certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (02 Apr 2020 NewAgeIslam.Com)



Fatwa On the Validity of Friday Prayer for The Prevention of Coronavirus دفع کروناوائرس کے لیے مسجدوں کا دروازہ بند رکھ کر بھی جمعہ کی نماز ہو جائے گی، مفتی نظام الدین رضوی کا ایک تحقیقی فتوی


By Ghulam Ghaus Siddiqi, New Age Islam

02 April 2020

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

 

   کروناوائرس ایک متعدی وبا ہے جس کی جنگ سے آج پوری دنیا نبرد آزما ہے ۔ بالخصوص امریکہ، اٹلی ، چین ، فرانس ، اسپین اور انگلینڈ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں  اس وائرس  نے لوگوں کو اپنی چپیٹ میں لے رکھا ہے ۔اب تک ۶ لاکھ سے زائد لوگ اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں اور ۲۵ ہزار سے زیادہ لوگ اس مہلک وبا سے مر چکے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں دنیا کے ہر شہری  پر یہ لازم ہے کہ وہ سماجی دوری اختیار کریں۔ میڈیکل سائنس کی تحقیق کے مطابق یہ ایک سے دوسرے شخص میں بہت تیزی سے منتقل ہوتا ہے  اسی لیے آج دنیا کے بہت سارے ممالک میں لاک ڈاون کیا گیا ہے او رلوگ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے ہیں تاکہ وہ اس جان لیوا بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی کی مرضی کے بغیر کوئی بیماری کسی کو نہیں لگ سکتی لیکن اس کا تعلق ایمان سے ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہم انسان   پر اللہ تعالی نے ہلاکت سے بچنے کا حکم بھی دیا ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے : ‘‘وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ’’ ترجمہ : ‘‘اور اپنے ہاتھوں، ہلاکت میں نہ پڑو’’ (سورہ بقرہ ۱۹۵)۔

 

کروناوائرس ایک متعدی مہلک مرض ہے ، لہذا اس سے بچنے کی جو بھی تدبیریں ہوں اسے اختیار کرکے رب العالمین کے فرمان پر عمل کیا جائے ۔متعدی وبائی امراض کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو  احادیث ہیں ان کی روشنی میں  ہمیں  دونوں اعتقاد وعمل کی بہترین تعلیم ملتی ہے  ، اعتقاد اس طور پر کہ  متعدی بیماری بھی اللہ کے اذن سے ہی لگتی ہے اور عمل اس طور پر کہ جو جہاں ہے وہیں رہیں ، مثلا ، 

عن سعد رضی اللهعنه عن النبی صلی الله عليه وسلم، قال: إذا سمعتم بالطاعون بأرض فلا تدخلوها وإذاوقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا منها

 

ترجمہ : حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی علاقے میں طاعون کے بارے میں سنو تو اس میں نہ جاؤ اور اگر کسی علاقے میں طاعون (متعدی مرض) پھیل جائے اورتم اس میں ہو تو اس سے نہ نکلو۔’’ (اس حدیث کو بخاری اور مسلم دونوں کی تصحیح حاصل ہے)

 

لہذا اس دنیا میں رہنے والے انسان پر لازم ہے کہ  وہ رب العالمین اور رحمۃ للعالمین کے بتائے ہوئے طریقوں کو اپناکرکروناوائرس کی اس جنگ عظیم میں کامیابی حاصل کریں ۔ترقی یافتہ ممالک کے ماہرین طب کی جانب سے آج وہی مشورے دیے جارہے ہیں جس کا اعلان ۱۴۰۰ سال پہلے ہمارے آقا علیہ السلام فرماچکے ہیں ۔

 

