New Age Islam
Thu Apr 16 2026, 11:26 PM

War on Terror ( 21 Oct 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

A To-Do List for Afghanistan: A Controversial Saudi View مسئلہ افغانستان کا حل


By Turki al-Faisal

October 9, 2009

RIYADH, Saudi Arabia -- As President Obama considers what to do about Afghanistan, it is important that he hear perspectives from all sides concerned about that critical region. In Riyadh, it is clear that the Taliban is weak in Afghanistan. Their record in government is well remembered by Afghans, including large numbers of Pashtuns, all of whom suffered greatly at the hands of Mohammad Omar's Taliban cohorts.

The Taliban is not a cohesive or uniform political party with a chain of command and a political manifesto. Rather, any disaffected, rebellious or aggrieved Afghan who overtly opposes the government by military means and otherwise has come to be identified as a member of the Taliban.

Osama bin Laden has become not only the symbol of opposition to world order in general and to the United States in particular, but he is looked upon by disaffected youths -- and not just Muslims -- as an indomitable, untouchable Robin Hood. Even if he no longer organizes and executes terrorist acts, the fact that he survives reinforces that appeal every day and adds to his charisma. Bringing him to account is a necessity, whether by capture or by death.

So, what should the Obama administration do?

- Overcome the misguided handling of Afghan President Hamid Karzai, who was initially shunned and denigrated by the administration, forcing him to reach out to unsavory politicos and "warlords" to win the recent elections. If there were a viable opposition to Karzai, then you could undermine him. But there is not.

Abdullah Abdullah, Karzai's main opponent in the election, is a Tajik, and he will not be accepted to lead the country by either the Pashtuns or the Uzbeks, the two largest components of Afghanistan's tribal structure. Abdullah's "Westerly ways" further undermined his credibility among nationalists. Once the commission investigating the recent election fraud declares its conclusions, the United States should move on and concentrate on setting benchmarks for Karzai, especially on development projects.

- Change the media theme from attacking the Taliban and calling them the terrorists to concentrating on al-Qaeda and "foreign terrorists." By removing the stigma of terrorism from the Taliban, you can pursue meaningful negotiations with them. Mohammad Omar has never enjoyed the full support of Pashtuns. He is a lowly figure in tribal terms, and he is blamed by many of them for the calamity that has befallen Afghanistan. Reaching out to tribal leaders is what will move negotiations.

- Fix the Durand Line. As long as this border drawn by the British is not fixed, Pakistan and Afghanistan will be at loggerheads and always suspicious of one another. A joint development project for the border area, announced by both Pakistan and Afghanistan, and supported by the United States and the world community, will direct people's eyes to the future rather than the past.

- Convene a meeting of the security-intelligence departments of Pakistan, Afghanistan, Russia, China and Saudi Arabia to devise ways of eliminating al-Qaeda's leadership. China, Russia and Saudi Arabia have a long-standing vendetta with al-Qaeda and will contribute intelligence and other resources to rid the world of this cancer.

- Push India and Pakistan to fix Kashmir. That is doable, once both countries see a determined effort by the United States in that direction. Both countries are beholden to the United States -- Pakistan for the military and financial support it receives and India for the nuclear energy agreement it has signed with Washington.

- Take on the heroin trade. The challenge can be met by a program that America used in the 1960s in Turkey, where opium poppies were extensively grown and processed into heroin. The United States bought the entire crop from the farmers directly and allowed them to plant alternative crops for their livelihood. There is no more heroin trade in Turkey.

Resolution, reflection and determination are the key characteristics of Obama's personality. He should stick with them. As in all difficult issues, when people see these qualities on display, most of them will be persuaded to follow.

When the Pashtuns, among whom bin Laden hides, see the determination to get him, they will calculate differently from when they see that nobody cares. When Karzai and Pakistani President Asif Ali Zardari see resolution in Obama's demands for benchmarks and for settling the border dispute between their countries, they will adhere. When India and Pakistan feel the strength of an American push on Kashmir, they will come along.

When Russia, China and Saudi Arabia sense a seriousness of purpose on eliminating the al-Qaeda leadership, they will gladly provide whatever support they can. When the U.S. financial commitments on development are met, the people of Afghanistan will regain their confidence in America's word.

And when President Obama's advisers or interlocutors tell him that he can't do this or that, he should just say to them: Yes, we can.

