New Age Islam
Wed Jun 10 2026, 04:54 AM

Urdu Section ( 24 Dec 2012, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

New Age Islam May Suddenly Go Offline نیو ایج اسلام کسی بھی وقت تعطل کا شکار ہو سکتا ہے: اگر ایسا ہوتا ہے تو انشاء اللہ ہم جلد ہی واپس ہوں گے ؛ برائے مہربانی ہمارے ساتھ جڑے رہیں

 سلطان شاہین ، ایڈیٹر ، نیو ایج اسلام

( انگریزی سے ترجمہ ، مصباح الہدیٰ ۔ نیو ایج اسلام )

20 دسمبر 2012

تقریباً پانچ سال پہلے ہم نے جب اپنے سفر کا آغا ز کیا ، تب سے ہمارے اوپر حملے ہوتے رہے ہیں ۔ سب سے پہلے ہماری سائٹ کو ہیک کرنے کی مسلسل کوشش کی گئی ۔ اس کے بعد ہمارے نیوز لیٹر میلنگ سسٹم(newsletter mailing system) پر بے شمار مرتبہ حملے کئے گئے ۔ ایک مرتبہ ہماری سائٹ کو سرور (server)سے ایسے وقت میں برباد کر دیا گیا جب ہم ایسے حالات کا سامنا کر نے کے لئے تیار نہیں تھے ۔اس وقت ہمارے پاس کوئی تائید و حمایت نہیں تھی ۔ بہر کیف ، ہم نے اسے دوبارہ تیار کیا اور اب تک رواں دواں ہیں ۔ ایک مرتبہ ہم نے سائٹ کو تحفظ فراہم کیا ، اس کے باوجود آن لائن (online) کبھی بھی کچھ بھی مکمل محفوظ نہیں ہے ، ڈومین رجسٹرار (domain registrars) اور ویب ہوسٹ (webhosts) کو شکایات موصول ہونی شروع ہو گئیں ۔ ہر قسم کی شکایت کا تعلق غیر مطلوبہ ای میل پر نفرت کی ترویج سے تھا ۔ ایک مرتبہ تو ڈومین رجسٹرار نے ہمارے ڈومین نام کو بغیر کسی اطلاع کے ہی معطل کردیا ۔ اور انٹرنیٹ پر اس تعطل کی مکمل ابلاغ وترسیل میں کچھ دن لگ جاتے ہیں ، ہوا یہ تھا کہ دنیا کے کچھ حصوں میں کمپیوٹر (NewAgeIslam.com) کھلتا ، اور کچھ حصوں میں کہتا کہ یہ موجود نہیں ہے ۔ ایک دو دنون تک ہمیں کچھ علم نہیں تھا کہ ہمارے ساتھ کیا غلط ہو رہا ہے ۔ ہم ایک ڈومین رجسٹرار سے دوسرے ڈومین رجسٹرار تک اور ایک ویب ہوسٹ سے دوسرے ویب ہوسٹ کی طرف منتقل ہوتے رہے ۔

ہمارے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا ۔ میں ہندوستان سے باہر کر دیا گیا ۔ میں نے اپنا ڈومین نام اور اور ویب ہوسٹنگ دونوں امریکہ منتقل کر دیا ۔ لیکن ہمارے دشمن زیادہ مضبوط ہیں ۔ ہر ملک کے تاجر کو صرف پیسہ کمانے سے مطلب ہے ، ان کے پاس اتنا بھی وقت نہیں وہ ان نیوز لیٹر پر ایک نظر ڈالیں جو ان کے پاس ہمارے متعلق نفرت کی ترویج یا ‘‘غیر مطلوبہ میل ’’ کے ثبوت میں بھیجے جاتے ہیں ۔اب میرے ویب ہوسٹ کے ذریعے مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ شکایات کے ایک اور مجموعہ کی بنا پر یہ سائٹ معطل کیا جا چکا ہے اور یہ کسی بھی وقت ختم کیا جا سکتا ہے ۔ یہ اطلاع تعطل کے 15 دنوں کے بعد میرے ان باکس (inbox) میں آئی ۔ اس وقت میں غضب ناک تھا اور یہ سمجھنے کے قابل نہیں تھا کہ اس سائٹ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔ ایک ہفتے سے زیادہ سے میں نیوز لیٹر بھیجنے کے قابل نہیں ہوں ۔ہمارا میل سرور کام نہیں کر رہا ہے ۔دوسرے سسٹم ابھی تک چل رہے ہیں ۔ اپنا ذاتی سرور رکھنا اور اس کا انتظام و انصرام خود سے کرنا ہی اس کا حل ہے ۔ لیکن ایک ذاتی سرور خریدنا جسے ہر دن ملینوں کا کاروبار کرنے والے ہی سنبھال سکتے ہوں ، اور انتظام و انصرام کرنا ہمارے لئے آسان نہیں ہے ، اس کے لئے تاجروں کی جماعت درکار ہے ۔ ہم اس کے دوسرے حل کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔ لیکن میں آپ کے اس بات کی یقین دہانی کرا سکتا ہوں کہ اگر ہم اچانک سے آف لائن (offline) چلے بھی گئے تو انشاءاللہ ہم واپس ہوں گے ۔ میں نے سوچا کہ مجھے اس امکان سے آپ کو آگاہ کر دینا چاہئے ، اس لیئے کہ میں ایسا کر سکتا ہوں ۔ اللہ نے ہماری ہمیشہ مدد کی ہے ۔ وہ پھر ہماری مدد کرے گا ۔ مجھے اس بات کا یقین ہے ۔ برائے مہربانی ہمارے ساتھ ضرور جڑے رہیں ، اور سائٹ کے اچانک بند ہو جانے کے موقع پر اپنے عقیدے کے مطابق ہمارے لئے دعا کریں یا ہمیں نیک خواہشات بھیجیں ۔

