New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 01:40 AM

Books and Documents ( 10 Jul 2020, NewAgeIslam.Com)

The Spirit Of Islam: Preface- Social And Religious Conditions Of the Aryans- Part 3 روح اسلام: بعثت اسلام کے وقت آریہ قوم کے مذہبی ومعاشرتی حالات


سیّد امیر علی

مقدمہ (قسط دوم)

اگر ہم ایک قدم پیچھے ہٹ کر نگاہ ڈالیں تو ہمیں ہندوستان میں آریائی فتوحات کا سیلاب صدیوں تک مشرق اور جنوب کی سمت بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ وہ آریائی مذہب جو حملہ آور اپنے قدیم وطن سے اپنے ساتھ لائے تھے، زیادہ تر دو چیزوں پر مشتمل تھا۔یعنی اجداد کی ارواح کی پرستش اور مرئی مظاہر میں مجسم قوائے فطری کی پرستش۔پنجاب میں روحانی تصور نے مزید نشو و نما پائی۔ ویدوں میں ہمیں ترقی کا کارواں آگے برھتا ہوا دکھائی دیتا ہے تاکہ ہم اُنپشدوں میں ہندوؤں کے مذہبی خیالات کو اپنے اوج کمال پر پہنچا ہوا دیکھتے ہیں۔ اُنپشدوں میں روحانی ولولہ اس شدت سے ہے کہ وہ بلند ترین و حدانیت کے قریب جا  پہنچتا ہے۔ اُنپشدنہ صرف خدا کے نفوذِ مطلق سے بحث کرتے ہیں،جو ایک ایسا تصور ہے جس نے بعد کے زمانوں میں مادّی وحدت الوجود کی صورت اختیار کرلی، بلکہ یہ تعلیم بھی دیتے ہیں کہ روحِ مطلق پریم آتما، تمام موجودات کی محافظ اور ساری کائنات کی حاکم ہے، وہ انسانوں کے دلوں میں رہتی ہے اور آخر الامر انفرادی روحوں کو لامتنا ہیت میں یوں جذب کر لیتی ہے جیسے سمندر دریاؤں کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔ جب یہ انجذاب ہوجاتا ہے، تو انسانی روح پر کالبدِ خاکی میں جو تجربات گزرے ہوتے ہیں وہ ان سب کا شعور کھودیتی ہے لیکن انسانی ترقی کی ان دلچسپ دستاویزوں میں بلاشک و شبہ روحانی انحطاط کے جراثیم موجود تھے جنہوں نے بہت جلد ارتقاء کے عمل کا رُخ پلٹا دیا۔ چنانچہ مزید عروج کی بجائے ہمیں مسلسل تنزل دکھائی دیتا ہے۔ انپشدوں کا مقام پرُان حاصل کرلیتے ہیں اور پھر تنتروں کا طریق پرستش پرانوں کو اس مقام سے ہٹا دیتا ہے۔

انپشدوں میں جو خیال بار بار دہرا یا گیا ہے کہ پرم آتما مختلف صورتوں میں جلوہ گر ہوتی ہے اسی سے اوتارو ں کا تصور پیدا ہوا۔ جس طرح مغربی غیر اہل کتاب کا فلسفہ کائنات نفس عامہ کی اس زبردست خواہش کی تسکین نہ کرسکا کہ اسے ایک شخصی خدا مل جائے جو انسانوں میں رہ چکاہو اور ان کے ساتھ آئے دن کا میل جول رکھ چکا ہو،اسی طرح انپشدوں کے موحّدانہ ولولے ہندوستان کے عوام کو جذباتی تشفی بہم نہ پہنچا سکے۔ چنانچہ انہوں نے بہت جلد کشتری جاتی سے ایک بیر دیوتا ڈھونڈنکالا، جس کے متعلق تھوڑی مدت کے بعد یہ عقیدہ رائج ہوگیا کہ وہ بنفسہ پرماتما تھا اور پرمیشور کا اوتار بن کر اس سنسار میں زندگی بسر کرنے آیا تھا۔

