New Age Islam
Thu Mar 05 2026, 07:59 AM

Urdu Section ( 15 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Truth behind Taliban's Fatwa Justifying Killings of Innocent Civilians Part-5 نوائے افغان جہاد کا فتویٰ اور اس کی حقیقت: (قسط۔۵) ۔ قرآن ، حدیث اور فقہ کا غلط انطباق

سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

نوائے افغان جہاد میں اپنے مضمون ‘‘ وہ حالتیں کہ جن میں کفار کے عام لوگوں کا قتل بھی جائز ہے’’ میں یوسف العبیری مثلہ کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ اگر کفار مسلمانوں کے عورتوں او ربچوں کا قتل کرتے ہیں تو مسلمانوں کے لئے بھی یہ جائز ہوجاتا ہے کہ وہ بھی کفار کے عام لوگوں او ر عورتوں او ربچوں کا قتل کریں ۔ اپنے اس فتوے کی حمایت میں قرآن کی وہی آیت پیش کرتے ہیں جس میں بدلہ لینے کی اجازت دی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے اس اقتباس کا حوالہ دیا گیا ہے ۔

‘‘اگرچہ مثلہ کرنے سے منع کیا گیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے اس چیز کو مباح قرار دیا ہے کہ وہ کفار کامثلہ کریں ۔ جبکہ انہوں نے مسلمانوں  کا مثلہ کیا ہو۔ ’’

یوسف العبیری اپنے ایک غلط مؤقف کو ڈھکے چھپے انداز میں قرآن کی آیتوں اور علماء او رفقہا کی عبادتوں  کی غلط پیش کش سے صحیح قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ جنگ کی حالت میں اسلام ان لوگوں سے مناسب طریقے سے بدلہ لینے کی اجازت دیتا ہے جو مقابلہ کرتے ہیں یا جنہوں نے قتل کیا ہو یا اعضاء کاٹے ہیں لہٰذا ، ابن تیمیہ کی عبارت یا قرآن کی آیت (بدلہ سے متعلق) صرف انہی لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے جنگ کیا ہو۔ چونکہ طالبان بے خبری میں شہریوں اور اپنے دشمنوں (امریکی فوجی، ناٹو فوجی، افغانستان حکومت کے وزراء ، ایم پی ، سرکاری افسران اور ان کے حامی شہریوں)پر بے خبری میں حملے کر کے انہیں ہلاک کرتے ہیں جن میں بچے او ر عورتیں بھی ہوتے ہیں اس لئے وہ ان سب کے قتل کو جائز ٹھہرانے کے لئے اس طرح کی لنگڑی لولی دلیلیں پیش کررہے ہیں ۔ جب کہ خود بحالت مجبوری ان حدیثوں کو نقل کررہے ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلہ سے منع فرمایا ہے ۔

 ‘‘مثلہ سے قرآن اور حدیث میں مراد ویسا ہی بدلہ ہے جو اسی شخص سے اتنی ہی مقدار میں لیا گیا ہو جتنا کسی پر ظلم ہوا ہے ۔ ’’ مگر طالبان کے عالم کا مؤقف ہے کہ مثلہ سے مراد دشمن کی قوم کے بے قصور افراد سے بدلہ لینا ہے جب کہ یہ صریح علمی بددیانتی اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ اس سے پہلے بھی قرآن کی یہ آیت پیش کی گئی ہے ۔

‘‘ اور کوئی بوجھ اُٹھا نے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھا ئے گا ۔’’(الاسراء۔ ۱۵)

مگر یوسف العبیری بڑی دیدہ دلیری سے کہتے ہیں

‘‘ یہ شبِہ باطل او رغلط ہے ۔حتیٰ کہ اگر ہم اسے جنگ جوؤں پر ہی لاگو کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے جنگ جوؤں سے لڑتے تھے جبکہ حقیقت  میں تو معاہدہ بنی بکر بن وائل نے توڑا تھا یا قریش کے سرداروں نے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنی قریضہ کے مردوں، بوڑھوں اور ا ن کے مزدوروں  سے لڑتے تھے جب کہ انہو  ں نے تو معاہدہ نہیں توڑا تھا بلکہ اُن کے بڑوں اور اہل رائے لوگوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس جرم کی وجہ سے سات سو جانوں کا قتل کیا اور جو بچ گئے ان کو غلام بنالیا ۔ اسی لئے علمائے کرام دشمن کے لوگوں کا مثلہ کرنے کو مطلق جائز قرار دیتے ہیں ۔ اس کے ساتھ یہ شرط نہیں لگاتے کہ مثلہ صرف فاعل کا کیا جائے گا۔’’

