New Age Islam
Sat Apr 17 2021, 01:33 AM

Urdu Section ( 19 March 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

War and peace in Quranic Terminology: امن اور فساد فی الارض قرآن کی اصطلاح میں

Transcription by New Age Islam Edit Desk

ڈاکٹر اسرار احمد

از روئے قرآن فساد کیا ہے؟ فساد فی الارض کیا ہے؟ فساد فی الارض یہ ہے کہ یہ زمین اللہ کی ہے۔ اللہ ہی اس کا حاکم حقیقی ہے۔ اللہ ہی کی مرضی کے مطابق یہاں انسان کو زندگی گزارنی چاہیے۔  یہ ہے اصل میں حق۔  یہ ہے امن ۔ اس کے خلاف جو روش بھی ہے وہ فساد ہے ۔  وہ بغاوت ہے۔

ایک شخص جو خود  بادشاہ بن کر بیٹھ گیا ہے  اپنی مرضی کا مالک ۔ ایک شخص جو  اپنی مرضی کا مالک  ہے وہ بھی گویا کہ خدائی کا دعوی کر رہا ہے ۔ وہ جو کہا مولانا روم نے  کہ  : ‘‘نفسِ ما ہم کمتر از فرعون نیست آں کہ اُو را عون ما را عون نیست’’ یعنی میرا  نفس بھی کسی فرعون سے کم نہیں ہے ۔ وہ خدائی کا مدعی ہے کہ یہ وجود میرا ہے  اور  اس پر میری مرضی چلے گی۔مجھے یہ شی پسند ہے ۔میں نہیں جانتا کہ صحیح ہے یا غلط  ہے ، جائز ہےیا   ناجائز ہے ، مجھے اس سے کوئی تعلق نہیں۔مجھے یہ شی ملنی چاہیے۔ میری یہ طلب ہے ۔یہ مطلوب ہے  میری ۔

 تو  ‘‘نفسِ ما ہم کمتر از فرعون نیست اس لیے کہ ‘‘اُو را عون ما را عون نیست’’ یعنی فرعون کے پاس عون تھی ، مدد تھی ، لشکر تھا ۔اس نے زبان سے بھی دعوی کر دیا   کہ  ‘‘انا ربکم الاعلی ’’ (یعنی میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں)۔

میں فقیر ہوں ، غریب ہوں ، درویش ہوں ، میرے پاس کچھ نہیں ہے ۔ زبان سے تو کچھ نہیں کہتا لیکن میرا نفس اندر یہی دعوی کر رہا ہے کہ  ‘‘نفسِ ما ہم کمتر از فرعون نیست’’۔ تو در حقیقت یہی فساد ہے ۔ انفرادی سطح پر فساد یہ ہے کہ  اللہ کی بندگی کی بجائے اپنے نفس کی بندگی کی۔معاشرے کی بندگی کی ۔  زمانے کے چلن کی پیروی کی۔ چلو تم ہوا ہو جدھر کی ۔ چاہے آپ بظاہر کتنے ہی امن میں ہیں ۔ حقیقت میں فساد ہے آپ کی زندگی میں ۔

اسی طرح ایک معاشرہ ہے ۔ بغاوت پر مبنی ہے وہ معاشرہ ۔اس کو یوں سمجھیے کہ جیسے ڈاکووں کا کوئی اڈہ ہو ۔ڈاکو ایک دوسرے کو کچھ نہیں کہتے ۔خود وہ ڈاکے  تو  ڈالتے ہیں باہر جاکر ۔۔اپنے اس اڈے میں وہ پر امن ہے ۔لیکن اس کو فساد ہی کہا جائے گا ۔ فساد کا گڑھ ہے ۔فساد کی بنیاد اور جڑ ہے ۔ نہ یہ کہ امن ہے ۔

