New Age Islam
Wed Jun 10 2026, 04:54 AM

Urdu Section ( 1 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Jamiat Ulema’s dialogue with former RSS chief K S Sudarshanآر ایس ایس کے سابق سربراہ سدرشن کے حوالے سے درشن کی باتیں

سابق سر سنگھ چالک کپہلی سیتا رمیا  سدرشن

مولانا عبد الحمید نعمانی

1 نومبر ، 2012

سنگھ کے سابق سر سنگھ چالک کپہلی سیتا رمیا  سدرشن کے انتقال کے بعد کئی باتوں کو لے کر میڈیا میں بحث و گفتگو شروع ہوگئی ہے، جماعت اسلامی ہند کے اخبار سہ روز ہ دعوت نے اس تعلق سے کچھ ایسی باتیں تحریر کردیں کہ روز نامہ انڈین اکسپریس اور ٹائمز آف انڈیا نے باقاعدہ موضوع بحث بنادیا،جو لوگ سنگھ کی سرگرمیوں سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتے ہیں، وہ یہ جانتےہیں کہ کے ۔ ایس۔ سدرشن کی سربراہی کے آخری دنوں میں ان کی کچھ باتوں کو لے کر سوالات شروع ہوگئے تھے ، معاملہ یہ ہے کہ آدمی جب نظریاتی تقابل کے لیے مطالعہ کرتا ہے تو اس کے اندر دو ایک باتیں ایسی پیدا ہوجاتی ہے جو اس کو یا تو ازن و اعتدال کے ساتھ فیصلہ کرنے پر آمادہ کرتی ہیں ، دوسرے یہ کہ مد مقابل نظریہ کا بھی کچھ نہ کچھ اثر قبول کر لیتا ہے، جناب کے ۔ ایس۔ سدرشن گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے قرآن ، سیرت رسول پاک، احادیث اور تاریخ اسلام کا ایک خاص انداز سے مطالعہ کررہے تھے ، ہماری تین مواقع پر ان سے گفتگو ہوئی تھی ، اس سے اندازہ ہورہا تھا کہ ان میں مخصوص قسم کے قدرے مثبت تبدیلی ہورہی ہے، سنگھ کی سربراہی کی آخری مدت میں وہ محسوس کررہے تھے کہ سنگھ کی ذمہ داریوں کے ساتھ مطلوبہ مطالعہ نہیں کر پارہے ہیں، اس کا انہوں نے آر ایس ایس کی سربراہی موہن بھاگوت کو سپر د کرتے وقت اظہار بھی کردیا تھا ، 2004 میں انہوں نے یہ ضرورت محسو س کی کہ مسلمانوں سے ڈائیلاگ ہونا چاہئے ، اس کے بغیر باہمی غلط فہمیاں دور نہیں ہوں گی، اس کے لیے انہوں نے جمعیۃ علماء ہند کا انتخاب کیا،اس وقت حضرت فدائےملت مولانا اسعد مدنی رحمۃ اللہ علیہ باحیات تھے، ابتدائی طور پر جمعیۃ علماء ہند کے کچھ ذمہ داروں کو تحفظات تھے کہ بات چیت کی جائے یا نہیں، آخر میں مولانا محمود مدنی جنرل سکریٹری ، مولانا نیاز احمد فاروقی اور راقم سطور کی رائے ہوئی کہ بات چیت ہونی چاہئے تاکہ براہِ راست معلوم ہوجائے کہ اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے سنگھ اور اس کے ذمہ داروں کا کیا نقطۂ نظر ہے اور غلط فہمیاں کہاں اور کیوں ہیں؟ انکار سے یہ پیغام جائے گا کہ سنگھ تو باہمی غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہتا ہے، لیکن مسلمان ہی ایسا نہیں چاہتے ، اسے سنگھ کے لوگ دوسرے انداز میں بھی استعمال کرسکتےہیں، تمام پہلوؤں پر غور و فکر کے بعد طے پایا گیا کہ بات چیت ہونی چاہئے ، ایک مقررہ تاریخ میں انٹر کونٹی نینٹل ہوٹل میں مختلف مسائل پر بات چیت ہوئی ، جس میں آر ایس ایس کے ترجمان رام مادھو ، وشنو ہری ڈالمیا وغیرہ بھی شریک تھے ، جمعیۃ علماء ہند  کی طرف سے مولانا محمود مدنی، مولانا نیاز احمد فاروقی اور راقم سطور زیادہ تر باتیں جناب کے ۔ ایس ۔ سدرشن اور خاکسار نے ہی کیں، سدرشن کی باتوں او رسوالات سےظاہر ہوا کہ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ سے متعلق اچھا خاصا مطالعہ ہے،انہوں نے سب سے پہلے یہ سوال اُٹھایا کہ ہندو مسلم اتحاد اور قریب ہونے میں کئی رُکاوٹیں ہیں، اوّل تو یہی کہ مسلمان ہی ہم ہندوؤں کو اسلامی شریعت کی رو سے کس زمرے میں رکھتے ہیں ۔ انہوں نے مولانا سیّد سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ‘‘ عرب و ہند تعلقات اور سیرت النبی’’ اور دیگر حوالوں سے کہا کہ اسلامی شریعت کی رو سے انسان چار زمرے میں تقسیم ہیں مومن، کافر، اہل کتاب ، شبہ اہل کتاب۔

