New Age Islam
Wed Oct 27 2021, 07:08 AM

Urdu Section ( 28 Oct 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Blasphemy, Islam and Free Speech توہین رسالت، اسلام اور آزادی اظہار رائے

اے فیض الرحمن ، نیو ایج اسلام

اس میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا ہے کہ رواں ماہ کے شروع میں حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون  کی نمائش کرنے کی وجہ سے  فرانس میں مڈل اسکول کے استاد  سیموئل پیٹی کا قتل  سراپا ظلم و بربریت پر مبنی  تھا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ خوفناک بات یہ  حقیقت  ہے کہ یہ ایک ایسے نبی کے نام پر مرتکب ہوا  جسے قرآن مجید میں (21: 107) رحمۃ للعالمین  کے لقب سے سرفراز کیا گیا ۔

مسلم رد عمل

نیو یارک ٹائمز کے اپنے مضمون  ‘‘مسلمان اور اسلامو فوبیا: قرآن میں بہت ساری آیات ہیں جو اسلام کی ایک سخت  توہین کے خلاف بھی شائستہ رد عمل  کا حکم دیتے ہیں’’ کے اندر ، اسلامی اسکالر مصطفیٰ اکیول نے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ توہین رسالت کے قوانین قرون وسطی کے مسلم فقہا نے  مذہب اسلام  کی توہین کرنے والے ہر شخص کو سزا دینے کے لئے ایجاد کیے تھے لیکن مسلمانوں کو قرون وسطی کے فقہ پر آنکھیں بند کرکے عمل پیرا ہونے  کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کی التجا تھی: "ہم اقتدار کے حکم سے نہیں ، بلکہ استدلالی اور باوقار  اپیلوں سے اپنے ایمان کا دفاع کرسکتے ہیں۔"

پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کرنے والوں  کی قابل مذمت کوششوں کے خلاف احتجاج کرنے کا مسلمانوں کو  پورا  حق ہے۔ لیکن انہیں تشدد سے باز رہنا چاہئے ، کیونکہ یہ  اصطلاح اسلام کا بالکل ہی مخالف ہے ، جس کا مطلب ہے امن۔ پیغمبر کے دفاع میں کسی بھی  رد عمل ہو تو  مثالی طرز عمل کے مطابق ہو جو کہ  قرآن مجید  کے موافق ہو ۔ قرآن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے کچھ جارحانہ واقعات کا ذکر کیا ہے  (25:41 اور 38: 4-5) لیکن انھیں یہ کہتے ہوئے نصیحت کی کہ ، "ان کی باتوں پر صبر کیجیے  اور ان سے خود کو دور رکھیے "۔ (73:10)۔ قرآن نے ایسے  مجرموں کے خلاف کسی بھی طرح کی انتقامی کارروائی کی حمایت نہیں کی۔

در حقیقت قرآن نے توہین رسالت  پر سزا  مقرر نہیں کیا ۔ یہ  تو پرانا عہد نامہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "... جو بھی خداوند کے نام کی توہین کرے  اسے سزائے موت دی جائے۔ پوری جماعت کو ان پر پتھراؤ کرنا چاہئے۔" (احبار 24: 16)

حتی کہ  انتقامی  انصاف کے حصول (لیکس ٹالیونس) کے تصور کی بھی عبرانی بائبل میں مذہبی بنیاد ہے نہ کہ قرآن میں۔ توریت کی دوسری کتاب میں کہا گیا ہے کہ "اگر آپ سنگین زخمی ہوتے ہیں تو اس صورت میں  " جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے  آنکھ ، دانت کے بدلے  دانت ، ہاتھ کے بدلے  ہاتھ ، پاؤں کے  بدلے پاؤں ، جلانے کے بدلے جلانا  ، زخم کے بدلے  زخم اور چوٹ کے بدلے چوٹ دینا ہے ’’ (خروج 21: 23-25)۔ تیسری کتاب مزید کہتی ہے : "جو بھی انسان کی جان لیتا ہے اسے سزائے موت دی جانی چاہئے۔ جو بھی کسی کے جانور کی جان لیتا ہے اسے اس کی زندگی کا بدلہ لینا چاہئے۔ جو شخص اپنے پڑوسی کو زخمی کرتا ہے اسے بھی اسی طرح سے زخمی ہونا چاہئے۔ فریکچر کے بدلے  فریکچر ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، دانت کے بدلے  دانت۔ جس نے چوٹ لگائی ہے اسے بھی اسی طرح کے  چوٹ کا سامنا کرنا پڑے گا’’۔ (لیویتس 24: 17۔20)