 اگر سانپ بہت سے ہوں کسی جگہ پر ، اور بچھو ہوں ۔اور وہ ایک دوسرے کو  ڈس نہ رہے ہوں۔تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہاں امن ہے ۔حقیقت میں تو ان کی فطرت  کے اندر  فساد موجود ہے ۔

تو در حقیقت قرآن مجید کی اصطلاح میں اصل امن کیا ہے ؟  اللہ کی مرضی کے مطابق اس دنیا کا نظام  انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر چلایا جائے ۔ اس کے خلاف جو روش ہے چاہے وہ کتنا ہی پر امن معاشرہ  نظر آتا ہو ۔ امریکا کا معاشرہ نظر آتا ہو کہ صاحب  بڑا امن ہے وہاں ۔ وہاں بڑے لوگ مہذب ہیں۔اور لوگ بہت ہی خوش اخلاق ہیں۔ ایک دوسرے کا بڑا پاس و لحاظ کرنے والے ہیں۔لیکن جنہیں یہ معلوم ہے کہ کس طریقہ سے پوری دنیا کی ایکسپلوئٹیشن ، لوگوں کی محنت اور  مزدوری سے کمائی ہوئی دولت  کس طرح سے کھینچ رہا ہے امریکا ۔ خون چوس رہا ہے ۔یہ پورا استعمار ۔ ۔۔۔انہیں معلوم ہے کہ اصل میں  یہ تو ڈاکو ہیں۔ یہ ایمپریلزم ۔۔۔۔۔یہ تو ڈاکہ ہے ۔ پوری نوع انسانی کے اوپر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے ۔ چاہے اپنے یہاں یہ ڈاکووں کا اڈہ ہے جس میں کہ انہوں نے امن فراہم کر رکھا ہے ۔

تو فساد اورامن کی اس حقیقت کو سمجھیے ۔  اب اگر کہیں فساد ہے   یعنی اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں ، اللہ کے خلاف بغاوت ہے ۔چاہے  وہاں بڑا امن ہے۔ مکہ میں بڑا امن تھا ۔جو بھی ظلم ہو رہے تھے وہ غلاموں کے اوپر ہو رہے تھے وہ بھی سہہ رہے تھے  بیچارے ، کوئی چیخ پکار نہیں تھی ۔بڑا امن تھا ۔ لیکن نظام غلط ہے ۔یہ فاسدانہ نظام ہے ۔ مفسدانہ نظام ہے ۔اس کو بدلنے کے لیے ‘‘محمد رسول اللہ   واللذین معہ (۴۸:۲۹)’’ اب کوشاں ہے ۔

ایک پیدا ہوا ہے تصادم ماحول کے اندر ۔ اسی کا اگلا مرحلہ وہ ہے جو مدنی دور میں آیا ہے۔ جس میں اب  جنگ وجدال بھی ہے ۔‘‘قاتلو ا فی سبیل اللہ اللذین یقاتلونکم’’ ۔(سورہ بقرہ : ۱۹۰)

تو در حقیقت اس فساد کو ختم کو کرنے کے لیے چاہے بظاہر یہاں جنگ کی جا رہی ہے۔  خونریزی کی جا رہی ہے۔  لیکن یہ امن ہے ۔اور وہ لوگ جو کہتے ہیں نہیں  لڑو بھڑو نہیں ۔  امن سے رہو ۔چلو  مان لو۔ باطل کو بھی مان لو ۔ کچھ تم ان کی مانو اور کچھ اپنی منوا لو ، بجائے اس کے کہ یہ جو جد و جہد کر رہے ہو اس میں اپنا بھی نقصان کر رہے ہو ۔اپنا بھی  تن من دھن ۔  اپنی بھی  قربانیاں ۔ اپنے لیے بھی مسائل ۔  اپنے لیے بھی مشکلات ۔  اور دوسروں کا بھی بہر حال خون گر رہا ہے ۔  خون ریزی ہو رہی ہے ۔  اس کے بجائے ، اس سب کو چھوڑو ، اور امن کی کیفیت اختیار کرو ۔  یہ فساد ہے اصل میں ۔

