New Age Islam
Tue Aug 16 2022, 02:16 PM

Urdu Section ( 11 May 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Murder And Arson In Bugtoi Village Lays Bare The Educational And Social Backwardness Of Muslims In Rural Bengal بگٹوئی گاؤں میں قتل اور آتش زنی بنگال کے دیہی علاقوں کے مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی پسماندگی کو ظاہر کرتی ہے

دیہی علاقوں کے بنگالی مسلمانوں کو حکومت اور مسلم دانشوروں نے تنہا چھوڑ دیا ہے

اہم نکات:

1.     دیہی مسلمانوں میں غربت اور بے روزگاری انتہا پر ہے

2.     مغربی بنگال کے 80 فیصد مسلمان دیہات میں رہتے ہیں

3.     دیہی علاقوں کے صرف 3.6 فیصد مسلمانوں نے ثانوی تعلیم مکمل کی ہے

4.     دیہی علاقوں میں صرف 1.7 فیصد مسلمان ہی گریجویٹ ہیں

5.     دیہی علاقوں کے مسلمان تپاکی اور گرم مزاج ہیں

-----

نیو ایج اسلام ساٹاف رائٹر

27 اپریل 2022

Family members of Birbhum violence victims. (Express Photo)

-----

21 مارچ 2022 کو مغربی بنگال میں کولکاتہ سے تقریباً 250 کلومیٹر دور بگٹوئی نامی گاؤں میں قتل عام اور آتش زنی کا ایک بدترین واقعہ پیش آیا۔ نائب پردھان بھادو شیخ کو نامعلوم افراد نے قتل کرنے کے بعد 7 سالہ بچی سمیت 10 افراد کو زندہ جلا دیا گیا۔ مہیلال شیخ کے اہل خانہ انتقامی کارروائی میں مارے گئے۔ ایک سال قبل بھادو شیخ کے بھائی کو بھی قتل کر دیا گیا تھا۔ اس قتل عام کا ملزم انار الحسین ہے، جو علاقے کا ٹی ایم سی لیڈر ہے جس کے پاس سیاسی طاقت ہے۔

یہ قتل سیاسی اور کاروباری عداوت کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے۔ گاؤں میں مسلمانوں کی آبادی 35 فیصد ہے لیکن گاؤں کے مسلمانوں میں بے روزگاری اور ناخواندگی کی شرح زیادہ ہے۔ یہ گاؤں بیربھوم ضلع کے تحت آتا ہے جہاں مشہور وسو بھارتی یونیورسٹی واقع ہے۔ ضلع میں بھی مسلمانوں کی آبادی 35 فیصد ہے۔

مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی 30 فیصد ہے مگر 80 فیصد مسلمان دیہی علاقوں میں بستے ہیں۔ دیہی علاقوں کے مسلمانوں میں خواندگی کی شرح شہروں اور قصبوں کی بہ نسبت کم ہے۔ دیہی علاقوں میں مسلمانوں میں خواندگی کی شرح شیڈیولڈ کاسٹ سے بھی کم ہے، سچر کمیٹی کی رپورٹ میں اس حقیقت کا ذکر کیا گیا ہے۔

دیہی علاقوں میں، شیڈیولڈ کاسٹ کے 4 فیصد کے مقابلے صرف 3.6 فیصد مسلمانوں نے ہی ثانوی تعلیم مکمل کی ہے۔ شیڈیولڈ کاسٹ کے 1.7 کے مقابلے صرف 1.3 فیصد مسلمان ہی گریجویٹ ہیں۔

بیربھوم ضلع مغربی بنگال کا ایک ضلع ہے جو اقتصادی اور صنعتی طور پر پسماندہ ہے۔ یہاں روزگار اور روزی روٹی کے مواقع بہت کم ہیں اسی لیے یہاں کے مسلمان غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ غربت کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو تعلیم فراہم نہیں کر پاتے۔ بہت سے لوگ پرائمری کے بعد ہی تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔

یہاں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کے پاس نہ تو کوئی ہنر اور نہ ہی قابلیت ہے کہ کوئی اچھی ملازمت حاصل کر سکیں اس لیے وہ کیرالہ، دہلی یا راجستھان میں مہاجر مزدوروں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اور جو لوگ جو گاؤں میں رہ جاتے ہیں، وہ اپنے ہی گاؤں یا پڑوس گاؤں میں مستری یا یومیہ اجرت والے مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔

بگٹوئی کے مسلمانوں کا بھی یہی حال ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگ بے روزگار ہیں لہٰذا، وہ غیر قانونی طور پر کان کنی یا غیر قانونی یا ریت، کوئلہ اور پتھر کا کاروبار کرتے ہیں۔ انار الحسین، مقتول بھادو شیخ اور مہی لال شیخ سبھی کوئلہ، ریت اور پتھر کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث تھے۔ انار الحسین شروع میں ایک عام مزدور تھا لیکن سیاسی اثرورسوخ کی بنا پر ریت، کوئلے اور پتھر کے غیر قانونی کاروبار میں چلا گیا اور رفتہ رفتہ کروڑ پتی بن گیا۔ کوئلے اور ریت کے کاروبار میں بھادو شیخ اور مہی لال شیخ کے درمیان عداوت تھی۔ اس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ بھادو شیخ کے قتل کے پیچھے مہی لال شیخ کا ہاتھ ہے۔ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس کا تعلق ٹی ایم سی سے ہے۔

