New Age Islam
Thu May 19 2022, 09:45 AM

Urdu Section ( 11 March 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Adoption in Islam: Should Muslims Keep Following a 7th Century Law اسلام میں گود لینےکا قانون: کیا مسلمانوں کو ساتویں صدی کے قانون پر عمل کرنا چاہیے؟

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

25 جنوری 2022

زیادہ تر مسلمان اس الجھن میں ہیں کہ آیا وہ کسی ایسی چیز کو تبدیل کر سکتے ہیں جس پر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا تھا۔

اہم نکات:

این سی پی سی آر نے دیوبند کی گود لینے پر ان کے موقف کی تنقید کی ہے۔

دیوبند کی طویل عرصے سے یہی دلیل رہی ہے کہ گود لیے ہوئے بچے اپنے حقیقی بچے جیسے نہیں ہوتے۔

پیغمبر اسلام نے اپنے ایک گود لیے بیٹے کی بیوی سے شادی کی۔

اکثر مسلمان اسی الجھن کا شکار ہیں کہ کیا وہ کسی ایسی چیز کو تبدیل کر سکتے ہیں جس کا حکم خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔

 -------

حال ہی میں نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (NCPCR) نے دارالعلوم دیوبند کو بعض 'گمراہ کن فتووں' کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا تھا جو بچوں کے مفاد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ زیر بحث مسئلہ گود لینے کا ہے جس میں نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کا موقف دیوبند سے مختلف ہے۔ صدیوں کی قانونی مشق کے بعد دیوبند نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ مسلمان جوڑے گود لے سکتے ہیں لیکن گود لیے ہوئے بیٹے یا بیٹی کو حقیقی اولاد نہیں سمجھا جائے گا۔ مختصر یہ کہ گود لیے ہوئے بچے کے پاس جائیداد کے کوئی حقوق نہیں ہوں گے۔ مزید یہ کہ جب ایسا گود لیا ہوا بچہ بلوغت کو پہنچ جاتا ہے تو اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ گود لیے ہوئے بیٹے اور اس کی ماں کے درمیان یا گود لی ہوئی بیٹی اور اس کے باپ کے درمیان مناسب پردہ کیا جائے۔

اگرچہ ملک کا قانون گود لیے ہوئے بچوں کو حقیقی اولاد تصور کرتا ہے، اسلام اس معاملے پر ایک مختلف نقطہ نظر رکھتا ہے۔ 2014 میں سپریم کورٹ نے جووینائل جسٹس ایکٹ کے تحت مسلم جوڑوں کو گود لینے کی اجازت دی تھی۔ لیکن باعمل مسلمانوں کے لیے یہ ایک مسئلہ ہے کیونکہ ان کے مذہب میں اس کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔ وجوہات پیغمبر اسلام کی زندگی کی تاریخ میں پوشیدہ ہیں جنہیں مذہب اسلام کا کامل مظہر مانا جاتا ہے۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ نبی کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں۔ تاہم، اسلامی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گود لیے بیٹے زید کی بیوی سے شادی فرمائی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ سے پہلے عرب معاشرہ نے پورے معنوں میں گود لینے کی اجازت دی تھی۔ لیکن چونکہ پیغمبرانہ طریقہ سنت ہے، اس لیے جو کچھ بھی نبی نے کیا وہ نیا اسلامی اصول بن گیا۔ اور دو صدیوں بعد یہ اسلامی قانون کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کو یتیموں کی دیکھ بھال کرنے کی اجازت دی گئی لیکن وہ ان کے ساتھ اپنے بیٹے یا بیٹیوں جیسا سلوک نہیں کر سکتے تھے؛ جائیداد میں ان کے حقوق نہیں تھے۔

این سی پی سی آر اس بات کو اجاگر کرنے میں حق بجانب ہے کہ دیوبند مدرسہ کے اس طرح کے احکام بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ تاہم، اس ملک میں اور بھی بہت سی چیزیں چل رہی ہیں جو ایسا ہی کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس، اس وقت خاموش تھا جب دہلی فسادات کے دوران اسکولوں کو جلایا گیا تھا، جس سے بچوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے تھے۔ گود لینے کے حوالے سے دیوبند کی رجعت پسندانہ رائے کو چن کر اجاگر کرنے سے خود نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس پر ہی اسلامو فوبیا کو فروغ دینے کا الزام لگتا ہے۔

اور سٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (SIO) جو کہ جماعت اسلامی کا طلبہ ونگ ہے، یہی کہتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس نے نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کے بیان کو 'کچھ فتووں کو چن کر اور اسے سنسنی خیز بنا کر، مدارس اور ان کی تعلیم کو نشانہ بنانے کی ایک اور کوشش' قرار دیا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ فتویٰ علماء کی ذاتی رائے ہے اور ان میں سے کسی کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔ ایس آئی او کی یہ دلیل بھی حق بجانب ہے کہ ہندوستانی آئین اقلیتوں کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن اس کی بناء پر ہمیں یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ اس طرح کی آزادیوں سے افراد اور خاص طور پر بچوں اور عورتوں کے حقوق پامال نہیں نہ ہوں۔

