New Age Islam
Thu Mar 05 2026, 06:26 AM

Urdu Section ( 13 Dec 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Before The Gruesome Consequence...... بھیانک انجام سے پہلے۔۔۔

ودود ساجد

11 دسمبر،2022

9 دسمبرکو سپریم کورٹ میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقدمہ پیش ہوا۔ اس مقدمہ کی خبر شاید ہی کسی اخبار نے شائع کی ہو۔ اس کی تفصیل بھی کوئی بہت زیادہ نہیں ہے۔ سرسری سماعت کے بعد عدالت نے عرضی گزار پر بھاری جرمانہ عاید کیا اور مقدمہ خارج کردیا۔سپریم کورٹ میں یہ معاملہ ختم ہوگیالیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ معاملہ ختم نہیں ہوا۔ یہ معاملہ بہت بھیانک اور سنگین ہے۔ اس کی سنگینی بہت وسیع ہے۔ بحیثیت خیر امت ان سطور کے قارئین کوبھی اس معاملہ کی سنگینی سمجھنا ہوگا۔مجھے انتخابی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں ۔یہ میدان اتناغیر یقینی اور غیر مستحکم ہے کہ کچھ پتہ نہیں کب کون کیاکرنے لگے۔اس میدان میں جھوٹ اور مکر و فریب کے سوا کچھ نہیں۔ اس میدان میں جب کوئی سچ بولتا ہے تو وہ حیرت کن خبر ہوتی ہے۔ لیکن اس ہفتہ دوریاستی اسمبلیوں کے پانچ سالہ اور چندر یاستوں کے ضمنی انتخابات کے جو نتائج آئے ہیں وہ اس ملک کی نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو سوچنے سمجھنے کا ایک او رموقع فراہم کرتے ہیں۔

ہماچل پردیش تقریباً اپنی روایت پر قائم رہا۔ وہاں کے عوام نے بی جے پی کا اقتدار ختم کردیا۔کانگریس کو اپنے نیم مردہ جسم میں کچھ جان ڈالنے کے لئے آکسیجن مل گیا ۔ کانگریس کو اس کا سہرا بی جے پی کی اندرونی کشمکش کے سر باندھناچاہئے۔ اب جب کہ اسے وہاں اکثریت مل گئی ہے تو کانگریس کی اندرونی رسہ کشی سامنے آگئی ہے۔ وزارت اعلی کے کئی دعو یدار سامنے آگئے ہیں۔ راجستھان میں جو کچھ ہورہا ہے او رجو کچھ ہوچکا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ مدھیہ پردیش کی اچھی خاصی بنی ہوئی حکومت اپنے موقع پرستوں کے سبب پہلے ہی گنواچکی ہے۔ 2014 کے بعد برسر اقتدار جماعتوں کوللکار نے کے لئے جس مضبوط ‘اپوزیشن’ کی ضرورت تھی کانگریس اس کی تشکیل میں بری طرح ناکام رہی ۔ اپوزیشن کامطلب صرف پارلیمنٹ میں برسر اقتدار جماعتوں کو حاصل نشستوں سے کچھ کم نشستیں حاصل کرنانہیں ہوتا۔بلکہ اپوزیشن اپنی تنظیمی اورسیاسی قوت کے ساتھ پارلیمنٹ سے باہر بھی مطلوب ہوتی ہے۔ لوک سبھا میں باقی تمام اپوزیشن جماعتوں سے زیادہ نشستوں کے باوجود کانگریس یہ مطلوب قائدانہ کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ۔

کانگریس کے اس حشر کاذمہ دار اس کا غرور او راس کا کبرو نخوت ہے۔ علاقائی طور پر مضبوط جماعتوں کے ساتھ ان کی قدر کے مطابق سلوک نہ کرنے کے سبب وہ ریاستوں میں مزید کمزور ہوتی جارہی ہے۔ اس کا اثر اس کی لوک سبھا کی طاقت پر پڑرہا ہے۔ یہ اس کے لئے سب سے اچھا ہوتا اگروہ ریاستی انتخابات میں علاقائی جماعتوں کو ان کا واجب حق دیتی ۔ ایسی صورت میں علاقائی جماعتیں مرکزی انتخابات میں اسے اپناسرخیل بناتیں۔ علاقائی جماعتوں کے قائدین کے اندر قومی خواہشات کو جگانے میں کانگریس کے رویہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب بظاہر یہ ممکن نظر نہیں آتا کہ دہلی کی عام آدمی پارٹی ‘ تلنگانہ کی ٹی آر ایس’ ‘مغربی بنگال کی ترنمول کانگریس’ کرناٹک کی جنتادل(سیکولر ) او ربہارکی جنتا دل (یو) وغیرہ اس کی قیادت میں لوک سبھا کے انتخابات لڑیں اوروزارت عظمی کی دعویداری کانگریس کے لئے چھوڑ دیں۔