اس طرح کی انتقامی سزائیں  قدیم تاریخ میں عارضی معمول کی حیثیت سے نافذ رہیں۔ قرآن  (2: 178) نے  اس قانون میں  مطلق انتقام کے عنصر کو ختم کرکے اس قانون  میں اصلاح کی کوشش کی ۔ ارشاد باری تعالی ہے :

‘‘اے ایمان والو! تم پر ان کے خون کا بدلہ (قصاص) فرض کیا گیا ہے جو ناحق قتل کئے جائیں، آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت، پھر اگر اس کو (یعنی قاتل کو) اس کے بھائی (یعنی مقتول کے وارث) کی طرف سے کچھ (یعنی قصاص) معاف کر دیا جائے تو چاہئے کہ بھلے دستور کے موافق پیروی کی جائے اور (خون بہا کو) اچھے طریقے سے اس (مقتول کے وارث) تک پہنچا دیا جائے، یہ تمہارے رب کی طرف سے رعایت اور مہربانی ہے، پس جو کوئی اس کے بعد زیادتی کرے تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے’’ (۲:۱۷۸)

مذکورہ بالا آیت میں واضح قصاصی انصاف کا تصور  قرآن کی دوسری آیت   (۴۱:۳۴)میں بھی ملتا ہے ، جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے :  ‘‘اور نیکی اور بدی برابر نہیں ہو سکتے، اور برائی کو بہتر (طریقے) سے دور کیا کرو سو نتیجتاً وہ شخص کہ تمہارے اور جس کے درمیان دشمنی تھی گویا وہ گرم جوش دوست ہو جائے گا’’ (۴۱:۳۴)

نبی  کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس الہامی ہدایات کو پوری توجہ کے ساتھ عمل کیا اور  بزدلانہ توہین اور جسمانی حملوں کو اپنے عظیم مشن کی راہ میں رکاوٹ بننے نہیں دیا ۔

ایک بار مکہ سے  ساٹھ  کلو میٹر کے فاصلے پر واقع  طائف  کے دورے پر ، ان  کا مذاق اڑایا گیا اور اس وقت ان  پر پتھراؤ کیا گیا حتی کہ آپ  کا خون بہنا شروع ہو گیا ۔ اس کے باوجود انہوں نے طائف کے لوگوں کی بھلائی کے لئے دعا کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی آنے والی نسل ان کے پیغام کو قبول کرلے  گی۔

یہاں تک کہ ۶ ہجری مطابق ۶۲۸ عیسوی میں حدیبیہ کے تاریخی معاہدے پر دستخط کرنے کے دوران بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے  امتیازی  رواداری اور امن پسندی کا مظاہرہ کیا اور وہ معاہدے کے تمام شرائط پر راضی ہو گئے جن میں یہ اہل مکہ کی جانب سے یہ  شرط بھی شامل تھی کہ وہ اس معاہدہ پر دستخط کریں گے تو اپنے نام پر نہ کہ رسول اللہ کی حیثیت سے ۔ اس بات نے آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین کو مشتعل کردیا اور پھر انہوں نے گستاخانہ فعل کو مسترد کردیا۔ لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام امن وشانتی کی خاطر  اس معاہدے کی حمایت "محمد بن عبد اللہ" کی حیثیت سے کی۔ایک مرتبہ پھر  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عظمت کا  اس طرح اظہار کیا اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ قرآن کریم  (68: 4) نےآپ کی مدح کی اور آپ کو  خلق عظیم کا رتبہ عطا کیا ۔

حدیبیہ کا  معاہدہ مسلمانوں کے لئے ایسی کامیابی تھی کہ قرآن  مجید  نے (48:1) اسے فتح مبین کہا۔ دو سال کے عرصے میں اس نے ان لوگوں سے مکہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کی راہ ہموار کردی جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو ان کے گھروں سے نکالنے کا کام کیا تھا۔ یہاں ایک بار پھر نبی کریم نے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے بعد عام معافی کا اعلان کرکے اپنے رب کے دیے ہوئے  رحمۃ للعالمین  کے لقب کو سچ ثابت کیا ۔ یہاں تک کہ ابو سفیان اور عکرمہ بن ابوجہل جو ان کے خلاف جنگیں لڑ چکے تھے اور ان جیسے کٹر دشمنوں کو بھی معاف کردیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ  اسلام مخالف قوتیں  جب اسلام کے  پر امن طبیعت سے واقف ہوئے تو وہ نہ صرف اپنی دشمنی مٹائی بلکہ اسلام کے فروغ میں سب سے آگے رہنے والوں میں سے ہو گئے ۔