میڈیکل سائنس اور ماہرین طب کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے آج دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاون اور کرفیو جیسا ماحول بنا ہوا ہے ۔ایسے ماحول میں  ایک بے چینی عوام کے قلوب و اذہان میں تھی کہ  وہ موجودہ  کرفیو یا لاک ڈاون کی صورت میں نماز جمعہ کا کیا حکم ہے ؟کیا ان پر ترک جماعت کا گناہ ہوگا یا نہیں ؟اسی طرح پانچوں اوقات کی نماز مسجد میں جماعت سے ادا نہ کرنے کی صورت میں کیا وہ گناہ گار ہوں گے  یا شریعت مطہرہ نے کروناوائرس جیسے ضرر سے بچنے کے  لیے ترک جماعت یا ترک جمعہ کی اجازت دی ہے یا نہیں؟ اس بے چینی کے عالم میں محقق مسائل جدیدہ، ماہر افتا  وتدریس  مفتی نظام الدین رضوی کا فتوی نظر سے گزرا جو کہ  ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے قابل عمل ہے۔

 

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین موجودہ حالات میں کرونا وائرس جیسی مہلک بیماری سے بچنے کے لیے حکومت نے پورے ملک میں دفعہ ۱۴۴ نافذ کردیا ہے جس کی وجہ سے ۵ افراد ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے  اس بنیاد پر حکومت نے تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کو بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے ۔ہماری مسجدوں  میں بھی تالے لگ گئے ہیں اور انتظامیہ کی طرف سے حکم یہ ہے کہ صرف امام موذن اور ٹرسٹیان ہی مل کر نمازیں ادا کریں اور اگر زیادہ لوگ مسجد میں جمع ہوتے ہیں تو امام اور ٹرسٹیان پر کیس کر دیا جائے گا ۔اس سلسلے میں پولس اس قدر سختی کر رہی ہے کہ بعض علاقوں میں مسجدوں سے مصلیوں کو نکال نکال کر مارا گیا ۔

 

انتظامیہ کی طرف سے نافذ اس پابندی سے حق مسجد تو ادا ہو جاتا ہے اور جماعت پنجگانہ کے ذریعہ مسجدیں آباد ہیں مگر جمعہ کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہو گیا ہے ۔۲۷ مارچ ۲۰۲۰ کا جمعہ بے شمار علاقوں میں معطل رہا ، وجہ یہ ہے کہ جمعہ کے لیے اذن عام اور مسجد کا درواہ کھلا رکھنا شرط ہے اور موجودہ حالات میں دروازہ کھولا نہیں جا سکتا ورنہ لوگ کثیر تعداد میں آجائیں گے اور پھر وہی قانونی دشواری پیش آئے گی جس کا ذکر کیا گیا ۔

 

لہذا صورت حال میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا مجبوری کی صورت میں چند لوگ جو نماز پنجگانہ ادا  کر رہے ہیں وہی لوگ اگر دروازہ بند کرکے نماز جمعہ بھی ادا کر لیں تو اس کی اجازت ہوگی یا نہیں ؟

واضح رہے کہ دروازہ مسلمانوں کی طرف سے بند نہیں کیا گیا ہے یہ تو حکومت کا دباو ہے اور وہ بھی ہماری حفاظت کے لیے ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ اذن عام کی جو شرط فقہ کی کتابوں میں بیان کی گئی ہے مثلا در مختار ، بہار شریعت ، فتاوی رضویہ  وغیرہ یہ شرط کتب ظاہر الروایہ میں نقل نہیں کی گئی بلکہ یہ شرط کتب کتب النوادر میں نقل کی گئی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہدایہ جیسی مشہور کتاب میں اس شرط کا کوئی ذکر تک نہیں ہے اس لیے اس شرط کا موجودہ حالات میں لحاظ کیے بغیر جمعہ پڑھ لیا جائے تو کیا حرج ہے کم سے کم جمعہ تو پوری دنیا میں معطل نہیں ہوگا جو شعار اسلام سے ہے اور مسجدیں تو ویران نہیں ہوں گی، اور پھر کروناوائرس کی ستم گری کا یہ سلسلہ کتنا دراز ہوگا اور یہ پابندی کب تک عائد رہے گی اس کا بھی کچھ علم نہیں جس سے آنے والے کئی جمعے معطل ہو سکتے ہیں جو کہ حرج  عظیم بھی ہے اور مسلمانوں کو گوارا بھی نہیں ۔لہذا امید ہے کہ جمعہ کی بحالی کے لیے جواز کی کوئی صورت پیش کی جائے گی ۔

