New Age Islam
Thu Apr 30 2026, 02:46 PM

Urdu Section ( 20 Jan 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Religious Freedom Is Indivisible: Muslims Must Demand It In Islamic Societies Too مذ ہبی آزادی ناقابل تقسیم۔ مسلمان اسلامی معاشروں میں بھی اس کا مطالبہ کریں

The Swiss ban on minarets is having an echo in India. Abdul Sami Bubere of the Mumbai- based Sahyog Cultural Society is reported to have said: “The extremely provocative decision undermines the freedom of religion and principle of co- existence. The referendum is akin to tyranny of the majority. It will only encourage fundamentalism. The ban should be immediately lifted as it would serve the purpose of jihadis who misinterpret Islam.” -- Sultan Shahin, editor, New Age Islam

To read the full text please click on the link given below

https://www.newageislam.com/islam-and-pluralism/religious-freedom-is-indivisible--muslims-should-seek-it-in-islamic-societies-too/d/2451

 

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/blasphemy-laws-of-pakistan--indian-clerics-are-no-less-extremist-and-obscurantist---part-1/d/3963


 

سلطان شاہین

سوئز رلینڈ میں میناروں پر پابندی کی بازگشت ہندوستان میں بھی سنائی دی ۔سہیوگ کلچرل سوسائٹی ممبئی کے عبدالسمیع ہیرے نے مبینہ طورپر کہا ‘‘ اشتعال انگیز فیصلہ مذہبی آزادی اور بقائے باہمی کے اصول کے منافی ہے۔ یہ ریفرنڈم اکثریت کے ظلم کے مترادف ہے۔ اس سے بنیاد پرست کو فروغ ہی ہوگا ۔ اس پابندی کو فوراً ہٹا لینا چاہئے ،کیونکہ اس سے جہادیوں کو تقویت ملے گا، جو اسلام کو غلط ترجمانی کرتے ہیں۔’’ مندرجہ بالا خیالات وجذبات سے میں پوری طرح متفق ہوں، اگر چہ میں اتنے سخت الفاظ کا استعمال نہیں کرو ں گا ۔ یہ تجزیہ بھی صحیح ہے کہ اس سے بنیاد پرستی کو فروغ ہی ہوگا ۔ ایسا درحقیقت ہو بھی رہا ہے ۔ بنیاد پرست سوئز رلینڈ میں میناروں اور فرانس میں برقعہ پر پابندی سے پیدا شدہ صورت حال کا فائدہ اٹھارے ہیں ۔ لیکن پھر میرے ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ غیر مسلم معاشرے میں جب ہماری مذہبی آزادی داؤ پر لگتی ہے تبھی ہم کیوں بے چین ہوتے ہیں۔ جب اسلامی معاشروں میں غیر مسلموں کی تو بات جانے دیجیئے ،خود مسلمانوں کو مذہبی آزادی نہیں جاتی تو ہمیں اس کی فکر نہیں ہوتی۔

ہمیں ہتھیاروں کی مدد سے اپنا دفاع کرنے کی اجازت ہے( جو کہ ایک طرح کا جہادہی ہے ، البتہ کمتر درجے کا) کیو نکہ اگر ہم نے دفاع نہیں کیا ہوتا تو لوگ مندروں خانقاہوں ،گرجا گھروں او ریہودی عبادت گاہوں وغیرہ میں جہاں خدا کو یاد کیا جاتا ہے اور اس کو حمد وثنا کی جاتی ہے عبادت کرنے کے لائق ہی نہیں رہنے دیتے ۔

معروف پاکستانی عالم جاوید احمد عمیدی لکھتے ہیں۔ ‘‘قرآن اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اگر ان معاملوں میں طاقت کے استعمال کو جائز قرار نہیں دیا گیا ہوتا تو سرکش قوموں کے ذریعہ پھیلا یا گیا فساد او ربدنظمی اس حد کو پہونچ جاتی کہ عبادت گاہیں جہاں قادر مطلق کو مسلسل یاد کیا جاتا ہے ویران ہوجاتیں ، معاشرے میں جو بدامنی پھیلتی وہ الگ ۔’’