اب سوال یہ ہے کہ ہندو کو کس زمرے میں آپ حضرات رکھتے ہیں، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کے ۔ایس۔ سدرشن کے مطالعے کا نہج کیا تھا، اگر کتاب و سنت ، فقہ اسلامی ، اسلامی تاریخ او رہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ سے متعلق ضروری مطالعہ نہ ہوتو صرف اخبار پڑھ کر اور سنی سنائی اور چلتے پھرتے کام چلاؤ مطالعہ سے سدرشن جیسے حضرات کو جواب دینا اور پھر مطمئن کردینا آسان نہیں ہے۔ جب کہ ہمارے یہاں یہ حال ہے کہ ہندوستان کی ایک ملک گیر تنظیم کے جنرل سکریٹری نے ایک ٹی وی چینل پر رام لکشمن کومہابھارت کے اور ارجن کورامائن کا کردار بتادیا تھا ، جس کے سبب وشو ہندو پریشد کے سریندر جین کو موقع مل گیا کہ وہ باور کرائیں کہ مسلمانوں کے ذمہ دار تک ہندوستانی روایات سے کس قدر بے خبر ہوتے ہیں، ملک سے باہر کی دنیا عرب میں جیتے ہیں، پھر ہندو مسلم دونوں میں اتحاد کی راہ کیسے نکالی جاسکتی ہے ، مسلمانوں کے ان نمائندوں کی بڑی تعداد جو چینلوں پر بغیر تیاری اور ضروری معلومات کے مذاکرات کے لئےپہنچ جاتے ہیں اور شکوک و شبہات کو مزید گہرا اور یہ کہنے کا موقع دیتے ہیں کہ وہ مسلم نمائندگی کے تئیں سنجیدہ نہیں ہیں، تکلیف دہ حالات پر بھی ہنستے مسکراتے نظر آتے ہیں، گمبھیر نہیں، جنگ اور بھیانک فساد کے معاملے پر بات چیت کرنے کے موقع پر مسکراہٹ ،ہنسی کا کیا موقع مطلب ہوتا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ بے خبری او رلا جواب ہونے پر پردہ ڈالنے کے لئے غیر ضروری طور سے ہنستے او ر قہقہے لگاتے ہوں۔