کانگریس کے اس حشر کادوسراسب سے بڑاسبب راہل گاندھی کاوہ رویہ بھی ہے جس کے تحت انہوں نے موقع ہونے کے باوجود موثر قیادت قبول نہیں کی۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ کانگریسیوں کے مزاج میں گاندھی خاندان کے علاوہ کسی او رکو قائد ماننے کاعنصر شامل ہی نہیں ہے۔ اس احمقانہ روش میں راہل گاندھی نے کانگریس کے سات قیمتی سال برباد کردئے۔ اب جب کہ کانگریس کے صدارتی انتخابات کے بعد غیر گاندھی خاندان کا فرد اس کا صدر بن گیاہے تب بھی کانگریسی گاندھی خاندان کی ہی طرف نظریں لگائے بیٹھے ہیں۔ صدر کوئی بھی ہولیڈر توراہل گاندھی ہی ہیں۔ اس کاثبوت اس کی ‘ بھارت جوڑو یاترا’ ہے۔ راہل گاندھی کے علاوہ اس یاترا کی قیادت کوئی اور لیڈر کرتا تو شاید ہی اسے مختلف ریاستوں میں ایسا ہجوم اکٹھاکرنے میں کامیابی ملتی۔ کانگریس کے موجودہ صدر کتنے ہی بھاری بھرکم ہوں لیکن وہ اندرونی کشمکش پر قابو نہیں پا سکے ہیں۔ اس کاسب سے بڑاتازہ ثبوت راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت کی وہ بدزبانی ہے جو انہوں نے ریاست کے ایک نوجوان لیڈر سچن پائلٹ کے خلاف کی ہے۔ اس واقعہ کے دوتین دن بعدہی اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ اگر ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کھڑے تھے تو وہ صرف راہل گاندھی کی وجہ سے کھڑے تھے۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ راہل گاندھی اپنا رویہ بدلیں ۔ملکارجن کھڑگے کے صدر رہتے ہوئے بھی وہ قائدانہ کردار اداکرسکتے ہیں۔

دہلی میں ایم سی ڈی کے انتخابات میں گوکہ عام آدمی پارٹی کو کامیابی ملی ہے اور بی جے پی کی 15 سالہ بادشاہت ختم ہوگئی ہے لیکن کانگریس کاکچھ وقار مسلم ووٹوں کی بدولت ہی بچاہے۔اس کی 9 میں سے سات نشستوں پر مسلم امیدوار کا میاب ہوئے ہیں۔ یہ حلقے مسلم اکثریتی حلقے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں نے کانگریس کے ‘ گناہ معاف’کردیئے ہیں۔ لیکن کورونا کے دوران تبلیغی جماعت کو ذمہ دار گرداننے اور پھر مشرقی دہلی کے فسادات کے دوران عام آدمی پارٹی کی حکومت کے غیر مشفقانہ رویہ سے وہ ناراض تھے۔ مسلمانوں کے اس رویہ کا تنقید ی جائزہ لیا جاسکتا ہے لیکن مسلمانوں کا یہ رویہ عام آدمی پارٹی کو بھی خود احتسابی کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر اسے اپنی قومی خواہشات کا نشانہ حاصل کرنا ہے تو مسلمانوں کے احساسات کو سمجھناہوگا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی کانگریس اگر یہ سمجھتی ہے کہ وہ ملک کے ووٹروں کی اتنی بڑی آبادی کو نظر انداز کرکے اپناکھویا ہوا وقار واپس پا لے گی تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ بی جے پی کی ہلکی پھلکی نقل اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکے گی۔ سچی بات یہ ہے کہ بی جے پی نے اپنے لیے جوجارحانہ راستہ منتخب کیا ہے اس راستہ پر چل کر بی جے پی کے سوا کوئی اور جماعت کامیاب نہیں ہوسکے گی۔