اس میں مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا سبق ہے جنہیں قرآن کریم (2:143) امت وسط (ایک اعتدال پسند طبقہ) کہتا ہے۔ انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان  میں گستاخانہ حملے  نہ صرف جاہل ذہنوں کا کام ہے بلکہ اس کے پس پردہ ان کا مقصد  مسلمانوں کے تشدد بھرے رد عمل   کو پیش کرکے انہیں مذہبی انتہا پسند کی حیثیت سے پیش کرنا ہے ۔  

نبی کی عظمت

اس کا مقابلہ کرنے کا ایک طریقہ یہ ہوگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی بابرکت اور معصوم زندگی کا عام بنایا جائے اور جو قابل اعتراض ویڈیوز اور کارٹونوں کے ذریعے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان سے یہ پوچھیں کہ ایک صبر وتحمل کے پیکر عظیم نبی رحمت کے متعلق جھوٹی اور مسخ شدہ تاریخ کو پھیلانا کس  طرح  فنکارانہ آزادی کے زمرے میں آتا ہے۔

انہیں بتایا جانا چاہئے کہ جان ڈیوین پورٹ ، ایک برطانوی اسکالر ، جو  پیغمبر اسلام   کے متعلق گستاخانہ رویہ  اور تخریب کاری  کو برداشت کرنے سے قاصر تھا ، اس نے 1869 میں 182 صفحات پر مشتمل ایک کتاب تصنیف کی تھی جس میں اس بات پر زور دیا تھا کہ "محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تاریخ کو جھوٹے الزامات اور غیر اخلاقی تاثرات سے آزاد کیا جائے  بلکہ انہیں بنی نوع انسان کے لیے  سب سے بڑا معاون  سمجھا جائے۔ "۔ اس کتاب کا عنوان اس طرح تھا   (An Apology for Mohammed and the Koran)۔ یہ کتاب  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل البشر تسلیم کرنے کے  سلسلے میں ایک مخلص کوشش تھی۔

1841 میں ڈیوین پورٹ سے تقریبا تین دہائیاں قبل برطانوی پولیمتھ تھامس کارلائل نے اپنے کلاسیکی کام (آن ہیروز ، ہیرو-ورشپ ، اور دی ہیروک ان ہسٹری) کے اندر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی ایک سچا نبی تسلیم کرلیا تھا۔ انہوں نے لکھا ، "محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے متعلق ہمارا موجودہ قیاس آرائی  کہ وہ ایک اسکیمنگ امپاسٹر ، ایک جھوٹے اوتار تھے اور یہ کہ ان کا مذہب صرف جھگڑا اور فتنے کا سبب  ہے، یہ سب باتیں یقینا  ہر کسی کے لیے قابل رد ہونے لگی ہیں۔ یہ سب تہمتیں اور کذب بیانی جو اس ذات کے متعلق لگائی گئی ہیں وہ ہمارے لیے  ہی شرمندگی اور ذلت آمیز ہیں۔ "

اس سال کے شروع میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ‘‘دی ہیومنٹی آف محمد: ایک کرسچن ویو’’ میں  ایک  عیسائی اسکالر کریگ کونسائن نے اپنی ہی برادری کو یہ کہتے ہوئے مشورہ دیا ہے ، "محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اپنی امت  اور پوری دنیا کے تئیں رواداری پر مبنی ویزن  بروقت دنیا بھر میں انتہا پسندی کی سطحوں کے خاتمہ پر کام کر رہی ہیں، خاص طور پر جب وہ مسلم اکثریتی ممالک میں عیسائیوں اور دیگر اقلیتی آبادی پر ظلم و ستم سے تعلق رکھتے ہیں۔میں دنیا بھر کے عیسائی قارئین کو بھی یاد دلانا چاہوں گا  کہ ان کے لیے دانشمندی کی بات ہوگی اگر وہ  مسلمانوں کے ساتھ اپنے تعلقات کے لحاظ سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کی رواداری  اور اخلاق  کی پیروی کریں۔ جس طرح سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پوری انسانیت کے ساتھ عمدہ سلوک پیش کیا اگر اسے ہم بروئے کار لائیں تو اس سے ہم اپنے دور کی انتہاپسندی کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔

ایک اور عیسائی محقق انا بونٹا موریلینڈ نے رواں سال شائع ہونے والے اپنے تحقیقی مقالے ‘‘Muhammad Reconsidered: A Christian Perspective on Islamic Prophecy ’’ میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ عیسائی الہیات میں کافی دلائل ہیں جن سے  پیغمبر اسلام کو خدا کا نبی تسلیم کیا جا سکتا ہے ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ  "... مسیحیوں کے پاس ان کی اپنی  روایت کے اندر سے ہی کئی وجوہات ہیں کہ وہ مکہ اور مدینہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل ہونے والی وحی کو سنجیدگی سے لیں۔ حقیقت میں عیسائیوں کو ضرورت ہے کہ وہ بائبل کی ترجمانی کرنے کے لئے استعمال ہونے والے تمام تاریخی ، بشری ، فلسفی ، اور مذہبی وسائل کو بروئے کار لائیں اور انھیں قرآن کے مسیحی مطالعہ پر لاگو کریں۔ "

مغربی منافقت

ممتاز اسکالرز کے اس طرح کے ناپسندیدہ جائزوں کی روشنی میں ، مسلمانوں کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا اگر انہیں  اس بات میں شبہ ہے کہ یہاں کچھ  تو برا  ہے  کہ  تسلسل کے ساتھ  مغرب سے پیغمبر اسلام کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈہ ہورہا  ہے۔ فتنہ برپا کرنے والے  جذبا ت ابھارنے میں کسی طرح  کی کمی باقی نہیں چھوڑ رہے ہیں۔اس کا اندازہ  ڈینش اخبار جِلینڈز پوسٹن اور فرانسیسی ہفتہ وار چارلی ہیبڈو کی طرف سے پیغمبر اسلام کے خلاف مسلسل مہم سے لگایا جا سکتا ہے ۔

ستمبر 2005 میں جائلینڈز پوسٹین نے پیغمبر اسلام کے 12 کارٹون شائع کیے جس کی وجہ سے پوری مسلم دنیا میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا۔ 2006 میں چارلی ہیڈو نے جیل لینڈز پوسٹین کے تمام 12 متنازعہ  کارٹونوں کی دوبارہ اشاعت کی ، اور اس میں کچھ اور نازیبا باتیں بھی شامل کیں۔ نومبر 2011 میں چارلی ہیڈو نے ایک بار پھر نبی کریم کا چریا ہیبڈو نامی ایڈیشن کا خیالی مہمان ایڈیٹر بنا کر  کا مذاق اڑایا جس کا میگزین نے دعوی کیا تھا کہ یہ شریعت پر تنقید کرنے کی غرض سے ہے۔

لیکن چارلی ہیبڈو نے اسلام مخالف ویڈیو ‘‘مسلمانوں کی  معصومیت’’ کی حمایت میں ستمبر 2012 میں پیغمبر کی انتہائی مذموم نقاشیوں کو شائع کیا تھا جو یوٹیوب پر جولائی 2012 میں امریکہ سے اپلوڈ کیا گیا تھا۔ رواں سال یکم ستمبر کو ہی ہفتہ کو دوبارہ  ان کارٹونز کو  شائع کیا جس کا مقصد جنوری 2015 میں اس کے دفاتر پر پرتشدد حملے سے متعلق کیس سے جڑے مقدمے کی شروعات کی نشاندہی کرنا تھا۔ اس کی دوبارہ اشاعت کے نتیجے میں سابق صدر دفاتر کے باہر 25 ستمبر کو ایک اور حملہ ہوا تھا جس میں دو افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔ حملہ آور نے اعتراف کیا کہ اس نے کارٹونوں کی دوبارہ اشاعت  کا بدلہ لینے کے لئے کارروائی کی تھی۔