مذید منظر کشی کے لئے میں ذیل میں میں اپنے اس بیان کے چند پیرا گراف ذکر کر رہا ہوں جو میں نے اقوام متحدہ (جینوا) میں انٹر گورنینس اور سائبر سکیوریٹی کے مسئلہ پر دیا تھا ۔

‘‘تاہم ،عالمی انٹرنیٹ گورننس کا مسئلہ محض حکومتوں ہی کے لئے اہمیت کا حامل نہیں ہے ، بلکہ عام صارفین اور ویب سائٹ کے مالکان کو بھی متعدد خطرات اور مسائل سے دو چار ہونا پڑ سکتا ہے ۔ چوں کہ میں چار سالوں سے خود ایک ویب سائٹ چلا رہا ہوں ، اس لئے اس تعلق سے میں اپنا ذاتی تجربہ بتاتے ہوئے یہ کہنے میں حق بجانب ہو ں کہ ہم لوگ بہت ہی نازک زندگی گذار رہے ہیں۔ میری طرح بہت سے ایسے بلا گرس اور ویب سائٹ مینیجرس ہیں جو مختلف ایشوز میں اپنا ذاتی موقف رکھتے ہیں ، اس لئے کئی لوگ ان کے مخالف ہی نہیں بلکہ دشمن بھی بن جاتے ہیں ، اور ان کی ویب سائٹس کو ختم کرنے کے متمنی ہوتے ہیں ۔ لیکن ان کے لئے ایسا کرنا اتنا آسان کیوں کر ہونا چاہئے ؟ دھمکیاں تو بہت سے لوگوں کی طرف سے آتی رہتی ہیں۔ ‘نیو ایج اسلام ’ کو متعدد مرتبہ ہیک کیا ہے اور اسے ختم کیا گیا ہے ۔ہمارے دشمن ،غالبا جہادی لوگ، خاص طور سے ہمارے نیوز لیٹر کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں جو کہ ہرروز تقریبا ساڑھےتین لاکھ سبسکرائبرس کے پاس پہنچتا ہے ۔ہمارے نیوزلیٹر کے سبسکرائبرس کی ای میل آڈی کبھی بھی ڈیلیٹ کی جا سکتی ہیں،جیسا کہ نیو ایج اسلام کوایک ہی دن میں تین مرتبہ اس کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ یہ ہیں ہمارے سیکورٹی مسائل!جن سے نپٹنے کے لئے ہمیں صحیح طریقۂ کار اور وسائل کا انتخاب کرنا ہوگا ۔

