New Age Islam
Thu Mar 05 2026, 07:31 AM

Urdu Section ( 22 Jul 2024, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Why Is There A Lack Of Debate On Reforming Society Among Muslims? مسلمانوں کے درمیان اصلاح معاشرہ کی بحث کا فقدان کیوں ؟

اطہر فاروقی

20 جولائی،2024

یہ شاید مئی 2024 ء کا تیسرا ہفتہ تھا۔ایک بنگلہ نژاد امریکی اسکالر گایتری چکرورتی اسپواک جن پر بات کرناخصوصاً انگریزی داں لوگوں اور ان میں بھی بالخصوص ان شرفا ء کی محفلوں میں جو یونیورسیٹیوں میں درس وتدریس سے وابستہ ہیں ایک فیشن ہے، جواہر لال نہرو یونیورسیٹی میں لیکچردے رہی تھیں۔ ایک لڑکے نے سوال پوچھا۔ اس نے ایک مغربی فلاسفر جو غالباً فرانسیسی تھا، کا نام لیااور پروفیسر اسپواک اس ضد پر اڑ گئیں کہ پہلے وہ طالب علم فلاسفر کے نام کا صحیح تلفظ ادا کرے۔ لڑکے نے اس مسئلے کواپنی دلت شناخت سے جوڑ کر سیاسی رنگ دے دیا۔ بات او ربڑھ گئی اور اتنی بڑھ گئی کہ تقریباً دو ہفتے تک سوشل میڈیا پر اس ناکا صحیح تلفظ کیا ہے یا کیا ہونا چاہئے جیسے سوالوں پر بحث ہوتی رہی جس سے اندازہ ہوتاہے کہ ہندوستان کے مڈل کلاس کے پاس غیر مفید بحثوں کے لئے کتنا وقت ہے اور اس مڈل کلاس کی تقلید کو عام آدمی کس قدر مستحسن سمجھتا ہے جو اقتصادی طو رپر تو مڈل کلاس کا حصہ نہیں ہے مگر ذہنی طور پر اسی طرح سوچتا ہے اور ویسا ہی بننا چاہتاہے۔ ہندوستان میں اچھی انگریزی خوب پڑھے لکھے لوگوں میں مشکل سے دو فی صد لوگ جانتے ہیں۔ اسپواک ثقافتی نقاد یعنی Cultural Critio ہیں جن کی بنیادی علمی تربیت انگریزی ادب کی ہے۔ ہندوستان جیسے بڑی آبادی کے وسیع ملک میں ان کی تحریروں کے قارئین کی تعداد کسی بھی طرح دس ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی۔اوّل تو اپنے اسلوب میں وہ نہایت مشکل پسند ہیں دوسرے مغربی مفکر ین اور فلسفیوں کے بغیر لقمہ نہیں توڑ تیں۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا پر ایسا لگتاتھا کہ طوفان آگیا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ تمام فضول بحث وقت کی فراوانی ہی نہیں ترجیحات کی تبدیلی کی وجہ سے ہوئی۔ ہم اگر واقعی آنکھیں کھول کر دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ دنیا مختصر سے مختصر ان معنی میں ہوتی جارہی ہے کہ سب کچھ سمٹ کر آخرش اب جتنے کم لوگوں کے ہاتھوں میں آگیا ہے، ویسا پہلے کبھی نہیں تھا۔ او ران سرمایہ داروں کے ایجنٹ اپنے کاروباری مقاصد سے جن سوالوں کے گرد ہماری زندگی کا طواف کراناچاہتے ہیں،ہم افیمچی کی طرح وہی سب کرنے لگتے ہیں۔ زندگی کے حقیقی مسائل اب ہمارے مباحث کی فہرست میں سنجیدگی اور تناظر کے ساتھ شامل ہی نہیں ہیں۔