 اس جد و جہد کو سبو ٹاز  کرنا جو اس بغاوت فی الارض جو ہے اللہ تعالی کے خلاف ۔ اس کو رفع کرنے کے لیے اللہ کے وفادار بندے  ایک جماعت ، ایک جمعیت کی شکل میں کھڑے ہو جائیں ۔  باطل  کے ساتھ نبرد آزما ہونے کے لیے ،۔  تو جو کوئی اب اس راستے میں رکاوٹ بنے گا ۔ چاہے وہ مصالحت کے نام پر ہو ۔ چاہے وہ صلح کل ہونے کے اعتبار سے ہو ۔   چاہے وہ کہا  جا  رہا ہو کہ  لڑنا بھڑنا کیا ہے رواداری ہونی چاہیے ۔بڑے خوشنما عنوانات ہوں ۔لیکن حقیقت  میں یہ فساد ہے ۔

 یہاں وہ کردار سامنے لے آئیے ۔منافقین کا کردار ۔ اصل میں تو جان و مال عزیز  تھے ۔میدان میں آنے کے لیے تیار نہیں تھے ۔ رشتے بڑے عزیز تھے۔ ۔ رشتوں پر آنچ جو ہے وہ گوارانہیں تھی ۔ اور یہ جو حق کی تلوار آئی تھی  وہ رشتہ کاٹ رہی تھی ۔ باپ سے بیٹا جدا ہو رہا ہے ۔ بھائی بھائی سے جدا ہو رہا ہے ۔ اس اعتبار سے جب وہ اس کے خلاف کوشش کرتے تھے ۔ اور مومنین صادقین ان سے کہتے تھے، ‘‘واذا قیل لھم لا تفسدو فی الارض ’’ (سورہ البقرہ ، آیت ۱۱، ۱۲)  ۔ غور کیجیے یہ فساد کونسا ہے ۔مت فساد مچاو زمین میں ۔ وہ فساد یہ ہے کہ اصلاح فی الارض کی جو کوشش ہو رہی ہے  اس کو سیبوٹائز نہ کرو ۔ ساتھ دو ۔ جس طرح  سے کہ  مومنین صادقین ساتھ دے رہے ہیں محمد کا  (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔

جب تم بھی کہتے ہو کہ ہم توحید کو مانتے ہیں ۔ آخرت کو بھی مانتے ہیں۔  تورات کی تصدیق کرتے ہوئے یہ قرآن آیا ہے اس کو بھی مانو ۔ اور دست و بازو بنو ۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار  ‘‘من انصاری الی اللہ ’’۔ تو سب کے سب اب مددگار بنو ۔ تاکہ یہ اللہ کے خلاف  جو بغاوت ہے زمین میں  یہ دور ہو۔  اور اللہ کا نظام قائم ہو ۔  اللہ کی حکومت  قائم ہو ۔حق بحق دار  رسیل ۔  اصل امن تب ہو۔ لیکن یہ منافقین  اور یہود دونوں کی روش۔اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنا ۔  ‘‘محمد رسول اللہ واللذین معہ  (۴۸:۲۹)’’۔  کہ  جد و جہد کو سیبوٹائز کرنے کی کوشش ہے ۔جس کو قرآن یہاں کہہ رہا ہے کہ یہ فساد فی الارض ہے ۔ اور وہ جو کہہ رہے ہیں کہ ہم تو مصلح ہیں  ۔  ہم تو چاہتے ہیں کہ یہ لڑائی بھڑائی نہیں ہونی چاہیے ۔ یہ خواہ مخواہ کی خونریزی نہیں ہونی چاہیے  ۔یہ اس طریقہ سے  کٹ جانا بھی کیا ضروری ہے  ۔ٹھیک ہے رواداری ہونی چاہیے ۔ ان کی بات بھی ٹھیک ہے ۔وہ اپنی جگہ پر خوش ہیں اور ہم اپنی جگہ پر خوش ۔ بات جو ہے ذرا میٹھے انداز میں صرف  کی جانی چاہیے ۔بجائے اس کے یہ تلخ انداز اختیار  کیے جائیں ۔  بجائے اس کے کہ  کٹنے اور جڑنے کا عمل کیا جائے ۔ اس کی بجائے مصالحت کی روش اختیار کی جائے ۔