 

بینوا توجروا ۔المستفتی : محمد یوسف رضا قادری ، بھیونڈی ، مہاراشٹر

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

الجواب : جمعہ قائم کرنے والے کم از کم چار افراد ہوں ، ایک امام تین مقتدی اور ان کی طرف سے اذن عام ہو تو کروناکرفیو کے موجودہ حالات میں نماز جمعہ صحیح ہے کیوں کہ اس وقت جو کرفیو جاری ہے وہ تمام انسانی برادری کو ‘‘کروناوائرس ’’ کے مضر اور مہلک اثرات سے بچانے کے لیے ہے ، نماز اور جماعت نماز سے روکنے کے لیے نہیں ، اس لیے اس کرفیو سے جمعہ کی ساتویں شرط ‘‘اذن عام’’ پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔

 

کروناوائرس کو ناگاساکی کے ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک مانا جا رہا ہے اور یہ ایک سچائی ہے کہ اس وائرس نے جہاں اپنے قدم جما لیے ہیں وہاں روز سیکڑوں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں جیسے اٹلی ، ایران ، امریکہ ، چین  میں ہزاروں لوگ ہلاک ہو چکے ۔اس بیماری کی ابتدائی علامت زکام ، سوکھی کھانسی  ، بخار ہے لیکن جن لوگوں کی قوت مدافعت اچھی ہے ان میں یہ علامت ابتدائی طور پر ظاہر نہیں ہوتی ، لوگ انہیں ٹھیک سمجھتے ہیں اور ایسے لوگوں کے قریب ہونے سے ان کے وائرس (جراثیم) دوسروں کے بدن میں سرایت کر جاتے ہیں اور پھر واسطہ بواسطہ یہ وائرس منتقل ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ کچھ دنوں بعد وہ حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو جاتے ہیں پھر ہلاکتوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ، اس سے بچنے بچانے کی تدبیر ‘‘سماجی دوری’’ تجویز کی گئی ہے جس کے لیے  ‘‘لاک ڈاون ’’ اور ‘‘جنتا کرفیو’’ ضروری ہوا ۔

 

لاک ڈاون کا اصل مقصد مطلقا انسانی برادری کو ایک دوسرے کے قرب واختلاط سے دور رکھنا ہے جو وائرس کے ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہونے اور پھیلنے کا سبب ہے ، تو یہاں جمعہ اور جماعت نماز سے روکنا مقصود نہیں ہے بلکہ صرف کروناوائرس اور اس کے مضر ومہلک اثرات سے دور رکھنا مقصود ہے ۔

 

اور ایسی ممانعت سے جمعہ کے ‘‘اذن عام ’’ پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔

 

‘‘اذن عام ’’ کا مطلب ہے ہر نمازی کو مسجد میں آنے کی اجازت ۔حالانکہ عورتوں کو اندیشہ فتنہ کی وجہ سے اور موذی کو اندیشہ ایذا کی وجہ سے مسجد آنے کی ممانعت ہے تو جیسے اندیشہ فتنہ کی وجہ سے عورتوں کو اور اندیشہ ایذا کی وجہ سے موذی کو ممانعت  ‘‘اذن عام ’’ پر اثر انداز نہیں اور جمعہ صحیح ہو تا ہے ویسے ہی وائرس کے اندیشہ وضرر کی وجہ سے عام انسانی برادری کو  قرب واختلاط سے ممانعت بھی ‘‘اذن عام ’’ پر اثر انداز نہ ہوگی اور جمعہ صحیح ہوگا ۔

 

در مختار میں ہے :

 