مکیش امبانی کے بیٹے کی شادی ہر گھر میں موضوع گفتگو اس لیے ہے کہ طاقت جن لوگوں کے ہاتھ میں ہے وہ یہی چاہتے تھے کہ امبانی کی شادی کو لے کر سارا ہندوستان دیوانہ بنارہے اور انہوں نے مختلف ذرائع ابلاغ کی وساطت سے عام آدمی کاذہن ایسا بنادیا ہے کہ ہر آدمی اس شادی پر بات کررہا ہے۔ ان مباحث نے مکیش امبانی کے ہر مال کی قیمت یعنی Brand Value اور شیئر ز کی حیثیت کتنی بڑھا دی، ہمیں اس کا کچھ اندازہ ہی نہیں ہے۔ شادی پر ہونے والے خرچ سے متعلق وہ لوگ بھی اخلاقی سوال پوچھ رہے ہیں جن کی آمدنی اور خرچ کا تجزیہ خود انہیں اخلاقیات کی پست ترین سطح پر لے گیا ہے۔ عام مسلم گھرانوں میں بھی مڈل کلاس طرز زندگی نے تصنع حاصل کرنے کے شوق نے جس طرح تسلط حاصل کیا ہے، وہ ہمیں نظر ہی نہیں آرہاہے۔ ہم تمدن اور تصنع کے فرق سے ایسا۔۔۔۔۔ ہے کہ اب بالکل نابلد ہوچکے ہیں۔ قارئین مجھے اس مثال کے لئے معاف کریں کہ اب ہماری ذہنی پستی اور مڈل کلاس ذہنیت کا حال یہ ہے کہ ہم زیر جامہ لباس تک کے لئے مشتہر برانڈ ہی خریدتے ہیں۔قربانی کا مہنگا بکرا آپ کی امارت کی علامت یعنی اسٹیٹس سمبل (Status Symbol)کی وجہ سے خریدا جارہا ہے، اس کے پیچھے اللہ کی رضا کامعاملہ بالکل نہیں ہے۔قربانی کا مہنگا بکرا خریدنے کی جو مسابقت مسلمانوں میں ہوتی ہے، اس کے پیش نظر ان سے یہ سوال اس لیے ضرور پوچھا جاناچاہئے کہ آخر ان کے درمیان اصلاح معاشرہ کی کسی بھی بحث کا مکمل فقدان کیوں ہے؟

برطانیہ میں انتخابات

گزشتہ دنوں برطانیہ میں ہونے والے عام انتخابات میں 25 مسلم ممبران پارلیمنٹ منتخب ہوئے اور ہندوستان میں 24۔ برطانیہ میں مسلم آبادی تقریباً 34لاکھ ہے او رہندوستان میں کم سے کم 24کروڑ۔(اس آبادی میں دوچار یعنی 6فیصد کم یا زیادہ ہونے سے بھی اس تجزیہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا)۔

دونوں انتخابات کے نتائج میں مسلمانو ں کی سیاسی فکر کی بے سمتی صاف دیکھی جاسکتی ہے۔ ہندوستان کے تناظر میں اتنے زیادہ مسلم ممبران پارلیمنٹ کے انتخاب کو پرجوش سیاسی مبصرین عام مسلمانوں کے اس سیاسی تدبر اور لائحہ عمل کی فتح قرار دے رہے ہیں جس میں خود ان سیاسی مبصرین کے مطابق مسلم لیڈر شپ کا کوئی رول ہی نہیں تھا یعنی اب مسلم لیڈر شپ اتنی ناکارہ ہوچکی ہے کہ ان انتخابات میں وہ قلعی غیر موثر رہی اور ووٹنگ کا جو بھی پیٹرن تھا، اس کا انتخاب مسلمانوں سے مقامی حالات کے تحت خود ہی بغیر کسی سیاسی رہنمائی کے کیا تھا۔یہ دونوں باتیں صحیح ہوسکتی ہیں مگر ان کے اثرات کیا ہونگے یہ ہم ابھی سوچنے کو تیار نہیں ہیں۔اس نظریے کا پہلا مطلب تو یہی ہے کہ جو مسلمان ہندوستان کی پارلیمنٹ کے ممبر کی حیثیت سے جیت کر آئے، وہ اصولی طور پر مسلم لیڈر شپ کاحصہ اس لیے نہیں ہیں کیونکہ وہ بغیر کسی ایسے منظم سیاسی لائحہ عمل کے جیتے ہیں جس کے نقشے میں مسلمانوں کا مسقبل شامل ہی نہیں تھا! ایں چہ بوالعجبی است۔