کرشن بھگتی کو اپنی حریف کالی پوجا کی طرح جو عام مقبولیت حاصل ہوئی وہ صرف اس امر کی پر زور شہادت دیتی ہے کہ ساتویں صدی عیسویں میں ہندوستان کسی مذہبی ابتری میں مبتلا تھا بلکہ اس وسیع خلیج کوبھی نمایاں کرتی ہے جو انپشدوں اور بھگوت گیتا۱؎  کے لکھنے والے فلسفیوں کے ذہنوں او ر عوام کے خیالات و جذبات کے درمیان حائل تھی۔ یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ اس علاقے میں داخل ہونے سے پہلے جسے صحیح معنوں میں ہندوستان یا آریہ ورت کہا جاتا ہے ان آریوں نے جو پنجاب میں آباد تھے ان کے پروہتوں اور مذہبی معلموں نے بہت سخت قاعدے وضع کئے تھے جن کا مقصد یہ تھا کہ آریوں نے اپنے طول طویل فاتحانہ کرچ کے دوران جن قوموں کو مطیع و منقاد بنایا تھا ان میں خلط ملط نہ ہوجائیں۔ ان قوموں کو سماج کے اسفل ترین طبقے میں جگہ دی گئی، ان کو اچھوت قرار دیا گیا اور جو مذہبی رسومات اونچی ذاتوں کے لیے مقرر تھیں وہ ان کے لیے سختی سے ممنوع کردی گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  زمانہ حال کا ایک مصنف کہتاہے کہ بھگوت گیتا میں بے شک وحدانیت کے نشان پائے جاتے ہیں لیکن وہ غیر موحدانہ عناصر کے ساتھ مخلوط ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔

وحدت الوجود کے موضوع پر آریائی ہندو فکر میں جو مدوجز ر آئے ہیں ان سب کے دوران ارواحِ اسلاف کو پرستش مذہبی ومعاشرتی نظام کا ایک لازمی جزوبن کر ہندوؤں کے ذہنوں میں جمی رہی ہے۔ یوں تو شودروں کو بھی اجازت تھی کہ اپنے آباؤ اجداد کی ارواح پر چڑھاوے چڑھائیں، لیکن اگر کوئی برہمن ان کی پوجا میں شریک ہوتا تو اسے بڑی سنگین سزا دی جاتی۔ اگر کوئی شودر اتفاقاً کسی برہمن کو منتر پڑھتے ہوئے سن پایا تو اس کے لیے یہ سزا مقرر تھی کہ اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا جائے۔ اگر وہ کسی برہمن کے برابر چوکی پر بیٹھ جاتا تو اس کے بدن کو گرم لوہے سے داغ دیا جاتا ہے۔شودروں اور تین اونچی جاتیوں کے لوگوں کی آپس میں شادیاں انتہائی بیر حمانہ سزاؤں کی مستوجب اور قطعاً ممنوع تھیں۔ لیکن اس قسم کی قانونی پابندیاں بھی آریوں کے مذہبی افکار و عبادات کو اصلی باشندوں کے عقائد کااثر قبول کرنے سے نہ روک سکیں۔ مرور زمانہ کے ساتھ غیر آریہ قوموں اور قبیلوں کے دیوتاہندوؤں کی دیومالامیں داخل ہوگئے اور ان کی پوجا ہندوؤں کی آئے دن کی ریتوں میں شامل ہوگئی۔ بھانت بھانت کے پختہ اور خام، نئے اور پرانے عقیدوں کے گڈ مڈ ہوجانے کا نتیجہ ناگزیر طور پر یہ ہوا کہ فلاسفہ صدیوں سے جس پیچیدہ اور دقیق وحدت الوجودی نظام خیال کے ارتقا میں مصروف تھے اس میں ابتذال آگیا۔