وال اسٹریٹ جرنل کی خبر کے مطابق ، "معاشرتی اور مذہبی افراتفری کے اس گھڑی میں ہی مسٹر [سموئیل] پیٹی نے "آزادانہ تقریر کی شکل اور حد" پر اکتوبر کے شروع میں اپنے درس دینے کی تیاری کی۔ (مظاہروں نے چارلی ہیبڈو پر ان دروس کے بعد سر قلم کرنے والے فرانسیسی استاد کو خراج عقیدت پیش کیا)۔ وال اسٹریٹ جرنل میں انسداد دہشت گردی کے پراسیکیوٹر مسٹر ریکارڈ سے منسوب بیان سے ، پیٹی نے جن دو کارٹونوں کو کلاس میں دکھایا تھا وہ انتہائی حملہ آور تھے۔ شاید اسے یہ احساس ہی نہیں تھا کہ آزادانہ تقریر کے نظریہ کی وضاحت  توہین آمیز کارٹون دکھائے بغیر ہی کی جاسکتی ہے۔ بہر حال  جیسا کہ اوپر استدلال کیا گیا ہے کہ سیموئیل پیٹی اس کی وجہ سے مارے جانے کے اہل نہیں تھے۔ لیکن "آزادانہ تقریر کی شکل اور حد" جس پر وہ تعلیم دینا چاہتا تھا اس پر کھل کر بحث کرنے کی ضرورت ہے۔

ہتک عزت تنقید نہیں ہے

مسلمان یقینا یہ سمجھنا چاہیں گے کہ آخر اسلام کے خلاف کاروائیاں ان ممالک میں کیوں آزادانہ تقریر کی چھت میں آتی ہیں جہاں صیہونزم پر حقیقی تنقید کو یہودی مخالفت کی حیثیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

اگست 2012 میں جب آزادی اظہار رائے  کے نام پر پیغمبر اسلام کے خلاف  ویڈیو اور کارٹون شائع ہورہے تھے ، تو اس وقت کیلیفورنیا کی ریاستی اسمبلی نے پہلی ترمیم کو روکنے کی صریح کوشش میں ایچ آر ۳۵ کے عنوان سے ایک قرارداد منظور کی  جس میں تعلیمی اداروں سے کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہا گیا تھا کہ  یہودی طلبا  اپنے کیمپسوں میں یہود مخالف  مباحثوں سے محفوظ رہیں گے ، مثلا ایسی بحث جو  اسرائیل کو نسل پرستانہ ریاست کے طور پر “انسانیت کے خلاف  نسل کشی اور قتل عام جیسے گھناؤنے جرائم کا قصوروار…” ٹھہراتی ہے ۔ ایچ آر 35 نے  یونیورسٹیوں سے اس بات کی بھی اپیل کی وہ "اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ ، علیحدگی، طلباء اور فیکلٹی اسپانسرڈ بائیکاٹ جیسی مہمات کو بے اثر بنائیں کیونکہ یہ سب اسرائیل کو بد نام کرنے کا ایک ذریعہ ہیں… "(ترمیم شدہ  28 اگست ، 2012 )۔ کیلیفورنیا کے اسکالرز برائے اکیڈمک فریڈم نے اس کی سختی سے مخالفت کی۔ (An Open Letter: From California Scholars for Academic Freedom)

ابھی حال ہی میں گذشتہ سال ‘‘دی گارجین ’’ نیوزپیپر کے ذریعہ حاصل کردہ دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ کس طرح امریکہ میں اسرائیل نواز اور قدامت پسند لابیوں نے ریاستی قانون سازوں کو کنڈرگارٹن سے لے کر گریجویٹ یونیورسٹیوں تک ، عوامی تعلیم میں اینٹی سیمیٹزم  کو کالعدم قرار دینے کی ترغیب دی تھی۔ اخبار نے اطلاع دی کہ اینٹی سیمیٹزم کی مجوزہ تعریف اس قدر وسیع ہے کہ   اس سے نہ صرف یہودیوں  کو  نفرت انگیز تقریر کے خلاف معیاری تحفظ ملے گا بلکہ  اسرائیلی حکومت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بحث کو بھی ممنوع قرار دے گی۔ کچھ دن پہلے  کینیڈا کی سب سے بڑی آن لائن نیوز سائٹ ، د ی اسٹار ،نے کینیڈا کی یونیورسٹیوں میں اسرائیل پر تنقید کرنے والی اعتدال پسند آوازوں کے دباؤ کو اجاگر کرنے والی ایک رپورٹ شائع کی (یارک یونیورسٹی میں تنازعات  اسرائیل پر تنقید کرنے والی اعتدال پسند آوازوں کے دباؤ کو اجاگر کرتی ہے )۔