کہتے ہیں کہ برطانیہ میں مسلمانوں نے چونکہ مقامی مسائل کے لئے نہیں بلکہ فلسطین کے لیے ووٹ دیاتھا، اس لئے وہ متحد ہوکر اتنی بڑی تعداد میں اپنے نمائندوں کو فتح سے ہم کنار کرسکے۔مغربی میڈیا کے اس تجزیے پر مسلمان بھی پھولے نہیں سمارہے ہیں۔ مگر یہ اتنہائی احمقانہ تجزیہ ہے او راگر واقعی ایسا ہوا ہے تو یہ برطانیہ کی مسلم قیادت کے بے اثر ہونے کامظہر ہے۔مغربی ممالک میں اگر آپ مقامی مسائل سے اس طرح کٹ کر ہوا میں معلق ہوگئے ہیں جو برطانیہ کے معاملے میں کہا جارہاہے تو آپ اس خطے کی سیاست او رسماج کو اس لیے بالکل نہیں جانتے کیونکہ فلاحی ریاست کی معمولی سہولیات نے آپ کے سیاسی ذہن کو ماؤف کردیا ہے، او رآپ کی تمام ذہانت معاشیات کی اس نہج تک محدود ہے جس میں آپ ہر وقت مقامی اس کے پاؤنڈاسٹرلنگ کے بھاری پن کا موازنہ اپنے ملک کے سکے کے ہلکے پن یعنی اس کی رائج الوقت حیثیت سے لگاکر برطانیہ میں یہ سوچ کر بیٹھ کر خوش ہوتے رہے ہیں کہ ملک میں رہ جانے والے اپنے اعزاکے مقابلے آپ کتنے زیادہ ثروت مند ہوگئے ہیں!

ہندوستان میں پارلیمنٹ کے مسلم ممبران قومی سیاست میں اس لیے بے اثر رہیں گے کہ مسلمانوں نے انہیں وسیع ترقومی ایجنڈے کے تحت ووٹ نہیں دیاہے، اس لیے انہیں یہ سوچنا ہی نہیں کہ انہیں ملک گیر سطح پر مسلم لیڈر کی حیثیت سے کیا کرناہے۔ ان کی ذمے داری اپنے حلقہ انتخاب کی سیاست تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ آپ کو ان کے کوئی موقع اس کے سوا تھی بھی نہیں کہ بس وہ فتحیاب ہوجائیں! یعنی آپ کا اپنا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں تھا۔ اس صورت حال کا کیا کیاجائے جس کے پیچھے سیاسی فکر و تدبر کا شائبہ بھی نہیں!

جوش صاحب کی یاد میں

جو ش ملیح آبادی صاحب کے انتقال کو بیالیس برس ہوگئے او راب جاکر ان کی کلیات کی اشاعت ہندوستان کے کسی اردو ادارے سے نہیں ہوئی بلکہ امریکہ میں ان کے ایک چاہنے والے عدیل زیدی کے خرچ پر ہوئی۔ کتاب نہایت عمدہ چھپی ہے، امید کہ اب جوش کونہ پڑھنے کا کوئی بہانہ ہمارے پاس نہیں رہ گیاہے۔

جوش اور فراق دونوں کا خیال آتے ہی میرے ذہن میں تو بس ایک ہی سوال آتاہے کہ ایسا آخر کیا تھاکہ یہ بزرگ بڑے سے بڑے جابر حکمراں سے جس طرح آنکھ ملاکر بات کرسکتے تھے،آج اس کا تصور فلموں میں بھی ممکن نہیں، او رہمارا بین الاقوامی سطح کا شاعر اورادیب بھی اقتدار سے قربت کے لئے چنگی کے ممبر تک کے سامنے گھگیاتا ہے۔ وہ پن چکی جانے کب بند ہوئی جس کا پسا آٹا یہ بزرگ کھاتے تھے اور اس کے برابر سے نکلنے والی دونہر بھی کب سوکھی جس کی جوئے آب سے بننے والا خون کچھ اور ہی ہوتا تھا۔

چلتے چلتے گھوڑے کی دم

مجھے بھلا ان پڑھے لکھے لوگوں سے کیا شکایت ہو اور بھلا کیوں ہوجو قواعد جانتے ہوئے بھی ’امالہ‘ کا استعمال نہیں کرتے او رگھوڑے کی دم جیسے فقرے فخر و مباہات کے ساتھ سرمحفل بولتے ہیں! رہے نام اللہ کا۔

20جولائی،2024، بشکریہ: انقلاب،نئی دہلی

---------------------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/debate-reforming-society-among-muslims/d/132758

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..