کے ۔ ایس۔ سدرشن سلیقہ بحث و گفتگو سے واقف تھے، اور لگتا تھا کہ معاملے کو بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں، انہوں نے مذکورہ سوال کے علاوہ دیگر مسئلے اور سوالات بھی اُٹھائے۔ راقم سطور نے سب کے جوابات دیے اور واضح طور سے محسوس ہوا کہ وہ جوابات سے مطمئن ہوگئے ہیں، ہم نے مختلف حوالوں سے بتایا کہ ہمارے فقہا آپ کے سوال کا بہت پہلے جواب دے چکے ہیں کہ ہندوستان کے ہندو شبہ اہل کتاب کے زمرے میں آتے ہیں، محمد بن قاسم کے وقت یہ سوال آیا تھا تو خواجہ حسن بصری اور دیگر فقہاء و علماء نے حجاج بن یوسف کے استفسار میں مذکورہ جواب دیا تھا، علامہ سیّد سلمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے سیرت النبی اور عرب و ہند تعلقات میں جہاں یہ مسئلہ اُٹھایا ہے وہاں جواب بھی موجود ہے، راقم سطور نے دیگر حوالوں کے ساتھ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر مظہری او رمولانا آزاد رحمۃ اللہ علیہ کی جامع الشواہد کا بھی حوالہ دیا تھا ، اس کے ساتھ خاکسار نے یہ سوال کردیا کہ آپ اپنے مذہبی نظریے کی رو سے ہم ہندوستانی مسلمانوں کو کس زمرے میں شامل کرتے ہیں اور آپ کا آئیڈیل کیا ہے، جس کے حوالے سے ہم بات کو آگے بڑھائیں ، ہیڈ گیوار ، گرو گو لولکر کیا رام ، کرشن کو آئیڈیل مانتے تھے، وہ انہیں بھگوان کے زمرے میں شامل کرنے کو ہندو سماج کی مورکھتا (حماقت) بتاتے تھے ، جیسا کہ ہیڈ گیوار کی کتاب ‘دھیہ درشٹی’ ( نصب العین ) میں ہے، سنگھ اپنے اس نظریے کو ہندو سماج سے چھپاتا کیوں ہے؟ سدرشن ہمارے سوالات سےکچھ پریشان نظر آئے او ریہ کہتے ہوئے بات چیت کے رُخ کو موڑنے کی کوشش کی کہ تبادلہ خیالات سے غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں، آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا، درمیان میں پنڈت این کے شرما نے یہ کہہ کر بات آگے بڑھائی کہ نعمانی جی پر چنڈودوان ہیں، دونوں اور کی جانکاری رکھتے ہیں۔

 اس سے امید ہے کہ بات چیت کے سلسلے کا اچھا نتیجہ نکلے گا ، راقم سطور نے اس مذاکرے میں ہوئے سوال و جوابات پر مشتمل ایک قدرے تفصیلی تحریر اُس زمانے (2004ء) میں ہفت روزہ ‘ الجمعیۃ’ کے اپنے کالم میں لکھی تھی ،اس کے علاوہ خاکسار کی سدرشن سے دو بار باتیں براہِ راست اور ہوئی تھیں، ایک بار انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر میں ‘متحدہ قومیت اور اسلام’ کے انگریزی ترجمہ کی رسم اجرا کے موقع پر ، اور دوسری بار خاصے دنوں بعد شو بھٹ یونیورسٹی میرٹھ کے ایوارڈ اور تقسیم اسناد پروگرام میں ، صحافی برادری کے کئی دوست ساتھ تھے، ہم لوگ کھانا کھا کر چائے کافی کے لیے اُٹھے تو سدرشن جی کھانا کھارہے تھے ، انہوں نے دور سے دیکھ کر پہچان لیا اور اپنے پاس ایک صاحب کو بھیج کر بلوایا اور انتہائی احترام سے پاس میں ہی بیٹھایا ، کھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ اسلام ایک اخلاقی اور روحانی نظام حیات ہے ، اس کا اقتدار سے براہ راست کوئی زیادہ لینا دینا نہیں ہے، حضرت کے زمانے میں ایسا ہی تھا، بعد میں (سدرشن جی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ‘حضرت’ سے کرتے تھے )اقتدار اور وراثت کے تنازع نے اس کی تصویر دُھند لی کردی او رمسلمان اقتدار کے ہوکے رہ گئے، اور اسی کو اوڑھنا بچھونا بنالیا اور اسلامی، روحانی و اخلاقی پہلو مغلوب ہوگیا یہ مغل عہد تک جاری رہا، انہیں یہ ماننا چاہئے کہ ہندوستان کے بیشتر مسلمان یہیں کے ہیں ، باہر سے نہیں آئے ہیں، انہیں رام، کرشن کو اپنا پروج تسلیم کرناچاہئے ، اگر ایسا ہوجائےتو ہندو مسلم دونوں کے قریب آنے کی راہ میں کوئی رُکاوٹ نہیں ہوگی، خاکسار نے عرض کیا کہ زیادہ وقت نہیں ہے، آپ کے پاس نہ ہمارے پاس، مختصر اً بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے بادشاہوں او راقتدار کے فیصلے اور عمل کو کبھی دین اور آئیڈیل تسلیم نہیں کیا ہے، صرف خلافت راشدہ اور بعد میں عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ کے دورِ حکومت کو نمونہ سمجھا ہے، اس کی کچھ تفصیل پیش کی۔ مسلمانوں کا سب سے اہم مسئلہ عقیدۂ توحید ورسالت ہے، انہوں نے کبھی خاص کر ہندوستان کی نسل کے مسلمانوں نے رام، کرشن کو مسترد نہیں کیا ہے، پھر پروج کو ماننے کا سوال کیوں اُٹھایا جاتا ہے، اس میں مشکل ہندو اکثریتی سماج نے ہی دو طرح سے پیدا کی ہے، ایک تو انہیں انسانی زمرے سے نکال دیا تو وہ ہمارے لیے آئیڈیل او رپروج دونوں ہونے سے باہر ہوگئے، کیا تاریخ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور شخصیت کی حیات پوری طرح محفوظ ومکمل ہے، جس کو انسانی سماج اپنی رہنمائی کے لیے نمونہ کے طور پر اختیار کر سکے، اور اتحاد و توحید پر ہوگا، نہ کہ شرک پر ، ایک خدا تو ہم آپ دونوں مانتے ہیں ، جب کہ شرک اور تعددالہٰ کے ہم منکر ہیں، تو دونوں کی مشترک بنیاد اتحاد ایک خدا کا عقیدہ ہی ہوگا ، جہاں پہلے سے دونوں جمع اور پہنچے ہوئے ہیں، اسے چھوڑ کر موہوم کو کیوں اختیار کیا جائے اور زندگی تو یقین و اعتماد پر قائم ہے ، ہماری باتیں سدرشن جی سنتے رہے اور صرف اتنا کہا کہ آپ کی باتیں  ترک سنگت ہوتی ہیں، ہم نے محسوس کیا کہ وہ باتوں کی تہہ میں جانا چاہ رہے ہیں ،کئی سالوں کے بعد اس سال اگست 2012ء میں بھوپال سے یہ خبر آئی کہ وہ وہاں کی تاج المساجد کی طرف نماز ادا کرنے کے لئے چل پڑے، وہ مسلم بھائیوں کو عید کی مبارک باد دینا چاہتے تھے۔