گجرات کے نتائج نے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ وہاں بی جے پی نے 27 سال اقتدار کے باوجود خود اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اپنا ہی نہیں اپنے سابق وزیر اعلیٰ او رموجودہ وزیر اعظم تک کاریکارڈ توڑ دیا ہے۔گجرات کو ‘ہندوتو’ کی فیکٹری کہا جاتا رہا لیکن اب وہاں ایسا کچھ نہ نظر آرہا ہے او رنہ ہی اپوزیشن جماعتیں اس اصطلاح کا استعمال کررہی ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ ایسے وقت میں جب وہاں اپنی کھوئی ہوئی زمین دریافت کرنی تھی راہل گاندھی‘ بھارت جوڑو یاترہ’کو وہاں لے کر نہیں گئے۔ پانچ سال پہلے کانگریس کو اچھی خاصی نشستیں حاصل ہوئی تھیں لیکن اس بار وہ ان کا تصف بھی حاصل نہیں کرسکی۔ انتخابی مہم کے دوران کانگریس کی غیر سرگرم موجودگی کو خود وزیراعظم تک نے محسوس کیا تھااو رکہا تھا کہ وہ خاموشی سے کام کررہی ہے ۔ لیکن نتائج بتاتے ہیں کہ کانگریس گجرات میں خاموشی سے بھی کام نہ کرسکی۔ میں اعداد و شمار کے بغیر انتخابی سیاست پر کوئی رائے ظاہر نہیں کرتالیکن میں نے اپنے ذاتی مراسم کے تحت گجرات کے متعدد مسلم حلقوں سے جو معلومات جمع کی ہیں ان کی روشنی میں بلا تکلیف کہہ سکتا ہوں کہ گجرات میں مسلمانوں نے بھی بی جے پی کو ووٹ دئے ہیں۔ یہ تو دوران انتخاب گجرات سے آنے والی متعدد ویڈیوز میں بھی دکھایا گیا ہے کہ مسلمانوں نے بی جے پی کو نہ صرف پسند کیا ہے بلکہ ان کے علاقوں سے ‘ غنڈہ گردی’ ختم کرنے کے اعتراف او رانعام کے طور پر بی جے پی کو ووٹ بھی دیا ہے ۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر مسلمانوں اور ان کے مذہبی وسیاسی قائدین کو ٹھنڈے دل سے غور کرناچاہئے۔

مندرجہ بالا پیراگراف کی آخری سطور ذہن میں رکھئے گا۔ سپریم کورٹ میں 9 دسمبر کو مدھیہ پردیش کے ایک نوجوان آنند کشور چودھری نے رٹ دائر کی تھی کہ ‘گوگل’ کے پلیٹ فارم ‘ یوٹیوب’ سے اسے 75 لاکھ روپئے بطور معاوضہ دلوائے جائیں۔ اس نے الزام عاید کیا تھا کہ وہ پولیس میں بھرتی کاامتحان یوٹیوب کی وجہ سے پاس نہ کرسکا کیونکہ یوٹیوب میں اشتہارات کے دوران جنسی عیاشی کے فحش مناظر بھی آتے ہیں اور وہ ان مناظر کو دیکھ کر پٹری سے اتر گیااورامتحان کی بھرپور تیاری نہ کرسکا۔ جسٹس سنجے کول اور جسٹس اے ایس اوکاکی بینج نے حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پٹیشن اب تک کی سب سے ‘ ظالمانہ’ پٹیشن ہے اور اس کے خلاف بھاری جرمانہ عاید کیاجاناچاہئے ۔ عدالت نے عرضی گزار پر ایک لاکھ روپیہ کا جرمانہ عاید کردیا۔ اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میرا باپ مزدور ہے ‘ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں’مجھے معاف کردیجئے جج صاحب نے کہا کہ جرمانہ کم کیاجاسکتا ہے لیکن معاف نہیں کیا جاسکتا ۔ ا س کے بعد اس پر 25 ہزار کا جرمانہ لگادیا گیا۔