جب تک تابعین اسلام نے وہ پردہ نہ اٹھا یا جس کے پیچھے ہندوستان ہزاروں سالوں سے ایک پراسرار زندگی بسر کررہا تھا۔ اس وقت تک ہندوستان کی کوئی تاریخ نہ تھی۔ یہ کہنا نا ممکن ہے کہ واسودیو کرشن کس زمانے میں گزرایااس کی شخصیت کیسی تھی۔اس کے بارے میں ان گنت کہانیاں ہیں، جو جوبے سرد پا اور لچر معلوم ہوتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کہانیاں پر دہتوں نے گھڑیں، جودیوتاؤں سے اونچے نہیں تو ان  کے ہمسر ضرور بن گئے تھے اور جن کا فائدہ اس میں تھا کہ عوام کے دلوں کو لبھائے اور رجھائے رکھیں۔ واسودیو کرشن کو ہندو دیومالا میں وشنو کے اوتار کامقام حاصل ہے اور اس حیثیت سے وہ بھگوت گیتا کے اس حصے کی جو بھگتی سے تعلق رکھتا ہے مرکزی شخصیت ہے۔ وہ بدیسی طور پر اایک جامع شخصیات دیوتا ہے۔ اس کی ایک شخصیت وہ منش دیوتا وہ رنگیلا کنھّیا ہے جو گوکل کے کوالوں میں رہتا تھا اور برانداسن کے مشہور کنجوں میں اپنی ہمجولیوں کے ساتھ لیلا رچاکر اپنا جی بہلا تا تھا۱؎۔

واسو دیو کرشن کے مسلک کا بنیادی رکن یہ تھا کہ پورا پورا دھرم یعنی ایمان مکتی یعنی نجات کی کنجی ہے جو کوئی وشنو کے اس اوتار پرایمان لے آتا اس کے اعمال چاہے کیسے ہی ہوتے اسے ابدی سعادت کا نصیب ہونا یقینی تھا۔

اس کامل ایمان کے نظریے نے بعض ایسی رسومات اور عقائد کو جنم دیا جو اب تک ہندوستان میں رائج ہیں۔ چونکہ پارسائی اس پر مشتمل سمجھی جاتی تھی کہ کرشن کو پرماتما سمجھ کر اپنے من میں بسا لیا جائے اور پھر اپنے من سے پوری پوری لو لگا لی جائے، اس لیے عام لوگ بیراگ اور سنیاس کو مہاپُن تصور کرنے لگے۔ آنکھیں اپنے بدن کے کسی ایک حصے پر جما کر اور من کو کرشن جی سے لگاکر سالہا سال تک جنگل میں بیٹھے رہنا، برسوں تک ایک ٹانگ پر کھڑے رہنا، بدن میں آنکڑے گڑواکر ادھر ادھر گھسٹتے پھرنا،یہ سب ایسے کام تھے جو سب پاپ دھو ڈالتے تھے۔ اگر کسی شخص کو کسی گناہ کاکفارہ دینا یا کوئی منت ماننا منظور ہوتاتو وہ کسی آدمی کو کچھ دان دے کر اس کام پر لگا دیتا کہ وہ اس کے گھر سے دیوتا کے مندر تک کا راستہ اپنے بدن کی لمبائی سے ماپتا ہواچلا جائے۔ بھگوت گیتا کا پورے دھیان کے ساتھ پاٹھ کرنے سے یا گنگا جل میں اشنان کرنے سے ساری برائیاں دوش اور پاپ دھل جاتے تھے۔