Prince Turki al-Faisal was the longtime director general of Saudi Arabia's intelligence service, the Al Mukhabarat Al A'amah. He was also the Saudi ambassador to the United States.

© 2009 Global Viewpoint, Distributed by Tribune Media Services

Source: http://www.washingtonpost.com/wp-dyn/content/article/2009/10/08/AR2009100803805_pf.html

URL of this page: Full report at: https://newageislam.com/war-terror/a-list-afghanistan-controversial-saudi/d/1961




مسئلہ افغانستان کا حل

شہزادہ ترکی الفیصل

جیسا کہ صدر اوباما افغانستان کے بارے میں مختلف اقدامات پر غورکررہے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ وہ اس حساس علاقے کے تمام متعلقہ فریقوں کی تجاویز اور خیالات کا بنظر غائر جائزہ لیں۔ریاض (سعودی دارالحکومت) میں واضح طور پر یہ محسوس کیا جارہاہے کہ افغانستان میں طالبان کمزور ہوچکے ہیں۔ طالبان حکومت کے دو ران ان کا کارکردگی کا تباہ کن ریکارڈ افغان عوام کو خوب اچھی طرح یاد ہے۔ علاوہ ازیں پاکستانیوں کو بھی طالبان لیڈر ملاعمر کے ہاتھوں جو تکالیف پہنچیں وہ بھی انہیں نہیں بھولیں تاہم طالبان کوئی مربوط اور یکسانیت والی سیاسی جماعت نہیں جس کی قیادت کا کوئی ایک سلسلہ ہویا جس کا کوئی سیاسی منشور ہوبلکہ ہر باغی حکومت برگشتہ افغان جو حکومت ہتھیار اٹھا لیتاہے اسے طالبان قرار دے دیا گیا۔ اسامہ بن لادن کو نہ صرف عمومی طور پر عالمی نظام اور امریکہ کی مخالفت کی علامت تصور کرلیا گیا بلکہ بے چین نوجوانوں کے لیے وہ قابل تقلید حیثیت اختیار کر گیا اور صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ دیگر لوگوں کے لئے بھی اس کی اہمیت ’رابن ہڈ‘ جیسی ہوگئی (برطانوی لوککہانی کا کردار جو امراء کو لوٹ کرغریبوں اور ناداروں کی مدد کرتاتھا)اگرچہ اسامہ اب دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی او ررہنمائی نہیں کررہا لیکن اس کا اب تک زندہ بچ رہنا او را س کی طرف سے مختلف اپیلوں کا جاری ہوتے رہنا اس کی کشش کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اس کو قابو میں لانا بے حد ضروری ہے خواہ یہ کام اسے گرفتار کرکے کیا جائے یا اسے ہلاک کردیا جائے لہٰذااوباما انتظامیہ کو اس ضمن میں کیا کرنا چاہئے؟سب سے پہلے تو افغانستان صدر حامد کرزئی کی ناقص کارکردگی پرقابو پایا جائے جس کو خواہ اس کی انتظامیہ نے مسترد کردیا جسے حالیہ انتخابات جیتنے کی خاطر جنگجو سرداروں کے ساتھ ساز باز کرنا پڑی۔ اگر کرزئی کی مخالفت جائز اور قرین فہم ہے تو پھر اس کا بندوبست کیا جانا چاہئے۔ کرزئی کا انتخابات میں سب سے بڑا حریف عبداللہ عبداللہ ایک تاجک ہے چنانچہ ملک کی قیادت کے لئے نہ تو اسے پشتون قبول کریں گے او رنہ ہی از بک اس کی حکومت تسلیم کرنے پرتیار ہوں گے او ریہ وہ نسلی گروہ افغانستان کے قبائلی ڈھانچے میں سب سے بڑی اکثریت کے حامل ہیں جب کہ عبداللہ عبداللہ کا مغربی انداز افغانستان میں اس کی قبولیت میں ایک او ربڑی رکاوٹ ہے۔حالیہ انتخابات میں دھاندلی اور فراڈکی ایک کمیشن تحقیقات کررہاہے لیکن جب تک اس کا فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک امریکہ کو چاہیے کہ وہ کرزئی کے لئے اصلاح احوال کی کوئی میعاد مقرر کردے بالخصوص جو ترقیاتی منصوبے افغانستان میں شروع کئے گئے ہیں ان کی بروقت تکمیل پر زور دیا جانا چاہئے۔ میڈیا کے اس طرزعمل کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس میں طالبان کو دہشت گرد قرار دیا جاتاہے اور ان کو ہر برائی کا ذمہ دار قرار دیا جاتاہے اس کی بجائے القاعدہ اور غیر ملکی دہشت گردوں کو ہدف بنایا جانا چاہئے۔طالبان سے دہشت گردی کا داغ دور کردیا جاناچاہئے کیونکہ طالبان کا لفظ افغان زبان میں طالب علم کے لئے استعمال ہوتاہے جسے انگریزی میں اسٹوڈنٹ کہا جاتاہے۔ ان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کئے جاسکتے ہیں۔