‘‘الگ ایسا نہ ہوتا کہ اللہ ایک قسم عبادت گاہیں جہاں قادر مطلق کو مسلسل یاد کیا جاتا ہے ویران ہوجاتیں ، معاشرے میں جو بدامنی پھیلتی وہ الگ ’’۔

‘’اگر ایسا نہ ہوتا کہ اللہ ایک قسم کے لوگوں کو دوسری قسم کے لوگوں سے آزمانا تو خانقاہیں ،گرجا گھر، اور مسجد یں جہاں اس کی حمد وثنا کی جاتی ہے پوری طرح سے تباہ کردی جاتیں۔’’ (40۔22)

ظاہر ہے کہ ہمیں ایک کمتر درجے کےجہاد (قتال) کی اجازت دی گئی ہے جس میں جسمانی طور پر لڑائی کی جاتی ہے تاکہ ہم ہر فرد کے انسانی حقوق کی حفاظت کرسکیں تاکہ وہ اپنی پسند کی عبادت گاہ میں خدا کی حمد وثنا و کرسکے۔ چاہے وہ خانقاہ ہو، مندر ہو ،گرجا گھر ہو یا مسجد ہو۔ لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب کسی مسجد کا معاملہ ہوتا ہے ہم متفکر ہوتے ہیں جبکہ ریاستیں خاص کر مسلم اور اعلامیہ طور پر اسلامی ریاستیں مندروں ،خانقاہوں ، گرجا ؤں اور یہودی عبادت گاہوں کو کام نہیں کرنے دیتیں یا غیر مسلموں کے اپنے طریقے سے خدا کی عبادت کرنے میں دشواریاں کھڑی کرتی ہیں تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی۔

صرف اتنا ہی نہیں۔ ہم میں کچھ علما میں جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ جس طرح سے غیر مسلموں کو اسلامی ریاست میں اپنے مذہبی امور بجالا نے کی پوری آزدی ہوتی ہے( حالانکہ عملاً انہیں اس طرح کی آزادی عام طور پر نہیں ہوتی) ویسی آزادی مسلموں کو نہیں ۔ آپ ایک بار مسلم والدین کے گھر میں پیدا ہوگئے تو پھر ہمیشہ کے لیے مسلمان رہنا ہے ورنہ ، جی ہاں، کم ا ز کم آپ کی شہ رگ تو کاٹ ہی دی جائے گی۔ بے شک مختلف فرقوں کے قابل احترام علما ایسے بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ اگر کوئی  جمعہ کی نماز ادا کرتے ہوئے نہ دیکھا جائے اس کی شہ رگ کاٹ دی جائے۔ نمونے کے طور پر ملاحظہ فرمائیں: نیو ایج اسلام میں شائع شدہ ایک مضمون میں سلمان طارق قریشی کہتے ہیں:

‘‘جو لوگ جمعہ کی نماز ادا نہیں کرتے ہیں انہیں قتل کردیا جانا چاہئے۔ ان کی گردن اژادو۔ ایک صاحب مشہور عالم دین اور دیوبند مدرسہ کے بانیوں میں ایک حضرت مولانا رشید گنگوہی کے مداحوں میں سے ہیں جن صاحب کی بات کررہا ہوں وہ بہت ہی رحم دل اور فیاض انسان ہیں۔ جن پرلوگ مدد کے لیے انحصار کرسکتے ہیں ۔ بہر حال جب میں نے دودن گفتگو سے کہا کہ انسان میں سب سے بنیادی صفت دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور صلہ رحمی ہے تو انہوں نے مجھ سے اختلاف کیا اورکہا کہ ہمدردی و مہربانی کے مستحق صرف دیندار اور پرہیز گار مسلمان ہیں۔ جہاں تک دوسروں کا معاملہ ہے تو ان کو اپنی اصلاح کا موقع دینا چاہئے ۔ اس کے بعد وہ واجب القتل ہوں گے۔ ایک دوسرے صاحب سے میری ملاقات ہوتی جو خاصے مالدار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ جمعہ کی نماز نہیں پڑھتے انہیں قتل کردیا جانا چاہئے ۔ ان کی گردن کاٹ دو۔’’