شکتی پوجا نے بہت سے ہندوؤں کے دلوں پر جو سکّہ جما رکھا ہے وثوق سے کہنا مشکل ہے کہ یہ سکّہ اس نے کب جمایا۔ شکتی پر ہندو دیوتا کانسوانی نصف اور فعّال تخلیقی پہلو ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  سری کرشن کو عموماً گوپال کرشن (یعنی کرشن گوالا) کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ ان کی ہمجولیوں کو گوپیاں (یعنی گوالئین) کہا جاتا ہے۔ اہیرو ں، یعنی شمالی ہند کے گوالوں، کے اس سورما دیوتا کے بارے میں بہت سی پر لطف کہانیاں مشہور ہیں۔ بعض لوگوں نے اسے ہندوؤں کے اپالو کا لقب دیا ہے لیکن یہ لقب کچھ پھبتا نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیوجی کی شکتی یا استری وہ بھیانک دیوی ہے جو پاربتی،بھوانی، کالی، مہاکالی، درگا، چمنڈا، اور دوسرے ناموں سے پکاری جاتی ہے۔ اس دیوی کی پوجا، جیسے کہ وہ بھوابھوتی کے ڈرامے میں، جو غالباً ساتویں صدی عیسوی میں لکھا گیا،بیان کی گئی ہے، انسانی قربانیوں اور دوسری انسانی سوز رسموں کے ساتھ کی جاتی تھی۔ اسے چاہے کسی نام سے پکارا جائے اور اس کی پوجا چاہے کسی طریقے سے کی جائے، اس میں عیسائی مذہب کی ”مادر غمخوار“ (mator dolorosa)کی سی بات نہیں پائی جاتی۔ اسکندریہ کے پجاری آئی سس (I SiS) دیوی کی طرف جو انسانی رحم اور انسانی دکھ درد سے ہمدردی منسوب کرتے تھے اس کا بھی شائبہ تک ہندوؤں کی خوفناک دیوی میں موجود نہیں۔ یہ ہیبت ناک دہشت انگیز تصور جو تنزل پذیر مذہبی نفوس کی پیداوار ہے، صریحاً غیر آریہ قوموں سے مستعار لیا گیا اور یہ ایک ایسا تصور ہے جس کی کوئی نظیر دنیا کے غیر اہل مذاہب میں نہیں ملتی۔ اور تو اور ہبلی (Chybele) یعنی اہل روما کی مادرِ کبریٰ (magana mater)بھی اتنی بے رحم اور انسانوں کو دکھ پہنچا نے کی اتنی شائق نہ تھی جتنی تباہی کے دیوتا شیو کی شکتی تھی۔ اس دیوی کی پوجا تنتروں کی رسومات کے مطابق کی جاتی ہے جو گویا شکتی دھرم کی بائیبل ہیں۔ تنتروں کے بہت سے بھجن بھکتی اور سادھنا سے بھرے ہوئے ہیں او ر دیوی سے جو پرارتھنا ئیں کی گئی ہیں ان میں اکثر اس سے دیا او ر کوپاکی بھیک مانگی گئی ہے لیکن فلسفیوں کے لیے تنتروں میں خواہ کیسے ہی صوفیانہ معانی ہوں، عام لوگ ان کی تباہی ہوئی پوجا پر لغواً عمل کرتے ہیں ۱؎

