New Age Islam
Tue Oct 26 2021, 04:47 PM

Urdu Section ( 25 Jul 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Female security in Makkah مسجد حرام میں خواتین سیکیورٹی اہلکاروں کی تقرری عورتوں کو بااختیار بنانے کی جانب ایک چھوٹی پیش رفت

کام کی جگہ پر خواتین کی پابندیاں ختم کردی گئیں

اہم نکات:

1.      2017 میں خواتین پر ڈرائیونگ کی پابندی ختم کردی گئی

2.      سرپرستی قانون میں 2018 میں نرمی دی گئی

3.      دفاعی محکموں میں خواتین کے لئے بھرتی 2021 میں شروع کر دی گئی

4.      ایک لاکھ سے زیادہ خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس دئے گئے

5.      فلمی تھیٹروں اور کھیل کے میدانوں میں جنسی اختلاط کی اجازت دے دی گئی

---------------------

اسٹاف رائٹر، نیو ایج اسلام

22 جولائی 2021

First women security guards deployed at Masjid-al-Haram/ Photo: Twitter/Saudi Interior Ministry

----

مملکت سعودیہ میں سیاسی، معاشرتی اور معاشی تبدیلی لانے کے مقصد سے سعودی عرب کے وژن 2030 کے ایک اقدام کے طور پر سیکیورٹی انتظامات کی نگرانی اور نمازیوں کی حفاظت کی دیکھ بھال اور احتیاطی تدابیر کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لئے اس سال مکہ اور بیت الحرام کے اندر خواتین سیکیورٹی اہلکار تعینات کی گئیں۔

سعودی حکومت کے حکمران شہزادہ محمد بن سلمان کا یہ ویژن 2030 اقدام خواتین کے خاص طور پر سرپرستی قوانین سے متعلق متعدد اصلاحات کے تحت ہے۔ اس اقدام کے تحت کام کی جگہ پر سے خواتین پر عائد پابندیاں ختم کردی گئیں۔

اگرچہ یہ پہلا موقع تھا جب خواتین عازمین حج کی حفاظت اور نگرانی کے لئے تعینات کی گئیں تھیں لیکن خواتین کو سیکیورٹی کے شعبے میں شامل کرنے کا عمل 2017 ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ اس سال حج کے موسم میں پہلی بار مکہ میں نسواں کال سنٹر کا افتتاح کیا گیا جہاں خواتین ایگزیکٹوز کو آگ، جرم، حادثے اور بیماریوں سے متعلق عازمین حج کی طرف سے تکلیف دہ کالز موصول ہوئیں۔ اس کی شروعات اس وجہ سے کی گئی کہ بعض اوقات خواتین اپنے مسائل کی حساسیت کے پیش نظر کسی خاتون سے ہی بات کرنا چاہتی ہیں۔

تاہم، نسواں کال سنٹر کو مردوں کے کال سینٹر سے الگ ایک مختلف محکمہ میں رکھا گیا تھا۔

وزارت دفاع کے ذریعہ بری، بحری اور ہوائیہ افواج اور دفاع کے میڈیکل شعبے کی خدمات میں خواتین کے لئے بھرتیوں کا آغاز کئے جانے کے بعد اس سال سعودی عرب میں خواتین کو حج کے دوران سیکیورٹی کے شعبے میں مقرر کیا گیا تھا۔

لیکن سعودی عرب میں خواتین کے لئے ورک فورس کے میدان کا یہ آغاز آسان نہیں تھا۔ گذشتہ ایک دہائی سے بہت سے حقوقِ نسواں کے کارکنان سعودی خواتین پر عائد پابندیوں میں نرمی پیدا کرنے اور ان کے خاتمے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ قدامت پسند سرپرستی کے قوانین اور خواتین کے ڈرائیونگ کرنے پر پابندیوں اور اس جیسی دیگر صنفی پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

آخر کار وژن 2030 کے تحت اصلاحات کے ایک حصے کے طور پر سعودی حکومت نے 2017 میں خواتین کے ڈرائیونگ پر عائد پابندی کو ختم کیا اور سرپرستی کے نظام میں کچھ بڑی پابندیاں بھی ختم کردیں جن کے مطابق پوری زندگی ایک عورت نابالغ ہی رہتی تھی اور اسے اپنی شادی، تعلیم، سفر یا ملکیت سے متعلق فیصلہ کرنے کی آزادی حاصل نہیں تھی۔

Female Saudi officers guarding the Prophet’s Mosque in Madinah (Twitter)

-----

دیر سے ہی سہی اب خواتین کو مرد سرپرست کی رضامندی کے بغیر گاڑی چلانے یا سفر کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے، خواتین کارکنان کا ماننا ہے کہ یہ اصلاحات علامتی ہیں اور ان سے خواتین کی زندگی میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ تاہم، خواتین پر پابندیوں میں نرمی پیدا ہونا شروع ہو چکی ہے۔ فلمی تھیٹروں اور کھیل کے میدانوں میں جنسی اختلاط کی اجازت دیدی گئی ہے حالانکہ اس اقدام کو علمائے اسلام نے غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان تبدیلیوں کے لئے جدوجہد کرنے والے کارکنوں کو ملک سے بغاوت، دہشت گردی اور غیر ملکی ایجنڈے کے لئے کام کرنے کے الزامات میں سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔ سعودی عرب میں حقوق نسواں کے سرگرم اور متحرک کارکنوں میں سے ایک لجين الهذلول کو پانچ سالوں سے زیادہ عرصے تک سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا اور انھیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ حقوق نسواں کے درجنون کارکناں اب بھی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

تاہم، ایک خاتون کارکن نے یہ ظاہر کیا ہے کہ شاہی خاندان اس خوف سے شاہی خاندان کی خواتین کو آزادی نہیں دیتے ہے کہ کہیں وہ حکومت میں ان کے غلبہ کے لئے ایک چیلنج نہ بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سعودی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے میں واقعی سنجیدہ ہے تو انہیں پہلے شاہی خاندان کی خواتین کو آزادی دینی چاہئے۔

اس وقت سعودی عرب میں خواتین اپنے ان جائز حقوق کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں جو اسلام نے انہیں عطا کیا ہے اور اس سال حج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کی حیثیت سے مکہ میں خواتین کی تقرری سعودی عرب میں خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت میں ایک چھوٹا اقدام ہے۔ اس سمت میں ملک کو ایک طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔

-------------

English Article: Deployment of Women Security Personnel at the Grand Mosque in Makkah during Hajj a Small Step towards Women Empowerment in Saudi Arabia

URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/female-security-makkah/d/125124


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..