 مگر ان کے اسٹاف اور سیکورٹی کے عملے نے ٹریفک اور نماز ہو جانے کی اطلاع دے کر وہاں جانے سے روگا، بعد میں مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ بابو لال گوڑا اپنے ایک مسلم شنا سا کے گھر گئے، جہاں سدرشن جی نے سویاں کھائیں او رمسلم بھائیوں کو مبارک باد دی ، تو کئی ایسے سوالات سامنے آئے جو جوابات چاہتے ہیں، ابھی حال ہی میں ان  کے ایک تعزیتی  جلسے میں اشوک سنگھل ، نتن گڈکری اور آر ایس ایس کے کئی ذمہ داروں کے ساتھ لوگوں کی بڑی تعداد تھی، جلسے میں خطاب کرنے والوں نے سدرشن جی کو مہمان سنت اور سماجی مصلح قرار دیا  ، کیا اس سے ان کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات مل جائیں گے ، عید کی نماز ادا کرنے کے لیے روانہ ہوجانے کا سوال، نسیان کا مریض قرار دینے پر ختم نہیں ہوجاتا ہے، بلکہ سوال آگے تک بھی جاتا ہے، جمعیۃ علماء ہند سے بات چیت کے بعد انہوں نے اسلام او رمسلمانوں کے خلاف بیان دینا تقریباً بند کردیا تھا، اس کی کوئی توجہ ہوگی، اس تناظر میں سدرشن کے عمل پر غور کرنے سےکئی باتیں کام کی سامنے آئیں گی۔

1 نومبر ، 2012 بشکریہ : روز نامہ آزاد ہند، کولکاتہ

URL: for this english article: https://newageislam.com/interfaith-dialogue/indian-muslim-view-hinduism-hindus/d/9491

URL: https://newageislam.com/urdu-section/jamiat-ulema’s-dialogue-with-former/d/9497

Loading..

Loading..