۔۔۔۔۔۔۔

۱؎  تنتری پوجاریوں کے دو بڑے بڑے گروہ ہیں، دکھنا چاری اور برہمچاری، یعنی دائیں ہاتھ کی اور بائیں ہاتھ کی ریتوں پر عمل کرنے والے دکھنا چاریوں کی پوجا کھلے طور پر ہوتی ہے اور اس میں دوسری دیویوں، مثلاً وشنو دیوتا کی شکتی لکشمی یا مہا لکشمی سے بھی خطاب کیا جاتا ہے، یہ برہمچاریوں کی پوجا میں جسے خاص طور پر تنتر یکا کہا جاتا ہے،کالی دیوی بلا شرکت غیر سے معبود ہوتی ہے۔ یہ پوجا تنہائی میں کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس میں بہت سی ناپاک رسمیں ہوتی ہیں۔ سارے ہندوستان  میں برہمچاری پنتھ کے پیرو بڑی تعدادمیں پائے جاتے ہیں اور اس کی بے شمار شاخیں ہیں۔ درگا پوجا میں، جو عموماً اگست (باقی حاشیہ ۶۱ پر دیکھیں)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہندوؤ ں کے دو بڑے حماسوں سے، جن میں سے ایک پانڈوؤں اور کوروؤں کی لڑائی اور دوسرا لنکا کے راجہ راون کے ہاتھوں سیتا کے اغوا کی کہانی بیان کرتا ہے، ہمیں کافی وضاحت کے ساتھ پتہ چل جاتا ہے کہ اس زمانے میں کس قسم کے مذہبی عقیدہ اور طریقے عوام میں رائج تھے، دونوں حماسوں میں ایک خاصے ارتقا ء یافتہ معاشرے کانقشہ کھینچا گیا ہے جس میں کافی مادی ترقی ہوچکی تھی، لیکن ساتھ ہی ساتھ اخلاقی انحطاط بھی بہت بڑھ چکا تھا۔ چنانچہ بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کے خروج سے بہت مدت پہلے ہندوستان کے عوام میں مذہبی عبادت محض بلیدانو ں اور چڑھاووں کا ایک رسمی مجموعہ سن کر رہ گئی تھی، جس میں ثواب کا معیار پوجا کرنے والے کی نیکی یا پرہیزگاری نہیں بلکہ پروہت (جس کے بغیر ان رسموں کا اداکرنا سرے سے ممکن ہی نہ تھا) کی یہ صلاحیت ہوتی تھی کہ وہ مناسب جنتر منتر پڑھ کر دیوتا کو دعا قبول کرنے پر مجبور کرسکے۔ گوتم بدھ اور مہابیر نے جو بغاوت کی وہ خود غرض پروہتوں کے اقتدار کے خلاف ہندوؤں کے دل سے اٹھنے والی ایک آواز تھی۔ دونوں مذہبی پیشوا اس کے منکر ہیں کہ اس کا ئنات کا کوئی خالق ہے یا اس پر کوئی ایسی عقل کل حکمراں ہے جو اس کا نظام چلا رہی ہے، لیکن دونوں یہ اعلان کرتے ہیں کہ انفرادی زندگی بالآخر معدوم ہوجائے گی اور دونوں یہ کہتے ہیں کہ یہ نیک انجام صرف اچھے کاموں کے ذریعے حاصل ہو سکتا ہے۔ لیکن ان میں ایک فرق ہے۔ جین مت تو ہندو مت سے وابستہ رہا ہے اور اب عملی طور پر برہمنوں کے مذہب کا ایک فرقہ بن گیاہے۔ لیکن بدھ مت نے جرأت سے کام لے کر ایک نئی روش کی داغ بیل ڈالی اور اس پرچل نکلا۔ اس نے کرم یعنی عمل کر مکتی کا واحد وسیلہ قرار دیا اور اس کے جلیل المرتبت بانی نے عمر بھر عمل کے میدان میں جد وجہدکی موت کے بعد انسان کی تقدیر کے بارے  میں بدھ کا جو تصور تھا وہ برہمنی نظریوں کی عین صند تھا اور اس کا سّری تصوف بہت جلد دوسرے مذاہب میں سرایت کر گیا۔ لیکن اپنی جنم بھومی میں ایک مختصر مگر شاندار زندگی بسر کرنے کے بعد بد ھ مت انتہائی مصائب سے دو چار ہوا۔ ظفر مند برہمن دھرم نے اسے جو سنگین سزائیں دیں ان کی روداد جنوبی ہندوستان کے مندروں کی دیواروں پر منقوش دکھائی دیتی ہے۔ بہر حال یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اپنی اصلی صورت میں بدھ مت وہ کشش نہ رکھتا تھا جس کی بدولت برہمن دھرم نے اپنے پیروؤں کے دل موہ لیے۔ اس نے کبھی ایک مثبت دین ہونے کا دعویٰ نہ کیا۔ کاس کی جزائیں اور سزائیں آئندہ زندگی میں راحت و سعادت کے وعدے، اس زندگی میں فرائض نہ ادا کرنے کے نتیجے، سب اتنے مبہم تھے کہ عام لوگوں کے دلوں پر ان کا کوئی اثر نہ ہوسکتا تھا۔ بہت جلد اس کے لیے ضروری ہوگیا کہ یا تو خارجی دنیا سے مقابلہ ترک کر دے یا جس مذاہب کی جگہ لینے کی اس نے کوشش کی تھی اس سے سمجھوتہ کرے۔ چنانچہ اسے اپنے پیروؤں کو یہ اجازت دینی پڑی کہ نیک کاموں کو چھوڑ کر پوجا پاٹ میں مگن ہوجائیں یا اس کی بے لطف تعلیمات میں دلچسپی پیدا کرنے کیلئے تنترک رسومات اختیار کریں۔ اسے اپنے اصلی وطن میں نہایت موافق حالات کے تحت جو ناکامی ہوئی اس نے داس کی کوئی گنجائش نہ چھوڑی کہ وہ اپنے آپ کو ایک ولولہ انگیز مذہبی نظام ثابت کرسکے۔ اگر چہ یہ درست ہے کہ اس کے بعض صوفیانہ پہلو مغربی ایشیا اور مصر کے فلسفوں پر بڑی حد تک اثر انداز ہوئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(بقیہ حاشیہ ۵۱؎) کے مہینے میں منائی جاتی ہے، درگا کی مورتی کو سنگھاسن پر بٹھاکر جلوس نکالے جاتے ہیں۔شمالی ہندوستان میں اس مورتی کو ہلدیا رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ بنگال میں اس کی مورتی بالکل کالی ہوتی ہے، اس کے چار ہاتھ ہوتے ہیں اور وہ شیر پر سوار ہو تی ہے۔ کالی گھاٹ (جس سے کلکتہ کانام پڑا) کے مندر میں دیوی خونچکاری سریوں کی ایک مالا پہنے ہوتی ہے۔ جے پور کے ایک مندر میں دیوی کا سر پیچھے کومڑا ہوا ہے۔ روایت ہے کہ انسان کی بجائے اسے بکری بھینٹ چرھائی گئی تو اس نے گھن کے مارے منہ پھیر لیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بدھ مت کے ہندوستان سے دیس نکالنے کے بعد برہمن دھرم نے دوبارہ غلبہ حاصل کرلیا۔ جس زمانے میں بدھ مت کا راج تھا اس زمانے میں برہمن دھرم نے جو برُے دن دیکھے تھے ان سے اس کا کوئی سبق نہ سیکھا تھا۔ اس کے روحانی تصورات میں کوئی اصلاح نہ ہوئی تھی چنانچہ وہ بے جان رسم پرستی جس کے خلاف مہاتما گاندھی نے بغاوت کی تھی۔ آگے سے بھی وہ استواربنیادں پر از سر نو قائم ہوگئی۔ بحال شدہ برہمن راج میں لوگو ں کی زندگیوں پر ایک ایسے مذہب کا آگے سے بھی کڑا پہرا لگ گیا جو محض قربانیو ں کا ایک سلسلہ تھا۔ یہ مذہب لوگوں کے روحانی تقاضوں کی تو کیا تسکین کرتا؟ البتہ وہ ان کے حواس اور غالباً ان کے جذبات کر بھاتاتھا۔ عام لوگوں کی مذہبی عبادت بے معنی اور بیہودہ رسموں کا ایک روزانہ چکر بن گئی۔ ان کے معبود پروہت تھے،اگلوں کی روحیں تھیں اور محض ظاہر داری کے طور پر ویدوں کے دیوتا تھے۔ ہندوستان کے اصلی باشندوں سے جو بت پرستی ہندوؤں نے سیکھی تھی اسے نہ ان کا فلسفہ بدھ مت کی اخلاقی تعلیم مٹاسکی۔ اس نے اب تمام جاتیوں کی اندرونی زندگی میں گھر کرلیا۔ درخت۔پتھر، دوسری اشیائے فطری اور بُت، جو گھروں اور خاندانوں کے دیوتاؤں او رپُرانے دیوتاؤں کی علامتی مورتیاں تھے،عام لوگوں کے معبود بن گئے، منُو کا دھرم شاستر، جس پر ہندوؤ ں کو بجا طور پر فخر ہے اور جو بعد کے زمانوں میں دوسری مشرقی اقوام کے قانونی نظریوں کا نمونہ بنا ایک ایسی مملکت کا ضابطہ آئینی ہے جس میں ایک طرف قومادی تہذیب بڑی ترقی کر چکی تھی اور دوسری طرف پروہتوں کے طبقوں کا مطلق اقتدار اور عوام میں ایک تعجب انگیز اخلاقی انحطاط تھا۔ پروہتوں کی طرح اب راجہ بھی دیوتا بن گیا تھا۔ دوسری صدی عیسوی میں اگر چہ منو سمرتی کی اب بھی عزت کی جاتی تھی اور اسے ہر معاملے میں حتمی سند سمجھا جاتا تھا، لیکن اس کی جگہ دھیان گُردیجنو لکیہ کی تفسیر نے لے لی۔اس کے نزدیک ذات پات کا فرق اتنا ہی پتھر کی لکیر تھا جتنا منو کے نزدیک تھا۔ دونوں کی نگاہوں میں شودر اتنے ہی ملیچھ تھے جتنے وہ ابتدائی زمانوں میں سمجھتے جاتے تھے۔

