New Age Islam
Fri May 01 2026, 05:20 AM

Urdu Section ( 19 Dec 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Buddhism in the eyes of Ambedkar امبیڈکر کی نظر میں بد ھ مت

ابھے کمار

16 دسمبر ،2022

با با صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی وفات 6 دسمبر،1956 کے روز ہوئی تھی۔ یہ دن ہر سال مہا پری نروان دوس کے طور پر منایا جاتاہے ۔اپنی وفات سے دو مہینے پہلے انہوں نے بدھ مت قبول کیا تھا۔ حالانکہ تبدیلی مذہب کاخیال ان کے دل میں کئی دہائیوں سے موجیں مارر ہا تھا ۔ 1930 کی دہائی میں ہی انہوں نے سرعام اعلان کیا کہ وہ ایک نئے مذہب کی تلاش میں ہیں۔ ان کی یہ تلاش 14 نومبر،1956 کو پوری ہوئی، جب انہوں نے ناگپور میں لاکھوں دلتو ں اور دیگر لوگوں کے ساتھ بدھ مت کواپنایا۔ حالانکہ اس وقت ہندوستان میں ایک سیکولر آئین نافذ ہوچکا تھا اور ایک جمہوری نظام کا قیام عمل میں آچکا تھا ، پھر بھی امبیڈکر کو یہ شدت سے محسوس ہوا کہ ذات پات کی غیر برادری کے معاشرتی نظام سے نجات پانے کے لئے بدھ کی پناہ میں جانا ضروری ہے۔ ایک دلت ہونے کی وجہ سے امبیڈکر کو اس بات کاتلخ تجربہ تھا کہ ذات پات پر مبنی سماج میں زندگی گزار کر سکون اورترقی نہیں مل سکتی ۔و ہ دیکھ رہے تھے کہ دلتوں کے ساتھ چھوت چھات کاسلوک جاری تھا، ان کو غربت اوراَن پڑھ بنا کر رکھنے میں اعلیٰ ذاتوں کے مفاد پورے ہورہے تھے۔ ان کو اس بات کابھی غم تھا کہ جانور اگر تالاب میں جاکر پانی پی لے تو تالاب کو اعلیٰ ذات کے لوگ نظر انداز کردیتے ہیں، مگر جب ایک دلت اپنی پیاس بجھانے کے لیے تالاب کی طرف بڑھتاتھاتو اس پر وہ حملہ آور کی طرح ٹوٹ پڑتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امبیڈکر نے بدھ مت کوقبول کیا کیونکہ یہ مساوات اور اخوت کی بات کرتاہے۔اس مذہب میں تو ہم پرستی، رسوم و رواج ، روح اور ایشور کی جگہ نہیں ہے۔ سارازور عوام کی بھلائی پر ہے۔ بدھ مت میں نہ کوئی پیشوا ہے اورنہ کوئی بڑا اور چھوٹا ۔ جوبھی بات عقل اور دلیل کی کسوٹی پر کھری نہیں اترتی، وہ سب ناقابل قبول نہیں ہے۔

تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بدھ مت ایک زمانہ میں بھارت سے لے کر دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلا ہوا تھا۔مگر بدھ مت کو ختم کرنے کے لیے اسی کے ملک میں شاید سب سے زیادہ سازشیں کی گئیں۔ آزاد بھارت میں فرقہ پرستوں نے جب یہ دیکھا کہ بدھ اور امبیڈکر کی تعلیمات کو لوگ ، بالخصوص کمزور طبقات ،اپنا رہے ہیں، تو انہوں نے اپنے سرُ بدل دیے۔ بدھ اور امبیڈکر کو اپنانے کے پیچھے ان کا اصل مقصد ان کی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کرناتھا۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ بدھ اورامبیڈکر زندہ رہیں، مگر ان کی باتوں کی دھار کو کمزور کردیاجائے۔ پھر پروپیگنڈہ ہونے لگا کہ بدھ توہندو دھرم میں ایک اوتار ہیں اور امبیڈکر ہندو دھرم کے ایک بڑے سماجی مصلح ہیں۔رفتہ رفتہ امبیڈکر کو فرقہ پرستوں نے مسلم مخالف بنا کر پیش کیا۔ جب امبیڈکر نے ذات پات کی غیر برابری اور چھوت چھات کے خلاف لڑائی لڑی ، جس کے نزدیک اصل جمہوریت کی تشکیل اقلیتی حقوق کو مہیا کیے بغیر ادھوری ہے،جس نے سرعام کہا کہ سماجی اور اقتصادی جمہوریت کے بغیر سیاسی جمہوریت کا کوئی مطلب نہیں ہے، اسے فرقہ پرست کس منہ سے مسلم مخالف کہہ سکتے ہیں ! اسی طرح جس بدھ نے پوری زندگی تو ہم پرستی کے خلاف لڑائی لڑی اسے ہی جاہلیت اور تو ہم پرستی کے اندھیرے میں دھکیلا جارہا ہے۔