‘‘سواس قسم کی خون آشام لفظی درندگی اس پر امن پار سائی اور لطیف رواداری کی روایت سے بہت مختلف ہے جس میں مسلمانوں کی اکثریت پلی بڑھی ہے۔ مجھے اپنی علمیت کی بنیاد پر یہ دعوی نہیں ہے کہ رائے زنی کرسکوں کہ اسلامی فکر کا یہ زاویہ دوست ہے یا وہ بہر حال علما کی ایک خاص تعداد ایسی ہے جن کی رائے ہے کہ اس طرح کی جارحانہ لفظیات جسے عام طور پر لیکن غلط طور پر بنیاد پرستی کہا جاتا ہے حالیہ دور کی ایک نظریاتی بدعت ہے۔ یہ ایک خطی اور شبہ منطقی (Pseudo-Logical) سوچ کی پیداوار ہے، جو ہمارے پرتشدد اور تنگ ذہن دور سے عبادت ہے۔ ایسا دور جس نے جدید سامراجیت کے عروج سے جنم لیا اور جس کے نقصان دہ ثقافتی اور شعوری رد عمل نے اپنی بنیادوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس طرح کی ذہنی وراثت کے پس منظر میں پاکستان میں کس طرح کا سیاسی مکالمہ ممکن ہے؟’’

https://www.newageislam.com/islam-and-tolerance/those-who-do-not-attend-friday-prayers-“should-simply-be-killed-slit-their-throats!”---deoband/d/1795

ایک روشن خیال اسلامی اسکالر ڈاکٹر اے بی ایم محبوب الاسلام جو انٹر نیشنل اسلامک یونیوسٹی ،ملیشیا سے وابستہ ہیں کہ ایک عبارت ذیل ملاحظہ فرمائیں ۔ وہ اپنی کتاب ‘‘شریعت میں مذہبی آزادی ’’(Freedom of Religion in Shariah) میں لکھتے ہیں۔

‘‘آزادی ایک غیر جانبدار لفظ ہے۔ مذہب کے ساتھ اس کو جوڑ نے کا مطلب ہےکہ فرد کو اس بات کی آزادی ہےکہ اس کاکوئی مذہب ہو یا نہ ہو۔ وہ اپنے مذہب پر عمل کرے یا نہ کرے اس کی تبلیغ واشاعت کرے یا نہ کرے ۔ اس پر ایمان لائے یا نہ لائے اور اس میں تبدیلی کرے یا نہ کرے ۔ اگر وہ اس بات کا فیصلہ کرتا ہے تو بغیر کسی کے دخل اندازی کے اسے اس کی اجازت ہے۔ اوپر مثالوں سے آزادی کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے۔

‘‘ کیا کسی مسلمان کو یہ آزادی حاصل ہے؟ درحقیقت شرعی قانون کے تحت مسلمان ایسا کرنے کے مجاز نہیں ہیں چاہے وہ مسلم حکومت میں ہو ں یا غیر مسلم حکومت میں ،حالت جبر واستثنا کے ساتھ۔ دراصل اسلام کا مفہوم ہی جو کہ خدا کے آگے خود سپرد گی اور اطاعت ہے جو کہ خالص آزادی کے مبہم معنوں کی ضد ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان اجزا ایمان، ارکان اسلام اور ضابطہ حیات پر عملدار آمد کے لحاظ سے آزادی حاصل نہیں کرسکتا ، کیو نکہ یہ سب اسے ایک مسلمان اور اہل ایمان کہلانے کے لیے ضروری ہیں۔ اسے ان معاملوں میں مشروط آزادی حاصل ہوسکتی ہے جو مذہب کے بنیادی اور لازمی ارکان اور اجزا کے دائرے میں نہیں آتے ہیں’’۔

