New Age Islam
Wed Dec 01 2021, 07:40 PM

Urdu Section ( 10 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Holy Quran Does Not Approve Of Forced Religious Conversion قرآن مجید جبری تبدیلی مذہب کو تسلیم نہیں کرتا

قرآن کا موقف تبدیلی مذہب کے جدید بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے

اہم نکات:

1. قرآن اپنے پیروکاروں سے کہتا ہے کہ وہ اپنے پیغام کو پرامن طریقے سے پھیلائیں

2. لوگوں کو قرآن کے مطابق اپنے مذہب کا قرار کرنے کی مکمل آزادی ہے

3. قرآن کہتا ہے کہ مسلمانوں کو مذہبی پولیس کی طرح برتاؤ نہیں کرنا چاہیے

 -------

 نیو ایج اسلام نامہ نگار

 25 ستمبر 2021

جدید دور میں تبدیلی مذہب ایک متنازعہ فیہ مسئلہ بن چکا ہے۔ مذہبی تنظیموں اور مذہبی کارکنوں پر اکثر جبرا مذہب تبدیل کرانے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ غریب یا ناخواندہ لوگوں کو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کچھ شدت پسند تنظیمیں لوگوں کو اغوا کرنے کے بعد زبردستی ان کا مذہب تبدیل کر دیتی ہیں۔ یہ تنظیمیں اور افراد اپنے مذہب کو بڑھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔

جبری یا زبردستی تبدیلی مذہب کے اس رجحان نے جدید حکومتوں کو قانون سازی پر مجبور کر دیا ہے تاکہ ایسے لوگوں اور تنظیموں کو لوگوں کا مذہب زبردستی بدلوانے سے روکا جا سکے۔ شہریوں کے حقوق- انسانی حقوق اور مذہبی حقوق کے تحت محفوظ ہیں اور وہ اپنے ضمیر کی آواز پر کسی بھی مذہب کو ماننے یا کسی بھی مذہب کو تسلیم کرنے کے لیے آزاد ہیں۔

جب ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں اور مذہبی تبدیلی کے بارے میں قرآن کا موقف جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں اس مسئلے پر واضح ہدایات اور احکامات ملتے ہیں۔ اگرچہ قرآن لوگوں کی رہنمائی کے لیے نازل کیا گیا ہے اور یہ اپنے پیروکاروں کو اس کے پیغام کو پھیلانے کا حکم دیتا ہے لیکن یہ ان کو سختی سے یہ بھی ہدایات دیتا ہے کہ وہ کسی کو اپنے مذہب کو قبول کرنے پر مجبور نہ کریں۔ قرآن ان سے یہ بھی کہتا ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو برا نہ کہیں۔ خدا نے لوگوں کو اچھے اعمال کے انعامات اور برے اعمال سے خبردار کرنے کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی کے لیے رسول بھیجا۔ انہیں یہ حکم نہیں دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو اپنا مذہب قبول کرنے پر مجبور کریں۔ لہٰذا انبیاء کے پیروکاروں کو بھی یہی حکم ہے کہ وہ بھی یہی طریقہ اختیار کریں۔

"اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے مگر خوشی ڈر سنانے والے"۔ (الکہف: 56)

قرآن مذہبی پیغامات پھیلانے کے نام پر تشدد اور خونریزی نہیں چاہتا:

"اور اللہ اگر آدمیوں میں ایک کو دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور ڈھادی جاتیں خانقاہیں اور گرجا اور کلیسے اور مسجدیں جن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جاتا ہے۔"[الحج: 40)

قرآن اسلام کے پیروکاروں کو حکم دیتا ہے کہ وہ صرف خدا کی راہ میں جدوجہد کریں اور خدا کا پیغام لوگوں تک پہنچائیں کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ پیغام کو قبول کرنے کی ذمہ داری لوگوں پر ہے۔ خدا کہتا ہے کہ روئے زمین پر کثیر مذاہب پائے جانے میں حکمت ہے اور اگر وہ چاہتا تو سب ایک ہی مذہب کی پیروی کرتے۔ تو خدا صرف یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا اس کے پیروکار اس کے پیغام کو پھیلانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں یا نہیں۔ قرآن کہتا ہے:

"بہرحال تم پر تو ضرور پہنچانا ہے اور حساب لینا ہمارا ذمہ" (رعد: 40)

"اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے تغافل کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل اور تمہارے لیے تمہارے عمل، بس تم پر سلام۔"(القصص:55)

جو لوگوں کو مجبور کرتے ہیں یا انہیں کسی خاص مذہب تسلیم کرنے پر مجبور کرتے ہیں اور اگر وہ اسکے مذہب کو قبول نہ کریں تو وہ ان کے خلاف تشدد کرتے ہیں، وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ خدا ایسے لوگوں سے نفرت کرتا ہے۔

"اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔"(آل عمران: 140)

مبلغین کے پیغام کو قبول کرنے کی پوری ذمہ داری لوگوں پر ہے۔ وہ کسی بھی مذہب کو قبول کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ قرآن واضح طور پر کہتا ہے:

"اور فرما دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے" (الکہف: 29)

"تم کچھ ان پر ضامن نہیں"۔ (الغاشیہ: 20)

 "اور قرآن سے نصیحت دو کہ کہیں کوئی جان اپنے کئے پر پکڑی نہ جائے"۔ (الانعام: 70)

 "اور اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو فرمادو کہ میرے لیے میری کرنی اور تمہارے لیے تمہاری کرنی (اعمال) تمہیں میرے کام سے علاقہ نہیں اور مجھے تمہارے کام سے لاتعلق نہیں۔" (یونس: 41 )

"اور اے مسلمانو! کتابیوں سے نہ جھگڑو مگر بہتر طریقہ پر مگر وہ جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا اور کہو ہم ایمان لائے اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو تمہاری طرف اترا اور ہمارا تمہارا ایک معبود ہے اور ہم اس کے حضور گردن رکھتے ہیں۔"(العنکبوت: 46)

دور جدید میں تبدیلی مذہب کا مشن قوموں کے سیاسی عزائم سے متاثر ہے۔ ماضی میں مذہبی بنیادوں پر جنگیں لڑی جاتی تھیں اور مذہب کو پھیلانے کے نام پر تشدد اور خونریزی کی جاتی تھی۔ لیکن جدید دور میں مذہب کی تبدیلی کے مسئلے کو انسانی حقوق اور مذہبی حقوق کے تحت کر دیا گیا ہے۔ کوئی بھی کسی کو کوئی مذہب قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔

جدید دور میں مذہب یا عقیدے کی آزادی کی ضمانت، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے آرٹیکل 18، شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے آرٹیکل 18 اور عدم برداشت اور مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے تمام اقسام کے خاتمے کے اعلامیے کے ذریعے دی گئی ہے۔

آرٹیکل 18.2 ایسے کسی بھی جبر کو روکتا ہے جس سے مذہب یا عقیدہ رکھنے یا اختیار کرنے کے حق کو نقصان پہنچتا ہو، یا مومنوں یا غیر مومنوں کو اپنا مذہب قبول کرنے، یا اپنے مذہب سے رجوع کرنے یا اسے تسلیم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال یا تعزیراتی دفعات عائد کرنے سے روکتا ہے۔

 لہٰذا تبدیلی مذہب پر قرآن پاک کا موقف جدید بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔ یہ اسلام کے پیروکاروں کو کسی کو زبردستی اسلام قبول کروانے اور اسلام پھیلانے کے نام پر تشدد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

English Article: The Holy Quran Does Not Approve Of Forced Religious Conversion

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/forced-religious-conversion-quran/d/125550

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..