ملا عمر کو کبھی تمام پشتونوں کی حمایت حاصل نہیں رہی۔قبائلی اعتبار سے ان کی حیثیت خاصی کمتر ہے نیز بہت سے حلقوں کی طرف سے افغانستان میں پیش آنے والی تباہی کی ذمہ داری بھی انہی پر ڈالی جاتی ہے۔ مذاکرات کے لئے قبائلی عمائدین سے رابطہ کیا جانا چاہئے۔ ایک بہت اہم جو مسئلہ ہے وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کا ہے جسے ’ڈیورنڈ لائن‘ کا نام دیا جاتاہے اسے پختہ او رپکا کیاجانا بے حدضروری ہے۔ جب تک ڈیورنڈ لائن جسے انگریزوں نے قائم کیا تھا اس مسئلہ حتمی طور پر حل نہیں کیا جاتا پاکستان اور افغانستان بدستور سینگ پھنسائے رہیں گے اور ایک دوسرے پر شکوک وشبہات کا اظہار کرتے رہیں گے۔پاک افغان سرحد کے تعین کا دونوں ملکوں کوباہمی طور پر مل جل کر اہتمام کرنا چاہئے اور اس کام میں امریکہ کو ان کی مکمل حمایت اور تعاون کرناچاہئے۔نیز عالمی برادری کو بھی اس ضمن میں دونوں ملکوں سے تعاون کرناچاہئے۔ اب لوگوں کو ماضی کے بجائے مستقبل کی طرف دیکھنا چاہئے۔پاکستان،افغانستان،روس، چین اور سعودی عرب کے محکمہ سکیورٹی انٹلی جنس کے سربراہوں کا ایک اجلاس طلب کیا جائے جس میں القاعدہ کی مصیبت کا قلع قمع کرنے کے ہر طریقے پر غور کیا جائے۔ چین، روس اور سعودی عرب کے محکمہ سکیورٹی انٹلی جنس کے سربراہوں کا ایک اجلاس طلب کیا جائے جس میں القاعدہ کی مصیبت کا قلع قمع کرنے کے ہر طریقے پر غور کیا جائے۔ چین،روس اور سعودی عرب کا القاعدہ سے دیرینہ لڑائی جارہی ہے اور ہم اپنے تمام وسائل دنیا کو اس کینسر سے بچانے کے لئے خرچ کرتے رہیں گے۔ نیز بھارت اور پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حل کرنے پر زور دیں۔امریکہ کو کوشش کرنی چاہئے کہ دونوں ملک اس مسئلہ کو حل کرنے پر متفق ہوجائیں۔ دونوں ملک امریکہ پر انحصار کرتے ہیں۔