تاریخ کے ممتاز مورخ شرن شرما کے مطابق ،بدھ کا اصل نام سدھارتھ تھا۔ ان کا یوم پیدائش 563 قبل مسیح ہے۔وہ شاکیہ کشتریہ خاندان میں پیدا ہوئے ،جو نیپال کے کپل دستو میں زندگی بسر کرتا تھا۔ حالانکہ بدھ ایک شریف خاندان سے تعلق رکھتے تھے، مگر ان کی سوچ کمزورطبقات کے حق میں تھی۔ 29 سال کی عمر میں انہوں نے اپنے گھر کو چھوڑدیا اور علم کی تلاش میں نکل پڑے۔ 35سال کی عمر میں بودھ نے بودھ گیا میں گیان حاصل کیا۔ اس طرح گیان پاکر سدھارتھ ،بدھ کہلائے ،جس کامطلب ہوتاہے، وہ جس کو علم اوربیداری حاصل ہوگئی ہے۔ امبیڈکر نے بدھ کی صحیح تعلیمات کو ہمارے سامنے پیش کیا ہے، جو فرقہ پرستوں کی تشریحات کو پوری طرح سے رد کرتی ہے۔ امبیڈکر کے مطابق،بدھ نے کسی کو نجات دینے کا وعدہ نہیں کیا، بلکہ انہوں نے نجات کی راہ دکھائی۔ انسان کو خود اپنی کوششوں سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔ بدھ نے خود کو ایشور نہیں کہا او رنہ ہی انہوں نے اپنے پاس کسی قدوسی طاقت رکھنے کی بات کہی ہے۔بدھ نے وحی کابھی انکار کیا ہے۔ انہوں نے خود کو مسیحایا پیغمبر بھی نہیں کہا ۔وہ صرف ایک انسان تھے، جو سُدھودھنااورمہامایا کی اولاد تھے۔ بدھ اس بات پر زوردیتے تھے کہ انسان اپنی زندگی میں اچھے اخلاق اپنائے ۔اس لیے انسان کو کسی کی جان نہیں لینی چاہئے ۔ اسے چوری سے دور رہنا چاہئے ۔ گناہ کرنے سے بھی بچناچاہئے ۔ باتوں میں صداقت ہو۔وہ جھوٹ اورفریب سے خودکودوررکھے ۔ انسان کونجات پانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ خود کو شدید جذبات سے آزاد کرے۔ وہ لالچ میں نہ پڑے ۔ وہ غصہ میں نہ آئے ۔ وہ فریب کاشکارنہ بنے ۔ بدھ نے کہادُکھ کی بڑی وجہ شدید جذبات ہے۔ نجات پانے کے لئے ان کو قابو میں رکھناضروری ہے۔ بدھ کی اہم بات یہ ہے کہ چیزوں کو جمود میں نہیں دیکھناچاہئے،بلکہ ہرچیز بدلتی رہتی ہے جوماضی میں موجودتھاوہ لوٹ کر نہیں آئے گا۔ جوآج ہے، وہ ہمیشہ کیلئے نہیں رہے گا۔جوہے وہ بھی گزر جائے گا۔ جو آنے والاہے بھی آ کے رہے گا۔

اس طرح انسان کی زندگی میں ہر وقت بدلاؤ ہورہا ہے۔ انسان تبدیلوں کے دورسے گزرتا رہتا ہے ۔ بدھ مت تو ہم پرستی میں یقین نہیں رکھتا ہے۔ وہ ایشور کے وجودکابھی انکار نہیں کرتا۔ بدھ مت روح میں یقین نہیں رکھتا ۔ وہ برہمی رسوم جیسے بلی کو بھی غیر واجب ٹھہراتا ہے۔ بلی کے نام پر جانوروں کو مارے جانے کی مخالفت بدھ نے کی ہے۔ بدھ کے مطابق ،جانوروں کی بلی دیناظلم ہے۔ ان کا کہناہے کہ بلی دیناکبھی بھی مذہب کا حصہ نہیں ہوسکتا ہے۔ بدھ مت میں کسی کی جان لینا اور شراب نوشی بھی غیر واجب ہے ۔ بدھ مت میں قیاس پر مبنی فکر کی بھی تردید ہے۔ بدھ مت کا کہناہے کہ یہ دنیا کسی نے نہیں بنائی ہے بلکہ یہ مسلسل تبدیلیوں اورترقیوں سے وجودمیں آئی ہے۔ بدھ مت نے ذہنی برائیوں سے بھی آزاد ہونے کی بات کہی ہے۔صداقت اور حق پر مبنی سماجی نظام کے قیام پرزور دیا ہے۔ بدھ مت علم پر پہرے داری میں یقین نہیں رکھتا،بلکہ وہ علم کی روشنی کو ہر طرف پھیلانے پر زور دیتا ہے۔ علم حاصل کرنے کامقصد اچھے اخلاق کو فروغ دینا ہوتا ہے ۔ اگر علم کسی اچھے مقصد کے ساتھ حاصل نہ کیاجائے تو اس سے بڑانقصان ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ بدھ نے رحم کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ محتاجوں کی مدد کرنے کو کہا ہے ۔ رحم کے ساتھ جذبہ اخوت سے بھی کام لینے پر زور دیا ہے۔بدھ مت نے سماجی دوریاں ختم کرنے کی بات کہی ہے۔ ذات پات کی وجہ سے سماج میں عدم مساوات پائی جاتی ہے۔اس لیے بدھ ذات پاس کی غیر برابری کا بڑاناقد ہے۔ اس کے نزدیک انسان کی قابلیت جنم سے طے نہیں کی جاسکتی۔ بدھ مت کاسارا زور مساوات پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امبیڈکر نے بدھ مت کواپنایا ۔ باباصاحب کی بڑی خدمات یہ ہے کہ انہوں نے بدھ مت کی تعلیمات کو صحیح طور سے پیش کیااور غلط تشریحات کاعلمی جواب دیا۔ باباصاحب کے یوم وفات پر ان کو خراج عقیدت دینے کا یہ بہتر طریقہ ہوگا کہ ہم ان کی ان باتوں پر غور کریں اور ایک بہتر سماج بنانے کے لیے کوشش کریں۔

16 دسمبر، 2022 ، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/buddhism-eyes-ambedkar/d/128662

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..