New Age Islam
Tue Mar 03 2026, 12:07 PM

Urdu Section ( 9 Jun 2023, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Fringe Organizations Responsible for Hinduphobia ہندو فوبیا کے لیے شرپسند عناصر ذمہ دار

مشتاق الحق احمد سکندر، نیو ایج اسلام

 7 جون 2023

 ہندوستان کی انتہا پسند سیاسی جماعت، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے برسراقتدار آنے کے بعد سے، ہندو انتہا پسند عناصر اور گروہ مسلمانوں کے خلاف ہجومی تشدد اور بے رحمی کے ساتھ حملے کرنے میں کافی حد تک بااختیار ہو گئے ہیں۔ تاہم، یہ ایک حقیقت ہے کہ بی جے پی کی تقریباً ایک دہائی طویل حکومت کے دوران 2020 کے دہلی فسادات کے علاوہ ملک میں کوئی بڑا فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ اس سے پہلے کانگریس کے دور حکومت میں فرقہ وارانہ فسادات اور مسلم مخالف واقعات ایک معمول بنے ہوئے تھے، لیکن کانگریس نے ان فسادات کے بعد کے حالات کو اس انداز میں ہینڈل کیا کہ پھر اسے کبھی بھی مسلم مخالف حکومت نہیں کہا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسلمانوں کے اشرافیہ طبقے اور علمائے کرام کے ایک حصے کو خوش کرنے میں یقین رکھتے تھے، جنہوں نے بحران کو کم کرنے اور مسلمانوں کے غصے پر قابو پانے میں ان کی مدد کی۔ اشرافیہ اور علمائے کرام کے یہ دو طبقے بالخصوص جمعیۃ علماء ہند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) ان کے لیے مسلمانوں کو شکنجے میں رکھنے اور ان کی فکر نہ کرنے کے لیے کافی تھے۔

----------

 اس نئے سیاسی نظام میں مسلمانوں کو ایک ناپسندیدہ ہستی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اقلیت ہونے کے ناطے بی جے پی نے واضح کر دیا ہے کہ انہیں مسلم ووٹ نہیں چاہیے، اس لیے انہیں مسلمانوں کے اشرافیہ طبقے یا علمائے کرام کو خوش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ، کچھ مسلمان پارٹی میں چہرہ بننے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن وہ مسلمانوں اور بی جے پی دونوں کی نظر میں میں ناپسندیدہ ہیں۔ بار بار، بی جے پی پر اسلامو فوبیا کا الزام لگایا جاتا رہا ہے، جو مسلمانوں کو گھیرے میں لے رہا ہے اور ہندوؤں کے درمیان فرقہ وارانہ گروہوں کو مسلمانوں کے خلاف تشدد کو جاری رکھنے کے لیے بااختیار بنا رہا ہے۔ ماضی کی مسلم حکمرانی (یہ چند مسلم خاندانوں کی حکومت تھی) کا بدلہ موجودہ مسلمانوں سے لیا جا رہا ہے، جو ہندوستان کی سب سے زیادہ محروم اور پسماندہ قوم ہے۔

 یہ گروہ کون ہیں، ان کا نظریہ کیا ہے، وہ اپنے منصوبوں کو کیسے آگے بڑھاتے ہیں اور ان پر عمل درآمد کرتے ہیں، اس کی تفصیل ایک سینئر سیاسی صحافی دھیریندر کے جھا کی لکھی گئی ایک نئی کتاب میں ہے۔ شیڈو آرمیز: فرینج آرگنائزیشنز اینڈ فوور سولجرز آف ہندوتوا نامی یہ کتاب آٹھ ہندو تنظیموں کا مطالعہ پیش کرتی ہے۔ ان میں سے چار کا تعلق سنگھ پریوار سے ہے اور چار آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) جسے سنگھ بھی کہا جاتا ہے دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے۔ سنگھ نے کئی چھوٹی چھوٹی تنظیمیں تشکیل دی ہیں جو ہندوازم کی بالادستی پر یقین رکھتی ہیں اور ہندوتوا کے آلے کو استعمال کرتے ہوئے ہندوستان میں ایک ہندو ریاست بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اس کی دوسری تنظیم وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)، ہے جو کہ آر ایس ایس کی طرح ہی سیاسی پارٹی کی طرح چال چلتی ہے سوائے الیکشن لڑنے کے۔ وہ مسلمانوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، کیونکہ اس سے عوام کے درمیان پولرائزیشن میں مدد ملتی ہے، اس طرح بی جے پی کو انتخابی فائدہ حاصل ہوتا ہے، کیونکہ یہ سنگھ کا سیاسی ونگ ہے۔

 اس کتاب میں جن گروہوں پر مطالعہ پیش کیا گیا کیاے، ان میں سے کچھ بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کرنے اور ان کو انجام دینے میں ملوث ہیں، لیکن جب وہ پکڑے جاتے ہیں تو ان کی تنظیمیں انہیں اپنا تسلیم کرنے سے انکار کر دیتی ہیں۔ پھر وہ ان کی رہائی کے لیے وکلاء کی ایک مضبوط جماعت کھڑی کر دیتے ہیں۔ نیز، ان وکلاء کو تنقید کرنے والے صحافیوں اور عقلیت پسندوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ وہ ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرتے ہیں۔ پھر اس کے بعد گؤ رکھشا منچ (گائے کا تحفظ کرنے والی جماعت) ہے، جو گائے اور مویشیوں کو لے جانے والے مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ کئی بار، مسلمان مویشیوں کے تاجروں کو ان ہندوتوا ہجوم نے مارا پیٹا۔ ہندو یووا واہنی، جو کہ آر ایس ایس کی طرح خود کو ایک ثقافتی تنظیم کہتی ہے، لیکن حقیقت میں، یہ اپنی نوعیت اور ساخت کے اعتبار سے ایک سیاسی تنظیم ہے۔ اتر پردیش کے موجودہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، جو اس ہندو یووا واہنی کے لیڈر تھے، ان کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے مقدمات درج تھے، لیکن انہیں کبھی ظلم و ستم کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