اس کا جواب یہ ہے کہ کوئی معاہدہ فریقین کے رہنماؤں اور سرداروں کے درمیان ہی ہوتا ہے جو دو گروہوں کا نمائندہ ہوتا ہے ۔ لہٰذا سرداروں کے ذریعہ معاہدہ توڑنے کا مطلب ہے کہ ان کی قوم نے اس خلاف ورزی کی تائید  کی ۔ لہٰذا ، اس کے بعد جن لوگوں نے مسلمانوں کے خلاف ان کا ساتھ دیا او رلڑے اور ان سے دشمنوں کا سا سلوک کیا گیا اور جنہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور کنارے ہوگئے انہیں چھوڑ دیا گیا ۔ ظاہر ہے جو لوگ لڑے وہ مارے گئے اور جنگ کے اصول کے مطابق جو مغلوب ہوگئے وہ جنگی قیدی کہلائے ۔ مگر جس زبان او رلہجے میں یوسف العبیری نے اس بات کو پیش کیا ہے اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بے قصوروں ، امن پسند عوام او رنہتے لوگوں کو قتل کیا او رغلام بنایا ۔ اس طرح انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کیا ۔ اسلامی تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ قریش کے قبائل او رمدینے اور آس پاس کے یہودی قبائل اکثر معاہدے توڑ دیتے تھے او ربے خبری میں مسلمانوں پر حملے کرتے تھے ۔ لہٰذا ، ایسے جنگجو قبائل سے مسلمانوں کو جنگ کرنی پڑتی تھی مگر یوسف العبیری جنگ کی حالت کااطلاق حالت امن میں اپنے دہشت گرد گروہ کی دہشت گردانہ سرگرمیوں پر کرتے ہیں جن کے نتیجے میں بے قصور افراد بے خبری کی حالت میں مارے جاتے ہیں ۔

‘‘ اسی لئے علماء کرام دشمن کے لوگوں کا مثلہ کرنے کو مطلق جائز قرار دیتے ہیں ۔ اس کے ساتھ یہ شرط نہیں لگاتے کہ مثلہ صرف فاعل کیا جائے گا۔’’

یہ بات انتہائی گمراہ کن او رغیر شرعی ہے او راسے صرف طالبان کی غیر اسلامی سر گرمیوں کو جائز ٹھہر انے کے لئے کیا گیا ہے ۔ ان کی رائے میں مثلہ صرف فاعل کا نہیں بلکہ فاعل کے جرم کی سزا اس کی بیوی، بچوں، بھائیوں او رقوم کے دوسرے افراد کو بے خبری میں ہلاک کر کے دی جائے گی ۔ جب کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر متحارب افراد ، بچوں ،عورتوں او ر بوڑھوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ اور قرآن صرف اسی کو سزا دینے کے حق میں ہے جو جرم او رظلم کا مرتکب ہوتا ہے ۔ انہوں نے جتنے علماء کا قول نقل کیا ہے وہ سب یہی  کہتے ہیں کہ لڑنے والے کے ساتھ برابری کا بدلہ لیا جاسکتا ہے مگر ان اقوال سے یوسف العبیری نے  زبردستی یہ مطلب نکالنے کی کوشش کی ہے کہ بدلہ سے مراد دشمن کی بیوی، بچوں او ران کی قوم کے دوسرے افراد سے بدلہ بھی شامل ہے جب کہ متن میں یہ بات کہیں موجود ہی نہیں ہے ۔

ملا العبیری نے اس ضمن میں قرآن کی اس آیت کا حوالہ دیا ہے ۔

‘‘ اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ہو ا تو وہاں کے آسودہ لوگوں کو (فواحش) پر مامور کردیا تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے ۔ پھر اس پر (عذاب) کا حکم ثابت ہوگیا اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا ’’