فلا يضر غلق باب القلعة لعدو أو لعادة قديمة لأن الإذن العام مقرر لأهله وغلقه لمنع العدو لا المصلي و نعم لو لم يغلق لكان أحسن كما في مجمع الأنهر معزيا لشرح عيون المذاهب . اهـ

 

(الدر المختار على هامش رد المحتار ج1، ص 601 باب الجمعة)

 

ترجمہ : کسی دشمن کی وجہ سے یا قدیم تعامل کی وجہ سے قلعہ کا گیٹ بند کردینا اذن عام میں مضر نہیں ہے اس لیے کہ اذن عام اہل شہر کے لیے ثابت ہے اور گیٹ بند کرنا دشمن کو روکنے کے لیے ہے ، ہاں اگر گیٹ بند نہ کیا جائے تو اچھا ہوگا جیساکہ مجمع الانہر میں شرح عیون المذاہب کے حوالے سے ہے ۔

 

رد المحتار میں ہے : فلايضر إغلاقه لمنع عدو أو لعادة كما مر .ط

 

ترجمہ: دشمن کو روکنے کے لیے یا قدیم تعامل کی وجہ سے حاکم کا قلعہ کا گیٹ بند کرانا اذن عام میں خلل انداز نہیں ۔طحطاوی (رد المحتار ، ج  ۱ ص ۶۰۱ ، باب الجمعہ )

 

مختصر یہ کہ ممانعت کی بنیاد نماز وجماعت نماز ہو تو یہ اذن عام کے منافی ہوگی اور اگر اس کی بنیاد فتنے کا اندیشہ یا دشمن سے ضرر کا اندیشہ ہو تو وہ اذن عام کے منافی نہ ہوگی ، لہذا جمعہ صحیح ہوگا ۔

 

اور موجودہ حالات میں لاک ڈاون یا سماجی دوری کی بنیا داندیشہ ضرر ہے نماز وجماعت نماز نہیں ہے ، لہذا باب مسجد بند ہونے کی صورت میں بھی نماز جمعہ صحیح ودرست ہوگی ، ہاں دروازہ کھلا رہے تو اچھا ہے ۔

 

یہ بات اپنی جگہ بجا ہے کہ ظاہر الروایہ (جو اصل مذہب حنفی ہے) میں  ‘‘اذن عام’’ کی شرط کا کوئی ذکر نہیں ہے ، جیساکہ بدائع الصنائع ، بحر الرائق اور رد المحتار ، باب الجمعہ میں اس کی صراحت ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہدایہ جیسی عظیم الشان کتاب میں بھی اس کا ذکر نہ ہوا مگر کہا جا سکتا ہے کہ عدم ذکر ، ذکر عدم نہیں ہے ، کبھی کوئی بات دلیل کی روشنی میں مجتہد پر عیاں ہوتی ہے اس لیے وہ اس کے ذکر کی حاجت نہیں محسوس کرتے ۔

 

خلاصہ یہ کہ : 

    

شاشن وپرشاشن کی طرف سے پانچ لوگوں کو جمعہ اور جماعت مسجد میں قائم کرنے کی اجازت ہے تو مسلمان اس کا لحاظ کریں ، خلاف ورزی کی صورت میں اپنے آبرو کو آنچ آسکتی ہے جیساکہ کچھ جگہوں پر ہوا ۔

مسلمان اسے سنجیدگی سے لیں ، باقی لوگ اپنے اپنے گھروں میں جمعہ کے بدلے تنہا تنہا ظہر کی نماز ادا کریں اور مسجد والے جمعہ کے وقت دروازہ ہلکا سا کھلا رکھیں ۔

 

(۲)اور اگر یہ محسوس کریں کہ دروازہ بند رکھنا چاہیے ورنہ دقت آسکتی ہے تو دفع ضرر کے مقصد سے دروازہ بند رکھ سکتے ہیں جیساکہ دفع فتنہ وضرر کے لیے بند رکھنے کی اجازت ہے جو فقہ حنفی کی معتمد ومستند کتب ‘‘شرح عیون المذاہب’’، ‘‘مجمع الانہر ’’، ‘‘طحطاوی’’ اور ‘‘رد المحتار ’’ میں مذکور ہے ۔واللہ تعالی اعلم