 بجرنگ دل، ایک اور ایسی ہی شرپسند تنظیم ہے جو نوجوانوں کو غنڈہ گردی، توڑ پھوڑ، دکانداروں کو خوفزدہ کرنے، بڑے بڑے شاپنگ مال کے مالکان کو سیکورٹی کے لیے اپنے کارکنوں کو لے جانے پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے، اور اس طرح وہ اپنے اراکین کو ملازمتیں فراہم کرتے ہیں۔ یہ طرز عمل کاروباریوں کے لیے بھی اپنایا جاتا ہے، اور وہ دل کے ارکان کو سیکورٹی کے طور پر رکھنے کے لیے مجبور ہوتے ہیں، جب کہ وہ اپنی بنیادی تنظیموں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے بطور رضاکار کے بھی کام کرتے ہیں۔ یہ بجرنگ دل ہی تھی جس نے بابری مسجد کے مسئلے کو مختلف جھڑپوں کے ذریعے زندہ رکھا۔ یہ گروہ مسلمانوں کو ہندو اکثریتی علاقوں میں جائیدادیں خریدنے نہیں دیتے۔ مزید یہ کہ وہ فنکاروں، شاعروں، ادیبوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں جو ہندو ثقافت اور روایت کی ان کی تعریف پر پورا نہیں اترتے۔ لہٰذا، وہ ہندو مذہب کے لیے خود ساختہ موہرے کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کی پسندیدہ سرگرمیوں میں سے ایک ویلنٹائن ڈے کی تقریبات کے خلاف حملے کرنا اور نوجوان جوڑوں کو ایک دوسرے سے اپنی محبت کا اظہار کرنے سے روکنا ہے۔ یہ گروہ محبت سے کافی خوفزدہ ہیں کیونکہ انہیں تعصب اور نفرت کی خوراک دی گئی ہے۔ محبت، نفرت کی عمارت کو ختم کرنے کی طاقت رکھتی ہے، اس لیے وہ اس سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

پھر یہ گروہ گائے کا گوشت کھانے والوں کے خلاف تشدد کو جاری رکھتے ہوئے زبردستی مذہب تبدیل کرنے کے عمل میں ملوث ہیں۔ انہوں نے لو جہاد کے منصوبے کو بھی اپنی سرگرمیوں میں شامل کر لیا ہے۔ ان گروہوں کے اندر اندرونی جھگڑے اور مخالفانہ سیاست موجود ہے، حالانکہ باہر کے لوگوں کے نزدیک وہ یکساں اور متحد دکھائی دیتے ہیں۔ جبکہ اس کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جب، ان کی فرقہ واریت اور پولرائزنگ پر منبی تقاریر کی وجوہات کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، تو وہ اسے ہندوؤں کو بیدار کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ وہ کیرالہ کی جنوبی ریاست میں کام کر رہے ہیں، کیونکہ ہندوتوا جماعتوں نے ہندوستان کے اس حصے میں بھی اپنے خیمے پھیلا رکھے ہیں۔

 سنگھ اپنے تشدد کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے بے زمین اور بے مال و متاع نچلی ذات کے کسانوں کا استحصال کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ ابھینو بھارت جیسے گروہ بھی ہیں جو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بھونسالہ ملٹری اسکول بنا رکھے ہیں جہاں صرف ہندو طلبہ کو اسلحہ اور گولہ بارود کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہے۔ اب یہ جماعتیں سکھوں میں بھی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ وہ انہیں ہندو مذہب کا حصہ سمجھتے ہیں۔ تاہم، سکھوں کے اتحاد اور انضمام کی اس سیاست کی وہ خود مزاحمت کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

 صحافی دھیریندر جھا نے ان ہندوتوا جماعتوں کی ان تفصیلات کو سامنے لانے کے لیے فیلڈ انٹرویو، نسلیات اور ذاتی تجربے کا بغور استعمال کیا ہے۔ اگرچہ، وہ انہیں چند شر پسند عناصر سمجھتے ہیں کیونکہ ہندوؤں کی اکثریت ان کے ساتھ نہیں ہے، لیکن وہ یقینی طور پر مرکزی دھارے کے ہندو سماج میں قدم جمانے میں کامیاب رہے ہیں، کیونکہ جب عوام کی رائے سازی کی بات آتی ہے تو وہ مضبوط اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ یہ جماعتیں بی جے پی کو اقتدار میں لانے میں کافی اہم کردار ادا کر رہی ہیں، اس لیے انہیں چند لوگوں کی شرپسند تنظیم قرار دینا درست اندازہ نہیں ہے۔ تاہم، ہندوتوا کے ان مختلف شرپسند گروہوں کا گہرا مطالعہ پیش کرنے انہیں سمجھنے کی کوشش کرنے کے لیے جھا کی تعریف کی جانی چاہیے، جو نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں مسلمانوں میں اسلامو فوبیا اور ہندو فوبیا کو پھیلانے کے لیے ذمہ دار ہیں۔ وہ ہندوستان میں تکثیریت اور ہم آہنگی کی ثقافت کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں، اور بیرونی لوگوں کو ہندوستان کو مسلم اقلیت کے خلاف عدم برداشت، غیر منصفانہ اور متعصب قرار دینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

 English Article: Fringe Organizations Responsible for Hinduphobia

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/fringe-organizations-hinduphobia/d/129954

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..