لیکن صرف کاروباری دشمنی ہی اتنے بڑے پیمانے پر قتل عام کا سبب نہیں ہو سکتی۔ بھادو شیخ کے قتل کے پیچھے مہی لال شیخ کا ہاتھ ہو تب بھی اس کی 7 سالہ بیٹی سمیت اس کا پورا خاندان کا کیا قصور تھا۔ اس کی وجہ صرف گاؤں کے مسلمانوں کی ناخواندگی اور غیر مہذب طرز زندگی تھی۔

چونکہ تعلیم اور روزگار کی کمی ہے اس لیے مسلمانوں کا ایک طاقتور طبقہ امیر مالدار ہے جب کہ نوجوانوں کی اکثریت جوئے بازی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں وقت گزارتی ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ غیر قانونی شراب کے عادی ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ سود پر قرض بھی دیتے ہیں۔

گاؤں کے اندر دو تین مدارس اور مساجد بھی ہیں اس کے باوجود گاؤں میں اسلامی تعلیم کا فقدان ہے۔ مساجد کے اماموں کا گاؤں میں کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے کیونکہ ان کا کام صرف نماز کی امامت کرنا ہے۔ مسلمانوں میں اصلاح کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ گاؤں میں تبلیغی جماعت کے داخلے پر پابندی ہے۔ دیگر مذہبی تنظیموں کی بھی گاؤں میں کوئی نہیں ہیں۔ بگٹوئی کے مسلمان کسی بھی قسم کی اصلاحی تحریک کی عدم موجودگی کے سبب بے راہ روی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بے حیائی عروج پر ہے۔ اور زیادہ تر لوگ گندی سیاست میں ملوث پائے جاتے ہیں۔

مغربی بنگال کے بہت سے دور دراز دکے علاقے اور دیہات ایسے ہیں جہاں پولیس مقامی سیاستدانوں یا حکمران جماعت کی سرپرستی رکھنے والے مقامی کلب کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوتی ہے۔ کلب یا مقامی سیاسی کمیٹیاں مقامی تنازعات کو حل کرتی ہے۔ بگٹوئی میں بھی انارالحسین نے پولیس اور فائر بریگیڈ کو نہیں آنے دیا۔

مذہبی یا عصری تعلیم کا فقدان صرف بگٹوئی کے مسلمانوں کا ہی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ بلامغربی بنگال کی دیہی مسلمانوں میں بالعموم پائی جاتی ہے۔ غربت کی وجہ سے مسلمان بچے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے اور مجبور ہو کر وہ ہاکروں یا مزدوروں کا کام کرتے ہیں۔ چونکہ بنگال کے دیہی علاقوں میں زیادہ تر مسلمان بنگالی بولنے والے ہیں اور بنگالی میں اسلامی کتابوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ اسلامی تعلیمات سے بالکل ناواقف ہیں۔ چونکہ وہ اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہیں اس لیے جب خاندان یا قریبی رشتہ داری میں کوئی کوئی نزاع پیدا ہوتا ہے تو وہ کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دیہی علاقوں کے مسلمان گرم مزاج اور تشدد کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ بگٹوئی گاؤں میں 65 فیصد ہندو آباد ہے اور ان کے درمیان سیاسی اور کاروباری دشمنی بھی ہے لیکن وہ آپس میں لڑتے یا ایک دوسرے کو قتل نہیں کرتے۔ وہ مسلمانوں سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور تشدد کے برے نتائج سے واقف ہیں۔ بنگالیوں کے لیے تشدد ہی آخری سہارا ہے لیکن دیہاتوں کے مسلمان ہمہ وقت تشدد کا سہارا لینے کے لیے تیار رہتے ہیں اور اس کے نتائج کی پرواہ بالکل ہی نہیں کرتے۔ بائیں بازو کی حکمومت کے آخری دنوں میں، مدینی پور اور دیگر اضلاع کے بنگالی مسلمان ہی بائیں محاذ کی حکومت کے خلاف سیاسی تشدد میں ملوث تھے اور بائیں بازو کے خلاف تشدد میں مارے گئے زیادہ تر لوگ دیہی مسلمان تھے۔

اصل مسئلے کی جڑ یہ ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمی اور مذہبی اصلاح کے تمام کام مغربی بنگال کے ان قصبوں اور شہروں میں جاری ہے جہاں اردو بولنے والے مسلمان تعلیمی اور معاشی دونوں لحاظ سے بہتر حالت میں ہیں۔ چونکہ دیہی علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی ہے، اس لیے وہ اردو بولنے والے مسلمانوں کی طرف سے چلائے جا رہے ریاست کی تعلیمی اور مذہبی تحریکوں سے کٹے ہوئے ہیں۔ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے لیے بہت کم بنگالی بولنے والے ماہر ین تعلیم کام کر رہے ہیں۔

مختصر یہ کہ بگٹوئی میں جو کچھ ہوا اس کا ذمہ دار مسلم رہنماؤں اور مذہبی تنظیموں کو بھی ٹھہرانا چاہیے۔ سیاسی رہنماؤں نے صرف اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ان کا استحصال کیا ہے اور مذہبی رہنماؤں نے ان دیہی مسلمانوں کو نظر انداز کیا ہے اور اپنے سارے وسائل اور ساری توانائیاں قصبوں اور شہروں میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے میں صرف کی ہیں۔

English Article: Murder And Arson In Bugtoi Village Lays Bare The Educational And Social Backwardness Of Muslims In Rural Bengal

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/educational-social-backwardness-muslims-bengal/d/126984

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..