اس آیت کی تشریح میں ملاّ العبیری کہتے ہیں

‘‘ شریعت نے جرائم کی مذکورہ بالا حالتوں کی یہ سزائیں  اس لئے رکھی ہیں کہ یہ اجتماعی معصیتیں شمار کی جاتی ہیں ...... اسی لئے فرد کی سزا جماعت کو دی جاتی ہے  تاکہ جماعت کو مجرم کے فعل سے پہلے اس کا ہاتھ پکڑنے پر ابھارا جائے ’’۔

گویا افغانستان او رپاکستان کی منتخب حکومت کی حمایت کرنے والے عام مسلمان شہری اجتماعی طور پر گنہ گار ہیں اسی لئے خدا نے طالبان کو یہ حق دیا ہے کہ وہ ان دونوں ملکوں کے عوام اور ان کے نمائندوں کو خود کش بم دھماکوں سے ہلاک کرتےر ہیں جب تک کہ وہ ان حکومتوں کی حمایت سے باز نہ آجائیں  اور طالبانیوں کی حکومت کو قبول نہ کرلیں۔ اسی کوکہتے ہیں کہیں کی  اینٹ کہیں کا روڑہ .... بھان متی نے کنبہ جوڑا۔

قرآن میں کچھ قوموں کا ذکر ہے جن کی اکثریت گناہوں میں ڈوب گئی تھی لہٰذا ان کی سرکشی کی پاداش میں اللہ نے ان کو ہلاک کردیا ان قوموں میں سے چند ہیں قوم نوح، قوم لوط ، قوم عادوثمود  مدین والے وغیرہ ۔خد ان بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا جہاں نیک لوگ بڑی تعداد میں ہوں۔ اور ان میں بھی ان کے شکار معصوم عورتیں اور بچے ہیں ۔

مندرجہ بالا  آیت کو نقل کرنے کے پیچھے بھی طالبانی عالم کا مقصد یہ ہے کہ دشمن قوم کے ‘‘غیر مرتکب افراد’’ کو بھی واجب القتل قرار دیا جائے ۔ جبکہ ایک حدیث میں ہے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

‘‘ جب خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فوجوں کو روانہ کرتے تو ان کو حکم فرماتے ’’ دغا فریب سے کام نہ لو ، مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، لاشوں کو مسخ نہ کرو او ربچوں اور مذہبی رہنماؤں کو قتل نہ کرو۔’’

جناب ابو یوسف اپنی کتاب ، کتاب الخراج میں لکھتے ہیں

‘‘کوئی بھی امن پسند غیر مسلم شہری کو اس کے ہم مذہبوں کے ظلم کی سزا نہیں دی جائیگی ۔’’

لہٰذا ، ملاّ یوسف العبیری کا یہ کہنا کہ دشمن کے ظلم یا زیادتی کا بدلہ اس کی بیوی ، بچوں اور اس کی قوم کے دوسرے افراد سے لینا جائز ہے صریح جہالت ہے اور غیر اسلامی وغیر شرعی ہے ۔ اس فتوے کا جواز نہ قرآن میں  ہے نہ حدیث میں  او رہی فقہہ اسلامی میں ہے ۔

URL of the Part 1 of the series:

https://www.newageislam.com/urdu-section/sohail-arshad,-new-age-islam,-سہیل-ارشد/the-truth-behind-talibn-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(-قسط۔1)/d/9556

URL of the Part 2 of the series:

https://www.newageislam.com/urdu-section/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-نوائے-افغان-جہاد-کا-فتوی-اور-اسکی-حقیقت۔۔-قسط-دو/d/9573

URL of the Part 3 of the series:

https://www.newageislam.com/urdu-section/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians--part-3---نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(-قسط۔۳)۔-خود-کشی،منشیات-اور-خارجیت-پر-مبنی---طالبانی-فکر-و-عمل/d/9613

URL of the Part 4 of the series:

https://www.newageislam.com/urdu-section/sohail-arshad,-new-age-islam/the-truth-behind-taliban-s-fatwa-justifying-killings-of-innocent-civilians-part-4------نوائے-افغان-جہاد-کا-فتویٰ-اور-اس-کی-حقیقت--(قسط۔4)-۔-طالبانی-عالم-کاغیر-مسلموں-کے-قتل-کا-غیر-اسلامی-فتوی/d/9661

URLhttps://newageislam.com/urdu-section/the-truth-behind-taliban-fatwa/d/9690

Loading..

Loading..