمد بن سیرین اور مالک ابن انس وغیرہ نے نقل کیا ہے۔

ابو عزیناد کہتے ہیں، ’’میں نے مدینہ میں مختلف علماء و فقہاء سے ملاقات کی۔ وہ سب مامون تھے جس کا مطلب ہے کہ وہ جھوٹ بولنے کے لیے مشہور نہیں تھے۔ اس کے باوجود ان سے کوئی حدیث نہیں لی گئی اور یہ قرار دیا گیا کہ وہ ایسے لوگ نہیں ہیں جن پر اخذ حدیث کا اعتبار کیا جا سکتا ہے۔" کیونکہ ان کے پاس سندیں نہیں تھیں۔ [امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدّمہ میں روایت کی ہے، باب "اسناد مذہب اسلام کا ایک حصہ ہیں"، 1/15]

اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حدیث بیان کرتے وقت کس قدر احتیاط برتی گئی تھی، کیوں کہ حدیثیں ان علماء سے بھی نہیں لی گئیں جن کی دیانت اور امانت مشہور تھی۔ اگر ایسا ہے تو، داعش کے ارکان یا نام نہاد قانونی ادارے جس کی بے ایمانی بہت مشہور ہے، ان کی کہی ہوئی بات پر کوئی کیسے یقین کر سکتا ہے؟

 جب فتنہ شروع ہوا تو ابن سیرین کہتے ہیں کہ کسی بھی حدیث کی روایت کی سند کی اچھی طرح تحقیق کی جاتی تھی اور یہ کہ حدیث کو صرف اس وقت قبول کیا جاتا تھا جب یہ ثابت ہو جاتا کہ اسے اہل سنت کے معتبر پیروکاروں نے نقل کیا ہے، بجائے اس کے کہ جب یہ معلوم ہو کہ یہ حدیث غیر معتبر لوگوں نے روایت کی تھی۔

امام مالک بن انس فرماتے تھے کہ علم ان لوگوں سے حاصل کیا جائے جنہیں یہ اپنے پیشروؤں سے وراثت میں ملا ہے اور ہر کسی کی بات یونہی نہ قبول کر لی جائے۔ [خطیب بغدادی، الکفایہ فی العلوم الروایہ، ص159)

اب تک کی بحث سے معلوم ہوا ہے کہ داعش کے نام نہاد قانونی ماہرین ایسے لوگوں کے گروہ سے تیار کیے گئے ہیں جن کی مہارت، دیانت اور معتبریت نامعلوم اور ناقابل اعتبار ہے۔ اسلامی علوم کی کسی بھی مستند اور ماہر شخصیت نے ابھی تک ان کے دعووں کی تائید میں کوئی گواہی پیش نہیں کی۔ لہٰذا، داعش کے ان ارکان کے پاس کسی بھی اسلامی مسئلہ پر فتویٰ دینے یا فیصلہ دینے کی نہ تو صلاحیت ہے اور نہ انہیں اس کا اختیار ہے۔ وہ صرف خون بہانا، املاک پر قبضہ کرنا، مسلمانوں کی تکفیر کرنا، اور ان کے قتل عام پر جھوٹی دلیل دینا جانتے ہیں۔ یعنی وہ صرف ان سرگرمیوں میں ملوث ہونا جانتے ہیں جن کی اسلام میں سختی سے ممانعت ہے۔

First Part of the Article:  Refuting ISIS Concept of Caliph and Caliphate [Khalifa and Khilafah] – Part 1

Second Part of the Article: Debunking Jihad of ISIS and Its False Theory That ‘Non-Jihadists Can’t Issue Fatwas on Jihad and Mujahid’ - Part 2

Third Part of this Article: Debunking ISIS Concept That Their Fatwas and Commands Are Issued By a Recognised Legal Body – Part 3

Urdu Article: Refuting ISIS Concept of Caliph and Caliphate [Khalifa and Khilafah] – Part 1 خلیفہ اور خلافت پر داعش کے تصور کی تردید

Urdu Article: Debunking Jihad of ISIS and Its False Theory That ‘Non-Jihadists Can’t Issue Fatwas on Jihad and Mujahid’ - Part 2 داعش کا خود ساختہ نظریہ کہ 'غیر جہادی جہاد اور مجاہد پر فتویٰ جاری نہیں کر سکتے' کی تردید

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/debunking-isis-concept-fat-legal-body-part-3/d/126641

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..