 

کتبہ محمد نظام الدین الرضوی

 

رئيس قسم الإفتاء وهيئة التدريس بالجامعة الأشرفية بمبارك فور أعظم جراه 4 شعبان المعظم 1441 / 30 مارس 2020 م

 

A regular Columnist with NewAgeIslam.com, Ghulam Ghaus Siddiqi Dehlvi is an Alim and Fazil (Classical Islamic scholar), with a Sufi-Sunni background and English-Arabic-Urdu Translator. He has also done B.A (Hons.) in Arabic, M.A. in Arabic and M.A in English from JMI, New Delhi. He is Interested in Islamic Sciences; Theology, Jurisprudence, Tafsir, Hadith and Islamic mysticism (Tasawwuf).

 

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/fatwa-on-the-validity-of-friday-prayer-for-the-prevention-of-coronavirus--دفع-کروناوائرس-کے-لیے--مسجدوں-کا-دروازہ-بند-رکھ-کر-بھی-جمعہ-کی-نماز-ہو-جائے-گی،-مفتی-نظام-الدین-رضوی-کا-ایک-تحقیقی-فتوی/d/121464

 

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism




TOTAL COMMENTS:-   11


  • جو شخص تکبر کی نیت سے پائجامہ کو ٹخنوں سے پہنے ان کے لیے یہ وعید ہے ۔درج ذیل حدیث پر غور کریں:

    عن أبي هريرة رضی الله تعالى عنه، أن رسول الله ﷺ قال: لا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر إزاره بطرا. (صحیح البخاری، م: ٥٧٨٨؛ ابوہریرہ رضی الله عنه سے روایت کی کہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ الله تعالی قیامت کے روز اس شخص پر نظر شفقت نہیں فرمائے گا جس نے اتراتے ہوئے اپنے تہبند کو زمین پر گھسیٹا)

    وقال رسول الله ﷺ: من جر إزاره لا يريد بذلك إلا المخيلة فإن الله تعالى لا ينظر إليه يوم القيامة. (صحیح مسلم، م: ٢٠٨٥؛ مسند احمد، م: ٥٠٥٠؛ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو اپنا ازار لٹکائے اور اس سے اس کا مقصد تکبر کے سوا اور کچھ نہ ہو تو الله عزوجل قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہ فرمائے گا)

    عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة. قال أبو بكر: يا رسول الله ﷺ، إن أحد شقي إزاري يسترخي، إلا أن أتعاهد ذلك منه؟ فقال ﷺ: لست ممن يصنعه خيلاء. (صحیح البخاری، م: ٥٧٨٣؛ سنن ابو داود، م: ٤٠٨٥؛ سنن النسائی، م: ٥٣٣٥؛ عبد الله ابن عمر رضی الله تعالى عنه سے مروی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے از راہ تکبر کپڑا لٹکایا اور نیچے گھسیٹا تو الله تعالی قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہ فرمائے گا. اس پر ابوبکر صدیق اکبر رضی الله تعالى عنه عرض گزار ہوئے: یا رسول الله ﷺ! میرا تہبند ایک طرف نیچے لٹک جاتا ہے مگر یہ کہ میں اس کی پوری حفاظت کرتا ہوں. آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو طرز تکبر سے ایسا کرتے ہیں)

    اعلی حضڑت بھی اس کے تعلق سے فرماتے ہیں: اگر بوجہ تکبر نہیں تو بحکم ظاہر احادیث مردوں کو بھی جائز ہے. لا بأس به كما یرشك إليه التقیید بالبطر والمخیلة. (اس میں کچھ حرج نہیں جیسا کہ اس کی طرف ”البطر والمخیلة“ (اترانا اور تکبر کرنا) کی قید لگانا تمہاری راہنمائی کررہا ہے: فتاوی رضویہ، ١٦٦/٢٢) لا بأس به یہ فقیہ اس جائز فعل پر کہتا ہے جو خلاف اولی، مکروہ تنزیہی ہو. اسی کی تصریح عالمگیری میں ہے. والله تعالی اعلم