این سی پی سی آر کو ان کے انتخاب میں قصوروار ٹھہرانا ایک بات ہے لیکن اس بات کو تسلیم نہ کرنا کہ گود لینے کا مسئلہ مسلم معاشرے میں ایک عجیب مسئلہ ہے۔ ایس آئی او بالکل وہی کر رہا ہے: وہ اس معاملے پر پردہ ڈال رہا ہے تاکہ اس مسئلے پر کھل کر بات نہ ہو سکے۔ مدارس کو پہلے بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے لیکن اسے قبول کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ان اداروں کی ہر بات تنقید سے بالاتر ہے۔ مزید یہ کہ اگر فتوی دیوبند کا ہے تو اس کی کچھ اہمیت بھی ہوتی ہے۔ یقینا یہ قانونی طور پر نافذ العمل نہیں ہے لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ لاکھوں مسلمان اسے اسلام کی سچی تعلیم مان کر اس پر عمل کرتے ہیں۔ اور دیوبند اپنی ترقی پسندی کے لیے نہیں جانا جاتا، بلکہ اپنے فتوے کے ذریعے اس نے ہمیں بار بار اپنی قدامت پرست ذہنیت کی یاد دلائی ہے۔

دنیا بھر میں، روایتی ادارے وقت کے ساتھ خود کو تبدیل کرتے ہیں۔ عیسائی چرچ اپنے عروج کے زمانے میں انتہائی کٹر تھا لیکن آج اس نے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو بھی زیادہ قبول کر لیا ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ اسلامی ادارے نئی سماجی اور معیاری تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت کرنے میں خصوصی فخر محسوس کرتے ہیں۔

 مثال کے طور پر گود لینے کے بارے میں مسلمانوں کا موقف کئی صدیوں سے تبدیل نہیں ہوا ہے۔ ایک مسلمان جوڑے کی حالت زار کا تصور کریں جو ایک بچہ گود لینا چاہتا ہے لیکن اسے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ صرف محدود مدت کے لیے اس کے سرپرست بن سکتے ہیں۔ تصور کریں کہ ایک مسلمان ماں یا باپ کو کیا صدمہ ہوگا جب ان سے کہا جائے گا کہ وہ اس انسان سے پردہ کریں جسے انہوں نے بچپن سے ہی پرورش کی ہے۔ گویا مذہب خود انسانی جذبات کی قدر کرنے سے قاصر ہے۔ گویا دین اسلام بے اولاد جوڑے کو اپنے بچوں کے بارے میں انسانی جذبات رکھنے سے منع کرتا ہے۔

اسلامی نظام قانون جس طرح سے تیار کیا گیا ہے اس میں بنیادی طور پر کچھ خامیاں ہیں۔ کون سا مذہب انسانوں کو اپنے گود لیے ہوئے بچے پر پیار و محبت کی برسات کرنے سے روکتا ہے؟ کون سا مذہب یہ مان سکتا ہے کہ ایک ماں یا بیٹے کے اندر صرف اس وجہ سے ہوس کا احساس پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ بچہ گود لیا گیا ے؟

کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ’دوسرے لوگ‘ اسلام میں غیر صحت بخش دلچسپی لیتے نظر آ رہے ہیں۔ لیکن بحیثیت مسلمان ہمیں یہ تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے مذہبی قانون میں واقعی کچھ خامیاں ہیں۔ اور ایسی سوچ اور عمل کو صرف ہم مسلمان ہی روک سکتے ہیں۔ ہم میں سے اکثر لوگ کسی ایسی چیز کو تبدیل کرنے کے بارے میں پس و پیش میں ہیں جس کا حکم خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا۔ تو پھر ہمیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا اسلام صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا نام ہے یا اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کا نام ہے؟ بحیثیت مسلمان، کیا ہمیں ساتویں صدی کے عرب کے سیاق و سباق اور اخلاقی نمونوں پر عمل کرنا چاہیے یا ہمیں اپنا عصری نصاب خود ترتیب دینا چاہیے؟

 -----

English Article: Adoption in Islam: Should Muslims Keep Following a 7th Century Law

Malayalam Article: Adoption in Islam: Should Muslims Keep Following a 7th Century Law ഇസ്‌ലാമിലെ ദത്തെടുക്കൽ: മുസ്‌ലിംകൾ ഏഴാം നൂറ്റാണ്ടിലെ നിയമം പിന്തുടരുന്നത് തുടരണമോ

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/adoption-muslims-7th-century-law/d/126554

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..