ایک شخص اس بات کو سمجھنے میں ناکام ہو جاتا ہے کہ آخر کیوں مغربی معاشرے جو  بصورت دیگر  اپنے اسرائیل نواز تعصب کو چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کرتے ہیں ، وہ حقیقی تنقید اور توہین کے درمیان فرق کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے آرٹیکل 12 میں کہا گیا ہے کہ ہر ایک کو اپنی عزت اور وقار پر صوابدیدی حملوں کے خلاف قانون کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔

اسی طرح ، شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی عہد نامے کے آرٹیکل 19 (3) میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آزادی اظہار رائے کا حق "دوسروں کے حقوق یا وقار" کے تحفظ کے لئے اور "قومی سلامتی یا پبلک آرڈر  یا عوامی صحت یا اخلاقیات کے تحفظ کے لیے  کچھ پابندیوں سے مشروط ہے۔۔ یوروپی کنونشن برائے ہیومن رائٹس کے آرٹیکل 10 (2) کے تحت یہ بیان کیا گیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی "چونکہ وہ اپنے ساتھ فرائض اور ذمہ داریوں کو نبھاتی ہے ، اس طرح کی رسومات ، شرائط ، پابندیوں یا جرمانے سے مشروط ہوسکتی ہے جو قانون کی طرف سے مقرر ہیں اور  ایک جمہوری معاشرے  میں ضروری ہیں... "

آزادی صحافت پر فرانس کے 29 جولائی 1881 کے قانون کے 32 کے آرٹیکل میں ہتک آمیز کو ہر اس الزام یا تہمت سے تعبیر کیا جاتا ہے  جو کسی شخص کے اعزاز یا خیال پر حملہ کا سبب بنتا ہے۔ جب  ہتک آمیز کسی عام  افراد کی   جائے ہو تو اس پر   €12,000 جرمانے کے ساتھ سزا دی جائے گی ۔ (پیراگراف 3: لوگوں کے خلاف جرائم۔ (آرٹیکل 29 سے 35 کواٹر))

اگر زندہ افراد کی ساکھ کو بچانے کے اتنی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے تو کیا وفات پائے  لوگ - جو اپنا دفاع نہیں کرسکتے ہیں - زیادہ تحفظ نہیں تو  کم از کم برابر کے حقدار ہیں؟

شکر ہے  تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 499 مردہ افراد کو ایسی حفاظت فراہم کرتی ہے۔ اس دفعہ کی وضاحت 1 میں کہا گیا ہے کہ: "کسی متوفی شخص کو کسی بھی چیز کا مورد الزام ٹھہرانا   ہتک آمیز  کے مترادف ہوسکتا ہے ، اگر یہ الزامات ایسے ہوں کہ اس سے  اس شخص کی، اگر زندہ رہتا تو، ساکھ کو نقصان پہنچتا اور یہ الزامات ایسے ہوں کہ اس سے  مقصد اس کی فیملی اور قریبی رشتہ داروں کے جذبات مجروح  کرنا ہو تو یہ بھی ہتک آمیز مسئلے کے  مترادف ہو سکتا ہے ۔

 ‘‘مسلمانوں کی معصومیت’’ جیسی ویڈیوز اور ڈنمارک اور فرانس میں شائع ہونے والی کارٹونز اسلام کے نقاد کی نمائندگی نہیں کرتے ہیں۔ وہ نبی علیہ السلام  کے بارے میں اشتعال انگیز جھوٹوں کا گٹھا ہیں لہذا آزادانہ تقریری قوانین کے تحت تحفظ سے لطف اندوز نہیں ہوسکتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مغربی معاشرے جب خوفناک نازیوں کی نسل کشی میں ہلاک ہونے والے یورپی یہودیوں کی عزت کو محفوظ رکھنے کے لئے ہولوکاسٹ سے انکار کے خلاف قوانین موجود ہیں تو کم از کم 16 یورپی ممالک نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ساکھ کو قانونی طور پر تحفظ دینے سے انکار کیوں کیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ مغرب بالخصوص ایمانوئل میکرون کی زیرقیادت "کرسچن" فرانس اس بات کو  محسوس کر لیں  کہ اسلام کے ساتھ مستقل کشمکش عالمی امن کے لئے ناگوار ہے۔


URL for English article: https://www.newageislam.com/islamic-ideology/a-faizur-rahman-new-age-islam/blasphemy-islam-and-free-speech/d/123277

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/blasphemy-islam-free-speech-/d/123303


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..