جیساکہ میں عرض کر چکا ہوں کہ ولید بن مغیرہ کا کردار  مکی دور میں یہی تھا ۔ اور یہاں مدینے میں آکر یہود  کا اور پھر منافقین کا  ان کے زیر اثر کردار یہی تھا۔ چنانچہ کہا گیا:   ‘‘واذا قیل لھم لا تفسدو فی الارض’’ (سورہ البقرہ ، آیت ۱۱، ۱۲)  یعنی جب ان سے کہا جاتا  زمین میں فساد مت مچاو ۔  اور فساد سے مراد مخالفت اللہ کے رسول اور ان کے ساتھیوں کی ۔   ان کی مخالفت کرنے کی بجائے ان کے دست و بازو بنو ۔ ان کا ساتھ دو ۔   ‘‘قالو ا’’ وہ یہ کہتے:   ‘‘انما نحن مصلحون ’’ ۔ دیکھو بھئی ہم تو چاہتے ہیں کہ بھائی چارے کی فضا بر قرار رہے ۔ یہ تصادم نہ ہو ۔ یہ کشاکش نہ ہو ۔یہ خونریزی نہ ہو ۔ یہ خواہ مخواہ کا جو ہے ۔ ایک دوسرے سے کٹ جانا اچھا نہیں ہے ۔ ‘‘الا انھم ھم المفسدون ’’ (سورہ البقرہ ، آیت ۱۱، ۱۲)  ۔ اب جو میں نے وضاحت کی ہے  فساد کی وہ ڈیفینیشن اور امن کی وہ ڈیفینیشن اگر سامنے ہو  تو اب یہ  ایک ایک حرف اس کا ابھر کر آئے گا  ۔  اجاگر ہوگا ۔ ‘‘الا انھم ھم المفسدون ولکن لا یشعرون ’’ (سورہ البقرہ ، آیت ۱۱، ۱۲)  ۔انہیں پتہ نہیں ہے  ۔حقیقت ان کے سامنے واضح نہیں ہے  ۔ یہ دیکھ رہے ہیں ۔ شورٹ سائٹیڈ ہیں ۔ یہ صرف اس وقت دیکھ رہے ہیں کہ کوئی تکلیف نہ آجائے ۔ کوئی مصیبت نہ آجائے ۔ کوئی جھگڑا نہ ہو ۔کوئی ایک دوسرے کے خالف صف آرا ہونے کی پوزیشن نہ ہو  جائے ۔ ایک دوسرے سے کٹ نہ جائے۔ بلکہ یہ کہ صلح  کل اور رواداری کے انداز میں معاشرے کے اندر ہم مل جل کر رہیں  ۔حقیقت میں یہ فساد ہے ۔ اس لیے کہ یہ جو فساد کو رفع کرنے کی جد و جہد ہو رہی ہے اس کا ساتھ دینا ہے ۔یہ ضروری ہے ۔ لیکن انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

English Article:   The Orwellian World of Islamic Scholars: ‘According To Quran, Peace In Non-Islamic Societies Is War And War To Destroy These Societies Is Peace’

URL:  https://www.newageislam.com/urdu-section/dr-israr-ahmad/war-and-peace-in-quranic-terminology--امن-اور-فساد-فی-الارض-قرآن-کی-اصطلاح-میں/d/124587


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

Loading..

Loading..