New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 06:50 AM

Urdu Section ( 17 Feb 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Time to Leave Miserliness, a Corruption of the Soul – Denounced by Allah and His Apostle بخالت روحانی مرض کا باعث اور اللہ اور اس کی ناراضگی کا ذریعہ ہے

ارمان نیازی، نیو ایج اسلام

10 ستمبر 2021

اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل کی سب سے زیادہ مذمت کی ہے۔

اہم نکات:

1. کنجوسی ایک بری صفت ہے جو انسان کی روح کو خراب کر دیتی ہے۔

2. وہ تمام لوگ جو خوشحال ہیں اور لوگوں کی مسیحائی کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں انہیں ہر قسم کے بہانے چھوڑ کر رحمدلی کا روحانی کردار ادا کرنا چاہیے۔

3. کنجوسی کے ذریعہ جمع کی گئی دولت بے وقعت ہے کیونکہ یہ انسان کی ضرورتوں کی کفالت نہیں کرتی۔

4. ہمارے احسان کا بدلہ آخرت میں دیا جائے گا جو ہمارا مستقل ٹھکانہ ہے۔

۔۔۔

(Photo courtesy): ahlesunnatuljamaat/miserliness-and-its-harms

-----

کنجوسی ایک بری صفت ہے جو کنجوس کی روح کو خراب کر دیتی ہے۔ کنجوس وہ ہے جسے خود سے بھی زیادہ اپنے مال سے محبت ہو۔ کنجوسی ایک ایسی بیماری ہے جو اس کے گھر والوں کی صحت کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے لیکن اس کا اثر اس کے آس پاس کے لوگوں پر پڑتا ہے۔ پیدائشی طور پر تمام انسان مہربان اور رحمدل ہوتے ہیں لیکن بخالت کی دنیاوی صفت انسان کی روح کو خراب کر دیتی ہے۔ کنجوس صحیح طریقے سے سوچنا چھوڑ دیتا ہے اور ان تمام اچھے کاموں سے اپنے قدم روک لیتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی کا باعث ہیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے:

جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وه اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لئے بہتر خیال نہ کریں بلکہ وه ان کے لئے نہایت بدتر ہے، عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے.... (آل عمران - 180) -

بخل دنیا اور آخرت کی زندگی کو تباہ کر دیتا ہے۔ اللہ رحمٰن و رحیم نے مختلف مواقع پر اپنی آیات میں کنجوسی کو بیان کیا ہے، مومنوں کو اپنی مخلوق کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ علیم و خبیر قرآن پاک میں فرماتا ہے:

اے ایمان والو! بیشک (اہلِ کتاب کے) اکثر علماء اور درویش، لوگوں کے مال ناحق (طریقے سے) کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ، اور جو لوگ سونا اور چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں دردناک عذاب کی خبر سنا دیں، ‘‘ (التوبہ: 35-34)

انسان کی شخصیت میں کچھ ایسی غیر سماجی خصلتیں ہیں جو معاشرے میں پھیلی ہوئی مختلف برائیوں کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہیں اور بخالت انہیں میں سے ایک ہے۔ اس کے لیے کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل کی ذہنی کیفیت کی سب سے زیادہ مذمت کی ہے کیونکہ ایسے لوگ اپنے دنیاوی مفادات کے غلام بن جاتے ہیں اور اپنے اہل و عیال اور دوست و احباب کے ساتھ غیر ذمہ دارانہ رویے کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں۔ بخیل اپنے گھر والوں سے اور معاشرے سے الگ ہو جاتے ہیں اور انہیں اس کا علم بھی نہیں ہوتا۔ سب سے بری بات یہ ہے کہ بخیل کو یہاں دنیاوی زندگی یا آخرت کی زندگی میں کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا جیسا کہ درج ذیل حدیثوں سے واضح ہے:

"اس امت کےپہلے لوگ پرہیزگاری اور ایمان کی وجہ سے ہدایت یافتہ ہو گئے اور اس امت کے آخری لوگ بخل اور لمبی خواہشات کی وجہ سے ہلاک ہو جائیں گے۔" اسے احمد اور طبرانی نے الاوسط میں اور امام بیہقی نے روایت کیا ہے۔