نوزائیدہ بچیوں کو مار ڈالنے کی رسم ہندوؤں میں اتنی ہی عام تھی جتنی دورِ جہالت کے عربوں میں تھی۔ اس کا کوئی تحریری ثبوت نہیں ملتا کہ ستی کی رسم کب شروع ہوئی، لیکن قرآن بتاتے ہیں کہ وہ ساتویں صدی عیسویں میں عام تھی۔ بہر حال بیوائیں یقینا جیتے جی چتا میں جل جانا خوشی سے قبول کرتی ہوں گی، کیونکہ اگران کے اولاد نہ ہوتی تو ان کی زندگی اجیرن ہوتی تھی۔

عورتوں کو اجازت نہ تھی کہ ویدوں کا پاٹھ کریں یا اگلوں کی روحوں کو جو بھوگ دیئے جاتے تھے ان کے دینے میں شریک ہو ں یا دیوتاؤں کو جو بھینٹیں چڑھائی جاتی تھیں ان کے چڑھانے میں شمولیت کریں۔ استری کادھرم یہی تھا کہ اپنے ناتھ کی سیوا کرے، اور اس کا جُگ جُگ کا سُکھ چین اسی کے فرض کے ادا کرنے پر منحصر تھا۔ جوباوفا عورت اپنے سوامی کی چتا میں جل کر ستی ہوجاتی تھی اسے ہند و مذہب کے تمام پیرو اپنے دل میں جگہ دیتے تھے او ر صنف نسوا ں کے بہترین اور بر گزیدہ ترین افراد میں شمار کرتے تھے،بلکہ اکثر اسے دیوی بنا کر اس کی پوجا کرتے تھے۔