 پاکستان اپنی مالیاتی احتیاجات کے لئے جب کہ بھارت اپنے جو ہر ی توانائی کے سمجھوتے کیلئے جو کہ اس نے واشنگٹن کے ساتھ کررکھا ہے۔ہیروئن کی تجارت کا معامل بھی بنیاد ی توجہ کامتقاضی ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ امریکہ کے اس طریق کارکے تحت کیا جاسکتاہے جو اس نے 1960 کے عشرے میں ترکی میں استعمال کیا تھا جہاں افیون اور پوست بہت کثرت سے اگائی جاتی تھی اور پھر اسے کیمیاوی عمل کے ذریعہ ہیروئن میں تبدیل کردیا جاتاتھا۔امریکہ نے تمام کسانوں سے ان کی تمام فصل براہ است خریدی او رانہیں (افیون اور ہیروئن کی عالمی قیمت کے حساب سے ڈالروں کے انبار دے کر) کہا کہ اب وہ خود اپنی خوراک کیلئے فصلیں کاشت کریں۔ آج ترکی میں ہیروئن کی کوئی تجارت باقی نہیں رہی(شہزادہ ترکی نے یہ نہیں بتایاکہ کیا امریکہ اس وقت سے اب تک ہر سال ترک کاشتکاروں کو ڈالر وں کے انبر اسی طرح دے رہا ہے جس طرح اس نے 1960 کے عشرے میں پہلی مرتبہ کیا تھا؟ رہا اسامہ بن لادن کا معاملہ تو اس کی طرف سے تواترکے ساتھ آنے والے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ایک نہایت پختہ ارادے کی مالک شخصیت ہے اور اس میں دیگر شخصی خوبیاں بھی اس قدر نمایاں ہیں کے اکثر لوگ خودبخود اس کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔وہ پشتونوں کے درمیان موجود ہے اور جب وہ اس کے عزم بالجزم کو دیکھتے ہیں تو اس کے گرد نہایت مضبوط حصار قائم کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے اس تک کسی دوسرے کی رسائی ممکن نہیں ہوسکی۔اگر کرزئی اور پاکستانی صدر آصف زرداری کو اسامہ بن لادن کی طرف سے پاک افغان سرحد کو متعین کرنے کا مطالبہ کیا جائے تو وہ دونوں اس سے انکار نہیں کرسکیں گے۔

اسامہ انہیں ڈیڈ لائن دے دیں تو دونوں ملکوں کا سرحدی اختلافات فوراً ختم ہوسکتاہے بعینہ جب بھارت اور پاکستان کو امریکہ کی طرف سے کوئی ڈیڈلائن دے دی جائے گی تو وہ کشمیر کا مسئلہ بھی چٹکیوں میں حل کرلیں گے۔ جس روز، چین اور سعودی عرب کو القاعدہ کی قیادت کے کسی مطالبے کی حقانیت اور افادیت کا احساس ہوجائے گا تو وہ بھی اس کے لئے اپنی تمام ترحمایت فراہم کرنے پر تیار ہوں گے اور افغانستان میں تعمیر نو کیلئے امریکہ کے مالیاتی ادارے وہا ں پہنچ جائیں تو پھر افغانستان کے عوام کو بھی امریکی وعدوں پر یقین آنے لگے گا۔دریں اثنا ایران کے سابق صدر ابوالحسن نبی صدر نے نیویارک ٹائمز میں لکھے گئے اپنے مقالے میں افغانستان کا مسئلہ حل کرنے کیلئے اپنے خیالات کااظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں نوجوان لوگ ایک طویل عرصہ سے مہیب مظالم کاشکار ہیں ان کے بنیادی مسائل حل کئے جانے کی ضرورت ہے۔ اس ملک کو اسلام کی ایسی تعبیر کی ضرورت ہے جو آزادی اور انسانی حقوق کی ضمانت دے۔افغانستان جمہوریت کے لئے تیار نہیں ہے اور وہ صرف اتھارٹی والی سیاست چاہتاہے۔بصورت دیگر افغانستان ہمیشہ جنگ کی صورتحال میں رہے گا۔ افغانستان ایک بہت گہرا دینی معاشرہ ہے او رانہیں مذہب کا صحیح رخ پیش کیا جانا چاہئے جس میں عدل و انصاف او رمساوات کا بول بالا او ریہ دین سے ان کا گہرا تعلق ہی ہے جو انہیں تشدد کے رویے سے دور رکھ سکتاہے۔ اگر اس طرف فوری توجہ نہ دی گئی تو افغانستان مذہب کا وہی پہلو فائق رہے گا جسے مغربی اصطلاح میں بنیاد پرستی کہا جاتاہے اور جس کے ڈانڈے انتہا پسندی سے ملائے جاتے ہیں۔ افغانستان میں دین کی ان اقدار کو نمایاں کرنے کا ضرورت ہے جنہیں بوجوہ پس پشت ڈال دیا گیامثلاً توحید کا عقیدہ۔یہی پوری امت کی یکجائی کی بنیاد ہے۔


URL: https://newageislam.com/war-terror/a-list-afghanistan-controversial-saudi/d/1961

Loading..

Loading..