زکوٰۃ، فطرہ اور صدقات اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ مقبول ہیں۔ غریبوں، مسکینوں اور بے سہارا لوگوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کو اللہ اپنی بخشش اور رحمت و برکت عطا کرتا ہے۔ اللہ رب العزت قرآن پاک میں فرماتا ہے:

صدقات کے مستحق صرف وه فقرا ہیں جو اللہ کی راه میں روک دیئے گئے، جو ملک میں چل پھر نہیں سکتے نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مالدار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہچان لیں گے وه لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے، تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کا جاننے وا ہے۔ (سورۃ البقرہ 2:273)

کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے؟یہی وه ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ (الماعون - 3-1) -

ذیل میں پیش کی گئی قرآن پاک آیات اور احادیث نبوی روایات کا مقصد ہمیں رحم، جامعیت اور بھائی چارے کے ہمارے پیدائشی اسلامی جوہر سے متعارف کروانا ہے جو 'رحمت' کا سبب ہے جسے اللہ سب سے زیادہ پسند کرتا ہے۔

کنجوسی اور کنجوسوں کے انجام پر قرآنی آیات

کافروں کوان کے مال اور ان کی اود اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے چھڑانے میں کچھ کام نہ آئیں گی، یہ تو جہنم کا ایندھن ہی ہیں- (آل عمران - 10)

اور لوگوں کا مال ناحق مار کھانے کے باعث اور ان میں جو کفار ہیں ہم نے ان کے لئے المناک عذاب مہیا کر رکھا ہے۔ (النساء- 161)

اے ایمان والو! اکثر علما اور عابد، لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راه سے روک دیتے ہیں اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے۔ (التوبہ: 34)

کہتا (پھرتا) ہے کہ میں نے تو بہت کچھ مال خرچ کر ڈا- (سورۃ البلد - 6)

"پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی (یعنی اپنی نمازوں کو یا تو ترک کر کے یا ان کو پوری طرح ادا نہ کر کے، یا ان کو ان کے مقررہ اوقات میں ادا نہ کر کے ضائع کر دیا) اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا ۔ (مریم : 59)

کنجوسی اور کنجوسوں کے انجام بد سے متعلق احادیث نبوی

 "جو شخص پیٹ بھر کر سوئے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔" (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم)

"مومن کا معاملہ کتنا اچھا ہوتا ہے، اس کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے اس میں اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے اور مومن کے علاوہ کوئی اس نعمت سے مستفید نہیں ہوتا، اگر اسے کچھ فضل ملتا ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور یہ نعمت اس کے لیے بھلائی کا باعث ہوتی ہے۔ اور اگر اسے کوئی مصیبت پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے اور یہ مصیبت بھی اس کے لیے خیر کا باعث ہوتی ہے۔‘‘ (مسلم)

’’اللہ تعالیٰ نے مالدار مسلمانوں پر فرض کیا ہے کہ وہ اپنی جائیدادوں میں سے غریبوں کی ضروریات کے مطابق کچھ حصہ نکال لیں۔ غریب کبھی بھی بھوک یا کپڑوں کی کمی کا شکار نہیں ہوگا جب تک کہ مالدار ان کے حق کو نظرانداز نہ کریں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو اللہ ان سے ضرور حساب لے گا اور انہیں سخت سزا دے گا۔ (طبرانی نے الاوسط اور الصغیر میں روایت کیا)

جو شخص کسی مومن کی دنیاوی پریشانیوں میں آسانی پیدا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو آخرت کی مشکلوں سے نجات دے گا - صحیح مسلم

"خود کو جہنم کی آگ سے بچاؤ خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ دے کر" (بخاری ومسلم)