‘‘علاوہ ازیں، ہمیں کچھ ایسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جن کا تعلق بلاواسطہ انٹرنیٹ گورننس سے ہے ۔ نیو ایج اسلام کو اس قسم کے متعددمسائل کا سامنا کرنا پڑ ا ہے ۔مثال کے طور پر، ہمارے ڈومین ناموں کوکسی نوٹس یا انکوائری کے بغیر معطل کیا جا سکتا ہے،اورایسا اس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص ڈومین رجسٹرار کو بالکل جھوٹی شکایت بھیج دیتا ہے۔ اسی طرح ویب سائٹ ہاسٹ ہمارے آپریشنز کو معطل کر سکتا ہے ، جیسا کہ نیو ایج اسلام متعدد بار اس کی زد میں آ چکا ہے ، اور اس کے پیچھے اسی قسم کے بالکل جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کار فرما تھے ۔ دراصل ڈومین رجسٹرار یا ویب سائٹ ہاسٹ کا کہنا یہ ہے کہ وہ خالص بزنس کے ادارے ہیں ، اس لئے وہ غیر ضروری باتوں میں نہیں پڑنا چاہتے ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ چوں کہ ان کے پاس ایسے افراد نہیں ہیں جو شکایات کا جائزہ لے سکیں ، اس لئے ان کے لئے زیادہ آسان کام یہ ہے کہ جب بھی کسی قسم کی شکایت درج ہو تو وہ اس پرایکشن لیتے ہوئے ویب سائٹ کو بلا چو ں چرا بند کر دیں ۔

‘‘جب میں نے اپنے ڈومین رجسٹرار سے کہا کہ وہ کم ازکم اس شکایت کو ایک دفعہ پڑھ لیں جو مجھے انہوں نے بغیر پڑھے فارورڈ کردیا ہے، تو انہوں نے بڑی سادگی سے جواب دیا کہ : ‘‘میرے پاس نہ تو تم سے بحث کرنے کا وقت ہے اور نہ ہی غیر ضروری میل پڑھنے کا۔تاہم ، میں چند دنوں کے لئے تمہارا ڈومین بحال کر رہا ہوں ، مگر تم اپنا ڈومین کسی دوسرے ڈومین رجسٹر میں ابھی اسی وقت تحویل کر لو ’’۔ میں نے ایسا ہی کیا ، لیکن میری ویب سائٹ کئی ہفتوں تک متاثر رہی ۔

تاہم ، جب میں نے اس بارے میں ٹھنڈے دماغ سے سوچا ، تو میں نے پایا کہ رجسٹرار کا اس میں قصور نہیں ہے ۔ کیوں کہ اگر آپ اس کے مادی منافع پر نظر ڈالیں ، تو آپ کو پتہ چلے گا کہ رجسٹرار کی بات میں دم ہے ۔ وہ مجھ سے ڈومین نام کے عوض 12 سے 15 ڈالرز سالانہ لیتا ہے ۔ یعنی وہ ہر سال مجھ سے 5 سے 7 ڈالرز کا نفع حاصل کرتا ہے ۔ اب آپ ہی سوچئے کہ وہ شخص مجھ سے بحث کرکے اپنا قیمتی وقت کیوں کر گنوائے گا یا میری ویب سائٹ کے خلاف درج شکایات کی جانچ پڑتال کراکے وہ اپنے وسائل کیوں برباد کرے گا اور اس طرح وہ اپنے بزنس کو داؤ پر کس لئے لگائے گا؟ اس شخص کا اس میں قطعا کوئی نفع نہیں ہے ، جب کہ تجارت ہمیشہ نفع اور نقصان کے سادہ اصول پر چلتی ہے ۔

 لہذا ، مجھے امید ہے کہ اقوام متحدہ کی کمیٹیز جب کبھی بھی انٹرنیٹ گورننس کے بڑے مسائل پر بحث کریں گی، تو وہ ان ایشوز پربھی ضرور توجہ مبذول کریں گی جو لاکھوں انٹرنیٹ صارفین اور ویب سائٹ مالکان سے تعلق رکھتے ہیں۔ بہر حال، یہ ہم ہی نیٹی زن (انٹرنیٹ استعمال کرنے والے) ہیں جنہوں نےانٹرنیٹ کو معلومات کی شاہراہ ( انفارمیشن ہائی وے) بنا رکھا ہے ۔اس لئے ہمیں خو د تحفظ کی ضرورت ہے ۔

http://www.newageislam.com/islam,terrorism-and-jihad/cyber-terrorism-and-freedom-of-expression--sultan-shahin-asks-united-nations-to-redesign-internet-governance/d/8789

URL for English article: http://www.newageislam.com/from-the-desk-of-editor/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/new-age-islam-may-suddenly-go-offline--even-if-that-happens-we-will-be-back-online-soon,-insha-allah;-please-bear-with-us/d/9743

URL: https://newageislam.com/urdu-section/new-age-islam-suddenly-go/d/9783

Loading..

Loading..