میں مسلم نوجوانوں کے تناظر میں اس مقدمہ کی سنگینی کاجائزہ لے ہی رہا تھا کہ دہلی کے اپنے ہی ایک رپورٹر کے اے پلان میں ایک خبر پر نظر پڑی ، خبر کاعنوان یہ تھا : ذاکر نگر کے نوجوانوں کی ہڑدنگ سے اہل علاقہ پریشان ۔خبر میں بتایا گیا تھا کہ مسلم نوجوان رات کے دو تین بجے تک گلیوں میں ہڑ دنگ مچاتے پھرتے ہیں اور اس کی وجہ سے گھر کی عورتیں‘نمازی افراد’ بوڑھے مریض اور اسکولی بچے رات کو سونہیں پاتے۔ یہ خبر 10 نومبر کے شمارہ میں شائع ہوئی ہے۔میں نصف شب میں اس مضمون کی کچھ سطور تحریر کرتے وقت اس خبر کی سنگینی کاجائزہ لے رہاتھا کہ صبح فجر کی نماز میں لوگو ں نے بتایا کہ رات کو چند شرابی نوجوانوں نے جوگابائی ایکسٹینشن میں دسیوں راہ گیروں کو پیپر کٹر سے زخمی کردیا ۔ کسی کی ناک کاٹی اور کسی کاہاتھ ۔یہ سب آخر کون کررہا ہے ؟ خالص مسلم بستیو ں میں باہر کا تو کوئی گروہ نہیں آئے گا۔ یہ سب اسی علاقہ کے مسلم نوجوان ہیں۔ میں ایک سفر سے لوٹا ہوں۔ کئی روز تک زعماء قوم سے ملاقاتیں رہیں۔ ہر طرف یہی بات ورد زبان تھی کہ مسلم نوجوانوں میں ناقابل بیان بد اخلاقیاں درآئی ہیں۔گزشتہ 5 دسمبر کو دوران سفر دیوبند کے ایک نوجوان عالم دین کافون آیا۔ معلوم کررہے تھے کہ کل 6 دسمبر ہے ‘ ایک ریلی کا ارادہ ہے’ اس میں کیا نیا عزم کیا جائے ؟ میں نے کہا کہ اس ریلی میں سب سے پہلاعزم تویہ کیجئے کہ جو مسجد میں میسر ہیں انہیں نمازوں سے آباد کریں گے۔ دوسرا عزم یہ کیجئے کہ جھوٹ سے توبہ کریں گے اور تیسرا یہ کہ نوجوانوں کی دینی تربیت کے ذریعہ اسلام کی صحیح تصویر ان کے عمل سے پیش کریں گے۔

لکھنومیں زعماء قوم کے ایک بڑے پروگرام میں میں نے یہی بات اس طرح دوہرائی کہ 2014 میں آپ کے ووٹ کو بے اثر کیا گیا 2019 میں آپ کے ووٹ کو بے وقعت کیا گیا لہٰذا افی الحال سیاسی محاذ آرائی کاکوئی فائدہ نہیں۔ مشکل سیاسی وقت کی شکل میں خالق کائنات نے یہ ایک عمدہ موقع عطا کیا ہے اس موقع کو اپنی اصلاح کیلئے استعمال کیجئے ۔ہماری نوجوان نسلیں موبائل کے زہر کی معرفت ہر طرح کی مخرب اخلاق عادتوں کاشکار ہوگئی ہیں۔ ان کی اصلاح کی بظاہر کوئی موثر سرگرم اور عملی مہم نظر نہیں آرہی ہے۔ کتابیں خوب لکھی جارہی ہیں لیکن ان کی کتابوں کو نئی نسلیں پڑھ ہی نہیں رہی ہیں۔ گھروں سے اردو زبان اٹھتی جارہی ہے۔ والدین اور سرپرستوں کاکوئی رعب و دبدبہ نظر نہیں آرہا ہے۔ کیااس صورتحال کے انجام کامسلمانوں کو کچھ اندازہ نہیں ہے؟

11 دسمبر،2022 ،بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

-------

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/-gruesome-consequence/d/128616

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..