ضرورت ہے کہ یہ دنیا اب رحمدلی کو اپنائے اور ان لوگوں کی مدد کے لیے قدم آگے بڑھائے جنہیں ان کی مدد کی ضرورت ہے۔ آج دنیا کی موجودہ صورتحال کو دیکھیں تو یہ ایک قطعی حقیقت ہے کہ لاکھوں لوگ بے گھر، بے سہارا اور بھوکے ہیں۔ وہ سب خدا کے رحم و کرم پر ہیں، لہٰذا، بنی نوع انسان کو خدا کا نائب ہونے کے ناطے اپنے بھائیوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ ایک دوسرے پر الزام لگانے اور اپنی انسانی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے بچنے کا وقت نہیں ہے۔ وہ تمام لوگ جو خوشحال ہیں اور لوگوں کی مسیحائی کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں انہیں ہر قسم کے بہانے چھوڑ کر رحمدلی کا روحانی کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہم آج لوگوں پر احسان کریں گے تو غربت کی لعنت ختم ہو جائے گی اور پھر سے انسانیت پر اللہ کا بے پناہ فضل و کرم ہو گا۔

میرے مال نے بھی مجھے کچھ نفع نہ دیا ، (الحاقہ: 28)

اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا ۔ - (الذاريات - 19)

ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں دل کی خوشی اور یقین کے ساتھ خرچ کرتے ہیں اس باغ جیسی ہے جو اونچی زمین پر ہواور زوردار بارش اس پر برسے اور وه اپنا پھل دگنا وے اور اگر اس پر بارش نہ بھی برسے تو پھوار ہی کافی ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے ۔ (سورہ البقرہ - 265)

مذکورہ بالا قرآنی آیات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ بخل کے ذریعے جمع کی گئی دولت کی کوئی وقعت نہیں ہے کیونکہ اس سے انسان کی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں۔ دوسری طرف ہمارا بخالت کو ترک کرنا اور رحم دلی اختیار کرنا ہمیں خدا کی بخشش سے نوازے گا اور دنیا ایک انتہائی زرخیز مٹی کا باغ بن جائےگی۔

مہربان اور فیاض ہونا

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کتنے بوڑھے یا جوان ہیں، آپ دوسروں کے ساتھ فیاضی کی کوشش کر سکتے ہیں!

No matter how old or young you are, you can practice being generous to others!

----

اللہ رحمٰن و رحیم نے تمام انسانوں کو اس مثبت جوہر کے ساتھ پیدا کیا ہے جو ہمدرد، مہربان، جامع اور تکثیری اخلاقیات کے حامی ہونے کے لیے ضروری ہے۔ لہٰذا، ہماری شخصیت میں جنگ، فرقہ واریت، دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے متاثرین کے ساتھ ہمدردی اور مہربانی کرنے کے لئے کسی نئی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے احسان کا بدلہ آخرت میں ملے گا جو ہمارا مستقل ٹھکانہ ہے۔ اب ہمیں یاد کرنا چاہئے کہ اللہ اور اس کا رسول کیا کہتاہے:

"ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے پس اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے، اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ ‘‘ (البقرہ: 245)۔

"اے ایمان والو! کیا میں تمہیں وه تجارت بتلا دوں جو تمہیں درد ناک عذاب سے بچا لے؟ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول پر ایمان ؤ اور اللہ کی راه میں اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم میں علم ہو۔‘‘ (سورۃ الصف:11-10)

’’ اور اس مال میں سے خرچ کرو جس میں اللہ نے تمہیں (دوسروں کا) جانشین بنایا ہے ۔ ‘‘ (الحدید:7)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ اس شخص پر مسکراتا ہے جو صدقہ دینے کے لیے ہاتھ بڑھاتا ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ مسکراتا ہے اسے بخش دیا جاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم

صدقہ اپنے دینے والوں سے قبر کی گرمی کو دور رکھتا ہے اور قیامت کے دن مومن اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم

واللہ اعلم بالصواب

----

ارمان نیازی NewAgeIslam.com کے کالم نگار ہیں۔

----------

English Article: Time to Leave Miserliness, a Corruption of the Soul – Denounced by Allah and His Apostle. Be Gracious and Generous to Save Humanity from Hunger and Disease

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/miserliness-corruption-soul-generous/d/126395

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..