بے چارے جنگی یتیم جنہیں ہم طالبان کے نام سے جانا جاتا ہے ، جنہوں نے کچھ عرصے کے لئے افغانستان پر حکمرانی کی ، عجیب وغریب سوچ کے مالک ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ اگر کوئی مرد ایک مخصوص لمبائی کی داڑھی نہیں رکھتا ہے یا مخصوص لمانئی کا لباس نہیں پہنتا ہے یا پھر کوئی عورت اپنے جسم کی ایک انچ جلد بھی ظاہر کرتی ہے وہ سزا کی مستحق ہے ۔مگر میرے خیال میں دراصل یہ اسلام میں قدامت پسند سوچ کی اصل دھارا ہے جس کی مخالفت میں اسٹریم اسلام نہیں کررہا ہے ۔ اس بات کا کریڈٹ طالبان کو جاتا ہے کہ انہوں نے علما کے ا ن دقیانوسی (Outstandish)افکارکو نافذ کرنے کی کوشش میں اس سوچ کو جگ ظاہر کردیا ہے۔ یہ انہی لوگوں کی وجہ سے ہوا کہ میرے جیسے لوگوں کی جو اسلام کی اصل دھارا کو امن اور تکثیریت میں رچ بس جانے والا اسلام سمجھ کرمطمئن تھے۔ سچائی تک پہونچنے کے لئے مذہبی لٹریچر کا گہرائی سے مطالبہ کرنا پڑا ۔ یہی وہ دقیانوسی ذہنیت ہے جو مسلمانوں کی اکثریت کے ذہن پر چھائی ہوئی ہے۔ لہٰذا اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے کہ جہاں ہم میں سے کچھ لوگ طالبانی اسلام کے نام سے ہی بدکتے ہیں اور اس بات پرمطمئن ہیں کہ اسلام کی اصل دھارا سے وابستہ لوگ اسلام کی اس ترجمانی کو کسی بھی طرح قبول نہیں کریں گے۔ وہیں بغور مشاہدہ کرنے پر یہ دیکھتے ہیں کہ دراصل مین اسٹریم کم از کم پسماندہ معاشروں میں یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ اس سے  پاکستان اور افغانستان کے کچھ  علاقوں میں طالبان کی مقبولیت کی وجہ سمجھ میں آتی ہے ۔ ویسے بھی سعوعی عربیہ لاکھوں ڈالر کی مدد سے جس اسلام کی تبلیغ واشاعت کررہا ہے وہ طالبانی اسلام سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ یہی اسلام ہندوستان اور انڈونیشیا  میں اسلام کی اصل دھارا کے ماننے والے طبقوں ، کثیر تہذیبی مسلم معاشروں اور صوفیانہ طبقوں میں روز افزوں ترقی کررہا ہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ ممبئی کے سہیوگ کلچرل سوسائٹی کے عبدالسمیع ہیرے اور وہ سبھی لوگ جو سوئز ر لینڈ میں میناروں اور فرانس میں برقعے پر پابندی سے فکر مند ہیں یا پھر ہندوستان کے دائیں بازوں کے لوگ جو مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحلیل کا مطالبہ کرتے ہیں وہ نام نہاد اسلامی معاشروں میں غیر مسلموں اور  ان سے زیادہ مسلموں کی مذہبی آزادی کے فقدان پر اپنی ناراضگی کا اظہار  کریں گے۔ نام نہاد اسلامی علما قرآنی آیتوں  ‘لا اکراہ فی الدین’ ( دین میں کوئی جبر نہیں ) اور ‘لکم دینکم ولی دین’ (تمہارادین تمہارے ساتھ اور میرا دین میرے ساتھ)کو یہ ثابت کرنے کے لئے لمبی چوڑی تقریریں کردیتے ہیں کہ آج کے مسلمانوں کے لئے ان کی کوئی معنویت نہیں ہے اور انہیں ہمارے لاشعور سے خارج کردینا چاہئے ۔ ایسے عالموں پر ہمیں شرم آتی ہے۔

جب تک کہ ہم اپنے معاشروں میں (مسلموں اور غیر مسلموں دونوں کے لیے) مذہبی آزادی کے لیے جدوجہد نہیں کرتے ہیں تب تک غیر مسلم معاشروں میں مذہبی آزادی کے حصول کے لئے ہمارے جدوجہد کو بجا طور پر منافقت سے تعبیر کیا جائے گا۔

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/religious-freedom-indivisible-muslims-demand/d/3969

 

Loading..

Loading..