    By GGS - 4/7/2020 12:00:28 AM



  • تبلیغی جماعت کے لوگوں میں اکثر پائجامہ کو ٹخنے سے نیچے پہننے کے معاملے میں شدت پسدی دیکھی جاتی ہے ،،،میں آفس کے کپڑے میں جب بھی نماز پڑھنے جاتا ہوں وہاں کوئی نہ کوئی ٹوک لگا دیتا ہے اور کہتا ہے جہنم میں داخل ہو جاوگے اگر پائجامہ اوپر نہیں کیا تو ۔۔۔۔میرا سوال ہے کہ  ایک شخص ہے جو پیجامہ ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے مجبوری کی بنا پر مجبوری یہ ہے کہ آفس، کا کپڑا اتنا ہی بڑا ہے اور اس کو اوپر کرو تو اچھا نہیں لگتا ہے تو کیا یہ شخص وعید میں داخل ہوگا یعنی کیا وہ جہنم مین داخل ہوگا؟


    By Abdullah - 4/6/2020 11:53:18 PM



  • وعلیکم السلام ۔۔۔امام شافعی کے قول کی تشریح میں علما یہ بیان کرتے ہیں کہ اس سے حقیقی کافر مراد نہیں ہے بلکہ عمداً نماز ترک کرنے والے کو تغلیظاً کافر کہا ہے، مسلمان اور کافر کے درمیان  نظر آنے والا سب سے اہم فرق نماز ہے، اسی بنا پر عمداً نماز ترک کرنے والے کو لغوی اعتبار سے کافر کہا گیا ہے۔

    اگر حقیقی کافر مراد ہوتا تو عمداً نماز ترک کی صورت میں تجدید ایمان اور اگر شادی ہوگئی ہے تو تجدید نکاح کا بھی حکم دیتے حالانکہ امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ  تجدید ایمان و نکاح کے قائل نہیں ہیں، بلکہ اگر اس نے ترک کی ہوئی نماز پڑھ لی اور توبہ کرلی تو کافی ہے تجدید کی کوئی ضرورت نہیں ہے. امام شافعی کے قول کی تشریح اسی طرح کی جاتی ہے ۔واللہ اعلم بالصواب حوالہ کے لیے منتظر رہیں۔


    By GGS - 4/6/2020 11:42:04 PM



  • السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ تعالیٰ وبرکاتہ

    (امام شافعی کے نزدیک) ایک وقت کی نماز ترک کرنے والا کافر ہے ,,,

    اس مسئلے میں کوئی تخفیف ہوئی ہے یا ابھی بھی کفر کا فتوی ہے ,,,

    یا پھر پہلے سے ہی یہ فتوی نہیں ؟

    یا شوافع علماء نے اس مسئلہ میں کوئی بدلاؤ کی ہے ؟

    مدلل جواب کا منتظر ہوں ,

    حضرت امام شافعی کا یہ مسئلہ (جو شخص جان بوجھ کر ایک وقت کی نماز ترک کرے - کفر ہے)

    اور - اس دور میں اس مسئلہ پر کیا حکم ہے ,,,

    مع حوالہ جواب مطلوب ہے ,,,


    By Rizwan Muzawar - 4/6/2020 11:37:21 PM



  • میرا خیال ہے مفتی صاحب کے فتوی پر عرفان احمد ازہری نے جوسوالات قائم کیے ہیں ان کے جوابات خود مفتی صاحب کے فتوی میں موجود ہیں۔