اگرچہ سوچ بچار کر نے والے لوگوں کو ہندو مذہب کی ان رکیک رسموں میں کوئی گہرے معانی نظر آتے تھے  اور ان کی روحیں ان رسموں سے بلند تر فضاؤں میں پرواز کرتی تھیں، لیکن کسی فلسفی یا پنڈت نے بے بس اور عموماً نو عمر بیواؤں کی ان ظالمانہ قربانیوں پر نفرت یا غصے کا اظہار نہ کیا۔بہت سی دھرم سبھائیں وجود میں آگئی تھیں جن میں مرد بھی شریک ہوتے تھے او ر عورتیں بھی شریک ہوتی تھیں اور جن کی امتیازی صاف میں پاکبازی شامل نہ ہوتی تھی۔ تجردّ کی زندگی بسر کرنے والی بہت سی منڈلیاں بھی بن گئی تھیں۔ جو مختلف دیوتاؤں کو پوجتی تھیں۔ ان کے اراکین ہمیشہ دھر مسالو ں میں جمع ہوتے تھے جن میں عورتوں کو بھی داخلہ دیا جاتا تھا۔ ان منڈلیوں میں اور اسی طرح جوگیوں اور سنیاسیوں کی ان منڈلیوں میں جو اس زمانے کے لگ بھگ وجود میں آئیں کنوار پن کا بچن محض دھوکے کی ٹٹی تھا او رپالنے کی خاطر نہیں بلکہ توڑنے کی آسانی کی خاطر دیا جاتا تھا۔ جوگیوں کے جتھے مندروں اور متھوں میں مزے کی زندگی بسر کرتے تھے۔ بہت سے بیراگی اورسنیاسی قرون وسطیٰ کے بھک منگے راہبوں کی طرح یا فلیویس (Flavians) کے عہد کے تارک الدنیا کلبیو (Cynics) کی طرح عقیدت مند لوگوں سے خیرات لے کر ثواب کمانے کی خاطر ادھر ادھر پھرتے تھے۔ خیرات دینے والوں کی نظروں میں ان کی سند استحقاق کیا ہوتی تھی؟۔۔ان کے گندھے ہوئے لمبے لمبے بال، الجھی ہوئی گھنی داڑھی ، گیروے رنگ کا کرتا، بھبوت ملا ہوا بدن، کشکول اور ڈنڈا۔

چونکہ دیوتا ناچ اور گانے کے رسیا ہوتے تھے، اس لیے مندروں میں بہت سی ناچنے گانے والی عورتیں ہوتی تھیں، جو نام کو تو دیو داسیاں کہلاتی تھیں لیکن دراصل پروہتوں کے آنند کے لئے رکھی جاتی تھیں۔ عورتوں کو شروع شروع کے قوانین میں بہت پست درجہ دیا گیا تھا۔ منو نے عورتوں کے بارے میں جو نفرت و ملامت سے بھرے ہوئے الفاظ لکھے ہیں، ان کی نظیر صرف عیسوی سینٹ ٹرٹلین (Tertullian) کے تعصب آمیز اقوال میں ملتی ہے۔ منو کہتا ہے: ”عورتوں میں ناپاک خواہشیں ہوتی ہیں۔ وہ ارادے کی کچّی اور چال چلن کی خراب ہوتی ہیں۔ ضروری ہے کہ انہیں دن رات کڑی نگرانی میں رکھا جائے۔“

جہا ں تک شودروں کا تعلق تھا، اس نے تقریباً (Padects) کے الفاظ میں اعلان کیا کہ خدا نے انہیں غلام پیدا کیا ہے اور اگر کوئی شودر غلامی سے آزاد کر بھی دیا جائے تو بھی وہ آزاد نہیں ہوتا۔ چونکہ غلامی اس کی فطرت میں ہے، اس لیے اسے کون اس سے چھٹکارا دلا سکتا ہے؟

اجمالاً یہ تھے آریہ قوم کی ایک سب سے زیادہ ترقی یافتہ شاخ کے مذہبی ومعاشرتی حالات اس وقت جب پیغمبر اسلام نے اپنا پیغام دنیا کو دیا۔

Related Article:

Part: 1- The Spirit of Islam Authored by Sayed Ameer Ali: An Introduction- Part 1 سید امیر علی کی تصنیف ،روح اسلام: ایک تعارف

Part: 2 - The Spirit Of Islam Authored By Sayed Ameer Ali: Preface – Pre Islamic Social And Religious Conditions Of The World- Part 2 سید امیر علی کی تصنیف ،روح اسلام: مقدمہ ، اسلام سے پہلے اقوام عالم کے مذہبی اور معاشرتی حالات

URL: https://www.newageislam.com/books-and-documents/syed-ameer-ali/the-spirit-of-islam--preface--social-and-religious-conditions-of-the-aryans--part-3---/d/122339

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..