    مفتی صاحب نے دفع ضرر کو علت بنایا ہے... در مختار میں جو دشمن کو روکنے کی بات کی گئی ہے اس میں بھی علت دفع ضرر ہے... وہی علت مفتی صاحب سمجھانا چاہ رہے ہیں کہ دفع ضرر کے قصد سے دروازہ بند کیا جا سکتا ہے.... اب یہ ضروری نہیں کہ ضرر صرف خاص دشمن کا ہی ہو... کوئی بھی ضرر ہو بہر حال ضرر ہی ہے اور اسی کا دفع مقصود ہے..... اور یہی علت مفتی صاحب کے فتوی میں موجود ہے.... علت پر غور کرنے سے مسئلہ حل ہوجا رہا ہے.... دوسری بات یہ کہ اندیشہ فتنہ اور اندیشہ ضرر کے الفاظ بھی مفتی صاحب کے فتوی میں موجود ہیں جن پر غور کرنے سے سائل کے سوالات کا حل مل سکتا ہے...

    یہاں تو خود عرفان احمد ازہری صاحب پر ہی سوال یہ بنتا ہے کہ کیا کتب فقہ میں کہیں یہ بات ہے کہ معروف دشمن کے لیے دروازہ بند کیا جائے اور مجہول دشمن کے کے لیے دروازہ بند نہ کیا جائے....؟ اگر انہیں ایسا نہیں ملتا یا یہ کہ دشمن خواہ معروف ہو یا مجہول دونوں طرح کے ضرر کے اندیشہ کی صورت میں دروازہ بند کیا جا سکتا ہے....

    تو کروناوائرس ایک ایسا ضرر ہے جو افراد میں معروف ہو یا مجہول بہر صورت ضرر کا اندیشہ پیدا کرتا ہے اور اسی اندیشہ ضرر کا دفع یہاں مقصود ہے........

    مفتی صاحب کے فتوی پر غور کرنے سے یہ سب کچھ واضح ہے.... لیکن مزید وضاحت مفتی صاحب  سےطلب کی جا سکتی ہے ...

    واللہ ورسولہ اعلم بالصواب


    By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي - 4/2/2020 9:17:30 AM



  • عرفان ازہری کے سوال ۳ کا جواب یہ ہیکہ مو ضع احتیاط میں مفضی الی الشئ کو شئ کے قائمقام کردیا جاتا ہے اس لیئے یہ اعتراض کرنا کہ اگر وائرس ہو گا تو سب کے لیئے نہیں ہوگا تو کسی کے لیئے نہیں سب کو چھوڑ کے پانچ آدمی پڑھ لینا بلاوجہ تر جیح بلا مرجح ہے یہ بیکار ہے کیونکہ علت یہاں ضرر ہے جو سب کے لیئے ہے مگر صحت جمعہ وابقاء جمعہ کے لیئے بقدر ضرورت کیساتھ پڑھ لینا علت ضرر کے منافی نہیں ہے

    منقول


    By Qamre Alam Khan - 4/2/2020 9:07:23 AM



  • مفتی صاحب نے درمختار و ردالمحتار کی عبارت بطور دلیل مستقل نہیں بلکہ تائید و تمثیل دلیل کے طور پر بیان کی ہے۔

    رخصت کا سبب اوپر بیان ہوچکا ہے کہ اندیشہ ایذا و فتنہ کی وجہ سے بعض کی ممانعت اذن عام کے خلاف نہیں ہے تو جب یہی اندیشہ ایذا و فتنہ اس دور میں کرونا کی وجہ سے پایا جائے تو صحت جمعہ قائم رکھتے ہوئے باقیوں کی ممانعت اذن عام کے منافی نہیں ہے۔


    By Abu Muhammad Arfeen Al Qadri - 4/2/2020 9:05:52 AM



  • صحیح بات ہے کہ یہاں پر پولیس کو نہیں روکا جاتا بلکہ مصلیان کو روکا جا رہا ہے لیکن اگر مصلیان کو نہیں روکا گیا تو پولیس کی طرف سے تشدد کا خطرہ ہے شاید یہ علت ہو۔پھر و اللہ اعلم


    By Muhammad Memon - 4/2/2020 9:04:41 AM



  • اللہ پاک شریعت کی حفاظت فرمائے


    By Rafiqul Islam - 4/2/2020 9:03:28 AM



  • Mufti Sahab In Sawalo Ke Jawab Nahi Denge Ab


    By Rizwan Muzawar - 4/2/2020 9:02:36 AM



  • #کیا_اذن_عام_کا_خلل_رفع_ہوا؟⁩ عرفان احمد ازہری
    مفتی نظام الدین صاحب قبلہ کے زیر نظر فتوی پر بطور طالب علم اس کم علم کے کچھ معروضات ہیں۔
    اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں جمعہ کی جماعت میں اذن عام کی جو شرط مفقود ہورہی تھی یا اذن عام میں جو خلل واقع ہو رہا ہے مفتی صاحب نے اس خلل کو درمختار کی عبارت سے رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔
    در مختار میں بند دروازہ میں جمعہ ہونے کی دو علتیں "لعدو او لعادۃ قدیمۃ" بیان کی گئی ہیں۔ جس کا حوالہ مفتی صاحب نے دیا ہے، اس کا واضح مفہوم یہی نکلتا ہے کہ
    ١-  دشمن کے خوف کی وجہ سے
    ٢-  یا پہلے سے ہی دروازہ بند رکھنے کا رواج ہو
     تو بند دروازہ میں جمعہ پڑھ سکتے ہیں۔
    دوسری شق یعنی دروازہ بند کرکے جمعہ پڑھنے کا رواج، کا تحقق عام طور سے نہیں ہوتا
    پہلی شق اس وقت درست ہوسکتی ہے اگر پولیس کو دشمن مان لیں، کیوں کہ آگے اس بات کی بھی صراحت ہے:
    "وغلقہ لمنع العدو لاالمصلی" یعنی دروازہ کا بند کرنا دشمن کو روکنے کے لیے ہو نا کہ مصلی کو روکنے کے لیے۔
    فتاوی ہندیہ میں ہے:
    "لو اجتمعوا في الجامع و اغلقوا ابواب المسجد على انفسهم و جمعوا لم يجز"
    (فتاوی ہندیہ ج١ ص١٦٣ ط دارالکتب العلمیہ)
    یعنی اگر کسی مسجد میں  چند افراد آگئے اس کے بعد مسجد بند کر دی گئی اس طرح کے اب  کوئی اندر نہیں آ سکتا، اور اسی مقفل مسجد میں نماز جمعہ ادا کی گئی تو اس طرح جماعت درس نہیں ہوئی (اذن عام نہ ہونے کی وجہ سے).
    چند سوالات:
    ١- موجودہ حالات میں مساجد میں جمعہ سے پہلے جو روک لگائی جارہی ہے وہ مصلی کے لیے روک ہوتی ہے یا غیر مصلی کے لیے؟
    ٢- اگر پولیس کو دشمن مان لیں تو پولیس کو روکنے کے لیے مسجد کا دروازہ بند ہونا چاہیے نا کہ مصلی کے لیے؟
    ٣- اگر وائرس کے پھیلاؤ کے خوف سے مساجد کے دروازے بند ہوتے ہیں تو وائرس کا پھیلاؤ اگر فرد معین میں معلوم ہے تو دفع ضرر کی خاطر اس کے لیے مسجد کا دروازہ بند ہوسکتا ہے، لیکن اگر وائرس افراد کے درمیان مجہول ہے اور دفع ضرر کے لیے بعض افراد کو روکا جا رہا ہے اور بعض افراد پڑھ رہے ہیں تو وجہ ترجیح کیا ہے؟
    ٤- جن لوگوں کو جمعہ سے روکا گیا کیا انہیں ظہر پڑھنے پر جمعہ کا اجر ملے گا؟

    By Irfan Ahmad Azhari - 4/2/2020 8:48:44 AM



Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content